صفر کے مہینے کےمتعلق لوگوں کے خیالات کی حقیقت
    تاریخ: 22 نومبر، 2025
    مشاہدات: 30
    حوالہ: 221

    سوال

    1:صفر المظفرکی ابتدائی تیرہ تاریخوں کو منحوس تصور کیا جاتا ہے اور ایام کا نام تیرہ تیزی رکھ دیا گیا ہے، ان دنوں میں لوگ شادی، بیاہ اور سفر وغیرہ سے گریز کرتے ہیں ، بلکہ پورے مہینے کو منحوس سمجھ کر اس میں کسی بھی نئے کام کا آغاز نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح عوام میں یہ بات بھی مشہور ہے کہ اس مہینے بلائیں وغیرہ اترتی ہیں اس لئے یہ منحوس مہینہ ہے ،نیز یہ کہاس ماہ میں لولے، لنگڑے اور اندھے جنات کثرت سے آسمان سے اترتے ہیں اور لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔اسی وجہ سے بعض لوگ اس مہینے میں صندوقوں اور درو دیوار کو ڈنڈے مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس طرح ہم ان ضرر رساں جنات کو بھگارہے ہیں۔اسی بناء پر بالخصوص خواتین اپنے چھوٹے بچوں کے معاملے میں بہت محتاط اور خوف زدہ رہتی ہیں کہ کہیں یہ جنات انہیں نقصان نہ پہنچادیں۔

    2:یونہی عوام میں یہ بھی مشہور ہے کہ صفر کے آخری بدھ کو حضور اکرم ﷺ کی بیماری میں افاقہ ہوگیا تھا اور آپﷺ نے غسل صحت فرمایا تھا، پھر تفریح کے لیے گھر سے باہر تشریف لے گئے تھے، تو حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضور اکرم ﷺ کی صحت یابی کی خوشی میں پکے ہوئے چھولےاورمختلف کھانوں کی خیرات کی،اسی وجہ سے بعض لوگ اس ماہ کی تیرہ تاریخ کوچنے ابال کریا چوری بنا کر تقسیم کرتے ہیں۔

    3: جبکہ بعض مقامات پر اسکے برعکس یہ بات مشہور ہے کہ اس ماہ آخری بدھ میں حضور اکرم ﷺ کے مرض الوفات میں شدت آگئی تھی، لہٰذاصفرکا پورا مہینہ منحوس اور ہر قسم کی خیر و برکت سے خالی ہے۔ بعض لوگ اس دن گھروں میں اگر مٹی کے برتن ہوں تو ان کو توڑ دیتے ہیں ، اور اسی دن بعض لوگ مختلف وسم کے تعویذات بنوا کر ماہ صفر کی نحوست ، مصیبتوں اور بیماریوں سے بچنے کی غرض سے پہنتے ہیں ۔

    4: اسی بناء پر لوگوں میں مختلف رسمیں مشہور ہیں:بعض خواتین گھی، چینی یا گڑ کی روٹیاں پکا کر تقسیم کرتی ہیں ، تاکہ بلائیں ٹل جائیں ، بعض علاقوں میں آٹے کی گولیاں بنا کر سمندر میں ڈال دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس فعل کے سبب ہم بلاؤوں سے محفوظ رہیں گے۔

    ان تمام باتوں کی کیا شرعی حیثیت ہے ، کیا اسلام میں انکی کوئی اصل اور دلیل ہے یا نہیں ؟ مفصلا جواب عنایت فرماکر متشکر ہوں۔ سائل :عبداللہ :کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    دن و رات،صبح وشام ،ماہ وسال، دہر و زمانہ ان سب کو پیدا کرنے والی ذات اللہ کریم جل مجدہ کی ہے،کسی دن و رات،صبح وشام ،ماہ وسال میں

    نحوست یا بدشگونی نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی بھی چیز انسان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ نفع و نقصان کا مکمل اختیار اللہ کی ذات کے پاس ہے۔ جب وہ خیر پہنچانا چاہے تو کوئی شر نہیں پہنچا سکتا اور اگر وہ کوئی مصیبت نازل کر دے تو کوئی اس سے رہائی نہیں دے سکتا۔لیکن بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ غیر کا اثر جلد قبول کرتا ہے ، کبھی ہم اپنی تہذیب و تمدن ترک کرکے مغربی تہذیب کے دلدادہ نظر آتے ہیں تو کہیں ہمارے اندر ھندوانہ رسم و روا ج کی جھلک واضح طور پر نظر آتی ہے۔ الغرض ہمارا معاشرہ مادہِ انفعال(غیر کا اثر قبول کرنے ) سے لبریز اور کسی بھی طرح کی تحقیق یا حقیقت آشنائی سے خالی و عاری ہے، اسی وجہ سے بعض اشیاء، ایام،اشخاص،اوقات اور اماکن سے بدشگونی لینا یا انہیں منحوس قرار دینا ایک عالمی وباء کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ کہیں سیدھی آنکھ پھڑکنے کو نزولِ مصیبت کی علامت سمجھا جاتا ہے تو کہیں جمعہ کے دن عید ہوجانے کو حکومتِ وقت پر بھاری تصور کیا جاتا ہے،کسی جگہ بلی کے رونے کو منحوس قرار دیا جاتا ہے تو کہیں کالی بلی کا آگے سے گزرجانا نحوست کی علامت بنادی جاتی ہے،کبھی پہلا گاہگ سودا لئے بغیر چلا جائے تو اس سے بَد شگونی مراد لے لی جاتی ہے تو کبھی نئی نویلی دلہن کے گھر آنے پر خاندان کا کوئی شخص فوت ہوجائے یا کسی عورت کی صرف بیٹیاں ہی بیٹیاں پیدا ہوں تو اس عورت پر منحوس ہونے کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔المختصر ایسے توہمات و باطل خیالات ہماری رگ و پے میں خون کی طرح سرایت کر چکے ہیں۔ انہی خیالات کی ایک کڑی صفر المظفر کے مہینے میں قائم ہونے والا تصورات و خیالات ہیں ، حتٰی یہ خیالات لوگوں میں عہدِ نبوی سے قبل زمانہ جاہلیت میں بھی موجود تھے ۔

    چناچہ علامہ عینی رحمہ اللہ تعالٰی عمدۃ القاری میں رقمطراز ہیں: كَانَت الْعَرَب تزْعم أَن فِي الْبَطن حَيَّة يُقَال لَهَا: الصفر، تصيب الْإِنْسَان إِذا جَاع وتؤذيه، وَإِنَّهَا تعدِي فَأبْطل الْإِسْلَام ذَلِك، وَقيل: أَرَادَ بِهِ النسيء الَّذِي كَانُوا يَفْعَلُونَهُ فِي الْجَاهِلِيَّة وَهُوَ تَأْخِير الْمحرم إِلَى صفر ويجعلون صفر هُوَ الشَّهْر الْحَرَام، فأبطله الْإِسْلَام.ترجمہ: اہلِ عرب کا عقیدہ تھا کہ پیٹ میں ایک سانپ ہوتا ہے جسے ”صفر“ کہا جاتا ہے جب انسان کو بھوک لگتی ہے تب وہ پیدا ہوتا ہے اور انسان کو تکلیف دیتا ہے اور بیمار کر دیتا ہے۔ اسلام نے اس عقیدے کو باطل فرمادیا۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد وقت کو مؤخر کرنا ہے جوکہ اہلِ عرب زمانہ ٔجاہلیت میں محرم کے مہینے کو صفر تک مؤخر (آگے) کرتے اور صفر کو حرمت والا مہینہ بنا دیتےتھے ۔ اسلام نے اس چیز کو باطل فرما دیا۔(عمدۃ القاری،ج21،ص247، تحت الحدیث: 5707)

    اشعۃ اللمعات میں لاصفر کے تحت ہے: بعض شارحین کے نزدیک مشہور مہینہ مراد ہے جو محرم کے بعد آتا ہے عوام الناس اسے بلاؤں ، حادثوں اور آفتوں کے نازل ہونے کا وقت قرار دیتے ہیں، یہ عقیدہ باطل ہے ، اس کی کچھ اصلیت نہیں ہے۔(اشعۃ اللمعات،ج3،ص663)

    1:شریعت اسلامیہ ایسے تمام خیالات و توہمات و تصورات کی نفی کرتی ہےکہ ایسے تمام امور سراسر شریعت مطہرہ سے متصادم و متخالف ہیں۔صفر المظفر کے مہینے میں کسی طرح کی کوئی نحوست نہیں ہے نہ ابتدائی تیرہ ایام میں نہ انکے بعد بقیہ ایام میں ۔اس مہینے کے تمام جائز امور مثلا شادی، بیاہ ، نکاح،سفر، کاروبار کرنے میں کسی طرح کی کوئی نحوست یا بدشگونی نہیں ہے۔

    یونہی اس ماہ میں بلائیں ، آفات اور جنات کے نزول کا عقیدہ بھی من گھڑت و بے اصل ہے۔ عوام میں اس طرح کی مشہور تمام باتیں فاسد ہیں۔بلکہ ایسا عقیدہ رکھنا باطل ہے ۔

    آقا کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے واضح طور پر ایسے عقیدے کی نفی فرمادی چناچہ بخاری میں ہے، جنابِ ابو ہریرہ ارشاد فرماتے ہیں :قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ، وَلاَ هَامَةَ وَلاَ صَفَرَ۔ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرض کا اڑکر لگنا ، بد شگونی لینا ، الو کا منحوس ہونا اور صفر کا منحوس ہونا یہ سب(شریعت میں )کچھ نہیں ہے۔(بخاری، کتاب الطب، باب الجذام حدیث نمبر 5707)

    یوں ہی مسلم شریف میں ان الفاظ کے ساتھ حدیث پاک موجود ہے: عن جابر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا عدوى، ولا غول، ولا صفر»ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرض کا اڑکر لگنا ، غول بیایانی ،اور صفر کا منحوس ہونا یہ سب(شریعت میں )کچھ نہیں ہے۔(مسلم ، باب الطاعون ، حدیث نمبر 5797)

    علامہ ملا علی قاری اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں :قُلْتُ: فَإِنَّهَا كُلَّهَا بَاطِلَةٌ . قَالَ الْقَاضِي: وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ نَفْيًا لِمَا يُتَوَهَّمُ أَنَّ شَهْرَ صَفَرَ تَكْثُرُ فِيهِ الدَّوَاهِي وَالْفِتَنُ. ۔ترجمہ:میں کہتا ہوں کہ یہ سب کے سب امور باطل ہیں ، قاضی(بیضاوی) نے کہا کہ اس حدیث میں اس بات کی نفی ہے کہ صفر کے مہینے میں یہ جو وہم کیا جاتا ہے کہ اس ماہ میں مصیبتیں اور تکلیفیں آتی ہیں ۔( مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح،باب الطیر والفال ، جلد 7ص2894)

    شیخ ابن قیم لکھتے ہیں : يحتمل أن يكون نفيا أو نهيا أي لا تطيروا، والنفي في هذا أبلغ من النهي؛ لأن النفي يدل على بطلان ذلك وعدم تأثيره والنهي إنما يدل على المنع منه التي كانت فی الجاهلية ۔ترجمہ:اس حدیث میں نفی اورنہی دونوں معانی کا احتمال ہے لیکن نفی کے معنی اپنے اندر زیادہ بلاغت رکھتے ہیں کیوں کہ نفی 'طیرہ'(نحوست) اور اس کی اثر انگیزی دونوں کا بطلان کرتی ہے، اس کے برعکس نہی صرف ممانعت دلالت کرتی ہے۔ یہ حدیث سے ان تمام اُمور کےبطلان پر دلالت کرتی ہے جو اہل جاہلیت قبل از اسلام کیا کرتے تھے۔

    فتاوٰی ہندیہ میں ہے: سألته في جماعة لا يسافرون في صفر ولا يبدؤن بالأعمال فيه من النكاح والدخول ويتمسكون بما روي عن النبي - صلى الله عليه وآله وسلم - «من بشرني بخروج صفر بشرته بالجنة» هل يصح هذا الخبر؟ وهل فيه نحوسة ونهي عن العمل؟ وهو كذب محض كذا في جواهر الفتاوى.ترجمہ: اس جماعت کے متعلق پوچھا گیا جو صفر میں سفر نہیں کرتے نہ کوئی کام شروع کرتے ہیں جیسے نکاح و دخول اور اس نظریہ پر حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان بطورِ دلیل لاتے ہیں کہ جو صفر جانے کی خوشخبری مجھے دے اسے میں جنت کی بشارت دیتا ہوں۔کیا یہ باتیں صحیح ہیں؟کیا صفر کے مہینے میں نحوست ہے؟ کیا صفر میں کام(شادی وغیرہ) کرنے کی ممانعت ہے؟(جواب) صفر کے مہینے کے متعلق جو کچھ کہا جاتا ہے یہ تمام باتیں عرب کہا کرتے تھے۔ صفر کے متعلق جتنی اس قسم کی احادیث حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طرف منسوب ہیں وہ سب محض جھوٹی ہیں جیسا کہ جواہر الفتاو یٰ میں ہے۔(فتاوٰی ہندیہ، کتاب المتفرقات،الباب الثلاثون جلد 5 ص 380)

    شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی ،نزہۃ القاری میں فرماتے ہیں: عرب والوں کا دستور تھا کہ لڑنے کے لئے کبھی محرم کو صفر سے بدل دیتے ۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ پیٹ کی بیماری ہے جیسا کہ امام بخاری آگے چل کر باب باندھیں گے ۔بَابُ لَاصَفَرَ وَ ھُوَ دَاءٌ یَاْخُذُ الْبَطنَ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ صفر کے مہینے کو منحوس سمجھتے ہیں اس کی نفی فرمائی ۔ ( نزہۃ القاری ،ج8،ص254)

    23: صفر کے آخری بدھ کی کوئی اصل نہیں اور نہ ہی اس دن آقا کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صحت یابی کا کوئی ثبوت ہے ،بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض اقدس جس میں آپکی وفات ظاہری ہوئی اس کی ابتداء اسی دن سے ہوئی ۔لہٰذا لوگوں کا یہ عقیدہ رکھنا اور اس بنا پر کھانے اور چُوری بنانا اور خوشیاں منانا ، تفریح کے لئے جانا ، مٹی کے برتن توڑنا، اس دن یا مہینہ کو منحوس سمھ کر اسکیی نحوست کو دفع کرنے کی غرض سے تعویذات پہننا بےثبوت و بے اصل ہے ۔

    سیدی اعلٰی حضرت امام ِ اہلسنت سے سوال ہوا کہ صفر کے اخیر چہار شنبہ کے متعلق عوام میں مشہور ہے کہ اس روز حضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مرض سے صحت پائی تھی ۔ بنابر اس کے اس روز کھانا اور شیرینی وغیرہ تقسیم کرتے ہیں اور جنگل کی سیر کو جاتے ہیں ۔ یہ جملہ امور بربنائے صحت یا بی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم عمل میں لائے جاتے ہیں ، لہٰذا اصل اس کی شرع میں ثابت ہے کہ نہیں ؟ اور فاعل عامل اس کا بربنائے ثبوت یاعدم ثبوت گرفتار معصیت ہوگا یا قابل ملامت وتادیب؟

    آپ نے جواباً ارشاد فرمایا:آخری چہار شنبہ کی کوئی اصل نہیں نہ اس دن صحت یابی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا کوئی ثبوت بلکہ مرض اقدس جس میں وفات مبارک ہوئی اس کی ابتداء اسی دن سے بتائی جاتی ہے ۔ اور ایک حدیث مرفوع میں آیا ہے: آخر اربعاء فی الشھر یوم نحس مستمر ۔ ماہ صفر کا آخری چہار شنبہ دائمی نحوست والا دن ہے۔ اور مروی ہواکہ ابتدا ابتلائے سیدنا ایوب علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام اسی دن تھی اور اسے نحس سمجھ کر مٹی کےبرتن توڑدینا گناہ و اضاعت مال ہے، بہر حال یہ سب باتیں بے اصل وبے معنی ہیں۔واللہ تعالٰی اعلم (فتاویٰ رضویہ ، جلد 23،صفحہ271،رضا فاؤنڈیشن لاھور)

    بہار شریعت میں ہے:”ماہ صفر کا آخر چہار شنبہ ہندوستان میں بہت منایا جاتا ہے، لوگ اپنے کاروبار بند کردیتے ہیں ، سیر و تفریح و شکار کو جاتے ہیں ، پوریاں پکتی ہیں اور نہاتے دھوتے خوشیاں مناتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس روز غسل صحت فرمایا تھا اور بیرون مدینہ طیبہ سیر کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ یہ سب باتیں بے اصل ہیں ، بلکہ ان دنوں میں حضور اکرم ﷺ کا مرض شدت کے ساتھ تھا، وہ باتیں خلاف واقع ہیں ۔ (بھار شریعت،جلد3،حصہ16، صفحہ659، مکتبۃ المدینہ کراچی)

    حکیم الامت، مفتی احمد یار خان نعیمی مراٰۃ المناجیح میں فرماتے ہیں: کہ بعض لوگ صفر کے آخری چہار شنبہ(یعنی بدھ) کو خوشیاں مناتے ہیں کہ منحوس شہر(یعنی مہینہ) چل دیا یہ باطل ہے۔(مراٰۃ المناجیح ،ج6،ص257)

    علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں : وَسُئِلَ مَا يَكُونُ السُّؤَالُ عَنْ النَّحْسِ، وَالسَّعْدِ، وَعَنْ الْأَيَّامِ، وَاللَّيَالِيِ الَّتِي تَصْلُحُ لِنَحْوِ السَّفَرِ وَالِانْتِقَالِ مَا يَكُونُ جَوَابُهُ؟(أَجَابَ) مَنْ يَسْأَلُ عَنْ النَّحْسِ وَمَا بَعْدَهُ لَا يُجَابُ إلَّا بِالْإِعْرَاضِ عَنْهُ وَتَسْفِيهِ مَا فَعَلَهُ وَيُبَيِّنُ لَهُ قُبْحَهُ وَأَنَّ ذَلِكَ مِنْ سُنَّةِ الْيَهُودِ لَا مِنْ هُدَى الْمُسْلِمِينَ الْمُتَوَكِّلِينَ عَلَى خَالِقِهِمْ وَبَارِئِهِمْ وَاَللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ. ترجمہ: (علامہ حامد آفندی سے )نحوست ، برکت اور ان ایام اور راتوں کے بارے میں سُوال کیا گیا جوسفر وغیرہ کی صلاحیت نہیں رکھتے(کہ کیا ان میں نحوست ہے؟)؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ جو شخص(بعض ایام یا راتوں کی ) نحوست کے بارے میں سوال کرے اس کے جواب سے اِعراض کیا جائے اور اس کے فعل کو جہالت کہا جائے اور اس کی مذمت بیان کی جائے ، ایسا سمجھنا یہود کا طریقہ ہے ، مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے جو اللہ تعالی پر توکُّل کرتے ہیں۔واللہ تعالٰی اعلم۔ (العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ ، جلد 2 ص 367مکتبہ حقانیہ)

    4:اگر ان تمام امور کے محرکات یہی خیالات و تصورات ہیں تو بلاشبہ یہ تمام چیزیں ناجائز ہیں کہ انکی اصل وہی باطل عقیدہ بنا کہ جس نے اسلام نے نفی فرمادی۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ: محمدزوہيب رضاقادري

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنين مفتي وسيم اختر المدني

    تاريخ اجراء:01 صفر المظفر 1443 ھ/08 ستمبر 2021 ء