سوال
گھوڑے کا گوشت کھانے کا شرعی حکم کیا ہے؟
سائل : محمد بلال احمد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ہمارے احناف میں سے امام ابو یوسف اور امام محمد نے گھوڑے کا گوشت کھانا بلاکراہت کے جائز قرار دیا ہے اور یہی مؤقف امام شافعی رحمہم اللہ تعالیٰ کا بھی ہے،جبکہ امام اعظم ابو حنیفہ اور امام مالکرحمہما اللہ تعالیٰ کے نزدیک گھوڑے کا گوشت کھانا مکروہ تحریمی ہے ،ہدایہ میں ہے :يکره لحم الفرس عند أبی حنيفة رحمه اﷲ وهو قول مالک وقال أبو يوسف ومحمد والشافعي رحمهم اﷲ لا بأس بأکله
امام ابوحنیفہ اور امام مالک رحمہما اﷲ کے نزدیک گھوڑے کا گوشت مکروہ ہے، ابو یوسف امام محمد اور شافعی رحمہم اﷲ کے نزدیک اس کا گوشت کھانے میں حرج نہیں ہے۔(الہدایہ شرح بدایۃ المبتدی کتاب الکراہیۃ فصل فیما یحل اکلہ ومالایحل اکلہ جلد 4 ص 352)
شمس الائمہ سرخسی المبسوطمیں اس مسئلہ پر مفصل بحث فرماتے ہوئے لکھتے ہیں :وعن أنس بن مالک رضی اﷲ تعالی عنه قال أکلنا لحم فرس علی عهد رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم و عن الحريث قال کنا اذا نتجت فرس أخذنا فلوا ذبحناه و قلنا الامر قريب فبلغ ذلک عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنه فکتب الينا أن لا تفعلوا فان في الامر تراخی و بهذين الحديثين يستدل من يرخص فی لحم الخيل فانهم کانوا يذبحونه لمنفة الا کل وهو قول أبی يوسف و محمد و الشافعی رحمهم اﷲ تعالي وأما أبو حنيفة رحمه اﷲ تعالی فانه کان يکره الحم الخيل فظاهر اللفظ فی کتاب الصيد يدل علی أن الکراهة للتنزية فانه قال رخص بعض العلماء رحمهم اﷲ فی لحم الخيل يدل علی أن کراهة التحريم فقد روی أن أبا يوسف رحمه اﷲ تعالي قال لأبی حنيفة رحمه اﷲ اذا قلت فی شئی أکرهه فما رأيک فيه قال التحريم ثم من أباحه استدل بالتعامل الظاهر ببيع لحم الخيل فی الاسواق من غير نکير منکر ولان سؤره طاهر علی الاطلاق وبوله بمنزلة بول ما يؤکل لحمه فعرفنا أنه مأکول کالانعام وان روی فيه نهي فلان الخيل کانت قليلة فيهم وکان سلاحاً يحتا جون اليه فی الحرب فلهذا نهاهم عن أکله لا لحرمته وحجة أبی حنيفة رحمه اﷲ تعالی في ذلکقوله تعالی والخيل والبغال والحمير لترکبوها وزينه الآية فقد من اﷲ تعالی علی عباده بما جعل لهم من منفعة الرکوب والزينة فی الخيل ولو کان مأ کلو لا لکان الولی بيان منفعة الأکل لانه أعظم وجوه المنفعة وبه بقاء النفوس ولا يليق بحکمة الحکيم ترک أعظم وجوه المنفعة عند اظهار المنة وذکر ما دون ذلک.حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے، کہ ہم نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں گھوڑے کا گوشت کھایا ہے۔حضرت حریث رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ ہم میں سے جب کسی کی گھوڑی جنتی ہم اسے ذبح کر دیتے اور کہتے معاملہ (حکمت کے) قریب ہے۔ اس کی خبر حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو ہوئی تو آپ نے ہمیں حکم لکھ بھیجا۔ ایسا مت کرو !۔اس معاملہ میں نرمی و تاخیر ہے۔ ان دو حدیثوں سے وہ ائمہ استدلال کرتے ہیں جو گھوڑے کے گوشت کو حلال قرارد دیتے ہیں۔ کہ صحابہ کرام گھوڑا کھانے کے لیے ذبح کرتے تھے۔ یہی قول ہے امام ابو یوسف، امام محمد اور امام شافعی رحمھم اﷲ کا ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اﷲ تو وہ گھوڑے کے گوشت کو مکروہ قرار دیتے تھے۔ کتاب الصید میں بظاہر عبارت مکروہ تنزیہی پر دلالت کرتی ہے۔ آپ نے فرمایا بعض علماء رحمھم اﷲ نے گھوڑے کا گوشت کھانے کی اجازت دی ہے، رہا میں تو مجھے یہ پسند نہیں۔ اور الجامع الصغیر میں جو امام ابو حنیفہ رحمہ اﷲ کا قول ہے کہ میں گھوڑے کا گوشت کھانے کو مکروہ سمجھتا ہوں، اس بات کی دلیل ہے کہ مکروہ تحریمی مراد ہے چنانچہ امام یوسف رحمہ اﷲ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اﷲ سے سوال کیا، جب کسی چیز کو مکروہ قرار دیتے ہیں تو کونسی کراہت مراد ہوتی ہے؟ فرمایا تحریمی۔ حلال قرار دینے والوں کی دلیل ظاہری لین دین ہے کہ بازاروں میں گھوڑے کا گوشت بغیر کسی اختلاف و انکار کے فروخت ہوتا ہے اور اس لیے کہ گھوڑے کا جوٹھا مطلقاً پاک ہے۔ اور اس کا پیشاب ان جانوروں کے پیشاب کے حکم میں ہے جن کا گوشت کھایا جاتا ہے (لہٰذا اس کا گوشت بھی انہی کے گوشت کی طرح پاک ہےحلال ہے) اس سے ہمیں معلوم ہو گیا کہ اس کا گوشت بھی باقی حلال جانوروں کے گوشت کی طرح کھایا جائے گا۔ اگرچہ اس میں ممانعت آئی ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ گھوڑوں کی تعداد عربوں کے ہاں کم تھی۔ اور جنگوں میں بطور سامان حرب (اسلحہ) اسکی ضرورت تھی۔ اسی لیے انہیں اس کا گوشت کھانے سے انہیں منع فرمایا (لہذا وجہ حرمت جانوروں کی قلت ہے) امام ابو حینفہ رحمہ اﷲ کی دلیل حرمت فرمان باری تعالیٰ ہے : ’’گھوڑا، خچر اور گدھا تمہاری سواری اور زینت کے لیے پیدا کیے گئے۔۔۔ الخ سو اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر گھوڑے پیدا کرنے پر دو احسانات جتائے ہیں۔ (1) سورای کا فائدہ۔ (2) زینت۔ اگر اس کا گوشت کھانا جائز ہوتا، تو کھانے کی منفعت کو ذکر کرنا زیادہ اہمیت کا حامل تھا۔ کہ یہ سبب سے بڑی منفعت ہے اور اسی سے جانوں کی بقاء ہے۔ اور حکیم کی حکمت کے شایان شان نہیں احساں جتاتے وقت بڑی منفعت کو چھوڑ کر چھوٹی کا ذکر کرے۔ (المبسوط، للسرخسی باب السمک والجراد جلد 11 :ص233، 234، دار المعرفۃ بیروت)
لیکن الدرالمختار میں علامہ حصکفی نے امام صاحب کا رجوع ذکر کیا ہے :والخيل و عند هما والشافعي تحل قيل اِن أباحنفيه رجع عن حرمته قبل موته بثلاثة أيام و عليه الفتوي ولا باس بلبنها.
ترجمہ: گھوڑا، صاحبین یعنی امام ابو یوسف اور امام محمد رضی اللہ عنہ اور امام شافعی کے نزدیک حلال ہے۔ کہا گیا ہے کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات سے تین دن پہلے گھوڑے کی حرمت سے رجوع کر لیا تھا اور اسی پر فتویٰ ہے اور گھوڑی کا دودھ حلال ہے۔(الدر المختار کتاب الذبائح جلد 6ص305 )
اس کی شرح میں علامہ ابن عابدین شامی فرماتے ہیں کہ ظاہر الروایہ میں گھوڑے کے جوٹھے کو حلال کہا گیا ہے غایۃ البیان میں اس کا جواب یہ دیا گیا ہے :بأن حرمة الأ کل للاحترام من حيث اِنه يقع به أرهاب العد ولا للنجاسة فلا يوجب نجاسة السؤر کما في الادمي.ترجمہ: گھوڑے کا گوشت اس کی تعظیم کی وجہ سے حرام ہے کہ اس کی وجہ سے دشمن کو مرعوب کیا جاتا ہے، پلید ہونے کی وجہ سے نہیں، پس یہ حرمت اس کے جوٹھے کی نجاست کو ثابت نہیں کرتی جیسے آدمی (کا گوشت اس کی تعظیم کی وجہ سے حرام ہے نہ کہ پلید ہونے کی وجہ سے، اور اس کا جوٹھا حلال ہے الخ۔ پھر علامہ شامی فرماتے ہیں:
فهو مکروه کراهه تنزيه وهو ظاهر الروايه كَمَا فِي كِفَايَةِ الْبَيْهَقِيّ وَهُوَ الصَّحِيحُ عَلَى مَا ذَكَرَهُ فَخْرُ الْإِسْلَامِ وَغَيْرُهُ قُهُسْتَانِيٌ، ثُمَّ نَقَلَ تَصْحِيحَ كَرَاهَةِ التَّحْرِيمِ عَنْ الْخُلَاصَةِ وَالْهِدَايَةِ وَالْمُحِيطِ وَالْمُغْنِي وَقَاضِي خَانْ وَالْعِمَادِيِّ وَغَيْرِهِمْ وَعَلَيْهِ الْمُتُونُ، وَأَفَادَ أَبُو السُّعُودِ أَنَّهُ عَلَى الْأَوَّلِ لَا خِلَافَ بَيْنَ الْإِمَامِ وَصَاحِبَيْهِ لِأَنَّهُمَا وَإِنْ قَالَا بِالْحِلِّ لَكِنْ مَعَ كَرَاهَةِ التَّنْزِيهِ كَمَا صَرَّحَ بِهِ فِي الشُّرُنْبُلَالِيَّةِ عَنْ الْبُرْهَانِ:
ترجمہ:پس (گھوڑے کا گوشت) مکروہ تنزیہ ہے،ظاہر روایت میں یہی ہے جیسا کہ کفایہ البیہقی میں ہے یہی صحیح ہے جیسا کہ فخر الاسلام نے وغیرہ فرمایا، قہستانی نے یہ بات کہی ہے۔ پھر فخر الاسلام نے کراہت تحریمی کا قول خلاصہ، ہدایہ، محیط، المغنی، قاضیحان، العمادی وغیرہ سے نقل کیا اور متون کتب فقہ میں یہی لکھا ہے۔ امام ابو سعود نے افادہ کیا کہ پہلے قول (کراہت تنزیہہ) کے لحاظ سے امام صاحب اور صاحبین میں کوئی اختلاف نہیں رہتا، اس لئے کہ گو صاحبین نے حلال ہونے کا قول کیا ہے مگر کراہت تنزیہی کے ساتھ اسی بات کی شرنبلالیہ میں البرہان کے حوالے سے تصریح کی گئی ہے۔(رد المحتار مع الدر المختار کتاب الذبائح جلد 6ص305 )
خلاصہ کلام یہ ہے کہ امام اعظم سے جو گھوڑے کے گوشت کی کراہت مروی ہے وہ اس لیے نہیں کہ گھوڑا حرام اور غیر ماکول اللحم جانور (یعنی ان جانوروںمیں سے ہے جن کا گوشت نہیں کھایا جاتا ) بلکہ اس لئے ہے کہ گھوڑا جہاد کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کو عام حلال جانوروں کی طرح ذبح کرنے سے آلہ جہاد میں کمی پیدا ہوگی، جو حکمت عملی کے خلاف ہے، اور یہ علت فی زمانہ مفقود یا بہت کم ہے جب کہ دیگر ذرائع موجود ہیں جن کو گھوڑوں کہ جگہ استعمال کیا جاتا ہے لہذا اب گھوڑے کا گوشت کھانا بلاکراہت جائز ہونا چاہیے نیز علامہ ابن عابدین شامی کی تحقیق کے مطابق امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ نے وفات سے تین دن پہلے گھوڑے کے گوشت کی حرمت سے رجوع کر لیا تھا اور اسی پر فتوی ہے۔
واللہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح : ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:25ذوالحجہ 1439 ھ/06ستمبر 2018 ء