Ujrat Mein Mutayyan Tankhwah Ke Sath Ghair Mutayyan Izafi Muawza
سوال
ایک شخص (اجیر) کسی دوسرے شخص یا ادارے (مالک) کے لیے کام کرتا ہے، اور مالک اس اجیر کے ساتھ اجرت کا تعین اس طرح کرتا ہے کہ اسے ایک متعین بنیادی تنخواہ (مثلاً ماہانہ ایک مقررہ رقم) ادا کی جائے گی۔ اس متعین تنخواہ کے علاوہ، مالک کی طرف سے ہی کچھ غیر متعین اضافی معاوضہ بھی طے کیا جاتا ہے، جس کی مقدار یا مالیت اجیر کی کارکردگی، مخصوص اہداف ، یا دیگر متعین شرائط پر منحصر ہوتی ہے۔مثلاً: (۱) سیلز مین، ایک بنیادی ماہانہ تنخواہ کے ساتھ، فروخت کی گئی ہر چیز پر ایک طے شدہ فیصد سے کمیشن دیا جاتا ہے (مثلاً %5 کمیشن)۔ کمیشن کی یہ فیصد مالک متعین کرتا ہے، لیکن کمیشن کی حتمی رقم سیلز مین کی کل فروخت پر منحصر ہوتی ہے۔ (۲) پروڈکشن ورکر، ایک یومیہ یا ماہانہ مقررہ اجرت کے ساتھ، ہر تیار شدہ یونٹ پر ایک مقررہ رقم اضافی معاوضہ کے طور پر دی جاتی ہے (جسے piece rate بھی کہتے ہیں)۔ فی یونٹ ریٹ مالک طے کرتا ہے۔ (۳) کال سینٹر ایجنٹ، ایک مقررہ ماہانہ تنخواہ کے ساتھ، کسٹمر کی اطمینان کی شرح یا کال حل کرنے کے اہداف حاصل کرنے پر اضافہ رقم دی جاتی ہے۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس طرح کی اجرت کا تعین (یعنی متعین تنخواہ کے ساتھ مالک کی طرف سے طے شدہ مگر کارکردگی پر مبنی غیر متعین اضافی معاوضہ) شرعاً درست اور جائز ہے؟ اگر یہ جائز ہے تو اس کی کیا شرائط ہیں؟ اور اگر جائز نہیں تو اس کی کیا وجوہات ہیں؟سائل: عبد اللہ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
عقدِ اجارہ کی صحت کیلئے اجرت اور منفعت دونوں کا متعین ومعلوم ہونا ضروری ہے۔ اگر کسی میں بھی جہالت ہو تو عقد فاسد ہو جاتا ہے، اور اجرتِ مثل لازم آتی ہے۔
علامہ مدقق علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: "(اسْتَأْجَرَ عَبْدًا بِأَجْرٍ مَعْلُومٍ وَبِطَعَامِهِ لَمْ يَجُزْ) لِجَهَالَةِ بَعْضِ الْأَجْرِ".ترجمہ: اگر کسی نے غلام کو ایک معلوم اجرت اور اس کے کھانے کے بدلے میں اجرت پر لیا تو یہ جائز نہیں، اس لیے کہ بعض اجرت مجہول ہے (یعنی کتنے وقت کا کھانا ہوگا یہ مجہول ہے )۔(الدر المختار، باب الاجارۃ الفاسدۃ، مطلب فی اجارۃ البناء،6/51، دار الفکر بیروت)
خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "وَحَاصِلَهُ أَنَّهُ بِجَهَالَةِ الْبَعْضِ يَحْصُلُ جَهَالَةُ الْكُلِّ".ترجمہ: حاصل کلام یہ ہے کہ بعض کی جہالت سے کل کی جہالت لازم آتی ہے۔(رد المحتار، 6/49، دار الفکر بیروت)
معلوم ہوا کہ اجرت کا کوئی بھی جز اگر مجہول ہو تو پورا عقدِ اجارہ فاسد ہو جاتا ہے۔اس اصول کے باوجود، شریعت نے بعض صورتوں میں عرف (رواج) کی بناء پر گنجائش رکھی ہے، جہاں بظاہر جہالت نظر آتی ہو لیکن وہ جہالت نزاع کا باعث نہ بنے اور عرفِ عام میں اسے تسلیم کیا جاتا ہو۔ مثلاً: حمام کی اجرت جس میں معلوم نہیں کتنا پانی استعمال ہوگا یا نہانے والا کتنا وقت لگائے گا۔ قیاساً یہ اجارہ فاسد ہونا چاہئے تھا لیکن عرف کی بناء پر اسے جائز قرار دیا گیا کہ یہ ایسی جہالت ہے جومفضی الی النزاع نہیں۔
علامہ حصکفی فرماتے ہیں: "(وَجَازَ إجَارَةُ الْحَمَّامِ) «؛ لِأَنَّهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - دَخَلَ حَمَّامَ الْجُحْفَةِ» وَلِلْعُرْفِ. وَقَالَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «مَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ»".ترجمہ: حمام کو اجرت پر لینا جائز ہے؛ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حمامِ جحفہ میں داخل ہوئے اور عرف کی وجہ سے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کو مسلمان اچھا سمجھیں، وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے۔ (الدر المختار، باب الاجارۃ الفاسدۃ، مطلب فی اجارۃ البناء،6/51، دار الفکر بیروت)
اس کے تحت علامہ شامی فرماتے ہیں: "(قَوْلُهُ وَلِلْعُرْفِ) ؛ لِأَنَّ النَّاسَ فِي سَائِرِ الْأَمْصَارِ يَدْفَعُونَ أُجْرَةَ الْحَمَّامِ وَإِنْ لَمْ يُعْلَمْ مِقْدَارُ مَا يَسْتَعْمِلُ مِنْ الْمَاءِ وَلَا مِقْدَارُ الْقُعُودِ، فَدَلَّ إجْمَاعُهُمْ عَلَى جَوَازِ ذَلِكَ وَإِنْ كَانَ الْقِيَاسُ يَأْبَاهُ لِوُرُودِهِ عَلَى إتْلَافِ الْعَيْنِ مَعَ الْجَهَالَةِ إتْقَانِيٌّ".ترجمہ: مصنف کا قول: اور عرف کی وجہ سے؛ کیونکہ تمام شہروں میں لوگ حمام کی اجرت ادا کرتے ہیں حالانکہ یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کتنا پانی استعمال کریں گے اور کتنی دیر بیٹھیں گے، پس ان کا اجماع اس کے جواز پر دلالت کرتا ہے اگرچہ قیاس اس سے انکار کرتا ہے کیونکہ یہ عین کے تلف ہونے پر مجہول ہونے کے باوجود وارد ہوتا ہے، اتقانی۔(رد المحتار، 6/51، دار الفکر بیروت)
واضح ہوا کہ حمام کی اجرت میں استعمال ہونے والے پانی کی مقدار اور وہاں بیٹھنے کے وقت کی تعیین نہیں ہوتی، یعنی منفعت مجہول ہے۔ لیکن چونکہ عرف عام میں اس پر کوئی نزاع نہیں ہوتا اور لوگ اسے بلا جھجک قبول کرتے ہیں، اس لیے اسے جائز قرار دیا گیا ہے۔
پوچھے گئے سوال میں اجرت کے دو حصے ہیں:
(۱) متعین بنیادی تنخواہ جو کہ معلوم اور متعین ہے، اس میں کوئی اشکال نہیں۔
(۲) غیر متعین اضافی معاوضہ جو کارکردگی، اہداف یا دیگر متعین شرائط پر منحصر ہے۔
حمام کی مثال سے استدلال کرتے ہوئے، اس طرح کی اجرت شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ درج ذیل شرائط پوری کی جائیں:
(۱) بنیادی ماہانہ تنخواہ یا یومیہ اجرت واضح طور پر متعین ہو اور اس میں کوئی ابہام نہ ہو۔ یہ وہ حصہ ہے جو اجیر کو بہرحال ملے گا۔ (۲) اضافی معاوضے کی فیصد، یا فی یونٹ ریٹ واضح اور متعین ہو، مثلاً %5 کمیشن، یا ہر یونٹ پر 10 روپے، یا ہر کال حل کرنے پر 20 روپے۔ اس میں کوئی جہالت نہ ہو۔ (۳) اضافی معاوضہ اجیر کی کارکردگی، محنت، یا کسی قابلِ پیمائش عمل سے جڑا ہو، جس پر اجیر کا اختیار ہو۔ (۴) مالک اجرت کی اس نوعیت پر مکمل رضامند ہو، اور اجیر کو یہ معلوم ہو کہ اس کا اضافی معاوضہ کس طرح شمار کیا جائے گا۔
اگر یہ صورتیں پائی جائیں تو عرف و تعامل کی بناء پر یہ اجارہ صحیح اور ایسی اجرت کی تعیین جائز ہوگی۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:25 محرم الحرام 1447ھ/21 جولائی 2025ء