سوال
میری بیٹی شمائلہ کو اس کے شوہر(یونس) نے صبح کے وقت ایک طلاق دے دی جس کے گواہ صرف یہ دونوں میاں بیوی ہیں ،پھر اسی دن چار لوگوں کے سامنے ان الفاظ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "کے ساتھ دو طلاقیں دی اس وقت میری میری بیٹی وہاں موجود تو تھی لیکن اس نے نہیں سنا ۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ شوہر کہتا ہے کہ میں نےپہلی طلاق نہیں دی بلکہ یہ کہا تھا کہ تم چلی جاؤ ورنہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا جبکہ لڑکی حلفیہ یہ کہہ رہی ہے کہ اس نے مجھے کہا تھا میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
سائلہ:حسینہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
آپ کی بیٹی کوقضاءً(یعنی قاضی اور لوگوں کے نزدیک )دوطلاقیں ہو چکی ہیں
اگر اس کاشوہرتیسری طلاق کا حلفیہ انکار کرے ۔اور دیانۃً(یعنی اللہ تعالی اور اس کےبندے کے درمیان جو معاملہ ہےاس کے مطابق )آپ کی بیٹی اپنے آپ کو تین طلاق والی سمجھےکیوں کہ اس کے اپنے بیان کے مطابق اس نے شوہر کو"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"کہتے ہوئے سنا ہے لہذا اب آپ کی بیٹی پر لازم ہےکہ اپنے شوہرسے علیحدگی اختیار کرےیہاں تک کہ عدت (جس کی تفصیل آرہی ہے)گزر جائے ،اور دوران عدت شوہر اگر رجوع نہیں کرتا تو آپ کی بیٹی قضاء ًبھی اس کی نکاح سے نکل جائے گی،لیکن عورت کے لیئےبغیر حلالہ کے دوبارہ اسی مرد سےنکاح کرنا جائز نہیں ہوگا اور اگر وہ رجوع کرکے تعلقات قائم کرنا چاہےتو بھی اس سے علیحدگی رکھتےہو ئے تیسری طلاق لے ،لے،اوراگر وہ طلاق نہیں دیتا تواس سے خلع حاصل کرے اور اس میں رجوع کی کوئی صورت نہیں ہے سوائے حلالہ شرعی کے)جس کی تفصیل آگے آرہی ہے)۔ اور اگر وہ علیحدگی اختیار نہیں کرتے اور میاں و بیوی والے تعلقات قائم رکھتے ہیں تو سخت گنہگار ہونگے ۔
تبیین الحقائق(اقسام الکنایۃ،ج:۲،ص:۲۱۸،طبع:المطبعۃالکبری الامیریۃ،مصر)إذَا قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ طَالِقٌ طَالِقٌ، وَقَالَ إنَّمَا أَرَدْت بِهِ التَّكْرَارَ صُدِّقَ دِيَانَةً لَا قَضَاءً فَإِنَّ الْقَاضِيَ مَأْمُورٌ بِاتِّبَاعِ الظَّاهِرِ وَاَللَّهُ يَتَوَلَّى السَّرَائِرَ وَالْمَرْأَةُ كَالْقَاضِي لَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تُمَكِّنَهُ إذَا سَمِعَتْ مِنْهُ ذَلِكَ أَوْ عَلِمَتْ بِهِ؛ لِأَنَّهَا لَا تَعْلَمُ إلَّا الظَّاهِرَ ۔ترجمہ:جب کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا تو طلاق والی ہے ،تو طلاق والی ہے،تو طلاق والی ہے،اور کہا میں نے اس سے تکرار کاارادہ کیا تھا تو اس کی دیانۃًتصدیق کی جائے گی نہ کہ قضاءًاس لیئے کہ قاضی کو ظاہر کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم ہے ،اللہ تعالی ہی دلوں کے پوشیدہ رازوں کو جانے والا ہے ،اور عورت (اس معاملے)میں قاضی کی طرح ہے کہ اس کے لیئے حلال نہیں ہے کہ وہ (اس معاملے میں )اپنے اوپر شوہر کو اختیار نہ دے جب اس نے (طلاق کے الفاظ )خود سنے ہو ں یا کسی اور (مضبوط )ذرائع سے اس کو معلوم ہوجائے کیوں وہ ظاہر ہی کو جانتی ہے۔
ردالمحتارعلی الدرالمختار (باب صریح الطلاق،ج:۳،ص:۲۵۱،طبع:دارالفکر ) وَالْمَرْأَةُ كَالْقَاضِي إذَا سَمِعْته أَوْ أَخْبَرَهَا عَدْلٌ لَا يَحِلُّ لَهُ تَمْكِينُهُ. وَالْفَتْوَى عَلَى أَنَّهُ لَيْسَ لَهَا قَتْلُهُ، وَلَا تَقْتُلُ نَفْسَهَا بَلْ تَفْدِي نَفْسَهَا بِمَالٍ ترجمہ:اور قاضی کی طرح ہے جب وہ خود (طلاق کے الفاظ )سنے یا عادل گواہ اس کو خبر دیں تو اس کے لیئے حلال نہیں کہ وہ اپنے اوپر شوہر کو اختیار دے ۔اور فتوی اس پر ہے کہ شوہر (اس صورت میں زبردستی عورت پر قابو پاکر ) اس کو قتل نہ کرے ،اور عورت بھی اپنے آپ کو (مرد کے تصرف میں دے کر )قتل نہ کرے بلکہ مال کے ذریعے اس سے خلع حاصل کرے ۔
عدت کے احکام:
اوراحناف کے نزدیک مدخولہ عورت کی عدت طلاق تین حیض ہیں اوراگر آیسہ(وہ عورت جس کو عمر کے زیادہ ہونے کی وجہ سے حیض آنا بند ہوجائے)ہےیا اتنی چھوٹی ہے کہ اس کو ابھی حیض نہیں آیاتو اس کی عدت تین قمری مہینےہےاگر عورت حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے ۔
اللہ تعالی جل شانہ کا فرمان ہے :وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ [البقرة: 228]
ترجمہ: اور طلاق والیاں اپنی جانوں کو روکے رہیں تین حیض تک اور انہیں حلال نہیں کہ چھپائیں وہ جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہیں۔
وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا [الطلاق: 4]
ترجمہ:اور تمہاری (بوڑھی)عورتوں میں جنہیں حیض کی امید نہ رہی ،اگر تمہیں کچھ شک ہو (کہ ان کی عدت کا کیا حکم ہے )تو ان کی (طلاق کی )عدت تین مہینے ہےاور ان کی (بھی )جنہیں ابھی حیض نہ آیا، اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جَن لیں۔
حلالہ کے احکام:
تیسری طلاق کے بعداگر میاں ،بیوی دوبارہ رہنے پر راضی ہوں توبغیر حلالہ شرعی کے نہیں رہ سکتے۔
ارشاد باری تعالی ہے:''فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَالِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ''ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ،پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ''،( البقرہ 230)
امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ تعالیٰ حلالہ کی وضاحت میں فرماتے ہیں :
''حلالہ کے یہ معنیٰ ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں ےا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سےنکلے گی اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعدطلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے '' (فتاویٰ رضویہ کتاب الطلاق جلد 12ص84 ) ۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد
تاریخ اجراء:30صفر المظفر 1440 ھ/09نومبر 2018ء