سوال
صدقہ کس وقت دینا چاہیے اور کن کن چیزوں کا دینا چاہیے؟سائل: محمد رفیق
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صدقہ دینے کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ جب آسانی ہو جب اللہ تعالیٰ توفیق دے اس وقت صدقہ دے سکتے ہیں ۔صدقے کے مستحقین میں اقارب اور رشتہ داروں کو ترجیح حاصل ہے۔چناچہ روایت میں ہے کہ عمرو بن جموح ایک مالدارصحابی تھے تھے۔ ایک دن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی خدمت میں عرض گزار ھوئے:
میں کس چیز میں سے صدقہ دوں اور کن لوگوں کو دوں؟تو اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ھوئی: ’يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا تَفْعَلُواْ مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللّهَ بِهِ عَلِيمٌ” ترجمہ کنز الایمان : تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں ؟تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو وہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لیے ہے اور جو بھلائی کرو بےشک اللہ اسے جانتا ہے ۔(سورۃ البقرہ آیت:215)
دوسری جگہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَنفِقُواْ مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ‘‘ ترجمہ: اے ایمان والو! اپنی کمائی کی اچھی، پاک و حلال چیزوں سے خیرات کرو۔(سورہ بقرہ، آیت 267)
اسکے علاوہ کوشش یہ ھونی چاھئے کہ پست اور ناچیز اموال میں سے صدقہ نہ دیا جائے۔کیونکہ صدقہ اللہ کی رضا کے حصول کے لئے دیا جاتا ہے۔ صدقے میں ایک کردار صدقہ دینے والے کا ہے اور ایک طرف خدا کی ذات ہے اور دوسری طرف سے بےنوا اور محتاج افراد ہیں اور اگر مؤمنین ان مسائل کا لحاظ نہ رکھیں تو [معاذ اللہ] خدا کی بھی توھین ھوگی اور محتاجوں اور مساکین کی بھی تذلیل لازم آئے گی۔ اور جو چیز انسان کو سب سے محبوب ہو وہ اللہ کی راہ میں دینا سب سے بہتر صدقہ ہے۔
اللہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:’’لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللّهَ بِهِ عَلِيمٌ‘‘ترجمہ: تم ہر گز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو(ف۱۷۲) اورتم جو کچھ خرچ کرو اللہ کو معلوم ہے۔ (سورہ آل عمران، آیت 92)
امر مُسَلَّم یہ ہے کہ یہاں جو کچھ بیان ھوا یہ واضح مصادیق ہیں لیکن موضوع ان ہی مصادیق تک محدود نھیں بلکہ حقیقت میں انسان ہر اس چیز سے صدقہ اور خیرات دے سکتا ہے جن سے صدقہ اور خیرات دینا ممکن ہے اور جن کو صدقہ دیا جاسکتا ہے ان کا دائرہ بھی بہت وسیع ہے۔ ہم نے یہاں اختصار کو ملحوظ خاطر رکھا ہے۔
وَمَا تُنفِقُواْ مِنْ خَيْرٍ فَلأنفُسِكُمْ وَمَا تُنفِقُونَ إِلاَّ ابْتِغَاء وَجْهِ اللّهِ وَمَا تُنفِقُواْ مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لاَ تُظْلَمُونَ (272) لِلْفُقَرَاء الَّذِينَ أُحصِرُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ لاَ يَسْتَطِيعُونَ ضَرْباً فِي الأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاء مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيمَاهُمْ لاَ يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافاً وَمَا تُنفِقُواْ مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللّهَ بِهِ عَلِيمٌ (273) الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرّاً وَعَلاَنِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ (274) (سورۃ البقرۃ).ترجمہ: اور جو تم لوگ مال و دولت خیرات میں دو گے وہ اپنے ھی لیے اور نھیں خیرات کرو گے مگر اللہ کی خوشنودی کے لیے اور جو مال و دولت خیرات میں دو گے وہ پورا پورا تمھیں ادا کر دیا جائے گا اور تم پر ظلم نھیں کیا جائے گا . ان تنگ دست افراد کا حق ہے جو اللہ کی راہ میں بے چارہ و تدبیر ھو گئے ہیں اس طرح کہ روئے زمین پر سفر نھیں کر سکتے نا واقف انہھیں رکھ رکھاؤ کی وجہ سے مال دار سمجھے گا، تم انھیں ان کے قیافہ سے پھچان سکتے ھو، وہ لوگوں سے لپٹ کر سوال نھیں کرتے اور جو کچھ مال ودولت تم پر خرچ کرو تو بلاشبہ اللہ اس کا جاننے والا ہے ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ: محمدزوہيب رضاقادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنين مفتي وسيم اختر المدني
تاريخ اجراء:01 صفر المظفر 1440 ھ/11اکتوبر 2018 ء