سوال
میری عمر 50 سال ہے ۔بچپن میں اسکول کی تقریب میں ہم اکثر تصاویر بنا لیا کرتے تھے ۔اب پتہ چلا کہ وہ گناہ ہے تو اب کیا کریں؟کیوں کہ اب تو وہ ٹیچراور ساتھی لڑکیاں معلوم نہیں کہاں ہیں ؟دوسرا سوال یہ ہے کہ اکثر شادی وغیرہا میں لوگ منع کرنے کے بعد باوجود تصویر بنا لیتے ہیں اور کبھی تو ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہماری تصویر بنا دی جاتی ہے تو اس میں کیا حکم ہے؟ سائل: عابدہ صدیق
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پرنٹ شدہ تصاویر (Printed Pictures) کا حکم
کیمرے سے لی گئی اور پرنٹ کی گئی تصاویر کو بغیر شرعی ضرورت کے بنانا جائز نہیں۔ ایسی تصاویر بنانا اور محفوظ رکھنا ناجائز عمل ہے۔
کیمرے یا موبائل میں محفوظ تصاویر (Digital Images) حکم
موبائل وغیرہا میں عکسی تصاویر بنانا ، بشرطیکہ ستر اور شرعی حدود کی پاسداری کے ساتھ ہو ، جائز ہے ۔ تاہم اگر یہ تصاویر نامحرم افراد بنائیں یا ان کی ایڈیٹنگ کریں، تو یہ عمل ناجائز ہو گا ۔اسی طرح خواتین کی تصاویر کی تشہیر کرنا جس کی وجہ سے وہ نامحرموں تک پہنچیں، تو یہ بھی شرعاً ناجائز ہے جیسا کہ آج کل سوشل میڈیا پر طوفان فحاشی جاری ہے۔
شادی بیان کے موقع پرغیر اختیاری تصاویر:
اولا : اس طرح کی تقریب میں مکمل ستر کے ساتھ جائیں کہ جو سترشریعت کو مطلوب ہے ۔
ثانیاً: تصاویر بنانے سے صراحتاً روک دیناچاہیے کہ ایسے معاملات میں مداہنت سے کام نہیں لینا چاہیے ۔
ثالثاً: اگر باوجود منع کرنے کے کوئی خاتون آپ کی تصویر بنا کر وائرل کر دے تو اس میں آپ گنہگار نہیں ہوں گی ۔
رابعاً: وہ تصاویر جو کسی نامحرم نے چپکے سے بنا لی اور معلوم نہ ہو سکا تو اس میں بھی آپ گنہگار نہیں ہوں گی، بنانے والا ہو گا۔
توبہ کا حکم
اگر آپ کے پاس پرنٹ شدہ تصاویر موجود ہیں یا آپ کی دسترس میں ہیں، تو ان تصاویر کو ختم کرنا واجب ہے۔موبائل یا کیمرے کی ایسی تصاویر جو نامحرموں تک پہنچ چکی ہیں اور اب ان کا ازالہ ممکن نہیں، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ندامت کے ساتھ توبہ کریں اور آئندہ اس گناہ سے بچنے کا پختہ ارادہ کریں!!وہ کریم بہت بخشنے والا مہربان ہے
تصاویر کی حرمت پر احادیث میں بہت وعیدات وارد ہوئیں ذیل میں چند احادی پیش کی جاتی ہیں:
حدیث 1:حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرمایا: کل مصور فی النار یجعل اﷲ لہ بکل صورۃ صورہ نفسا فتعذبہ فی جہنم ترجمہ:ہر مصور جہنم میں ہے اللہ تعالٰی ہر تصویر کے بدلے جو اس نے بنائی تھی ایک مخلوق پیدا کرے گا کہ وہ جہنم میں اسے عذاب دے گی۔(صحیح مسلم : کتاب اللباس باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان رقم الحدیث:2110)
حدیث 2:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ان اشد الناس عذابا یوم القیمۃ المصورون ترجمہ: بیشک نہایت ہی سخت عذاب روزِقیامت تصویر بنانے والوں پرہے۔(صحیح البخاری کتاب اللباس باب التصاویر 5950 )
حدیث 3:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: قال اﷲ تعالٰی ومن اظلم ممن ذھب یخلق خلقا کخلقی فلیخلقوا ذرۃ اولیخلقو احبۃ اولیخلقوا شعیرۃ ترجمہ: اللہ عزوجل فرماتاہے اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو میرے بنائے ہوئے کی طرح بنانے چلے، بھلا وہ چیونٹی گیہوں یا جو کا دانہ توبنادیں۔(صحیح بخاری :کتاب اللباس، باب التصاویر 5953 )
حدیث 4: صحیحین میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ان الذین یصنعون ہذہ الصور یعذبون یوم القیمۃ یقال لہم احیواما خلقتم ترجمہ بیشک یہ جو تصویریں بناتے ہیں قیامت کے دن عذاب دیے جائیں گے، ان سے کہا جائے گا:یہ صورتیں جو تم نے بنائی تھیں ان میں جان ڈالو۔(صحیح البخاری کتاب اللباس باب عذاب المصورین یوم القیمۃ رقم الحدیث:5951 )
حدیث 5: مسند احمد وصحیحین وسنن نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: من صور صورۃ فان اﷲ معذبہ حتی ینفخ فیہا الروح ولیس بنافخ ترجمہ: جس نے کوئی تصویر بنائی تو بیشک اللہ تعالٰی اسے عذاب دے گا یہاں تک کہ ا س میں روح پھونکے اور وہ نہ پھونک سکے گا۔ (صحیح البخاری کتاب البیوع باب بیع التصاویر ،رقم الحدیث :2225)
فتاویٰ رضویہ میں اس حوالے سے ہے: ”غیرحیوان کی تصویربت نہیں، بت ایک صورت حیوانیہ مضاہات خلق اﷲ میں بنائی جاتی ہے تاکہ ذوالصورۃ کے لئے مرأت ملاحظہ ہو اور شک نہیں کہ ہرحیوانی تصویرمجسم خواہ مسطح کپڑے پرہو یاکاغذ پردستی ہویاعکسی اس معنی میں داخل ہے توسب معنی بت میں ہیں اور بت اﷲعزوجل کامبغوض ہے توجوکچھ اس کے معنی میں ہے اس کابلااہانت گھرمیں رکھناحرام اور موجبِ نفرت ِملائکہ کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام۔(فتاویٰ رضویہ، ج 24، ص634، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
ایک دوسرے مقام پر سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں:”تصویر کسی صورت حیوانیہ کے لئے مرأۃ ملاحظہ ہو اور اس کامدار صرف چہرہ پرہے توقطعاً یہ سب تصویریں معنی بت میں ہیں اور ان کامکان میں باعزاز رکھنا، نصب کرنا، چوکھٹوں میں رکھ کردیوار پرلگانا یا پردے یادیواریاکسی اونچی رہنے والی شے پراس کامنقوش کرنا اگرچہ نیم قدیاصرف چہرہ ہو یادیوارگیروں پرانسان یا حیوان کے چہرے لگانا یاپانی کے نل کے منہ یالاٹھی کی بالائی شام پرکسی حیوان کاچہرہ بنوانا یاایسی کسی بنی ہوئی چیزکورکھنا استعمال کرنا سب ناجائزوحرام ومانع دخول ملائکہ علیہم الصلٰوۃ والسلام۔“ (فتاویٰ رضویہ، ج 24، ص638، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
سچی توبہ وہ ہے جس میں توبہ کے تمام ارکان مکمل کیے جائیں۔ یہ ارکان درج ذیل ہیں:
1:۔ گناہ کا اعتراف: بندہ اللہ کے حضور اپنے گناہ کا اعتراف کرے۔
2:۔شرمندگی: گناہ پر دل سے ندامت محسوس کرے۔
3:۔گناہ چھوڑنے کا پکا ارادہ: آئندہ اس گناہ کو ہمیشہ کے لیے ترک کرنے کا عزم کرے۔
4:۔ازالہ گناہ : اگر گناہ کا ازالہ ہو سکتا تو اس کا ازالہ کرے ۔
اللہ جل وعلا ارشاد فرماتا ہے:وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةًاَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ۫ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ وَ لَمْ یُصِرُّوْاعَلٰى مَا فَعَلُوْاوَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ(135)اُولٰٓىٕكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُخٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ۔ترجمہ: اور وہ لوگ کہ جب کسی بے حیائی کا ارتکاب کرلیں یا اپنی جانوں پر ظلم کرلیں تواللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور اللہ کے علاوہ کون گناہوں کو معاف کر سکتا ہے اور یہ لوگ جان بوجھ کر اپنے برے اعمال پر اصرار نہ کریں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے بخشش ہے اور وہ جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ۔ (یہ لوگ) ہمیشہ ان (جنتوں ) میں رہیں گے اورنیک اعمال کرنے والوں کا کتنا اچھا بدلہ ہے۔(آل عمران:135 تا 136)
سرکارِ مدینہ علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان مبارک ہے :عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ : کُلُّ ابْنِ آدَمَ خَطَّاءٌ، وَخَيْرُ الْخَطَّائِيْنَ التَّوَّابُوْنَ۔ ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہر انسان خطاکار ہے اور بہترین خطا کار، توبہ کرنے والے ہیں۔‘‘(أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب : 49، 4 / 659، الرقم : 2499)
امامِ اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:” سچی توبہ اللہ عزوجل نے وہ نفیس شے بنائی ہے کہ ہر گناہ کے ازالے کو کافی ووافی ہے، کوئی گناہ ایسا نہیں کہ سچی توبہ کے بعد باقی رہے یہاں تک کہ شرک وکفر۔ سچی توبہ کے یہ معنی ہیں کہ گناہ پراس لیے کہ وہ اس کے رب عزوجل کی نافرمانی تھی، نادِم وپریشان ہو کرفوراً چھوڑ دے اور آئندہ کبھی اس گُناہ کے پاس نہ جانے کا سچے دِل سے پُورا عزم کرے، جو چارۂ کار اس کی تلافی کا اپنے ہاتھ میں ہوبجا لائے۔مثلاً نماز روزے کے ترک یا غصب، سرقہ، رشوت، رباسے توبہ کی تو صرف آئندہ کے لیے ان جرائم کا چھوڑ دینا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضرور ہے جو نماز روزے ناغہ کیے ان کی قضا کرے، جو مال جس جس سے چھینا، چرایا، رشوت، سود میں لیا انہیں اور وہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارثوں کو واپس کردے یا معاف کرائے، پتا نہ چلے تو اتنا مال تصدق کردے اور دل میں یہ نیت رکھے کہ وہ لوگ جب ملے اگر تصدق پر راضی نہ ہوئے اپنے پاس سے انہیں پھیر دوں گا ۔(فتاوی رضویہ، جلد21،صفحہ 121۔122، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمديونس انس القادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 16جمادی الاخری 1446 ھ/19دسمبر2024ھ