''تم میری طرف سے فارغ ہو'' کہنے سے طلاق کا حکم

    Tum meri taraf se farigh ho kehnay se talaq ka hukam

    تاریخ: 27 جون، 2026
    مشاہدات: 57
    حوالہ: 1514

    سوال

    اسلام و علیکم مفتی صاحب۔ میاں بیوی کے درمیان بیوی کے ٹیوشن پڑھانے کے متعلق بحث ہو رہی تھی۔اس وقت کہیں بھی طلاق کا موضوع نہیں تھا۔نہ ہی شوہراس وقت بیوی کو طلاق دینے کا کوئی ارادہ اور نیت رکھتا تھا۔اسی موضوع (ٹیوشن) پر جب بحث کافی دیر جاری رہی تو بیوی نے بحث سے تنگ آکر بولا آپ کو جو فیصلہ کرنا ہے کریں۔بیوی نے یہ بات طلاق لینے کی نیت سے نہیں کہی تھی نہ کہی ذہن میں طلاق کا کوئی خیال تھا۔مقصد بحث سے جان چھڑانا تھا۔ اسی بحث کے دوران شوہر نے دو دفعہ بیوی کو بول دیا جاو تم میری طرف سے فارغ ہو ۔یہ الفاظ شوہر نے بیوی کے بغیر شوہر کی اجازت سے ٹیوشن پڑھانے پر ناراضگی میں کہے بیوی کو طلاق دینے کی کوی نیت اور ارادہ نہیں تھا۔ بیوی شوہر سے نیت جانے بغیر گھر سے آ گئ، شوہر کے واپس بلانے پر واپس نہیں گئ نہ کوئی رابطہ رہا ۔اور عدت گزر گئ۔عدت بعد بیوی کو شوہر کی نیت کا علم ہوا کہ یہ بولتے وقت نہ شوہر کی نیت طلاق دینے کی تھی نہ شوہر کو ان الفاظ کی نزاکت کا کوئی اندازہ تھا۔ لیکن چونکہ عدت گزر چکی تھی اور خاندان میں بھی یہ بات سب کو معلوم ہو چکی تھی اس لیے اس رشتے کو ختم سمجھ کر سب خاموش ہو گئے۔ اب اس سارے معاملے کو ایک سال کا عرصہ گزر چکا۔مگر دل میں بار بار یہ خیال آتا ہے کہ کنایہ الفاظ سے طلاق کے واقع ہونے کی جو شرائط ہوتیں ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی اس وقت موجود نہیں تھی۔ نہ ہی مذاکرہ طلاق تھا،نہ مطالبہ طلاق اور نہ ہی شوہر کی نیت طلاق دینے کی تھی۔تو کیا اس ساری صورتحال میں طلاق واقع ہوی یا نکاح قائم ہے۔بیوی اس سارے معاملے میں کہیں گناہگار تو نہیں ہو گی۔شرعی حکم کیا بنتا ہے؟براے مہربانی فتویٰ عنایت فرمائیں ۔جزاک اللہ

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورت مستفسرہ میں مذکورہ الفاظ سے عورت کا دو طلاق رجعی واقع ہوچکی ، پھر جب عدت میں رجوع نہ ہو حتٰی کہ عدت گزر گئی تو اس صورت میں عورت نکاح سے نکل گئی۔ اگر شوہر نے ان دو طلاقوں سے قبل کوئی طلاق نہیں دی تھی اور اب اگر باہمی رضامندی سے دونوں رجوع کرنا چاہتے ہیں تو اس صورت میں نئے حق مہراور نئے گواہوں کے ساتھ نکاح کرنا لازم ہے، لیکن آئندہ فقط ایک طلاق کا حق باقی رہے گا جسکے بعد عورت حرمتِ مغلظہ کیساتھ حرام ہوجائے گی ۔

    تم میری طرف سے فارغ ہو اور اس جیسے الفاظ فی زمانہ صریح ہیں اس سلسلے میں فقیہ العصر ، تاج الفقہاء مفتی وسیم اختر المدنی اپنے مبسوط فتوٰی بنام ''طلاق کےالفاظ صریح وکنایہ پرایک مبسوط فتوى'' میں فرماتے ہیں:ہمارے نزدیک اردو زبان کے الفاظ '' میں نے تمہیں فارغ کیا '' یا ''تم میری طرف سے فارغ ہو'' کی وضع طلاق کے لئے نہیں ہے اس لئے فقہاء کرام نے انہیں کنایہ شمار فرمایا تھا۔لیکن بحکمِ مقدمہ خامسہ پاکستان کے اکثر شہروں میں یہ الفاظ طلاق کے لئے کثیر الاستعمال ہونے اور عرف و عادت کی وجہ سے ملحق بالصریح ہیں ۔کیونکہ آج کل جب بھی کوئی شخص یہ الفاظ بولتا ہے تو بغیر کسی قرینہ خارجیہ کے متبادر الی الفہم طلاق کے معنٰی ہی ہوتے ہیں ۔لہذا بحکمِ مقدمہ اولٰی ان الفاظ سے ہر حال میں بلانیت طلاق واقع ہوجائے گی۔اور ایک سے زائد بار بولنے کی صورت میں پہلے والی دوسری کو لاحق ہو گی۔اور تین بار بولا تو طلاق بائنہ مغلظہ وقوع پذیر ہوگی۔(ماخوذ از وسیم الفتاوٰی، حوالہ نمبر 7382 غیر مطبوعہ)

    عدت گزر جائے تو نیا نکاح ضروری ہے ،جیساکہ بدائع الصنائع میں ہے : أنها تحل في كل واحدة منهما بنكاح جديد من غير التزوج بزوج آخرترجمہ:طلاق رجعی(میں عدت گزرنے کے بعد) اور طلاق بائن میں سے ہر ایک میں عورت دوسرے شوہر سے شادی کئے بغیر محض نکاح جدید سے ہی سابقہ شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی۔( بدائع الصنائع کتاب النکاح فصل فی الکنایۃ فی الطلاق جلد 3 ص 108 )

    سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: اگر پہلے کبھی اسے کوئی طلاق نہ د ی تھی تو عورت کی مرضی سے اس سے دوبارہ جدید مہر کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے۔(فتاویٰ رضویہ، کتاب الطلاق، جلد 12 ص 571)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب