سوال
عورت کا ڈرائیونگ کرنا شریعت میں کیا حکم رکھتا ہے۔سائل:فرحان علی :لاہور ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر مراد عورت کا بائک چلانا ہے تو وہ مطلقاً ناجائزہے ۔ اولاً اس لئے کہ بائک چلانے میں بے پردگی اور کشفِ ستر کا قوی امکان موجود ہے۔ ثانیاً اگر کشفِ عورت کا حدِ ممکنہ تک انتظام ہو تب بھی بائک چلاتے وقت تیز ہوا سے اس کے جسم کے ابھار واضح ہوسکتے ہیں ۔ اور ثالثاً اس میں مردوں کے ساتھ کامل مشابہت ہے اور عورتوں کو مردوں کی مشابہت منع ہے۔ اس لئے عورت کو بائک چلانے کی اجازت نہیں ہے۔
پردہ سے متعلق ارشاد باری تعالٰی ہے: وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصٰرِہِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَہُنَّ ترجمۂ کنزالایمان:اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں۔(پ18، سورۃالنور،آیت31)
اس آیت کے تحت تفسیرِ بیضاوی میں ہے: قولہ تعالٰی :وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ ای بالتستر۔ترجمہ:اللہ تعالٰی کا فرمان کہ وہ عورتیں اپنی شرمگاہ کی حفاظت کریں یعنی ستر اختیار کرکے۔(تفسیر بیضاوی جلد 4 ص 104)
اسی مقام پر ارشاد ہے: وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ ۔ترجمہ: اور اپنی زینے عیاں نہ کریں۔ (پ18، سورۃالنور،آیت31)
اسکے تحت تفسیر طبری میں ہے:ای ولا يُظهرن للناس الذين ليسوا لهن بمحرم زينتهنّ۔ترجمہ:یعنی عورتیں ان کے لئے اپنی زینت ظاہر نہ کریں جو انکے محرم نہیں ہیں۔(جامع البیان، جلد 11 ص 255)
تفسیر بغوی میں ہے:و إِظْهَارُ زِينَتِهِنَّ، وَالتَّبَرُّجُ هُوَ أَنْ تُظْهِرَ الْمَرْأَةُ مِنْ مَحَاسِنِهَا مَا يَنْبَغِي لها أن تستره۔ ترجمہ: زینت کا اظہار یہ ہے کہ عورت اپنے ان محاسن کو ظاہر کرے جنکو چھپانا واجب ہے۔(معالم التنزیل، جلد 3 ص 429)
پہلے زمانوں میں جب جدید ٹیکنالوجی نہ تھی اس وقت لوگ جانوروں مثلا اونٹ گھوڑے وغیرہ پرسفر کرتے تھے ، تو عورتوں کو تنِ تنہا گھوڑے پر سفر کرنا منع ہوتا تھا جیساکہ امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کے حوالے سےالمحیط البرہانی میں منقول ہے : ذكر محمد رحمه الله في «السير الكبير» عن عمر بن عبد العزيز: أنه كتب أن لا تركب امرأة مسلمة على سرج۔۔۔انتہٰی، نهى النساء عن الركوب على السرج، وبه نقول وإنه خرج موافقاً لقوله عليه السلام: «لعن الله الفروج على السروج»والمعنى في النهي من وجهين؛ أحدهما: أن هذا تشبه بالرجال، وقد نهين عن ذلك، الثاني: أن فيه إعلان الفتن وإظهارها للرجال، وقد أمرن بالستر۔ ترجمہ:امام محمد نے سیر کبیر میں سیدنا عمر بن عبدالعزیز کے حوالے سے نقل فرمایا کہ انہوں نے فرمان جاری کیا کہ کوئی مسلمان عورت (بلاضرورت تنِ تنہا)گھوڑوں پر سوار نہ ہوں۔(یہاں امام محمد کی عبارت ختم ہوئی) سیدنا عمر بن عبدالعزیز نے عورتوں کو گھوڑوں پر سوار ہونے سے منع فرمایا یہ حکم نبی کریم ﷺ کہ اس قول کے مطابق ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : گھوڑوں پر سوار ہونے والی عورتیں اللہ تعالٰی کی رحمت سے دور ہیں۔اس منع کی دو وجہیں ہیں پہلی یہ کہ اس میں مردوں سے مشابہت ہے اور عورتوں کو اس سے منع کیا گیا ہے اور دوسرا یہ کہ اس میں(عورتوں کی بے پردگی کے سبب) مردوں کے لئے فتنے کا اعلان و اظہار ہے۔ حالانکہ عورتوں کو ستر کا حکم دیا گیا ہے۔(المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی جلد 5 ص 384، 385)
مذکورہ حدیث سے متعلق شامی میں ہے: وهو " لعن الله الفروج على السروج» ذخيرة. لكن نقل المدني عن أبي الطيب أنه لا أصل له اهـ. يعني بهذا اللفظ وإلا فمعناه ثابت، ففي البخاري وغيره «لعن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - المتشبهين من الرجال بالنساء والمتشبهات من النساء بالرجال» وللطبراني «أن امرأة مرت على رسول الله - صلى الله عليه وسلم - متقلدة قوسا فقال: لعن الله المتشبهات من النساء بالرجال والمتشبهين من الرجال بالنساء"۔ ترجمہ: ''گھوڑوں پر سوار ہونے والی عورتیں اللہ تعالٰی کی رحمت سے دور ہیں'' حدیث ہے ، ذخیرہ۔ لیکن مدینی نے ابو الطیب سے نقل کیا ہے کہ اسکی کوئی اصل نہیں ہے یعنی ان الفاظ کے ساتھ وگرنہ اسکا معنٰی ثابت ہے پس بخاری وغیرہ میں ہے : اللہ تعالٰی نے ایسے مردوں پر لعنت فرمائی جو عورتوں کی مشابہتاختیار کرتے ہیں اور ان عورتوں پر لعنت فرمائی جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔ اور طبرانی میں ہے کہ ایک عورت رسول اللہﷺ کے پاس سے گزری اور اسکے گلے میں کمان لٹکائی ہوئی تھی تو آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالٰی نے ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں، اور ایسے مردوں پر لعنت فرمائی جو عورتوں کی مشابہتاختیار کرتے ہیں۔(شامی ، جلد 6 ص 423)
سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں : بلاضرورت صحیحہ عورت کو گھوڑے پرچڑھنا منع ہے کہ مردانہ کام ہے، حدیث میں اس پر لعنت آئی، ابن حبان اپنی صحیح میں عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: یکون فی اخر امّتی نساء یرکبن علی مرج کاشباہ الرجال الحدیث وفی اٰخرہ العنوھن فانھن ملعونات۔ترجمہ: میری اُمت کے آخر میں کچھ ایسی عورتیں ہوں گی جو مردوں کی طرح جانوروں پرسوارہوں گی، الحدیث، اور اس کے آخر میں یہ الفاظ آئے ہیں: اُن عورتوں پرلعنت بھیجوکیونکہ وہ ملعون ہیں۔
اقول: وکانّ مااشتھر حدیثا بلفظ لعن اﷲ الفروج علی السروج ، ماخوذ من ھذا نقلا بالمعنی۔ترجمہ: اقول:(میں کہتاہوں کہ) گویا مشہورحدیث کے جوالفاظ ہیں وہ اسی حدیث مذکورسے نقل معنوی کے طورپر لئے گئے ہیں ''اﷲ تعالٰی ان فروج (شرمگاہوں) پرلعنت کرے جو زینوں(کاٹھیوں) پرسوارہوں''۔(فتاوٰی رضویہ ، کتاب الحظر والاباحۃ جلد 24 ص 115)
سو آج کل بائکیں، گھوڑوں اور خچروں کی مثل ہیں کہ دونوں پر بیٹھنے کی ھیئت ایک سی ہی ہے ۔نیز بائک میں ممانعت وہ تمام علتیں موجود ہیں جو گھوڑے وغیرہ پر سواری کی ہیں ۔ لہذا گھوڑے کی سواری کی طرح عورت کو بائک چلانے کی اجازت نہ ہوگی۔
پھر اگر بر سبیلِ تنزل مان لیں کہ عورت نے ایسے پردے کا انتظام کیا ہے جس میں ذرہ برابر بھی بے پردگی نہیں تب بھی عورت کا محض
بائک چلانا ہی مردوں کے میلان کا سبب بن سکتا ہے۔یہ ایک الگ امرِ ممنوع ہے۔
چناچہ مسلم شریف میں ہے: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «صنفان من أهل النار لم أرهما، قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس، ونساء كاسيات عاريات مميلات مائلات۔ترجمہ: دوزخیوں کی دو قسمیں ہیں جن کو میں نے نہیں دیکھا۔ ایک تو وہ لوگ جن کے پاس بیلوں کی دموں کی طرح کے کوڑے ہیں، وہ لوگوں کو اس سے مارتے ہیں ،دوسرے وہ عورتیں جو پہنتی ہیں مگر ننگی ہیں (یعنی ستر کے لائق لباس نہیں ہیں)، مردوں کومائل کرنے والی، اور انکی جانب مائل ہونے والی۔(مسلم، حدیث نمبر 2128)
رہی بات کار چلانے کی تو اسکا معاملہ بائک سے ذرا مختلف ہے کیونکہ کار میں پردہ ممکن ہے بایں طور کہ کار کی وضع ہی ایسی ہے کہ اس میں اکثر حصہ بدن از خود چھپ جاتا ہے پھر اگر عورت کار میں پردہ کرلے تو مکمل طور پر چھپ جائے ۔ اس طرح کار چلانے میں شرعی حرج نہیں ہے ، لیکن اس کی دو شرائط ہیں :
1: کار چلانا بلاحاجت و بلا ضرورت نہ ہو ، بلکہ ضرورت کے تحت ہو محض تفریح کے لئے نہ ہو کیونکہ جب عورت بلاضرورت کار چلائے گی تو بلاضرورت گھر سے باہر نکلے گی اور عورت کو بلاضرورت گھر سے نکلنا منع ہے۔
2: ضرورت کے ساتھ ساتھ ڈرائیونگ اتنے فاصلے تک کرے جو سفرِ ِ شرعی کی حدنہ بنتی ہو ، بصورتِ دیگر یعنی اگر وہ سفرِ شرعی کی مقدار یا اس سے زائد ڈرائیونگ کرنے کا ارادہ رکھتی ہوتو لازم ہے اس کے ساتھ اسکا کوئی محرم رفیقِ سفر ہو وگرنہ جائز نہیں ہے۔
عورت کو بلاضرورت گھر سے نکلنا منع ہے جیساکہ ارشادِ باری تعالٰی ہے: وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى
ترجمہ: اور اپنے گھروں میں ٹکی رہو، پہلے دورِ جاہلیت کی طرح غیروں کے سامنے اظہار زینت مت کرو۔(الأحزاب: 33)
یونہی ترمذی حدیث نمبر 1173 میں ہے:عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «المَرْأَةُ عَوْرَةٌ، فَإِذَا خَرَجَتْ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ» ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،خاتون چھپانے کی چیز ہے، جب خاتون گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے تاڑتا ہے۔
کنز العمال میں سیدنا عبداللہ ابن عمر سے موقوفاً ورایت ہے : ليس للنساء نصيب في الخروج إلا مضطرة يعني اذ ليس لها خادم۔ ترجمہ: عورتوں کے لئےگھروں سے نکلنا روا نہیں مگر جبکہ مجبور ہو یعنی جب اسکا کوئی خادم نہ ہو۔(حدیث نمبر: 45062)
مفتی اعظم پاکستان مفتی وقارالدین فرماتے ہیں : ”بے حجابانہ طورپرعورتوں کا(گھرسے)نکلناناجائز وحرام ہے۔اوران کے لئے سخت وعیدہے۔(وقارالفتاوی،ج3،ص148،بزم وقارالدین،کراچی)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :اگر مردوں کے سامنے آنا بے ستری سے ہے کہ کپڑے باریک ہیں جن سے بدن چمکتا ہے یا سر کے بال یا گلے یا کلائیوں کا کوئی حصہ کھلا ہے تو سب کو حرام ہے۔ اور ستر کامل کے ساتھ ہو اور خلوت نہ ہو اور احتمالِ فتنہ نہ ہو تو حرج نہیں۔(فتاوی رضویہ جلد 22صفحہ 244 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
سفر شرعی کی مقدار بلا محرم جانے سے متعلق مسلم شریف میں حدیث پاک ہے: عن عبد الله بن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «لا يحل لامرأة، تؤمن بالله واليوم الآخر، تسافر مسيرة ثلاث ليال، إلا ومعها ذو محرم»۔ترجمہ: حضرت عبداللہ ا بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر یا :" کسی عورت کے لئے جائز نہیں جو اللہ اور اسکے رسول پر ایمان رکھتی ہے کہ وہ تین (دن رات )کا سفر کرے مگر یہ کہ اس کے ساتھ محرم ہو۔(صحیح مسلم ، حدیث نمبر 1338)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ: محمدزوہيب رضاقادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنين مفتي وسيم اختر المدني
تاريخ اجراء:15 رجب المرجب 1443 ھ/17 فروری2022 ء