warasat ka masla biwi char bete teen betiyan
سوال
ایک شخص کا انتقال ہوا، اسکے ورثاء میں ایک بیوی ، 4 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں، وراثت کی رقم 9 لاکھ روپے ہے اسکی شرعی تقسیم کیسی ہوگی؟
سائل: اسلم رضا: کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مرحوم کےکفن دفن کےاخراجات اورقرضوں کی ادائیگی اوراگرکسی غیروارث کےلئےوصیت کی ہوتواسکومرحوم کےتہائی مال سےپورا کرنےکےبعد مالِ وراثت کے کل 88 حصےکئےجائیں گے۔
ورثاء کے حصے درج ذیل ہیں:
بیوی: 11حصے ہر بیٹے کو الگ الگ: 14حصے ہر بیٹی کو الگ الگ: 7حصے۔
ہر وارث کا رقم سے حصہ:
بیوی: 112500روپے۔ ہر بیٹے کا حصہ: 143180روپے ہر بیٹی کا حصہ: 71590روپے۔
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:19 رجب المرجب 1444 ھ/11 فروری 2023 ء