تو آجا میں تیری بہن کو طلاق دوں
    تاریخ: 26 فروری، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 898

    سوال

    مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ میرے بہنوئی نے مجھے فون پر کہا کہ تو آجا میں تیری بہن کو طلاق دوں پھر اس نے تین دفعہ کہا "میں اسکو طلاق دیتا ہوں "۔اسکے یہ الفاظ خود میری بہن اور انکے شوہرکی بھابھی بھی سن رہی تھیں ۔آپ ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    سائل :پرواز


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگرواقعی ایسا ہے جیساکہ آپ نے بیان کیا تو آپ کی بہن کو تین طلاقیں حرمت مغلظہ کے ساتھ ہو گئی ہیں ۔

    فتاوی رضویہ کتاب الطلاق،ج:12 ،ص:344 ،رضافاونڈیشن میں ہے:اماوجود الاضافۃ فی اللفظ فاقول علی ثلثۃ انحاء، الاوّل تحققھا صریحا فی کلام الزوج کقولہ انت طالق او طلقتک او ھذہ او زینب:ترجمہ: اضافت کبھی لفظوں میں ہوتی ہے اور اسکی تین صورتیں ہیں ۔پہلی صورت یہ ہے کہ اضافت شوہر کی گفتگو میں صراحتا موجود ہو جیسے یہ کہے کہ تو طلاق والی ہےیا میں نے تجھے طلاق دی یا میں نے (بیوی کواشارہ کرتے ہوئے کہے) اس کو طلاق دی یا میں نے زینب کو(یعنی نام لیکر کہا )طلاق دی۔

    اب اگر دوبارہ رہنے پر راضی ہوں توبغیر حلالہ شرعی کے نہیں رہ سکتے،ارشاد باری تعالی ہے،فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ: ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ،پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدیث ہیں جنہیں بےان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ''،( البقرہ 230)

    امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ تعالیٰ حلالہ کی وضاحت میں فرماتے ہیں ،

    '' حلالہ کے یہ معنیٰ ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں ےا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سےنکلے گی اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعدطلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الطلاق جلد 12ص84 )

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد