سوال
ہم نے اپنی بہن کو جہیز دیا تھا ، اب اس بہن کا انتقال ہوگیا ہے،تو کیا ہم بہن کو دیا گیا جہیز واپس لے سکتے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ ہم چاہ رہے ہیں ، کہ وہ جہیز لے کر چھوٹی بہن کی شادی کردیں گے۔ کیونکہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں کیا یہ ہمارے لیے جائز ہے کہ نہیں ؟ سائل: عبدالرحمان :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
تمام کا تمام جہیز جو لڑکی کو دیا جاتا ہے، لڑکی اسکی مالک خود ہوتی ہے۔لہذا اگر لڑکی کو طلاق ہوجائے تو سارا جہیز واپس لے گی۔ اور اگر اسکا انتقال ہوجائے تو وہ جہیز اسکے ورثاء میں ان کےشرعی حصص کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
رد المحتار مع الدر المختار میں ہے:فَإِنَّ كُلَّ أَحَدٍ يَعْلَمُ أَنَّ الْجِهَازَ مِلْكُ الْمَرْأَةِ وَأَنَّهُ إذَا طَلَّقَهَا تَأْخُذُهُ كُلَّهُ، وَإِذَا مَاتَتْ يُورَثُ عَنْهَا وَلَا يَخْتَصُّ بِشَيْءٍ مِنْهُ. ترجمہ: ہر شخص جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے اورجب شوہر اس کو طلاق دے دے وہ تمام جہیز لے لے گی، اور اگر عورت مرجائے تو جہیز اس کے وارثوں کو دیا جائے گا شوہر اس میں سے اپنے لئے کچھ بھی مختص نہیں کرسکتا۔( رد المحتار مع الدر المختار باب النفقۃ جلد 3ص585)
سیدی اعلیٰ حضرت فتاویٰ رضویہ میں اسی طرح کا جواب ارشاد فرماتے ہیں :جہیز ہمارے بلاد کے عرف عام شائع سے خاص مِلک زوجہ ہوتا ہے جس میں شوہر کا کچھ حق نہیں، طلاق ہُوئی تو کُل لے گئی، اور مرگئی تو اسی کے ورثاء پر تقسیم ہوگا۔(فتاوٰی رضویہ جلد12 ص 203 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اور اسکا شوہر بھی اسکے ورثاء میں شامل ہے اگر اسکی اولاد تھی تو شوہر اپنی بیوی کی کل وراثت کا چوتھا حصہ لے گا اور اگر اولاد نہ ہو تو کل وراثت کا نصف لے گا ۔اسکے علاوہ دیگر ورثاء کے حصوں کا جواب انکی تفصیل کے بعد جواب دیا جائے گا۔قال اللہ تعالیٰ : وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ ترجمہ: اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔
ہاں اگر تمام ورثاء بشمول انکے شوہرکے اس بات پر راضی ہیں کہ انکاجہیز انکی چھوٹی بہن کو دے دیا جائے تو ایسا کرنا شرعاََ جائز ہے۔ اور اگر کوئی وارث اپنے حصے کا تقاضا کرے تو جہیز میں سے اسکا وہ حصہ دینا لازم ہے جو شرعی طور پر اسکا حصہ بنتا ہے ۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 14 رجب المرجب 1441 ھ/09 مارچ 2020 ء