عورتوں پر جمعہ فرض نہیں
    تاریخ: 24 نومبر، 2025
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 225

    سوال

    کیا خواتین نماز جمعہ پڑھ سکتی ہیں ؟ اگر پڑھیں تو کس طرح ادا کریں ؟کیونکہ ہمارے ملک میں خواتین مسجدوں میں نہیں جاتی ، ان پر فرض یا واجب ہے یا نہیں ؟ اگر گھر میں ادا کریں تو اسکا کیا طریقہ ہوگا؟

    سائل:محمد اکرام :چکوال


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    خواتین پر جمعہ کی نماز فرض نہیں ہے ، بلکہ وہ جمعہ کی بجائے ظہر کی نماز پڑھیں ، اور خواتین کو اس ظہر کا اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا کہ مردوں کو جمعہ پڑھنے کا ملتا ہے۔

    البحرالرائق شرح کنزالدقائق میں ہے:وَشَرْطُ وُجُوبِهَا: الْإِقَامَةُ وَالذُّكُورَةُ) فَلَا تَجِبُ عَلَى مُسَافِرٍ، وَلَا عَلَى امْرَأَةٍ.ترجمہ: اور جمعہ واجب ہونے کی شرط ،مقیم ہونا،مرد ہوناہے ، لہذا مسافر،اور عورت پر واجب نہیں ہے۔( البحرالرائق شرح کنزالدقائق ،کتاب الصلوۃ،باب شروط وجوب الجمعۃ،جلد 2 ص 163)

    لیکن موجودہ دور کےاکثر علماء اس بات کے قائل ہیں کہ عورتوں کو جمعہ و عید کی نماز کے لیے،تراویح کے لیے مسجد میں آنا چاہیے تاکہ کچھ نہ کچھ دین سیکھ لیں ۔

    سیدی اعلیٰ حضرت سے کسی نے عورتوں کی میلاد کی محفل کی شرکت کے بارے میں سوال کیا آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں :'' واعظ یا میلاد خواں اگر عالم سنی صحیح العقیدہ ہو اور اسکا وعظ و بیان صحیح و مطابق شرع ہو ، اور جانے میں پوری احتیا ط و مکمل پردہ ہو اور کو ئی احتمال فتنہ نہ ہو اور مجلس رجال سے دور انکی نشست ہو تو کوئی حرج نہیں۔''فتاویٰ رضویہ کے اس جزئیے کو سامنے رکھ کر ہم کم از کم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر مکمل شرعی پردہ ہو اور انکے آنے جانے کا راستہ مردوں کے راستے سے جدا ہوں توعورت جمعہ میں شریک ہوسکتی ہے۔

    دور حاضر کے عطیم محقق علامہ غلام رسول سعیدی نعمۃ الباری شرح صحیح البخاری ج2ص 798 پر رقمطراز ہیں ''اب عورتوں نے برقع پہننا چھوڑ دیا ہے ، سر کو دوپٹے سے نہیں ڈھانپتیں،تنگ و چست کپڑے پہنتی ہیں،بیوٹی پارلروں میں جا کر جدید طریقوں سے میک اپ کرواتی ہیں ، مردوں کے ساتھ مخلوط اجتماعات میں شرکت کرتی ہیں، میرتھن ریس میں حصی لیتی ہیں،بسنت میں پتنگ اڑاتی ہیں ، ویلنٹائن ڈے مناتی ہیں ۔ اس قسم کی آزاد منش عورتوں کے مسجد میں جانے کا تو خیر کوئی امکان ہی نہیں ،البتہ اللہ سے ڈرنے والی خواتین ضرور مسجد میں جمعے کی نماز پڑھنے یا رمضان میں تراویح پڑھنے جاتی ہیں ،سو وہ خواتین پردہ کی حدود و قیود کے ساتھ جائیں،تاکہ وہ درس قرآن و حدیث، وعظ و نصیحت سن سکیں ، تو میری رائے میں انکو منع نہیں کرنا چاہیے۔

    جبکہ امام اعظم کے ایک قول میں اسکی گنجائش بھی ہے۔''حکیم الامت،مفسر شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح ج2ص283 میں حدیث '' اذا استاذنت احدکم امراتہ الی المسجد فلا یمنعہا''کے تحت لکھتے ہیں،'' ظاہر ہے یہ حکم اس وقت تھا جب عورتوں کو مسجد میں حاضری کی اجازت تھی،عہد فاروقی میں اسکی ممانعت کردی گئی، کیونکہ عورتوں میں فساد بہت آگیا تھالیکن فی زمانہ عورتوں کو مسجد میں باپردہ آنے اور علیحدہ بیٹھنے سے نہ روکا جائے کیونکہ اب تو عورتیں سینماؤوں ، بازاروں میں جانے سے تو رکتی نہیں مسجد میں آکر کچھ دین کے احکام سن لیں گی۔

    کچھ آگے چل کر لکھتے ہیں'' اب فقیر کا فتویٰ یہ ہے کہ عورتوں کو باپردہ مسجد میں آنے سے نہ روکو کہ اگر ہم انہیں روکیں تو یہ وہابیوں، مرزائیوں اور قادیانیوں کی مساجد میں پہنچتی ہیں ،جیساکہ تجربہ ہے،ان لوگون نے عورتوں کے لیے بڑے بڑے انتطامات اپنی اپنی مساجد میں کیے ہوئے ہیں،عورتوں کو گمراہ کرکے انکے خاوند اور بچوں کو بہکاتے ہیں۔''

    مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان صاحب تفہیم المسائل جلد 4ص 353 پر لکھتے ہیں '' ہمارے فقہاء کا عمومی موقف تو یہی ہے کہ اخلاقی تنزلی کی وجہ سے عورتوں کو مسجد میں آنے کی اجازت نہ ہو ، لیکن اسکا مقصد تو یہ جب ہے کہ مسجد میں نماز کے لیے آنے سے ان خواتین کو روکنا شریعت کا منشاء ہے تو پھر یہ پابندی عام حالات میں بھی اختیار کرنی چاہیے ،لیکن اب چند دین دار عورتوں کے علاوہ عام عورتیں تعلیم، روزگار،بازاروں، سماجی تقریبات میں، اور روز مرہ کے معاملات میں بلا روک ٹوک حجاب شرعی کے بغیر گھومتی پھرتی ہیں ، تو بالخصوص دینی مجالس سے کیوں روکا جائے۔اسلیے میرے نزدیک موجودہ دور میں مساجد میں نماز تراویح،جمعہ اور دروس کی مجلسوں میں شرعی حدود کی مکمل پاسداری کے ساتھ خواتین کی شرکت کا اہتمام اباحت وجواز کی حدود سے نکل کر ضرورت کے درجے میں داخل ہو گیا ہے''ان معتبر و مستند فقہاء وعلماء کے فتاوی واقوال کو سامنے رکھ کر ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ عورتوں کو شرعی پردہ کے ساتھ مسجد میں نماز جمعہ،عیدین کی نماز اسی طرح تراویح کی نماز میں آنے کی اجازت ہے جبکہ انکا راستہ اور نشست مردوں سے جدا اور الگ ہو۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ: محمدزوہيب رضاقادري

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنين مفتي وسيم اختر المدني

    تاريخ اجراء:16 رجب المرجب 1440 ھ/25 مارچ 2019 ء