تم اپنی بہن کو لے جاؤ میں اسے آزاد کردوں گا
    تاریخ: 13 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 17
    حوالہ: 397

    سوال

    میں ایک اپنا مسئلہ بیان کررہا ہوں میری بیٹی کی شادی کو 8 سال ہوچکے ہیں میری بیٹی کو اسکے شوہر نے پہلے دو طلاق یکمشت دی تھی اور تین دن پہلے میرے بڑے بیٹے سے فون پر کہا کہ میں تمہاری بہن کو فارغ کر رہا ہوں اسکے بعد میں اسکو اپنے گھر لے آیا ہوں اور اسکو عدت پر بٹھا دیا ہے۔کیا میں نے صحیح کیا ہے یا غلط؟ حدیث کی روشنی میں مجھےاسکا جواب دیا جائے۔

    شوہر کا بیان:

    میں عبدالقادر،جناب مفتی صاحب ،السلام علیکم!

    عرض یہ ہے کہ میں عبد القادر آج سے 7سال پہلے اپنی بیوی فرحین کو دو بار طلاق کے الفاظ بول چکا ہوں بعد میں رجوع کرلیا،اس وقت میری بیوی پیٹ سے تھی لہذا ابھی لگ بھگ 3 ہفتے پہلے میرے سالے نے میری والدہ سے بدتمیزی کی تھی فون پر میں نے تصدیق کیلئے فون کیا تھا میری امی سےبھی بدتمیزی سے بات کی میں نے غصہ کی حالت میں کہا ’’تم اپنی بہن فرحین کو لے جاؤ میں اس کو آزاد کردوں گا لیکن جب میں گھر پہنچا تو انہوں نے بات کرنے کا موقعہ نہیں دیا اور کوئی بات نہیں چاہتا میں نے غصہ کی حالت میں یہ الفاظ بولے ہیں اور میں کوئی طلاق کے ارادہ میں نہیں تھا اور نہ ہی ابھی طلاق دینے کے ارادہ میں ہوں اور نہ ہی کوئی میری نیت تھی طلاق کی اور نہ ارادہ طلاق تھا۔ مفتی صاحب اس کا مجھے قرآن اور حدیث سے خلاصہ کے ساتھ روشنی ڈالیں ،آپ کا بہت بہت شکریہ۔

    سائل:اسماعیل،کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    شوہر نے ہمارے ہاں آکر اپنی تحریر مع دستخط جمع کروائی جس میں اپنی بیوی فرحین کو دو بار طلاق کے الفاظ بولنےپراقرار ثابت ہے لہذا دو طلاق کے بعد رجوع کرنے پر نکاح قائم رہا اور تیسری طلاق کا اختیار بھی شوہر کے پاس باقی ہے۔شوہر کا یہ کہنا کہ ’’تم اپنی بہن فرحین کو لے جاؤ میں اس کو آزاد کردوں گا‘‘ اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی، کیوں کہ اولاًیہ جملہ کہ تم اپنی بہن کو لےجاؤ یہ حکم اپنے سالے کو تھا نہ کہ بیوی کو یعنی اس طرح کے جملوں سے طلاق نہیں دی جاتی،ثانیًا یہ جملہ کہ میں اس کو آزاد کردوں گایہ الفاظ مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی ہے جس سے طلاق واقع نہ ہوئی، لہذا نکاح برقرار ہے اور سائل اسماعیل کا اپنی بیٹی کو عدت پر بٹھا نادرست نہیں۔

    مزید یہ کہ سائل اسماعیل کا بیان کردہ شوہر سے منسوب جملہ’’ میں تمہاری بہن کو فارغ کر رہا ہوں‘‘ ایک دعوی ہے جس پر ازروئے شرع دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہ لازم ہیں جبکہ سائل کے پاس اس بات کا کوئی گواہ نہیں اور شوہر نےفون پر حلفیہ اس جملے سے انکار بھی کیا ہےلہذا اس صورت میں قضاءً شوہر کے قول کا اعتبار کیا جائے گا اور جھوٹے حلف کی صورت میں گناہ اسی پر ہوگا۔بر سبیل تنزل اگر شوہر سے منسوب اس جملے کو مان بھی لیا جائے تب بھی دلالتِ حال اور شوہر کی نیت کے بغیر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی کہ یہ جملہ حال اور استقبال دونوں میں مستعمل ہےاور مستقبل کا جملہ ارادہ طلاق کیلئے ہوتا ہے نہ کہ انشاء طلاق کیلئے جبکہ طلاق انشاء سے واقع ہوتی ہے اور صورت مسؤولہ میں نہ تو دلالتِ حال پائی گئی نہ ہی نیت بلکہ شوہر اس جملے کا حلفیہ انکاری ہے لہذا اس جملے سے بھی کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

    دلائل و جزئیات:

    اللہ رب العزت فرماتا ہے: وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ.ترجمہ: اور دو گواہ کرلو اپنے مردوں میں سے پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ایسے گواہ جن کو پسند کرو ۔ (البقرۃ: 282)

    رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا: "البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر".ترجمہ: مدعی پر گواہی اورمنکر پر قسم ہوتی ہے۔(مشکوٰۃ،کتاب الامارہ والقضاء،رقم الحدیث3582مکتبہ رحمانیہ )

    مشکاۃ المصابیح میں ہے: "ایاکم والکذب فان الکذب یھدی الی الفجور وان الفجور یھدی الی النار". ترجمہ: خاص جھوٹ سے بچو بے شک جھوٹ فسق کی طرف لے کر جا تا ہے اور فسق جہنم کی طرف لے کر جاتا ہے۔(مشکوۃ المصابیح ،ج2،کتاب الآداب: ص426، مکتبہ رحمانیہ)

    العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ میں ہے: " صيغة ‌المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال ".ترجمہ:مضارع کے صیغوں سے طلاق واقع نہیں ہوتی الا یہ کہ ان کا استعمال زمانہ حال میں غالب آجائے۔ (العقود الدریۃ،کتاب الطلاق ،ج:1،ص:38،ط:دار المعرفۃ)

    صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:’’ اگر یہ لفظ کہا کہ چھوڑے دیتا ہوں تو طلاق نہ ہوئی کہ یہ لفظ قصد وارداہ کے لئے ہے‘‘۔(بہار شریعت،ج:2،ص:117،مکتبۃ المدینۃ کراچی)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب


    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء:26جمادی الآخر 1444 ھ/19 جنوری 2023ء