kya Poti Apne Walid Ke Hissay Ki Haqdaar Hai
سوال
محترم مفتی صاحب ! ایک مسئلہ وراثت کے متعلق دریافت کرنا ہے، براہِ کرم شریعت اسلامی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
مرحومہ حفیظان بی بی زوجہ مرحوم نور محمد ، رہائشی مکان نمبر 1228/1 - شاہ فیصل کا نونی نمبر 1 کراچی ، مکان کی مالک تھیں۔ اس مکان کی موجود مالیت تقریبا، 65,00,000 روپے ہے۔
مرحومہ کے انتقال کے وقت ان کے ورثا میں صرف تین بیٹے، محمد لطیف ، محمد رفیق، محمد جاوید تھے۔ان کے شوہر کا انتقال 1983 میں پہلے ہی ہوچکا تھا اور پھر مرحومہ کے انتقال کے بعد بڑے بیٹے محمد لطیف کا انتقال ہوگیا اور محمد لطیف کی صرف ایک بیٹی لبنیٰ ہے اور بیوی کو وہ اپنی زندگی میں ہی طلاق دے چکے تھے۔
اب سوال یہ ہے کہ مرحوم محمد لطیف کی بیٹی لبنیٰ ،اپنی دادی مرحومہ حفیظان بی بی کی جائیداد میں سے اپنے والد مرحوم محمد لطیف کے حصے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔براہ کرم قرآن وسنت کی روشنی میں تفصیل کے ساتھ رہنمائی فرمائیں کہ شریعت کے مطابق اس جائیداد کی درست تقسیم کس طرح ہو گی ؟
سائل: محمد رفیق
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر سائل اپنے بیان میں سچا ہے اور وہی ورثاء ہیں جو سوال میں مذکور ہیں تومرحوم کے کفن دفن کے اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لئے وصیت کی ہو تو اس کو مرحوم کے تہائی مال سے پورا کرنے کے بعد تمام ترکہ کو کل 12 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ، جس میں سے محمد رفیق کو 5 حصے،محمد جاوید کو 5 حصے اور لبنیٰ کو 2 حصے دئیے جائیں گے۔
مرحوم کے ترکے کی رقم کی تقسیم کا طریقہ کاریہ ہے کہ ترکے کی کل رقم کو مبلغ یعنی 12 پر تقسیم(Divide) کردیں، جو جواب آئے اس کو ہر ایک وارث کے حصے میں ضرب (Multiply)دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
دلائل و جزئیات:
مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد ہے: قال اللہ تبارک و تعالٰی فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ، وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ترجمہ: پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگردو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی، اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا۔(النساء:12)
عصبہ باقی مال لے گا،چنانچہ علامہ سراج الدین محمد بن عبد الرشید السجاوندی (المتوفی:600ھ) فرماتے ہیں:"والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال".ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں) تو سارے مال کا مستحق ہوجائے۔(السراجیۃ مع القمریۃ،ص 13،مکتبۃ المدینۃ کراچی)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد عثمان طاہری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:18شوال المکرم 1447 ھ/07 اپریل 2026 ء