jadeed tibbi tehqeeq aur fatawa aslaf
سوال
آج کل جدید تحقیق کے نام پر جو فتاوی اسلاف سے ہٹ کر دئیے جا رہے ہیں روزے کے مسائل میں ، ان کے متعلق ہم کس قول پر عمل کریں.جیسے آنکھ کان میں دوا ڈالنا، حقنہ لینا، عورت کا وجائنل الٹرا ساؤنڈ کروانا وغیرہ، کیا واقعی جدید تحقیق کے مقابلے میں قدیم تحقیق ناقص تھی؟ کیا دیگر ائمہ کرام بھی اتنے قابل نہیں تھے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شرعی احکام کی دو بنیادی اقسام ہیں؛ ایک منصوص علیہ (جن کا حکم قرآن و سنت میں واضح طور پر موجود ہے) اور دوسری غیر منصوص علیہ (جن میں فقہائے کرام نے اجتہاد سے کام لیا)۔ یہ بات پیشِ نظر رہے کہ اگرچہ غیر منصوص علیہ مسائل میں بھی فقہائے کرام کی عبارات کو فوقیت حاصل ہے، لیکن خود فقہاء کا یہ مسلمہ اصول رہا ہے کہ جن مسائل کا تعلق طب یا عرف سے ہو، وہاں حکم کا مدار طب یا اس زمانے کے عرف پر رکھا جاتا ہے۔ لہٰذا، روزے کے مفسدات میں جوف تک پہنچنے کے راستوں کا تعین کرنا اصلاً ایک غیر منصوص علیہ طبی مسئلہ ہے، جس میں فقہاء نے اپنے دور کی دستیاب معلومات کو بنیاد بنایا۔
اگر کسی ایسے مسئلے میں، جہاں فقہاء نے پہلے کوئی رائے دی تھی، زمانے کے بدلنے یا طبی تحقیق کے جدید ہونے سے کوئی نئی حقیقت سامنے آ جائے، تو اسے معاذ اللہ فقہائے کرام کی جہالت پر محمول کرنا قطعاً غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان حضرات نے اپنے وقت کے وسائل کے مطابق ظنِ غالب کی بنیاد پر فتویٰ دیا ، جو اس وقت کی بہترین علمی کوشش تھی۔ آج جدید سائنسی آلات کے ذریعے انسانی جسم کے اندرونی نظام کا جو مشاہدہ ممکن ہوا ہے، وہ ہمیں عین الیقین کے درجے تک لے آیا ہے۔ چونکہ عین الیقین ہمیشہ علم الیقین پر فائق ہوتا ہے، اس لیے جدید تحقیق کی روشنی میں سابقہ فتاویٰ کے بجائے موجودہ مشاہدے پر عمل کرنا ہی درست ہے۔
یہ تبدیلی کسی نئے دین کی ایجاد نہیں، بلکہ خود فقہائے کرام کے بیان کردہ اصولوں کی روح پر عمل پیرا ہونا ہے۔ جب حکم کی علت (جیسے کسی شے کا جوف تک پہنچنا) جدید طبی تحقیق سے منتفی ہو جائے، تو اس کی بنیاد پر قائم ہونے والا حکم بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ان مسائل میں جدید تحقیق کو اپنانا اسلاف کی علمی وراثت سے انحراف نہیں، بلکہ ان کا قول صوری ہے کہ یہ انہیں وضع کردہ اصولِ اجتہاد کی عملی تطبیق ہے، جس کا مقصد شریعت کے احکام کو حقیقت اور مشاہدے کے قریب تر رکھنا ہے۔
یہاں یہ بھی اشکال ہوسکتا ہے کہ بعض مسائل تو ایسے ہیں جن میں جمہور فقہاء نے وہ حکم دیا جو آج بدل چکا ہے۔ اور آقا کریم علیہ الصلاۃ والسلام کی فرمان کے مطابق امّتِ محمدیہ کسی گمراہی پر جمع نہیں ہوسکتی (لن تجتمعَ أمتي على ضلالةٍ)، لہذا عرف یا جدید تشریح الابدان کا چاہے جو تقاضا ہو، ہرگز تسلیم نہ ہوگا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ حدیث مبارکہ حق ہے لیکن اس سے یہ استدلال درست نہیں کہ یہ حدیث بابِ عقائد سے ہے جو مشیر ہےاس بات کی کہ اجتماع بَر ضلالت ان امور میں نہ ہوگی جو منصوص علیہ ہے کہ وہی ایسے مسائل ہیں جن میں مزید کلام کی گنجائش نہیں۔ جبکہ عرف یا تشریح الابدان پر مشتمل مسائل مجتہد فیہ ہیں۔اور اگر اسے بابِ فقہ سے بھی مانا جائے تو اس کا معنی خطا نہیں کہ حدیثِ مبارکہ میں "ضلالة"کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور اہل علم جانتے ہیں کہ ضلالت سے صرف خطا مراد نہیں ہوتی۔ اسے یوں سمجھیں کہ کوئی حکمِ شرع منسوخ ہوا تو ضلالت (گمراہی) نہ تھا بلکہ اس وقت اور ان لوگوں کیلئے خیر تھا پھر اس کی جگہ دوسرا حکم نازل ہوا تو وہ خیر ہوا ، دیکھیں رب تعالی فرماتا ہے: مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَاؕ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ.ترجمہ: جب کوئی آیت ہم منسوخ فرمائیں یا بھلا دیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی لے آئیں گے کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔(البقرۃ:160)
اسی پر ہم کہتے ہیں کہ جو مسئلہ متقدمین فقہائے پر ظاہرہوا اور انہوں نے بحکمِ شرع اسی کا حکم دیا تو وہ اس وقت کیلئے خیر تھا اور آج جب وہ مسئلہ اس کے برعکس ظاہر ہوتا ہے تو خیر اسی میں ہے کہ ایسے مسائل میں حکم شرع کسی علّت کی بناء پر قائم ہوتے ہیں والحكم يدور مع علته۔اسے ایک اور مثال سے سمجھیں کہ اگر کوئی سمتِ قبلہ نہ جانے، نہ ہی کوئی موجود ہو جو سمت بتائے توایسا شخص تحری کرکے جس طرف قبلہ کا گمان ہو منہ کر کے نماز پڑھے، تو اس کی نماز درست ہو جائے گی، اگرچہ بعد میں یہ معلوم ہوا کہ اس نے غلط سمت کی طرف نماز پڑھی، کیونکہ اس کیلئے سمت یہی ظاہر ہوئی لہٰذا وہ مخطی نہ ہوا کہ شریعت ظاہر پر ہے حقیقت پر نہیں، اسی تقدیر پر ہمارے مسئلہ میں فقہائے کرام اپنے بیان کردہ حکم میں صواب پر تھے کہ انہوں نے ظاہر پر حکم بیان کیا۔
جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ ہم کس قول پر عمل کریں؟ تو اس کا واضح جواب یہ ہے کہ جو مسائل غیر منصوص علیہ (اجتہادی) ہوں اور ان کی بنیاد زمانے کے عرف یا طبی تحقیق پر ہو، ان میں اپنے دور کے مستند اور سنی صحیح العقیدہ معتبر مفتی کے فتوے پر عمل کیا جائے گا۔ جس طرح عرف کی تبدیلی سے حکم بدل جاتا ہے اور معتبر مفتی بدلتے ہوئے حالات کے مطابق فتویٰ دیتا ہے، بعینہٖ یہی حکم ان مسائل کا ہے جن کا تعلق تشریح الابدان سے ہے۔ جب ایک معتبر سنی مفتی جدید طبی مشاہدات اور عین الیقین کی بنیاد پر ان منافذ کے متعلق شرعی حکم بیان کرے جن کا عدمِ وجود اب ثابت ہو چکا ہے، تو اس کے فتوے پر عمل کرنا عین شرعی تقاضا ہے؛ کیونکہ یہ اسلاف کے اصولوں سے انحراف نہیں بلکہ انہی کے قائم کردہ اصول "الحکم یدور مع علتہ" کی نئے دور میں صحیح ترین تطبیق ہے ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:10 ذو القعدہ 1447ھ/28 اپریل 2026ء