غصے کی حالت میں طلاق دینا ،جبکہ بیوی حمل کی حالت میں ہو
    تاریخ: 9 فروری، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 759

    سوال

    میرے شوہر کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا،اور ان کے اوپر جادو کے سخت معمولات تھے،اور انھوں نے مجھے غصہ میں طلاق دے دی ہے،اور طلاق کے الفاظ تھے کہ میں طلاق دے رہا ہوں یا طلاق دے دوں گا ،دونوں میں سے کیا الفاظ تھے مجھے صحیح یاد نہیں ۔کیوں کہ انھوں نے مجھے مارا بھی تھا اور میں حمل سے بھی ہوں ۔اور اس وقت کمرے میں میرے اور ان کے علاوہ کوئی بھی نہیں تھا ۔اور انھوں نے اپنے گھر والوں کے دباؤ میں آ کر بولا تھا،اور ان کو بھی یاد نہیں کہ انھوں نے کیا بولا تھا۔اور اب گھر والے بول رہے ہیں کہ طلاق ہو گئی ہے۔اور ہم دونوں اب ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں ،اب کوئی ایسا راستہ نکالیں جس سے ہم دونوں ایک ساتھ رہے۔

    شوہر کابیان:

    ہم (دار الافتاء)نے شوہر سے رابطہ کیا ان کا کہنا تھا کہ :کافی بار پہلے بھی لڑائی ہوئی ہے ،اس بار جب لڑائی ہوئی تو میں نے کہا جاؤ میں طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں ۔نیز میں اپنے ہوش و حواس میں تھا ۔اور نیت بھی طلاق ہی کی تھی۔

    سائلہ:شیزہ خاتون،کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    میاں بیوی دونوں کا بیان سننے کے بعد یہ فیصلہ صادر کیا جا رہا ہے۔

    بیوی کو الفاظِ طلاق میں تردد ہے ،جس کا یہاں پر اعتبار نہیں اور شوہر اس بات کا اقرراری ہے کہ میں نے کہا :جاؤ میں طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں۔اور وقوعِ طلاق میں شوہر کا قول معتبر ہے ۔لہذا پوچھی گئی صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں،آپ اپنی عدت مکمل کریں ،اب دونوں کا بغیر حلالۂ شرعیہ کے دونوں کا میاں بیوی کی طرح اکٹھے رہنا حرام، حرام، حرام ہے اور ہم بستری کرنا زنا ہےاور اللہ تعالی کے حکم سے عدولی ہو گی ۔ اور شوہر نے جو ایک ساتھ تینوں طلاقیں دیں بلا شبہ طلاقیں تو واقع ہو گئی ہیں ،لیکن اس کا یہ عمل حرام اور بدعت ہے۔اس ارتکاب پر اللہ کے حضور معافی مانگے۔

    شوہر بیوی کو کسی بھی حالت میں طلاق دے ،طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ شوہر تنہائی میں دے،سب کے سامنے دے،زبانی کلامی دے ،تحریری دے،حالتِ حمل میں دے ،بہر صورت طلاق واقع ہو جائے گی۔

    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حاملہ عورتوں کی عدت بیان کی ہے،اور طلاق کی عدت اسی کی ہوتی ہے جو مطلقہ ہو،لہذا حالت حمل میں بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ۔ترجمہ کنزالایمان: اور حمل والیوں کی میعاد یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جَن لیں۔( الطلاق:4)

    سنن کبری للبیہقی میں ہے:عن أم كلثوم بنت عقبة أنها كانت تحت الزبير فطلقها وهي حامل فذهب الى المسجد فجاء وقد وضعت ما في بطنها فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر له ما صنع فقال: بلغ الكتاب أجله ترجمہ:حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ وہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں ،انہوں نے حمل کی حالت میں انہیں طلاق دے دی ۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ مسجد نبوی کی طرف آرہے تھے ،وہ مسجد میں پہنچے ، تو ام کلثوم نے اپنے پیٹ میں موجود بچے کو پیدا کیا۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور اپنامعاملہ عرض کیا ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کتاب اپنی مدت کو پہنچ گئی۔یعنی قرآن میں حاملہ کی عدت وضع ِ حمل ہے ،تو وہ عدت پوری ہوگئی۔ (سنن کبری للبیهقی،باب عدۃ الحامل المطلقۃ،جلد3،صفحہ154،مطبوعہ کراچی )

    غصہ کی حالت میں بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ امام اہل سنت امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: غصّہ مانعِ وقوعِ طلاق نہیں بلکہ اکثر وہی طلاق پر حامل ہوتا ہے، تو اسے مانع قرار دینا گویا حکمِ طلاق کا راساً ابطال ہے، ہاں اگر شدّتِ غیظ وجوشِ غضب اس حدکو پہنچ جائے کہ اس سے عقل زائل ہوجائے، خبر نہ رہے کیا کہتا ہوں زبان سے کیا نکلتا ہے، توبیشک ایسی حالت کی طلاق ہرگز واقع نہ ہوگی۔(فتاوی رضویہ،جلد12،صفحہ383،رضافاؤنڈٰیشن،لاھور)

    تین طلاقوں کے بعد بیوی شوہر پر حرام ہو جاتی ہے ۔اور دوبارہ رجوع کرنے کی ایک ہی صورت ہے کہ خاتون کسی اور سے شادی کرے اور ازدواجی تعلق قائم کرتے،پھر جب یہ طلاق دے تو اس کی عدت گزرنے کے بعد پہلے مرد سے نکاح کی صورت میں رجوع کرنا جائز ہو گا۔

    اللہ تعالی فرماتا ہے:الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیْحٌ بِإِحْسَانٍ'' ترجمہ:یہ طلاق دو بارتک ہی ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا اچھائی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔(البقرۃ :آیت 229)

    پھر اسکے بعد فرمایا:'فَإِن طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِن بَعْدُ حَتَّیَ تَنکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ'ترجمہ:پھر اگر اس کو تیسری طلاق دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہو گی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ۔(البقرۃ ،آیت:230)

    بخاری میں ہے:عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك :ترجمہ: حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت رفاعہ کی بیوی نبی کریم ﷺ کےپاس آئیں اورعرض کی کہ میں پہلےرفاعہ کی بیوی تھی توانہوں نے مجھے طلاق دےدی پھرمیں نےعبدالرحما ن بن زبیرسےنکاح کیالیکن وہ نرم کپڑےکی طرح ہیں( یعنی مردانہ اعتبار سے)تونبی کریمﷺنےارشاد فرمایاکہ کیاآپ رفاعہ کےپاس واپس جاناچاہتی ہیں انہوں نےعرض کی ہاں!آپ نےکیاجب تک تم اورعبدالرحمان ایک دوسرےکےشہدسےنہ چکھ لو(یعنی ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلواس وقت تک)نہیں جاسکتی۔( صحیح البخاری کتاب الشہادات باب شہادۃ المختبی حدیث نمبر 2639)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:25 ذوالحجہ 1443 ھ/05اگست 2021ء