سوال
میری بیٹی کو اس کے شوہر نے طلاق دی ہے (طلاق نامہ منسلک ہے )اور طلاق سے پہلے ہی وہ میرے پاس آگئی تھی ۔اس کے شوہر نے طلاق نامہ کے ساتھ حق مہر پچاس ہزار بھی بھیج دیئے ہیں اور کہا ہے کہ اپنے جہیز کاسامان لے جا ؤ،جب ہم وہاں گئے تو انہوں نے کہا کہ صرف فرنیچر وغیرہ لے جاؤ ،زیورات اور گفٹ وغیرہ جو لڑکی کو ان کے شوہر کی طرف سےدیئے گئےتھے وہ سب دینے سے انکار کردیا ،اور ہم نے ان سے عدت کے دوران کا خرچہ مانگا تو وہ بھی دینے سے منع کر رہے ہیں۔آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ لڑکی کو جو زیورات اور گفٹ وغیرہ دیئے گئےتھے وہ طلاق کے بعد لڑکی سے واپس لیئے جا ئینگے ؟اوردوران عدت کا خرچہ ان پر لازم ہے یا نہیں ؟اگر لازم ہے تو کتنا ؟
سائل:محمد نبی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
آپ کی بیٹی کو جو زیورات یاکو ئی بھی گفٹ ان کے شوہرکی طرف سے دیئےگئے تھے اور ان پر آپ کی بیٹی قبضہ کرلیا تھا تو وہ آپ کی بیٹی ملکیت ہیں لہذاان کے شوہر پر لازم ہے کہ وہ ان کو واپس کر دے ،اور عدت کے دوران عورت کا نفقہ یعنی دو وقت کا کھانا یا اس کی قیمت (لیکن اس کی مقدار اور معیار کو پوری طرح متعین نہیں کیا جا سکتا ؛ کیوں کہ مختلف لوگوں کے ذوق و مزاج اور جسمانی ضروریات میں فرق ہوتا ہے، ایسی غذا فراہم کرنا شرعاً واجب ہے، جو اس کے لئے موزوں ہولہذا باہمی مشاورت سے جو طے پائےوہ ) دینا لازم ہے؛ اسی طرح سکنی یعنی رہنے کی جگہ بھی دیناضروری ہے ۔
اوراحناف کے نزدیک مدخولہ عورت (جس کی رخصتی ہو گئی ہے)کی عدت طلاق تین حیض ہے(اگر حیض میں طلاق ہو ئی ہے تو اس کے علاوہ تین حیض عدت کے ہونگے )اور اگر عورت حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے اور اگر آیسہ(وہ عورت جس کو عمر کے زیادہ ہونے کی وجہ سے حیض آنا بند ہوجائے)ہےتو اس کی عدت تین قمری مہینےہیں ۔
اورعدت کے احکام یہ ہیں :
(1)دوران عدت کسی اجنبی سے نکاح کرنا ،نہ ہی اجنبی کی طرف سے صراحتا نکاح کا پیغام بھیجنا جا ئز ہے ۔
(2)بغیرضرورت شدیدہ کے گھر سے باہر جانا جائز نہیں ہے۔
(3)عدت کے دوران زیب و زینت کے تمام کا موں کا ترک کرنا ہے ،مثلا خوشبو لگانا ،بلا ضرورت سر میں تیل کا استعمال کرنا ، زیورات
پہنا،بلاضرورت آنکھوں میں سرمہ لگانا اور زیب و زینت کے کپڑے پہننا وغیرہ جا ئز نہیں ہے ۔
(4)دوران عدت کہیں سفر کرنا چاہے محرم کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو جائز نہیں ہے ۔
ان کے علاوہ گھر کے کام کاج اورگھر میں ہی رہتے ہو ئے دیگر مصروفیات کا عدت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688 میں ہے:وَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ) کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز) میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو)اور غیر مشغول ہو۔
بدائع الصنائع(کتاب الھبہ،ج:۶،ص:۱۲۷،طبع:دارالکتب العلمیۃ)میں ہےأَمَّا أَصْلُ الْحُكْمِ فَهُوَ ثُبُوتُ الْمِلْكِ لِلْمَوْهُوبِ لَهُ فِي الْمَوْهُوبِ مِنْ غَيْرِ عِوَضٍ لِأَنَّ الْهِبَةَ تَمْلِيكُ الْعَيْنِ مِنْ غَيْرِ عِوَضٍ.ترجمہ:اور ھبہ(گفٹ) کا حکم یہ ہے کہ جس کو ھبہ کیا گیا اس کے لیئے گفٹ کا ملک ثابت ہو جائے گا بغیر کسی عوض کے ،کیو نکہ ھبہ نام ہے شی کو بغیر کسی عوض کے مالک بنا نےکا۔
اللہ تعالی جل شانہ کا فرمان ہے :وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ [البقرة: 228] ترجمہ: اور طلاق والیاں اپنی جانوں کو روکے رہیں تین حیض تک اور انہیں حلال نہیں کہ چھپائیں وہ جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہیں۔
وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا [الطلاق: 4]
ترجمہ:اور تمہاری (بوڑھی)عورتوں میں جنہیں حیض کی امید نہ رہی ،اگر تمہیں کچھ شک ہو (کہ ان کی عدت کا کیا حکم ہے ) تو ان کی (طلاق کی )عدت تین مہینے ہےاور ان کی (بھی )جنہیں ابھی حیض نہ آیا، اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جَن لیں۔
بدائع الصنائع(کتاب النفقہ،ج:۴،ص:۲۳،طبع:دارالکتب العلمیۃ)میںملخصاً ہے:قَالَ أَصْحَابُنَا: هَذِهِ النَّفَقَةُ غَيْرُ مُقَدَّرَةٍ بِنَفْسِهَا بَلْ بِكِفَايَتِهَا; وَإِذَا كَانَ وُجُوبُهَا عَلَى سَبِيلِ الْكِفَايَةِ فَيَجِبُ عَلَى الزَّوْجِ مِنْ النَّفَقَةِ قَدْرُ مَا يَكْفِيهَا مِنْ الطَّعَامِ وَالْإِدَامِ وَالدُّهْنِ؛ لِأَنَّ الْخُبْزَ لَا يُؤْكَلُ عَادَةً إلَّا مَأْدُومًا وَالدُّهْنُ لَا بُدَّ مِنْهُ لِلنِّسَاءِ وَلَا تُقَدَّرُ نَفَقَتُهَا بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ عَلَى أَيِّ سِعْرٍ كَانَتْ؛ لِأَنَّ فِيهِ إضْرَارًا بِأَحَدِ الزَّوْجَيْنِ؛ إذْ السِّعْرُ قَدْ يَغْلُو وَقَدْ يَرْخُصُ بَلْ تُقَدَّرُ لَهَا عَلَى حَسَبِ اخْتِلَافِ الْأَسْعَارِ غَلَاءً وَرُخْصًا رِعَايَةً لِلْجَانِبَيْنِ۔ترجمہ:ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ نفقہ کی مقدار متعین نہیں ہے ؛ بلکہ اتنی مقدار دی جائے گی، جو عورت کے لئے کفایت کر جائے اور جب نفقہ بہ قدر کفایت واجب ہے تو شوہر پر اتنا کھانا، سالن اور تیل دینا واجب ہے جو بیوی کے لئے کافی ہو ؛ کیوں کہ بغیر سالن کے روٹی نہیں کھائی جاتی اور خواتین کے لئے تیل بھی ضروری ہے، درہم و دینار (روپیہ ) کے ذریعہ نفقہ کی مقدار متعین نہیں کی جا سکتی ؛ کیوں کہ اس میں زوجین میں سے ایک کو نقصان پہنچے گا ؛ کیوں کہ قیمتیں گھٹتی بڑھتی رہتی ہیں ( اور اگر روپے ہی سے نفقہ کی مقدار متعین کی جائے تو )قیمت کے اتار چڑھاؤ کو سامنے رکھتے ہوئے نفقہ متعین کیا جائے گا ؛ تاکہ دونوں کی رعایت ملحوظ رہے۔
بدائع الصنائع(فصل فی احکام العدۃ،ج:۳،ص:۲۰۴تا۲۰۹،طبع:دارالکتب العلمیۃ)میں ملخصاًہے:وَأَمَّا أَحْكَامُ الْعِدَّةِ فَمِنْهَا أَنَّهُ لَا يَجُوزُ لِلْأَجْنَبِيِّ نِكَاحُ الْمُعْتَدَّةِ لِقَوْلِهِ تَعَالَى {وَلا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ} [البقرة: 235] وَمِنْهَا أَنَّهُ لَا يَجُوزُ لِلْأَجْنَبِيِّ خِطْبَةُ الْمُعْتَدَّةِ صَرِيحًا سَوَاءٌ كَانَتْ مُطَلَّقَةً أَوْ مُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُه؛وَمِنْهَا وُجُوبُ الْإِحْدَادِ عَلَى الْمُعْتَدَّةِ وَهُوَ أَنْ تَجْتَنِبَ الطِّيبَ وَلُبْسَ الْمُطَيَّبِ وَالْمُعَصْفَرِ وَالْمُزَعْفَرِ، وَتَجْتَنِبَ الدُّهْنَ وَالْكُحْلَ وَلَا تَخْتَضِبَ وَلَا تَمْتَشِطَ وَلَا تَلْبَسَ حُلِيًّا وَلَا تَتَشَوَّفَ.وَمِنْهَا وُجُوبُ النَّفَقَةِ وَالسُّكْنَى؛وَمِنْهَا حُرْمَةُ الْخُرُوجِ مِنْ الْبَيْتِ فَإِنْ كَانَتْ مُعْتَدَّةً مِنْ نِكَاحٍ صَحِيحٍ وَهِيَ حُرَّةٌ مُطَلَّقَةٌ بَالِغَةٌ عَاقِلَةٌ مُسْلِمَةٌ وَالْحَالُ حَالُ الِاخْتِيَارِ فَإِنَّهَا لَا تَخْرُجُ لَيْلًا وَلَا نَهَارًا سَوَاءٌ كَانَ الطَّلَاقُ ثَلَاثًا أَوْ بَائِنًا أَوْ رَجْعِيًّا؛فَلَا يُبَاحُ لَهَا الْخُرُوجُ؛ لِأَنَّ الْعِدَّةَ لَمَّا مَنَعَتْ أَصْلَ الْخُرُوجِ فَلَأَنْ تُمْنَعَ مِنْ خُرُوجٍ مَدِيدٍ وَهُوَ الْخُرُوجُ مِنْ السَّفَرِ أَوْلَى، وَإِنَّمَا اسْتَوَى فِيهِ سَفَرُ الْحَجِّ وَغَيْرِهِ وَإِنْ كَانَ حَجُّ الْإِسْلَامِ فَرْضًا(متغیرا)ترجمہ:اور رہے عدت کے احکام تو وہ یہ کہ اجنبی کا عدت والی عورت سے نکاح کرنا جا ئز نہیں ہے ،کیو نکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:"اور نکاح کی گرہ پکی نہ کرو جب تک لکھا ہوا حکم اپنی میعاد کو نہ پہنچ لے"؛اور (اسی طرح )اجنبی شخص کے لیئے جا ئز نہیں ہے کہ وہ عدت والی عورت کو صراحتاًنکاح کا پیغام بھیجے ،چاہے وہ عورت طلاق کی عدت گزار رہی ہو یا وفات کی ۔
(اسی طرح )عدت والی عورت پر ترک زینت واجب ہے اور وہ یہ کہ خوشبو اور خوشبو دار کپڑے ،پیلے رنگ اور زعفران سے رنگے ہوئے کپڑے پہنے سے اجتناب کرے ؛اور تیل اور سرمہ کے(غیر ضروری )استعمال سے بچے ؛اور خضاب لگانے اور بالوں کے (غیر ضروری )استعمال نہ کرے ؛(اسی طرح )زیورات کو زیب تن نہ کرےاور(ہر قسم کا)زینت اختیار نہ کرے ۔
واللہ تعالی اعلم باالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد
تاریخ اجراء:30صفر المظفر 1440 ھ/09نومبر 2018ء