طلاق مرسومہ کا شرعی حکم
    تاریخ: 25 فروری، 2026
    مشاہدات: 15
    حوالہ: 885

    سوال

    آٹھ ماہ پہلے میرے والدین نے میری رضامندی کے بغیر میری شادی کی تھی ،رخصتی کے چار ماہ بعد میں نےوالدین کو بغیر بتائے کورٹ میرج کیا ،اس کے لیئے مجھے یہ باور کرانا تھا کہ میری دوسری بیوی نہیں ہے لہذا میں جعلی طلاق نامہ بنوایا (جو کہ منسلک ہے ) اور میں نے اس کو پڑھا نہیں ،صرف وکیل کے کہنے پر میں نے دستخط کیئے تھے جبکہ میری طلاق کی نیت نہیں تھی میں حلفیہ کہہ رہا ہوں تو کیا طلاق واقع ہو گئی ہے ۔

    سائل :محمد اشتیاق سمول،ملیر کراچی۔

    نوٹ:ہم نے سوال میں رخصتی کے بعد طلاق کی تصریح سائل کے ذاتی بیان کے مطابق لکھا ہے جبکہ طلاق نامہ میں رخصتی نہ ہونے کی صراحت ہے ۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ واقعتا ایسا ہی ہے جس طرح آپ نے بیان کیا تو آپ کی بیوی کومل اسلم پر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور وہ آپ کے لیئے حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو چکی ہیں،اس کے بعد آپ دونوں کا میاں ،بیوی والے تعلقات قائم رکھنا حرام ہے لہذا آپ پر لازم ہے کہ وہ اپنی پہلی بیوی سے ہر قسم کے تعلقات ختم کریں،اور جہاں تک آپ کا یہ کہنا ہے کہ آپ کی اس طلاق نامہ کے بنوانے اور اس پر دستخط کرنے اور انگھوٹھ لگانے سے طلاق کی نیت نہیں تھی تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے کیوں کہ شرعا بقاعدہ طلاق نامہ کی حیثیت زبان سے ادا کرنے کی سی ہے جس طرح زبانی طلاق صریح دینے میں نیت کا اعتبار نہیں !اسی طرح طلاق نامہ بنوانے میں بھی نیت کا اعتبار نہیں ۔

    سنن ابی داود ، رقم:2194میں ہے" ثَلَاثٌ جَدُّهُنَّ جَدٌّ، وَهَزْلُهُنَّ جَدٌّ: النِّكَاحُ، وَالطَّلَاقُ، وَالرَّجْعَةُ" ترجمہ:تین چیزیں ایسی ہیں کی سنجید گی بھی حقیقت ہےاور جن کا مذاق بھی حقیقت ہے (یعنی )نکاح ،طلاق اوررجوع

    حاشیہ شامی، کتاب الطلاق مطلب فی الطلاق بالکتابۃ ،ج:3،ص:246،طبع:دارالفکراورعالمگیریہ ،کتاب الطلاق، الفصل السادس فی الطلاق بالکتابۃ ج1 ص414 ،:طبع: دار الفکر، بیروتمیں ہے واللفظ لہ:

    ‘‘الْکِتَابَۃُ عَلَی نَوْعَیْنِ: مَرْسُومَۃٍ وَغَیْرِ مَرْسُومَۃٍ، وَنَعْنِی بِالْمَرْسُومَۃِ أَنْ یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا مِثْلُ مَا یُکْتَبُ إلَی الْغَائِبِ. وَغَیْرُ الْمَرْسُومَۃِ أَنْ لَا یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا، وَہُوَ عَلَی وَجْہَیْنِ: مُسْتَبِینَۃٍ وَغَیْرِ مُسْتَبِینَۃٍ، فَالْمُسْتَبِینَۃُ مَا یُکْتَبُ عَلَی الصَّحِیفَۃِ وَالْحَائِطِ وَالْأَرْضِ عَلَی وَجْہٍ یُمْکِنُ فَہْمُہُ وَقِرَاء َتُہُ. وَغَیْرُ الْمُسْتَبِینَۃِ مَا یُکْتَبُ عَلَی الْہَوَاء ِ وَالْمَاء ِ وَشَیْء ٌ لَا یُمْکِنُہُ فَہْمُہُ وَقِرَاء َتُہُ. فَفِی غَیْرِ الْمُسْتَبِینَۃِ لَا یَقَعُ الطَّلَاقُ وَإِنْ نَوَی، وَإِنْ کَانَتْ مُسْتَبِینَۃً لَکِنَّہَا غَیْرَ مَرْسُومَۃٍ إنْ نَوَی الطَّلَاقَ وَإِلَّا لَا، وَإِنْ کَانَتْ مَرْسُومَۃً یَقَعُ الطَّلَاقُ نَوَی أَوْ لَمْ یَنْوِ ثُمَّ الْمَرْسُومَۃُ’’ ترجمہ: کتابتِ (طلاق )کی دو قسمیں ہیں ،(١)مرسومہ (٢)غیر مرسومہ اور مرسومہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ اس پر طلاق کاعنوان ہو جیسے کسی شخص کوخط لکھتے ہیں تو اس پر عنوان دیتے ہیں،اور غیر مرسومہ سے مراد جس پر طلاق کا عنوان نہ ہو،پھر اس (غیرمرسومہ) کی دو قسمیں ہیں مستبینہ اور غیر مستبینہ (یعنی واضح اور غیر واضح)مستبینہ وہ ہے جو دیوار،زمین یا کسی کاغذپر لکھ کر دی جائے کہ جسکو پڑھنا اور سمجھنا ممکن ہو، اور غیر مستبینہ وہ ہے جو پانی ،ہوا یا ایسی چیز پر لکھ کر دی جائے جس کو سمجھنا اور پڑھنا ممکن نہ ہو،پس غیر مستبینہ (یعنی اس آخری والی صورت میں)طلاق واقع نہیں ہوگی ،اگر چہ طلاق دینے کی نیت کی ہو، اور اگر مستبینہ ہو لیکن غیر مرسومہ ہو تو اگر نیت کی تو طلاق واقع ہوجائے گی اور نیت نہیں کی تو نہیں ہوگی،اور اگر طلاق مرسومہ ہو(یعنی اس پر طلاق کا عنوان ہو جیسے آج کل کا طلاق نامہ)تونیت کرے یا نہ کرے طلاق واقع ہوجائے گی۔

    اسی میں ہے:وَلَوْ قَالَ لِلْكَاتِبِ: اُكْتُبْ طَلَاقَ امْرَأَتِي كَانَ إقْرَارًا بِالطَّلَاقِ وَإِنْ لَمْ يَكْتُبْ؛ترجمہ:اور اگر کسی نے طلاق نامہ بنانے والے سے کہا کہ میری بیوی کا طلاق نامہ لکھ دو یہ طلاق کا اقرار ہے (اور اس سے طلاق واقع ہو جائے گی)اگر چہ اس نے نہیں لکھا۔

    اسی طرح بدائع الصنائع(فصل فی بیان صفۃ الواقع بکل واحد من نوعی الطلاق ،ج:۳،ص؛۱۰۹،طبع:دارالکتب العلمیۃ)میں ہے :‘‘وَإِنْ كَتَبَ كِتَابَةً مَرْسُومَةً عَلَى طَرِيقِ الْخِطَابِ وَالرِّسَالَةِ مِثْلُ: أَنْ يَكْتُبَ أَمَّا بَعْدَ يَا فُلَانَةُ فَأَنْتِ طَالِقٌ ۔۔يَقَعُ بِهِ الطَّلَاقُ، وَلَوْ قَالَ: مَا أَرَدْتُ بِهِ الطَّلَاقَ أَصْلًا لَا يُصَدَّقُ’’ترجمہ:اور اگر کسی نے کتابت مرسومہ کی صورت میں طلاق دی،بطور خطاب اور بطور خط کے لکھے کہ :اے فلانہ تو طلاق والی ۔۔تو طلاق واقع ہو جائے گی ۔اور اگر وہ کہے کہ میرا ارادہ طلاق کا نہیں تھا تو اس کی بالکل بھی تصدیق نہیں کی جائے گی ۔

    اسی طرح المحیط البرھانی فی الفقہ النعمانی(الفصل السادس،فی ایقع الطلاق بالکتابۃ ،ج:۲،ص:۲۷۴، طبع:دارالکتب العلمیۃ )

    میں طلاق مرسومہ کا حکم اس طرح ہے ‘‘وإن قال: لم أعنِ به الطلاق لم يصدق في الحكم، وهذا لأن الكتابة المرسومة بمنزلة المقال’’ترجمہ:اور اگر وہ کہے میری مراد طلاق کی نہیں ہے ،حکم میں اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی ،اور یہ اس لیئے کہ کتابت مرسومۃ زبان سے ادا کرنے کے مترادف ہے۔

    اور طلاق نامہ بھی مرسومہ طلاق کی ایک صورت ہے لہذا آپ کی پہلی بیوی کو طلاق نامہ کے مطابق تین طلاقیں واقع ہو گئیں۔

    تیسری طلاق کے بعداگر میاں ،بیوی دوبارہ رہنے پر راضی ہوں توبغیر حلالہ شرعی کے نہیں رہ سکتے۔جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ'( البقرہ: 230)ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ،پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ''

    امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ تعالیٰ حلالہ کی وضاحت میں فرماتے ہیں :''حلالہ کے یہ معنیٰ ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں ےا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سےنکلے گی اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعدطلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''(فتاویٰ رضویہ کتاب الطلاق جلد 12ص84 ) ۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد

    تاریخ اجراء:30صفر المظفر 1440 ھ/09نومبر 2018ء