طالب علم کو سزا دینا
    تاریخ: 22 نومبر، 2025
    مشاہدات: 26
    حوالہ: 222

    سوال

    دینی شعبہ جات بالخصوص حفظ و ناظرہ کے لیے قرب و جوار و دور دراز سے آنے والے طلباء کرام کو کچھ عوارض کے سبب زدوکوب کیا جاتا ہے ۔ چناچہ درج ذیل سوالات کے بارے میں معتمدات اسفار کی روشنی میں جواب کی اشد ضرورت محسوس کرتا ہوں۔

    1: جوبچہ علم دین کے کے حصول کے لیے یہاں آیا اور ایک شوق کے باوجود اس سبق کو یاد نہ ہونے یا کم یاد ہونے کے سبب شریعت مطہرہ کس قدر تادیب کی اجازت دیتی ہے ؟

    2: اس قدر مارنا کہ بچے دینی شعبہ سے متنفر ہوکر دنیاوی شعبہ اختیار کریں ۔۔۔کیا یہ درست ہے؟

    3: بچہ جس کی مار سے دین سے متنفر ہوا تو کیا مارنے والا گناہ گار ہوگا؟

    4: بعض اساتذہ کرام کو یہ فرماتے نظر آتے ہیں کہ یہ مار دین کے حصول کے سبب ہے اس پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا ۔ اسکا کیا حکم ہے؟

    5: بعض اساتذہ مارتے ہیں شکایات انتظامیہ کے پاس جاتی ہے کہ اس قدر کیوں مارا؟ تو انتظامیہ کے لوگ استاذ کو سمجھانے کی بجائے شکایت لانے والوں کو ڈانٹ دیتے ہیں ؟ جیسے استاذ کوئی غلطی کرہی نہیں سکتا اسکا ہرکام درست اور مطابق شرع ہے جبکہ ہماری معلومات کے مطابق انسانوں میں صرف انبیاء ہی معصوم عن الخطا ہوتے ہیں ۔

    6: غصہ کی حالت میں مارنا کیسا؟ جبکہ ایسی حالت میں خواہش نفس کی تکمیل کے بھی قوی احتمالات موجود ہوتے ہیں ۔

    7: جسم کے کن اعضاء پر مارنا جائز ہے اور کن پر منع ہے ؟ حد زنا میں اعضاء ثلاثہ یعنی سر، چہرہ اور شرمگاہ پر مارنے سے شریعت نے منع کیا ہے جبکہ ہم نے بعض اساتذہ کو دیکھا ہے کہ اعضاء مذکورہ پر بھی مارنے سے گریز نہیں کرتے ، جیسا کہ قدوری میں ہے:ویفرق الضرب علی اعضائہ الا راسہ ووجھہ وفرجہ

    8: اگر استا ذ مار سکتا ہے تو کس قدر زور سے مارسکتاہے یعنی ڈنڈا کس قدر زورسے گھمائے گا؟

    9: بعض اساتذہ مارنے میں امیر و غریب کی تمیز کرتے ہیں ، یعنی امیر باپ کا بچہ غلطی کرے تو در گزر کیا جاتا ہے اور غریب کے بچے کو اس قدر مار دی جاتی ہے کہ بیان سے قاصر ہے۔ حکم شرع بیان فرمائیں ؟

    10: بعض اساتذہ یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ آج کے دور میں مار کے بغیر کوئی پڑھ ہی نہیں سکتا انکے اس عذر کی شرع میں کیا حیثیت ہے؟

    11: سوئے ہوئے شخص کو اٹھانے کے لیے بھی بعض اساتذہ ڈنڈا استعمال کرتے ہیں ، یہ کیسا؟ سائل: محمد صابر رضا سیالوی : سکھر سندھ


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ بالا سوالات کے جوابات میں اولا چند بنیادی باتیں ذکرکی جائیں گی جس کے بعد بالترتیب ہر سوال کا جواب دیا جائے گا۔

    شرع شریف میں دو طرح کی سزائوں کا بیان ہے۔ 1: حد 2: تعزیر یا تادیب

    حد اس سزا کا نام ہے جسکو شریعت نے مقرر فرمایا اور تعزیر وہ سزائیں ہیں جن کو شریعت نے مقرر نہیں فرمایا بلکہ اسے صاحبان مناصب کی رائے پر چھوڑا ہے۔ جیسے کسی مجرم کے لیے حاکم اپنی رائے سے کوئی سزا تجویز تا ہے تو یہ تعزیر ہے۔ اس بات کا ثبوت قرآن سے ملتا ہے کہ قاضی کے علاوہ بھی کوئی شخص اپنے ماتحت کو سزا دے سکتاہےلیکن یہ سزا تادیبا ہوگی،شوہر اپنی بیوی کو سزا دے یا استاذ شاگرد کو سزا دے یہ سب تادیب کی قبیل سے ہیں ۔لیکن اس میں بھی ضروری ہے کہ مار پیٹ ابتداء ََنہ کی جائے بلکہ مار پیٹ کی نوبت سے پہلے کے تمام مقدمات کو بروئے کار لائے ، اسکےباوجودبات نہ بن سکے تو پھر مار کا راستہ اختیار کیا جائے ۔قال اللہ تعالٰی :وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّۚ.ترجمہ کنز الایمان : جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور اُنہیں مارو۔

    امام رازی رحمہ اللہ تعالیٰ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں :وَذَلِكَ تَنْبِيهٌ يَجْرِي مَجْرَى التَّصْرِيحِ فِي أَنَّهُ مَهْمَا حَصَلَ الْغَرَضُ بِالطَّرِيقِ الْأَخَفِّ وَجَبَ الِاكْتِفَاءُ بِهِ، وَلَمْ يَجُزِ الْإِقْدَامُ عَلَى الطَّرِيقِ الْأَشَقِّ.ترجمہ: اور یہ تنبیہ ہے جو صراحت کے قائم مقام ہے کہ جب مقصود ،نرمی برتنے سے حاصل ہوجائے تو اسی پر اکتفاء واجب ہے اور سختی کا راستہ اپناناجائز نہ ہوگا۔

    حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہ اللہ تعالٰی رقمطراز ہیں :

    اس سے معلوم ہوا کہ افسر اپنے ماتحت کو سزا دے سکتا ہے۔ مگر ماتحت افسر کو سزا نہیں دے سکتا‘ خاوند بیوی کو ادب کے لئے مار سکتا ہے۔ مگر بیوی خاوند کو نہیں مار سکتی۔ یہی حال استاد شاگرد‘ پیرمرید اور باپ بیٹے وغیرہ کا ہے۔(نور العرفان فی تفسیر القرآن ص 132)

    استاد کوچاہیے کہ سب سے پہلے وہ بھی بچوں کو شفقت و نرمی سے پڑھائے۔ بچوں کے لیے ان کی مرغوبات اپنے پاس رکھے۔ سبق یاد کرنے پر، پابندی سے آنے پر اور بروقت آنے پر انعامات دے کر حوصلہ افزائی کرے،بے جا سختی، ڈانٹ ڈپٹ اور مارپیٹ سے کام نہ لے، بلکہ ابتداء رعب و دبدبہ، ترغیب و تنبیہ،تاکید و تہدید سے کام لے۔ اس کے باوجوداگر ان امور سے بھی کام نہ چلے تو اس طالب علم کی اصلاح کی غرض سے اس کی مصلحت کو مدنظر رکھتے ہوئے استاد اس کی پٹائی کرسکتا ہے۔لیکن اس ضرب کی بھی چند شرائط ہیں:

    1: تین ضرب سے زائد نہ ہوں۔

    2: تینوں ضربیں الگ الگ مقامات پر ہوں۔

    3: ہاتھ سے مارے ڈنڈے سے نہ مارے۔

    4: چہرے،سراور شرمگاہ پر نہ مارے۔

    5: بچے کی قوت برداشت سے زائد نہ مارے۔

    6: اگر بچہ صبی لایعقل (ناسمجھ بچا ) ہو تو اسکو بالکل نہ مارے۔

    7: مار ضرورت کے وقت اور بقد ضرورت ہو۔

    8: مارنا محض اصلاح و تنبیہ کی غرض سے ہو، ذاتی وجوہ کی بناء پریا بغرض تکلیف و الم (تکلیف دینا) نہ ہو۔

    مذکورہ شرائط کا لحاظ ضروری ہے،لہذامعلم نے تین ضرب سے زائد مارا تو یہ مارنے والا بروز حشر جوابدہ ہوگا، اس مار کی وجہ سے بچہ زخمی ہوا تو قاضی شرع اس معلم کو تعزیرا سزا دے گااور اگر اس مار کی وجہ سے بچہ ہلاک ہوگیا تو معلم شخص ضامن ہوگااس پر دیت لازم آئے گی۔ ان میں سے کسی ایک شرط کا بھی لحاظ کیے بغیر مارنا قطعا جائز نہ ہوگا بلکہ گناہ ہوگاکہ احکام شرع کی مخالفت ہے۔

    حدیث پاک میں چہرے پر مارنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے چنا چہ ابو داؤد و مشکوۃ میں ہے:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَّقِ الْوَجْهَ»ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی کسی کو مارے تو منہ پر مارنے سے بچے۔(ابو داؤد ، باب فی ضرب الوجہ ،حدیث نمبر 4493)

    مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح میں اس حدیث کے تحت مذکور ہے:وَوَجْهُهُ أَنَّهُ أَشْرَفُ الْأَعْضَاءِ، وَفِيهِ حظرٌ لِبَعْضِ الْأَجْزَاءِ.ترجمہ:چہرے پر مارکی ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ چہرہ تمام اعضاء سے زیادہ فضیلت کاحامل ہے اور اسی (علت کی وجہ سے) دیگر اعضاء(مثلا سر وغیرہ) پر مارنے کی بھی ممانعت ہے۔یوں ہی تعزیر کے طور پر سر اور شرمگاہ پر مارنے سے بھی ممانعت ہے ۔مسبوط للسرخسی میں ہے:(وَحُجَّتُنَا) فِي ذَلِكَ حَدِيثُ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَإِنَّهُ قَالَ لِلْجَلَّادِ إيَّاكَ أَنْ تَضْرِبَ الرَّأْسَ وَالْفَرْجَ وَلِأَنَّ الرَّأْسَ مَوْضِعُ الْحَوَاسِّ فَفِي الضَّرْبِ عَلَيْهِ تَفْوِيتُ بَعْضِ الْحَوَاسِّ.ترجمہ: اور اس سلسلہ میں ہماری دلیل حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث ہے کہ آپ نے جلاد سے کہا کہ سر اور شرمگاہ پر مارنے سے بچو اور یہ اس لیے بھی ممنوع ہے کیونکہ سر حواس کی جگہ سے تو سر پر مارنے سے بعض حواس کی منفعت فوت ہوسکتی ہے۔

    تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:(وَإِنْ وَجَبَ ضَرْبُ ابْنِ عَشْرٍ عَلَيْهَا بِيَدٍ لَا بِخَشَبَةٍ)ترجمہ: اور اگر دس سال کے بچے کو (کسی خاص وجہ سے)مارنا لازم ہوجائے تو ہاتھ سے مارے ، لکڑی(ڈنڈا) سے نہ مارے ۔

    خاتم الفقہاء علامہ ابن عابدین شامی اس کے تحت لکھتے ہیں :

    أَيْ وَلَا يُجَاوِزُ الثَّلَاثَ، وَكَذَلِكَ الْمُعَلِّمُ لَيْسَ لَهُ أَنْ يُجَاوِزَهَا «قَالَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - لِمِرْدَاسٍ الْمُعَلِّمِ إيَّاكَ أَنْ تَضْرِبَ فَوْقَ الثَّلَاثِ، فَإِنَّك إذَا ضَرَبْت فَوْقَ الثَّلَاثِ اقْتَصَّ اللَّهُ مِنْك».ترجمہ: یعنی تین ضربوں سے تجاوز نہ کرے ، یوں ہی معلم بھی تین ضربوں سے نہ بڑھے کیونکہ آپ ﷺ نے جناب مرادس رضی اللہ تعالٰی سے فرمایا جو تعلیمی خدمات انجام دیتے تھے کہ ہاتھ کے ذریعہ تین مرتبہ سے زیادہ مارنے سے اجتناب کرو کیونکہ اگر تم نے تین مرتبہ سے زیادہ مارا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تم سے بدلہ لے گا۔(ردالمحتار مع الدر المختار شرح تنویر الابصار ،کتاب الصلوۃ جلد 1 ص 352 ،الشاملہ)

    تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہی ایک اور مقام پر ہے:لَوْ ضَرَبَ الْمُعَلِّمُ الصَّبِيَّ ضَرْبًا فَاحِشًا فَإِنَّهُ يُعَزِّرُهُ وَيَضْمَنُهُ لَوْ مَاتَ.ترجمہ: اگر معلم نے بچے کو شدید مار ماری تو قاضی اسے تعزیرا سزا دےگا اور اگر اس مار کے سبب بچہ مر جائے تو معلم ضامن ہوگا۔( تنویر الابصار مع الدر المختار،کتاب الحدود جلد 4ص 79،الشاملہ)

    شامی میں ہی ایک اور مقام پر ہے:لَا يَجُوزُ ضَرْبُ وَلَدِ الْحُرِّ بِأَمْرِ أَبِيهِ، أَمَّا الْمُعَلِّمُ فَلَهُ ضَرْبُهُ لِأَنَّ الْمَأْمُورَ يَضْرِبُهُ نِيَابَةً عَنْ الْأَبِ لِمَصْلَحَتِهِ، وَالْمُعَلِّمُ يَضْرِبُهُ بِحُكْمِ الْمِلْكِ بِتَمْلِيكِ أَبِيهِ لِمَصْلَحَةِ التَّعْلِيمِ، وَقَيَّدَهُ الطَّرَسُوسِيُّ بِأَنْ يَكُونَ بِغَيْرِ آلَةٍ جَارِحَةٍ، وَبِأَنْ لَا يَزِيدَ عَلَى ثَلَاثِ ضَرَبَاتٍ وَرَدَّهُ النَّاظِمُ بِأَنَّهُ لَا وَجْهَ لَهُ، وَيَحْتَاجُ إلَى نَقْلٍ وَأَقَرَّهُ الشَّارِحُ قَالَ الشُّرُنْبُلَالِيُّ: وَالنَّقْلُ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ يَضْرِبُ الصَّغِيرَ بِالْيَدِ لَا بِالْخَشَبَةِ، وَلَا يَزِيدُ عَلَى ثَلَاثِ ضَرَبَاتٍ.ترجمہ: اور آزاد شخص کے بچوں کو انکے والد کی اجازت کے ساتھ بھی مارنا جائز نہیں ہے، لیکن معلم کے لیے مارنا جائز ہے کیونکہ جس شخص کو مارنے کا کہا جائے وہ باپ کا نائب بن کر مصلحت کے مد نظر مارتا ہے ،جبکہ معلم کا مارنا اس لیے ہے کہ تعلیم کی مصلحت کے پیش نظر باپمعلم کو بچے کا مالک بنا دیتا ہے تو معلم اپنی ملکیت حکمی کےسبب مارتا ہے ،اور طرطوسی نے کہا کہ آلہ جارحہ کے بغیر ہو ۔ اور یہ کہ تین ضربوں سے زائد نہ ہو۔ اور ناظم نے اس بات کا رد کیا کہ اسکی کوئی وجہ نہیں ہےاور یہ نقل کا محتاج ہے اور شارح نے اسی کو برقرار رکھا، علامہ شرنبلالی نے فرمایا کتاب الصلوۃ میں منقول ہے کہ بچہ کو ہاتھ سے مارا جائے لکڑی سے نہ مارا جائے اور تین ضربوں سے زائد نہ ہو۔

    اسی طرح المغنی لابن قدامہ میں ہے:قَالَ الْأَثْرَمُ: سُئِلَ أَحْمَدُ، عَنْ ضَرْبِ الْمُعَلِّمِ الصِّبْيَانَ قَالَ: عَلَى قَدْرِ ذُنُوبِهِمْ، وَيَتَوَقَّى بِجُهْدِهِ الضَّرْبَ، وَإِذَا كَانَ صَغِيرًا لَا يَعْقِلُ فَلَا يَضْرِبْهُ.ترجمہ: اثرم نے کہا کہ امام احمد سے بچوں کو معلم کی مار کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ نے فرمایا کہ انکے جرم کی مقدار سزا دے سکتا ہے ، لیکن زور سے نہ مارنے سے بچے اور جب بچہ ناسمجھ ہو تو بالکل نہ مارے۔(المغنی لابن قدامہ حنبلی ،کتاب الاجارہ،فصل للمستاجر ضرب الدابۃ ،جلد 5ص397،الشاملہ)

    سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے مولوی خلیل احمد پشاوری کے استفسار کرتے ہیں :چہ می فرمایند علمائے دین ایں مسئلہ کہ معلم کودکاں رازدن علی الاطلاق مباح ست یا اجرت وغیراجرت شرط ست۔ بیّنواتوجروا۔

    ترجمہ: علمائے دین اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ استاد اپنے شاگرد بچوں کو بغیر کسی قیدوشرط کے بدنی سزادے سکتاہے یانہیں؟ کیا بچوں کو اجرت لے کر پڑھانے یا بلااجرت پڑھانے والے کے لئے الگ الگ ضابطہ ہے۔ (بیان فرمائیے اجرت پائیے)

    آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں :

    الجواب : زدن معلم کو دکاں را وقت حاجت بقدر حاجت محض بغرض تنبیہ واصلاح ونصیحت بے تفرقہ اجرت وعدم اجرت رواست اماباید کہ بدست زنند نہ بچوب ودرکرتے برسہ بار نیفزایند

    ترجمہ: ضرورت پیش آنے پر بقدر حاجت تنبیہ، اصلاح اور نصیحت کے لئے بلاتفریق اجرت وعدم اجرت استاد کا بدنی سزادینا اور سرزنش سے کام لیناجائزہے مگریہ سزالکڑی ڈنڈے وغیرہ سے نہیں بلکہ ہاتھ سے ہونی چاہئے اور ایک وقت میں تین مرتبہ سے زائد پٹائی نہ ہونے پائے۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب الحظر والاباحۃ،جلد 23 ص 655،رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)

    ان بنیادی امور کے بعد آپکے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

    1:ہاتھ سے تین ضربیں الگ الگ مقام پر مار سکتا ہے۔

    2:قطعا درست نہیں بلکہ گناہ ہے بروز حشر مارنے والا جوابدہ ہوگا۔

    3: یقینا ہوگا۔ (کما مر آنفا)

    4: اس مار پر مواخذہ نہ ہوگا جو مطابق شرع ہو ، اپنی تمام شرائط کے ساتھ موجود ہو، تعدی کی صورت میں یقینا مواخذہ بصورت تعزیر یا بصورت ضمان و دیت ہوگا۔(کما مر آنفا)

    5: انسانوں میں محض انبیاء کرام کے نفوس قدسیہ ہی گناہوں سے پاک ہیں ، انکے علاوہ خواہ صحابی ہی کیوں نہ ہوں معصوم عن الخطاء نہیں ہوسکتے البتہ بفضل الٰہی محفوظ عن الخطاء ہوسکتے ہیں۔جو انبیاء کے علاوہ کسی اور کو معصوم سمجھے یا اعتقاد رکھے وہ باجماع علماء فاسق گمراہ ہے۔

    6: غصے کی حالت میں ہو یا عام حالت میں ، مذکورہ شرائط سے تجاوز جائز نہیں ہے،کہ مار محض بقدر حاجت تنبیہ و اصلاح کی غرض سے ہو۔

    7: چہرہ،سر اور شرمگاہ پر نہ مارے ، دیگر مقامات پر مار سکتا ہے۔بعض علماء نے سینہ اور پیٹ بھی اسی میں شامل کیا لیکن اول اصح ہے۔

    8:ڈنڈا مارنا جائز ہی نہیں ، چہ جائیکہ اسکی کوئی حد متعین ہو۔

    9: اگر واقعی کوئی ایسا ہے تو وہ محض ظالم ہے، کہ اسکی ترجیح مال و اسباب کی طلب ہے نہ کہ طالب علم کی اصلاح مقصود ۔

    10:انکا یہ عذر اگر بے انتہاء مار کے لیے ہے تو قطعا قابل قبول نہیں وگرنہ جس مار کی اجازت ہے تو وہ اجازت اس دور میں بھی ہے ، اور جو مار ممنوع ہے تو وہ مار اس دور میں بھی ممنوع تھی۔بلکہ آج کا دورمار دھاڑ کا دور نہیں ہے، گنتی کے چند افراد دین سیکھنے آتے ہیں ان کو شفقت کے ساتھ علم دین سکھایا جائے اور پیار محبت سے انہیں فضائل علم سے روشناس کرایا جائے تاکہ ان میں علم دین کے حصول کی سچی لگن پیدا ہوناکہ مار کے ،بدظن کرکے انہیں علم دین کے حصول سے دور کر دیا جائے۔

    11: ڈنڈے کا استعمال نماز پڑھانے کے لیے جائز نہیں ، سوئے ہوئے شخص کو اٹھانے کے لیے کیونکر جائز ہوسکتا ہے؟کما فی الشامیہ وَظَاهِرُهُ أَنَّهُ لَا يُضْرَبُ بِالْعَصَا فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ أَيْضًا ترجمہ:اور اسکا ظاہر یہ ہے کہ نماز کے علاوہ میں بھی ڈنڈے سے نہ مارے۔(ردالمحتار مع الدر المختار شرح تنویر الابصار ،کتاب الصلوۃ جلد 1 ص 352 ،الشاملہ)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ: محمدزوہيب رضاقادري

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنين مفتي وسيم اختر المدني

    تاريخ اجراء:23 ربیع الثانی 1440 ھ/31 دسمبر 2018 ء