عقیقہ کا حکم اور ایام عقیقہ
    تاریخ: 22 نومبر، 2025
    مشاہدات: 24
    حوالہ: 223

    سوال

    میں بہت بیمار رہتی ہوں،لوگوں کا کہنا ہے کہ میرا عقیقہ نہیں ہوا،اس لئے میں بیمار رہتی ہوں ۔میرے والدین اب میرا عقیقہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا کیا طریقہ کار ہوگا نیز گوشت کی تقسیم کاری کے حوالے سے رہنمائی فرمادیں۔ سائلہ:فرح جمشید ۔۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    عقیقہ کرنا سنت ہے حدیث پاک میں ہے:عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ كَبْشًا كَبْشًا۔ترجمہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راویت ہے کہ رسول اﷲﷺنے امام حسن و امام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی طرف سے ایک ایک مینڈھے کا عقیقہ کیا اور نسائی کی روایت میں ہے کہ دو دو مینڈھے۔( سنن ابی داؤد ،باب العقیقہ)

    حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ، يَقُولُ: كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا وُلِدَ لِأَحَدِنَا غُلَامٌ ذَبَحَ شَاةً وَلَطَخَ رَأْسَهُ بِدَمِهَا، فَلَمَّا جَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ كُنَّا «نَذْبَحُ شَاةً، وَنَحْلِقُ رَأْسَهُ وَنُلَطِّخُهُ بِزَعْفَرَانٍ۔ترجمہ:حضرت بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راویت ہے کہتے ہیں کہ زمانہء جاہلیت میں جب ہم میں کسی کے بچہ پیدا ہوتا توبکری ذبح کرتا اور اس کا خون بچہ کے سرپر مَل لیتا۔اب جبکہ اسلام آیا تو ساتویں دن ہم بکری ذبح کرتے ہیں اور بچہ کاسرمونڈاتے ہیں اور سر پر زعفران لگا دیتے ہیں۔(سنن ابی داؤد،کتاب الضحایا)

    فتاوی شامی میں ہے :يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضة أو ذهبا ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعا على ما في شرح الطحاوي، وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى ترجمہ: جس کے یہاں ولادت ہو اس شخص کے لئے مستحب ہے کہ وہ شخص ساتویں دن اس بچے کا نام رکھے،اسکا سر منڈوائے اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک سونایا چاندی صدقہ کرے اس کے بال کے مقدار کے مطابق پھر اس کا سر مونڈتے وقت عقیقہ کرے مباح عمل سمجھ کر جیساکہ جامع محبوبی میں ہے یا نفلی طور پر جیساکہ طحاوی شریف میں ہے۔اور عقیقہ کے لئے بکریایسی ہو جس کی قربانی ہو سکتی ہواس کومذکر و مؤنث کے لئے ذبح کیا جا سکتا ہے۔ (فتاوی شامی رد المحتار، كتاب الحظر والإباحة،جلد06،ص336)

    اور لوگوں کا یہ کہنا شرعاً کوئی حیثیت نہیں رکھتا کہ'' اگر کسی کا عقیقہ نہیں ہوا تو وہ بیمار رہے گا ''یہ بالکل من گھڑت بات ہے۔امام اہلِ سنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:عقیقہ کے لئے مستحب یہ ہے کہ ساتویں دن کیا جائے،اگر ساتواں دن نکل جائے تو چودویں دن کیا جائے،اگر چودوا دن بھی نکل گیا ہو تو پھر اکیسویں دن کیا جائے۔اور اگر کسی کا عقیقہ ان دنوں میں سے کسی دن بھی نہیں ہوا اوراب وہ یا اس کے والدین عقیقہ کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے یہ طریقہ کار ہے کہ وہ انسان اپنی پیدائش والے دن کے بارےمیں جانتا ہو تو اپنی پیدائش والے دن سےایک دن پہلے جو دن تھا اس دن اپنا عقیقہ کرلے مثلاً:اگر کسی کی پیدائش پیر کے دن ہوئی اور اس کا عقیقہ نہیں ہوسکا یہاں تک کہ وہ جوان ہوچکا ہے تو اب وہ اپنا عقیقہ اپنی پیدائش سے پچھلے دن رکھے یعنی اتوار۔اب اسکی زندگی میں آنے والے کسی بھی اتوار کو اپنا عقیقہ کر لے یہ اس کی پیدائش کے اعتبار سے ساستواں دن ہوگا۔اگر اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کی پیدائش کس دن ہوئی تھی تو اب وہ کسی بھی دن اپنا عقیقہ کر سکتا ہے۔ رہی بات گوشت کی تقسیم کاری کی تو جو قربانی کے گوشت کا حکم ہے وہ ہی حکم عقیقہ کے گوشت کا ہے۔یعنی جس طرح قربانی کا گوشت سب کھاسکتے ہیں اس طرح عقیقہ کا گوشت بھی سب کھا سکتے ہیں۔اور عقیقہ کے گوشت میں مستحب یہ ہے کہ اس کی ہڈیاں توڑی نہیں جائیں یعنی ہڈیاں سالم رہیں۔ (فتاوی رضویہ،کتاب الحظر و الاباحۃ، جلد 24 ص 452 رضا فاونڈیشن لاہور )

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ: محمدزوہيب رضاقادري

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنين مفتي وسيم اختر المدني

    تاريخ اجراء:02 ربیع الاول 1441 ھ/31 اکتوبر 2019 ء