سوال
ایک شخص نے چارہ ماہ کیلئے 40ہزار کے عوض بھینس لی،کہ میں چار ماہ اس کا دودھ پیوں گا اور آپکو واپس کر دونگا۔ کیا یہ درست ہے؟
سائل: حسان رضا خان
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
کسی جانور (بھینس یا گائے وغیرہ) کو ایک مقررہ مدت کیلئے صرف دودھ حاصل کرنے کی غرض سے کرائے پر لینا شرعاً باطل اور ناجائز ہے، اور اس کے عوض رقم کا لین دین بھی درست نہیں ہے۔ البتہ اس معاملے کو شرعی طور پر درست کرنے کیلئے براہِ راست دودھ کا کرایہ کرنے کے بجائے یہ صورت اپنائی جا سکتی ہے کہ وہ شخص مالک سے بھینس اس نیت سے کرائے پر لے کہ اس کی پیٹھ پر بوجھ لادنے یا اسے کسی اور جائز خدمت (منفعت) کیلئے استعمال کرے گا۔ جب یہ اجارہ شرعی طور پر درست ہو جائے، تو بھینس کا مالک اپنی طرف سے اسے یہ اجازت دے دے کہ تم جتنے عرصے اس سے اپنی خدمت لو گے، میری طرف سے تمہیں اس کا دودھ نکال کر پینے کی عام اجازت ہے۔
عقدِ اجارہ (کرایہ داری کا معاہدہ) کے کچھ بنیادی اصول مقرر ہیں، جن کی رو سے کرایہ صرف اس چیز پر لیا جا سکتا ہے جس سے منفعت حاصل کی جائے، جبکہ اس چیز کی اصل (عین) اپنی جگہ برقرار رہے۔ مثلاً مکان میں رہنا یا گاڑی میں سفر کرنا ایسی منفعت ہے جس سے وہ چیز خود ختم نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس، بھینس کا دودھ منفعت نہیں بلکہ عین ہے، یعنی وہ ایک مادی شے ہے جسے استعمال کرنے کا مطلب اسے ختم کرنا ہے۔ اور شریعت کا قاعدہ ہے کہ جو اجارہ کسی شے کی ذات کو ختم کرنے پر واقع ہو، وہ باطل ہے۔ چونکہ دودھ پینا بھینس کی ذات سے نکلنے والے ایک مادی حصے کو صرف کرنا ہے، اس لیے اسے کرایے کے زمرے میں نہیں لایا جا سکتا۔اگر کوئی شخص ایسا معاملہ کر چکا ہے، تو لینے والے پر لازم ہے کہ وہ دودھ کی قیمت یا اس جیسی مقدار اصل مالک کو لوٹائے اور اپنی دی ہوئی رقم (چالیس ہزار) واپس لے۔
دلائل و جزئیات:
اتلافِ اعیان پر اجارہ کے باطل ہونے کے متعلق علامہ خیر الدین رملی (المتوفی: 1081ھ) فرماتے ہیں: "الاجارۃ اذا وقعت علی اتلاف الاعیان قصداکانت باطلۃ فلایملک المستأجر ماوجد من تلک الاعیان بل ھی علی ماکانت علیہ قبل الاجارۃ فتؤخذ من یدہ اذاتناولھا ویضمنھا بالا ستھلاک لان الباطل لایؤثر شیئا فیحرم علیہ التصرف فیہا لعدم ملکہ وذٰلک کاستئجار بقرۃ لیشرب لبنھا وبستان لیاکل ثمرتہ ومثلہ استئجارمافی یدالمزارعین لاکل خراجہ". ترجمہ: جب اعیان (چیزوں) کو تلف کرنے پر قصداً اجارہ کیا جائے تو باطل ہوگا لہذا اجارہ پر لینے والے کو ان اعیان کو حاصل کرنے کا حق نہ ہوگا بلکہ یہ اعیان یعنی غلہ وغیرہ وہیں خرچ ہوگا جہاں وہ اجارہ سے قبل خرچ ہوتے تھے اس لئے مستاجر (اجارہ لینے والے) کے قبضہ سے واپس لے لئے جائیں گے اگر اس نے وصول کرکے خرچ کرلئے اس سے ضمان وصول کیا جائے گا کیونکہ باطل معاملہ کوئی اثر نہیں رکھتا لہذا ان میں اس کا تصرف حرام ہوگا اس لئے کہ وہ اس چیز کا مالک نہ تھا، اس کی مثال جیسے کہ گائے و بھینس کو دودھ کے لئے اجارہ پر لے اور مثلاً باغ کو پھل کھانے کیلئے اور وقف کے مزارعین کے زیر قبضہ زمین کو غلہ کرنے کے لئے اجارہ پر لے۔ (فتاوی خیریہ، کتاب الاجارۃ، 2/229، مکتبہ نعیمیہ مردان خیبر پختونخواہ)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’اصل کلی یہ ہے کہ جس طرح عقد بیع اعیان پر وارد ہوتاہے یونہی اجارہ ایک عقد ہے کہ خالص منافع پر ورود پاتاہے جس کا ثمرہ یہ ہوتاہے کہ ذات شیئ بدستور ملک مالک پر باقی رہے اور مستاجر اس سے نفع حاصل کرے۔ جو اجارہ خاص کسی عین وذات کے استہلاک پر وار دہو، محض باطل ہے اَللّٰہُمَّ اِلاَّ ماَ اسْتَثْنَاہُ الشَّرْعُ کَاِجَارَۃِ الظَّئر للْاِرْضاعِ (ہاں مگر وہ جس کوشرع نے مستثنی کردیاہے جیسا کہ دودھ پلانے والی عورت کا اجارہ) وغیر ذلک، اسی لئے اگر باغ کو بغرض سکونت اجارہ میں لیا جائز، اور پھل کھانے کے لئے ناجائز، کہ سکونت منفعت اور ثمر عین گائے کو لادنے کے لئے اجارہ میں لیا جائز، دودھ پینے کو ناجائز، کہ لادنا منفعت ہے اور دودھ عین حوض سنگھاڑھے رکھنے کےلئے اجارہ میں لیا جائز، مچھلیاں پکڑنے کو ناجائز، کہ سنگھاڑھے بونا منفعت ہے، مچھلیاں عین‘‘۔ (فتاوی رضویہ، رسالہ اجود القری لطالب الصحۃ فی اجارۃ القری، 19/543، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
عین پر اجارہ کے عدمِ جواز اور اس کے شرعی حیلے کے متعلق علامہ ابن عابدین شامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "الإجارة إذا وقعت على العين لا تصح، فلا تجوز على استئجار الآجام والحياض لصيد السمك أو رفع القصب وقطع الحطب أو لسقي أرضها أو لغنمه منها، وكذا إجارة المرعى. والحيلة في الكل أن يستأجر موضعا معلوما لعطن الماشية ويبيح الماء والمرعي، وإنما يحتاج إلى إباحة ماء البئر والعين إذا أتى الشرب على كل الماء وإلا فلا حاجة إلى الإذن إذا لم يضر بحريم البئر أو النهر. استأجر نهرا يابسا أو أرضا أو سطحا مدة معلومة ولم يقل شيئا صح وله أن يجري فيه الماء اه". ترجمہ: اجارہ جب عین (کسی چیز کی ذات) پر واقع ہو تو صحیح نہیں ہوتا، لہذا مچھلی کے شکار کیلئے جنگلوں یا حوضوں کا اجارہ کرنا، یا سَرکَنڈے اکھاڑنے اور لکڑیاں کاٹنے کیلئے، یا اپنی زمین کو سیراب کرنے یا وہاں اپنی بکریاں چرانے کیلئے اجارہ کرنا جائز نہیں، اور اسی طرح چراگاہ کا اجارہ بھی (جائز نہیں)۔ اور ان سب صورتوں میں حیلہ یہ ہے کہ وہ مویشیوں کے بیٹھنے کیلئے ایک معلوم جگہ اجارہ پر لے لے اور (مالک) پانی اور چراگاہ کو مباح کر دے۔ اور کنویں یا چشمے کے پانی کو مباح کرنے کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب پینے سے سارا پانی ختم ہو جائے، ورنہ اگر کنویں یا نہر کی حریم (نہر کے کناروں پر مخصوص زمین) کو نقصان نہ پہنچے تو (پانی کیلئے) اجازت کی ضرورت نہیں۔ کسی نے خشک نہر، زمین یا چھت کو ایک معلوم مدت کیلئے اجارہ پر لیا اور (مقصد کے بارے میں) کچھ نہ کہا تو اجارہ صحیح ہے اور اسے اس میں پانی جاری کرنے کا حق حاصل ہے۔ (رد المحتار، باب الاجارۃ الفاسدۃ، 6/63، دار الفکر)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:22رمضان المبارک 1447ھ/12مارچ 2026ء