Tumhein chhoona mujh pe haraam hai kehne se talaq ka hukam
سوال
بیوی سے ہنسی مذاق خوشی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا تمہیں چھونا تومجھ پر حرام ہے مراد تعلق زوجین تھا کہ بیوی حاملہ تھی ان کی طبیعت بہتر نہیں تھی۔ کیا حکم ہوگا۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے کہ شوہر نے حاملہ بیوی سے کہا کہ " تمہیں چھونا تو مجھ پر حرام ہے" اور مراد تعلق زوجین تھا ۔تو بیوی ایک طلاق بائن کے ساتھ نکاح سے باہر ہو چکی ہیں،کسی اور جگہ چاہے تو نکاح کر سکتی ہے ۔اور سابقہ شوہر کےساتھ نکاح اس صورت میں ممکن ہے جب اس واقعہ سے پہلے شوہر نے دو طلاقیں نہ دی ہوں ۔اوراگر ایسا ہی ہے کہ کبھی دو طلاقیں نہیں دی تو اب رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ دو گواہوں کی موجودگی میں نئے (حق ) مہر کے ساتھ نکاح کیا جائے۔
دلائل و جزئیات:
علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ:علی الحرام فیقع بلا نیۃ للعرف۔ترجمہ :اگر بیوی سے کہا کہ :مجھ پر حرام ہے تو اس سے بغیر نیت کے عرف کیبنا پر طلاق واقع ہو گی۔(رد المحتارعلی الدر المختار جلد 04 صفحہ 464،مطبوعہ امدادیہ ملتان)
رد المحتار میں ہے:افتی المتاخرون فی انت علی حرام بانہ طلاق بائن للعرف بلا نیۃ۔ ترجمہ: متاخرین نے ''تومجھ پر حرام ہے''کی بابت فتوی دیا کہ اس سے عرف کی وجہ سے بغیر نیت کے طلاق بائن واقع ہو گی۔(رد المحتارعلی الدر المختار جلد 04 صفحہ 464،مطبوعہ امدادیہ ملتان)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :ہر چند یہ لفظ بوجہ عرف ملحق بالصریح ہے کہ بے حاجت نیت طلاق بائن واقع ہو۔۔(فتاوی رضویہ کتاب الطلاق جلد 12صفحہ 586رضا فاؤنڈیشن لاہور)
تو مجھ پر حرام ہے یہ ملحق بالصریح البائن ہے ۔لہذا مابعددونوں جملے لغوقرار پائیں گے کہ اسلیے کہ وہ بھی اسی کی مثل ہیں ۔اور بائن بائن کو لاحق نہیں ہوتی۔
عالمگیری میں ہے:لایلحق البائن البائن بان قال لھا انت بائن ثم قال لھا انت بائن لایقع الاطلقۃ واحدۃ بائنۃ۔اگر کہا، تجھے ایک بائنہ طلاق، اس کے بعد دوبارہ کہا تجھے بائنہ طلاق، تو ایک ہی بائنہ طلاق ہوگی کیونکہ پہلے بائنہ کے بعد دوسری بائنہ اس کو لاحق نہیں ہوسکتی۔( فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات جلد01 صفحہ دار الفكر 377)
امام اہلسنت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:اماقولہ حرام ہوچکی فھو وان صار صریحا بالعرف لایلحق البائن علی مافی الحلبی ثم الشامی۔ ترجمہ :لیکن خاوند کا کہنا ''حرام ہوچکی ہے'' یہ لفظ اگرچہ عرف کی بناء پر صریح طلاق بن چکاہے لیکن بائن کو لاحق نہ ہوگی،اس کے مطابق جو حلبی و شامی میں ہے ۔(فتاوی رضویہ کتاب الطلاق جلد 12صفحہ 562رضا فاؤنڈیشن لاہور)واللہ اعلم بالصواب
الجـــــواب صحــــیـح :ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد عثمان طاہری
شوال المکرم 5144 ھ/22 اپریل2026 ء