وعدہ طلاق کا شرعی حکم
    تاریخ: 13 جنوری، 2026
    مشاہدات: 22
    حوالہ: 571

    سوال

    شوہر کابیانِ حلفی

    میری شادی کو 22 سال ہوگئے ہیں ۔ دورانِ لڑائی بیوی مجھ سے بول رہی تھی کہ آپ مجھے طلاق دو، طلاق دو۔ اس پر میں نے کہا کہ آپ طلاق طلاق مانگتی رہو گی اور میں طلاق دے دونگا،پر ابھی آپ گھر چلی جاؤ ، بعد ازاں میں بھی غصہ میں گھر سے باہر نکل گیا ۔

    نوٹ: بیوی کا بیان شوہر کے بیان کے مطابق ہی ہے۔البتہ اس میں ایک بات زائد ہے کہ شوہر پہلے دو طلاق ِ رجعی دے کر رجوع کر چکا ہے، جسکی شوہر نے تصدیق کی ہے۔

    سائل:فیصل/ شمع : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر مذکورہ بیان حقیقت پر مبنی ہے تو صورتِ مستفسرہ میں بیوی کو طلاق واقع نہ ہوئی، کیونکہ شوہر کے بیان میں ایسے الفاظ موجود نہیں جو وقوعِ طلاق کے لئے مفید ہوں، بلکہ اسکا قول '' طلاق طلاق مانگتی رہو گی اور میں طلاق دے دونگا'' وعدہ ءِ طلاق کی صورت ہے۔ اور وعدہ ءِ طلاق ، سے طلاق واقع نہیں ہوتی ۔

    سیدی اعلٰی حضرت فتاوٰی رضویہ میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں :اگر تو نماز نہ پڑھے تو تجھے دو طلاق دوں گا'' تو یہ طلاق دینے کا وعدہ ہوا نہ کہ تعلیق طلاق ہوا، جبکہ طلاق کے وعدہ سے طلاق نہیں ہوتی۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الطلاق ،جلد 13 ص 159)

    ایک اور مقام پر ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں :طلاق کے وعدہ سے طلاق نہیں ہوتی۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الطلاق ،جلد 13 ص 159)

    لہذا دونوں حسبِ سابق میاں بیوی کی مثل رہ سکتے ہیں۔البتہ چونکہ شوہر پہلے بھی دو طلاق دے چکا ہے لہذا آئندہ کے لئے اسے ایک آخری طلاق کاحاصل ہے جیسے ہی آخری طلاق دے گا عورت اس پر حرمتِ مغلظہ سے ساتھ حرام ہوجائے گی۔

    یاد رہے اگرشوہر نے پہلے ایسے الفاظِ طلاق ادا کئے تھے جو مفیدِ طلاق تھے پھر بعد میں حلفاً کہہ دیا کہ یہ الفاظ نہیں تھے بلکہ یہ تھے تو دیانۃً یعنی بندے اور خدا کے درمیان جو معاملہ ہے اسکے مطابق طلاق واقع ہوگئی ہے ۔ اور اس جھوٹ کا وبال شوہر پر ہی ہے۔اگر اس صورت حال کے بعد (کہ اگرشوہر نے الفاظ ِ طلاق ادا کئے تھے پھر بعد میں حلفاًکہہ دیا کہ یہ الفاظ نہیں تھےاور اس پر حلف لے لیا ) میاں بیوی والے معاملات کرے گا تو سخت گناہ میں ملوث ہوگا ۔ بروز قیامت سخت رسوائی کا سامنا کرنا پڑیگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاريخ اجراء:04 ربیع الاول ا1444 ھ/01 ستمبر 2022 ء