warasat ka masla aik biwi do bete char betiyan
سوال
محمد عثمان کا انتقال ہوا، اسکے ورثاء میں ایک بیوی(قیصر بانو) دو بیٹے (مرسلین، فیصل ) اور چار بیٹیاں (فرحین، ہما، سدرۃ المنتھٰی ، اقرا)ہیں ۔ وراثت میں ایک مکان ہے جسکی قیمت 28 لاکھ روپے ہے ، ہر ایک وارث کو رقم سے کتنا کتنا ملے گا ؟ تفصیلاً تحریر فرمادیں۔
سائل:منیب : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیااور ورثاء یہی ہیں تو امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت کو تمام ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کیا جائے گا ۔
تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل مالِ وراثت کے 64 حصے کیے جائیں گے ۔ہر وارث کا حصہ اور رقم درج ذیل ہے:
نام حصہ رقم
قیصر بانو 8 350000
مرسلین 14 612500
فیصل 14 612500
فرحین 7 306250
ہما 7 306250
سدرہ 7 306250
اقرا 7 306250
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کےمطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ۔ ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(سورۃ النساء آیت نمبر 10، 11)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:16 ذوالحج 1443 ھ/16 جولائی 2022 ء