ویڈیوں دیکھنے پر اجارہ کرناکیسا
    تاریخ: 29 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 456

    سوال

    ایک کمپنی (Clover) ہے جس میں کچھ پیسے جمع کراکے بندہ رجسٹرڈ ہوجاتا ہے اور اس کمپنی کا ملازم بن جاتا ہے پھر دیگر لوگوں کو اس میں ایڈ کرانا ہوتا ہے۔اور کام یہ ہے کہ روزانہ کمپنی کی ویب سائٹ کھول کر ویڈیوز دیکھ کر آگے شیئر کرنا ہوتا ہے۔اس بارے میں شرعی حیثیت بیان فرما دیں کہ یہ جائز ہے نہیں؟

    سائل: محمد بلال شاذلی ملتان۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    Clover کمپنی میں رجسٹریشن کروا کر اور ویڈیوز دیکھ کر پیسے کمانے کا طریقہ شرعی طور پر جائز نہیں ہے۔

    اوّلاً، جو رقم رجسٹریشن کے نام پر لی جاتی ہے، وہ دراصل اکاؤنٹ کے استعمال کا حق(اجارہ) خریدنا ہے جو نفسہ تو کوئی ممانعت نہیں لاتا کہ ایسا حق جو اصالۃً ثابت ہو اس کا عوض دینا اور لینا دونوں جائز ہیں البتہ یہاں ویڈیوز دیکھنے کے اجارہ پر یہ امر شرط کی حیثیت رکھتا ہے کہ پہلے رجسٹریشن فیس جمع کی جائے اس کے بعد ہی ویڈیوز دیکھنے پر معاوضہ دیا جائے گا ۔ یہ شرطِ فاسد ہے جو ویڈیوز دیکھنے کے اجارے کو فاسد کرتی ہے۔

    پھر بذاتِ خود ویڈیوز دیکھنے پر اجارہ بھی جائز نہیں کہ عند الشرع اجارے کی بنیادی شرط ہے کہ جس کام پر اجرت لی جا رہی ہو، وہ شرعی نقطہ نظر سے منفعتِ مقصودہ ہو۔ یعنی اسے لوگ ایک قابلِ قدر فائدہ سمجھتے ہوں اور عقل مند افراد اسے اجرت کے قابل کام گردانتے ہوں۔ جبکہ محض ویڈیوز دیکھنا کوئی ایسی منفعتِ مقصودہ نہیں ہے جس پر اجارہ درست قرار پائے۔ لہٰذا، یہ اجارہ بذاتِ خود باطل ہے۔

    ثانیاً، اگر ان ویڈیوز میں کسی بھی قسم کا غیر شرعی موادشامل ہو تو ایسے مواد کو دیکھنا اور اور اسکی کمائی حاصل کرنا معاصی کا اجارہ کرنا ہے جو ناجائز و حرام ہے ۔ اس صورت میں، اس طریقے سے پیسے کمانا بھی ممنوع ہو جاتا ہے ۔

    ثالثاً، اس کمپنی کا طریقہ کار نیٹ ورک مارکیٹنگ پر مبنی ہے، جہاں آپ کو دیگر لوگوں کو کمپنی میں شامل کرانا ہوتا ہے۔ نیٹ ورک مارکیٹنگ کرنے والی ایسی کمپنیوں کا ممبر بننا حرام اور سخت حرام ہے، کیونکہ شروع سے آخر تک سارا طریقہ کار اسلامی اصولوں کے خلاف اور کئی قسم کے مفاسد و گناہ، مثلاً: دھوکا، ضرر میں پڑنا اور دوسروں کو ڈالنا وغیرہ پر مشتمل ہوتا ہے ۔ان تمام وجوہات کی بنا پر، Clover کمپنی میں سرمایہ کاری کرنا اور اس طریقے سے پیسے کمانا شرعی طور پر جائز نہیں ہے اور مسلمانوں کو ایسے مشکوک اور غیر شرعی طریقوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔

    دلائل و جزئیات:

    غیر شرعی شروط کے متعلق آقا کریم علیہ الصلاۃ والسلام فرماتے ہیں : "مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا، لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ ".ترجمہ: لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں اور جو شرط کتاب اللہ کی رُو سے جائز نہ ہووہ باطل ہے اگرچہ سو شرطیں ہوں ، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ زیادہ سچا ہے اور اللہ تعالیٰ کی شرط بہت مضبوط ہے۔ (صحیح البخاری ، کتاب الصلاۃ، باب ذکر البیع والشراء علی المنبر فی المسجد، 1/98، الرقم:456، دار طوق النجاۃ)

    علامہ مدقق علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں:" تَفْسُدُ الْإِجَارَةُ بِالشُّرُوطِ الْمُخَالِفَةِ لِمُقْتَضَى الْعَقْدِ".ترجمہ: ایسی شرائط اجارے کو فاسد کردیتی ہیں جو عقد کے تقاضے کے خلاف ہوں۔ (الدر المختار، باب الاجارۃ الفاسدۃ، 6/46، دا الفکر)

    اجارہ میں منفعت مقصودہ کے متعلق علامہ حصکفی ہی فرماتے ہیں:" وَشَرْعًا (تَمْلِيكُ نَفْعٍ) مَقْصُودٍ مِنْ الْعَيْنِ (بِعِوَضٍ) حَتَّى لَوْ اسْتَأْجَرَ ثِيَابًا أَوْ أَوَانِي لِيَتَجَمَّلَ بِهَا أَوْ دَابَّةً لِيَجْنُبَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ أَوْ دَارًا لَا لِيَسْكُنَهَا أَوْ عَبْدًا أَوْ دَرَاهِمَ أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ لَا لِيَسْتَعْمِلَهُ بَلْ لِيَظُنَّ النَّاسُ أَنَّهُ لَهُ فَالْإِجَارَةُ فَاسِدَةٌ فِي الْكُلِّ، وَلَا أَجْرَ لَهُ لِأَنَّهَا مَنْفَعَةٌ غَيْرُ مَقْصُودَةٍ مِنْ الْعَيْنِ".ترجمہ:شرعا اجارہ کی تعریف یہ ہے کہ کسی بھی شی کی منفعتِ مقصودہ کاعوض کے ساتھ مالک بنانا ،تو اگر کسی شخص نے کپڑوں کو،یا برتنوں کو اجارہ پر لیا تاکہ ان کے ذریعے زینت حاصل کرے ،یا جانور کو اجارہ پر لیا تاکہ اپنے سامنے اس کو (باندھ کے )رکھے ،یا گھر کواجارہ پر لیا رہنے کے لیئے نہیں (بلکہ دکھانے کے لیئے )یا غلام، یا دراھم،یا اس کے علاوہ کچھ بھی اجارہ پرلیا استعمال کے لیئے نہیں بلکہ اس لیے کہ لوگ سمجھیں یہ اسی کے ہیں تو ان تمام صورتوں میں اجارہ فاسد (یعنی باطل)ہے اور اس کے لیئے کوئی اجرت نہیں ہوگی کیوں کہ یہ ایسی منفعت ہے جو شئی سے مقصود نہیں ہے ۔( الدر المختار ،کتاب الاجارۃ ،6/4،دارالفکر )

    اسی کے تحت خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: " أَيْ فِي الشَّرْعِ وَنَظَرِ الْعُقَلَاءِ". ترجمہ: عین شے سے جو منفعت مقصود ہو وہ شریعتاور عقلاء کی نظر میں منفعتِ مقصودہ ہو۔( رد المحتار،کتاب الاجارۃ ،6/4،دارالفکر )

    علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں:" وَمِنْهَا أَنْ تَكُونَ الْمَنْفَعَةُ مَقْصُودَةً يُعْتَادُ اسْتِيفَاؤُهَا بِعَقْدِ الْإِجَارَةِ وَيَجْرِي بِهَا التَّعَامُلُ بَيْنَ النَّاسِ؛ لِأَنَّهُ عَقْدٌ شُرِعَ بِخِلَافِ الْقِيَاسِ لِحَاجَةِ النَّاسِ وَلَا حَاجَةَ فِيمَا لَا تَعَامُلَ فِيهِ لِلنَّاسِ". ترجمہ: اور اجارہ کی شرائط میں سے یہ ہے کہ منفعت کا حصول عقدِ اجارہ سے عادۃً مقصود اور اس میں لوگوں کا تعامل رائج ہو کیونکہ یہ ایسا عقد ہے جو خلافِ قیاس مشروع ہوا ہے لوگوں کی حاجت کیلئے اور جس میں لوگوں کا تعامل نہ ہو اس میں حاجت متحقق نہیں (لہذا منفعتِ مقصودہ کی شرط لازم ہے)۔ (بدائع الصنائع، کتاب الاجارۃ، فصل فی شرائط رکن الاجارۃ ، 4/192، بیروت)

    صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:”جس نفع پر عقد اجارہ ہو وہ ایسا ہونا چاہیے کہ اُس چیز سے وہ نفع مقصود ہواور اگرچیز سے یہ منفعت مقصود نہ ہو جس کے لیے اجارہ ہوا تو یہ اجارہ فاسد ہے مثلاکسی سے کپڑے اور ظروف کرایہ پر لیے مگر اس لیے نہیں کہ کپڑے پہنے جائیں گے، ظروف استعمال کیے جائیں گے بلکہ اپنا مکان سجانا مقصود ہے یا گھوڑا کرایہ پر لیا مگر اس لیے نہیں کہ ا س پر سوار ہوگا بلکہ کوتل چلنے کے لیے یامکان کرایہ پر لیا اس لیے نہیں کہ اس میں رہے گابلکہ لوگوں کے کہنے کو ہوگاکہ یہ مکان فلاں کا ہے، ان سب صورتوں میں اجارہ فاسد ہے اور مالک کو اُجرت بھی نہیں ملے گی اگرچہ مستاجر نے چیز سے وہ کام لیے جس کے لیے اجارہ کیا تھا ‘‘۔ (بهار شریعت، 3/107، مکتبۃ المدینہ کراچی)

    گناہ کے کاموں پر اجارہ درست نہیں، علامہ شیخ شمس الدین محمد بن عبد اللہ تمرتاشی (المتوفی:1004ھ) فرماتے ہیں: "(لَا تَصِحُّ الْإِجَارَةُ... لِأَجْلِ الْمَعَاصِي مِثْلُ الْغِنَاءِ وَالنَّوْحِ وَالْمَلَاهِي ) ".ترجمہ:گناہ کے کاموں پر اجارہ کرنا جائز نہیں ہے جیسا کہ گانا گانے ،نوحہ کرنے اور لہوو لعب کے کاموں پر اجارہ کرنا ۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار، کتاب الاجارۃ ،مطلب الاجارۃ علی المعاصی،6/55، دارالفکر )

    دھوکا دینے والوں سے متعلق نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي".ترجمہ:جو دھوکا دے وہ مجھ سے نہیں۔ (صحیح مسلم ،کتاب الایمان ،1/99، الرقم: 102،دار احیاء التراث العربی ،بیروت)

    ضرر میں پڑنے اور دوسروں کو ڈالنے سے متعلق حدیث مبارکہ ہے:" لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ ".ترجمہ: اسلام میں نہ ضررہے، نہ دوسرے کو ضرر دینا۔ (المعجم الاوسط ، باب الالف،1/307، الرقم: 1033، دار الحرمین، قاھرہ)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 28 ذو الحجۃ 1446 ھ/25 جون 2025ء