Islami Bank ka Munafa aur Charity Clause
سوال
میں گھر خریدنے کیلئے بینک سے قرض (مارگیج) لینے کا سوچ رہا ہوں، لیکن میری خواہش ہے کہ یہ عمل مکمل طور پر اسلامی اصولوں کے مطابق ہو۔ میں نے کچھ اسلامی بینکوں کے بارے میں سنا ہے جو "ڈیمینشنگ مشارکہ" یا "اجارہ" جیسے شرعی طریقوں پر گھر کی مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ ان بینکوں کا کہنا ہے کہ وہ سود (ربا) نہیں لیتے، بلکہ کرایے یا شراکت کے ماڈلز کے ذریعے منافع کماتے ہیں۔
براہِ کرم، میرے درج ذیل سوالات پر اپنی قیمتی رائے سے نوازیں:
1. کیا اسلامی بینک سے شرعی ماڈلز (جیسے ڈیمینشنگ مشارکہ یا اجارہ) کے تحت گھر کا قرض لینا جائز ہے؟
2. اگر بینک سود کی بجائے کرایے یا منافع کے ذریعے پیسہ کماتا ہے، تو کیا یہ شرعاً درست ہے؟
3. کچھ بینک کہتے ہیں کہ اگر ادائیگی لیٹ ہو تو وہ جرمانہ لگاتے ہیں جو خیرات میں دے دیا جاتا ہے۔ کیا یہ معاہدے کی حلت پر اثر انداز ہوتا ہے؟
4. اگر بینک تاخیر کی صورت میں انتظامی اخراجات وصول کرے، تو کیا اس میں کوئی شرعی قباحت ہے؟
5. میں کیسے یقینی بنا سکتا ہوں کہ جس اسلامی بینک کو میں منتخب کر رہا ہوں، وہ واقعی شرعی اصولوں پر عمل کر رہا ہے، نہ کہ صرف نام کیلئے اسلامی فائنانس استعمال کر رہا ہے؟
سائل: محمد فاروق
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اولاً سوال میں موجود اغلاط کی نشاندہی ضروری ہے۔ اسلامی اصولوں کی پاسداری کرنے والا بینک کسی صارف کو قرضہ دے کر نفع نہیں کماتا۔ بلکہ صارف کی ضرورت کے تحت اپنے شریعہ ماڈلز کا تعارف کرواتا ہے اور جو صارف کی ضرورت کے مناسب ہو اس کے تحت عمل کرتا ہے۔ یاد رہے قرض پر نفع سود ہے ، اسی لئے علمائے کرام نے اسلامی بینکوں میں صارفین کیلئے ایسے ماڈلز تیار کیے ہیں جو ازروئے شرع جائز ہیں۔ انہیں ماڈلز میں شرکت متناقصہ (Diminshing Musharka) شامل ہیں۔
شرکت متناقصہ کے تین مرحلے ہیں۔ پہلے مرحلے میں بینک اور صارف مل کر اثاثہ خریدتے ہیں جس سے دونوں اس اثاثہ کے مشترکہ مالک ہوجاتے ہیں اور دونوں میں شرکت الملک قائم ہوجاتی ہے۔ دوسرے مرحلے میں بینک اپنے حصے صارف کو طے شدہ کرایہ کے بدلے استعمال کیلئے دیتا ہے۔ اور تیسرے مرحلے میں بینک وقتا فوقتا اپنے حصے صارف کو فروخت کرتا رہتا ہے، جس سے اثاثہ میں صارف کی ملکیت بڑھتی رہتی ہے اور بینک کی ملکیت کم ہوتی جاتی ہے۔ بالآخر صارف اپنے اثاثے کا مکمل مالک ہوجاتا ہے۔
شرکت متناقصہ (DM) عموما ہاؤس فنانسنگ جیسے طویل مدتی فنانسنگ میں استعمال ہوتی ہے۔
اسلامی بینکاری ہمارے نزدیک جائز ہے اور اسکے منافع شرعی عقود مثلاً مضاربت،مشارکت وغیرہا امور (جن کا جواز شریعت میں واضح ہے)سے حاصل ہونے کی بناء پر حلال ہیں سود نہیں۔
(۱) اسلامی بینک کے شرعی ماڈلز کے تحت اپنی ضروریات پوری کرنا جائز ہے۔ لیکن یاد رہے اسلامی بینک ان امور کیلئے قرضہ نہیں دیتا۔
(۲) شرع شریف نے مال کمانے کو جو جائز طریقے بیان فرمائے ہیں ان پر عمل کرتے ہوئے کوئی نفع کماتا ہے تو شرعا اس کی کوئی قباحت نہیں بلکہ اگر اس مال سے اپنے فرائض پورے کرتا ہے تو ثواب کا بھی مستحق ہوگا۔ لہذا اسلامی بینک جو شرعی اصولوں کے تحت نفع کماتا ہے اس کیلئے بھی حلال ہے۔
(۳) اسلامی بینکوں کی ’’چیریٹی کلاز‘‘مالی جرمانہ نہیں بلکہ صارف کو صدقہ کرنے پر لازم کرنا ہے، اس طور پر کہ صارف نذر شرعی لیتاہے اس بات پر کہ اگر اس نے باقاعدہ ادائیگی نہ کی اور شریعہ بورڈ نے کوئی چیریٹی لازم کی تو میں صدقہ کروں گا۔اور یہ صدقہ بینک کے کھاتے میں نہیں جاتا بلکہ کسی چیریٹی ادارہ میں دیا جاتاہے جس کا بینک سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
اسلامی بینک مالی حقوق کی حفاظت کیلئے ’’چیریٹی کلاز‘‘ لگاتے ہیں، جس کی وجہ صارف کی طرف سے سستی اور لا پرواہی ہوتی ہے۔ اسلامی بینک یہ عمل اسی وقت عائد کرتے ہیں جب صارف اپنا معقول عذر بیان نہ کرسکے کہ اوّلا اسے نوٹس دیے جاتے ہیں، جس سے مقصود صارف کو اپنا عذر بیان کرنے کا موقع دینا ہوتا ہے۔لہذا یہ امر معاہدے کی حلت پر مؤثر نہیں۔
(۴) تاخیر کی صورت میں بینک کوئی انتظامی اخراجات وصول نہیں کرتا بلکہ چیریٹی لازم کرتا ہے جس کا حکم ابھی گزرا کہ یہ جائز ہے۔
(۵) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے اسلامی بینکوں کو لازم کیا گیا ہے کہ وہ منافع کے حصول میں شرعی عقود اختیار کرے اور کوئی غیر شرعی معاملہ نہ کرے۔اسلامی بینک کے معاملات کی شرعی نگرانی میں مختلف شعبہ جات سر گرم ہوتے ہیں۔
(۱)بینک کا شریعہ بورڈ: مفتیان کرام پر مشتمل بورڈ جس کے ذمے شرعی ماڈلز سے متعلق منظوری دینا ہے۔
(۲)بینک کا شریعہ کمپلائنس ڈیپارٹ: یہ ڈیپارٹ شریعہ بورڈ کا معاون ہوتا ہے، کہ بینک کی تمام دستاویزات اور بینک کے معاملات کا جائزہ لینا (یعنی یہ یقینی بنانا کہ شرعی ہدایات پر عمل درآمد ہورہا ہے) اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
(۳) انٹرنل شریعہ آڈٹ: بینک کا اپنا شعبہ جو شرعی حوالے سے بینک کا آڈٹ کرتا ہے۔
(۴) ایکسٹرنل شریعہ آڈٹ: مستقل شریعہ آڈٹ ادارہ جس کا کام بینک وغیرہ کے شرعی معاملات کا آڈٹ کرنا ہوتا ہے۔ یہ بینک کا اپنا شعبہ نہیں ہوتا۔
(۵) شریعہ ایڈوائزی کمیٹی (اسٹیٹ بینک آف پاکستان): اسلامی بینکاری سے متعلق شرعی رہنمائی کیلئے بنائی گئی اسٹیٹ بینک کی کمیٹی۔
(۶) اسلامک بینکنگ ڈیپارٹ (اسٹیٹ بینک آف پاکستان): اسلامی بینکوں کی نگرانی اور ان کی پالیسیز بنانے کیلئے بنایا جانے والا اسٹیٹ بینک کا ڈیپارٹ۔ اس کے ذمے اسلامی بینکوں کیلئے منصوبہ بندی، ہدایات کا اجراء، شرعی ماڈلز کی منظوری شامل ہے۔
لہذا اسلامی بینک کے نفع میں محض شکوک و شبہات کو جگہ نہ دیں کہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں سے حسنِ ظن کا حکم ہے اور اگر ہمارا مسلمان بھائی کہتا ہے کہ میں نے تمہیں حلال طریقے سے نفع دیا ہے تو اس پر اعتماد کرسکتے ہیں جب تک کسی غیر شرعی معاملہ کا آپ کو ظن غالب نہ ہوجائے، البتہ محض شک اس نفع کو حرام نہیں کرے گا۔ حتی کہ یہ جاننا بھی صارف پر لازم نہیں کہ کس سے ماڈلز کےتحت میری ضرورت پوری کی جارہی ہے ،محض اجمالی بیان کہ طریقہ کار شرعی ہے کافی ہے۔
اس کی مثال لیجئے کہ اگر مضاربت کا معاملہ اصولی طور پر جائز ہو تو رب المال (انویسٹر) کے ذمے یہ تحقیق نہیں ہے کہ مضارب (کام کرنے والے)نے کہاں کاروبار کیا ؟ اگر مضارب یہ کہے کہ مجھے شرعی طور پر نفع ہوا ہے اور وہ نفع دے تو وصول کرنے کی اجازت ہوگی۔
لیکن رب المال (انویسٹر)کو یقین ہو یا ظن غالب ہو کہ مضارب (بینک) نے کسی کام میں پیسے نہیں لگائے یا لگائے مگر غیر شرعی امور میں نفع ہوا تو رب المال کے لیے نفع لینا جائز نہ ہوگا۔
ایک اور مثال دیکھیں کہ کسی مسلمان بھائی سے کھانے کیلئے گوشت خریدنا کہ یہاں خریدار پر یہ تحقیق لازم نہیں کہ جانور واقعی شرعی طور پر ذبح ہوا تھا یا نہیں اور اگر اسے یقین یا ظن غالب ہو کہ شرعی ذبح نہیں ہوا تو گوشت حلال نہیں ہوگا۔لان اليقين لا يزول بالشك (یعنی شک کی وجہ سے حاصل شدہ یقین زائل نہیں ہوتا)۔
صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:” کسی جاہل شخص کو بطور مضاربت روپے دے دئیے ، معلوم نہیں کہ جائز طور پر تجارت کرتا ہے یا ناجائز طور پر تو نفع میں اس کو حصہ لینا جائز ہے جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے حرام طور پر کسب کیا ہے‘‘۔ (بہار شریعت ،2/813، مکتبۃ المدینہ کراچی)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابوامیر خسروسید باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 22 شوال المکرم 1446 ھ/21 اپریل 2025ء