سوال
میری شادی 18 سال پہلے ہوئی تھی۔ شادی میں میری طرف سے زیور چڑھایا گیا تھا۔ بڑے ہونے کی حیثیت سے وہ زیور والدہ کے پاس ہی رکھا ہوا تھا۔ بیمار ہونے کی وجہ سے میری والدہ نے وہ زیور میری بیوی کو یہ کہہ کر دیا کہ ’’میری طبیعت ٹھیک نہیں رہتی، یہ زیور تم سنبھالو، یہ بطورِ امانت رکھوا رہی ہوں۔ تمہاری بچیاں ہیں، جب ان کی شادی کا وقت آئے گا تم اسے استعمال کر لینا‘‘۔میری تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔
ایک ماہ پہلے میری بیوی میکے چلی گئی، زیور بھی اسی کے پاس رکھا ہوا ہے۔ میری بیوی کہہ رہی ہے کہ اب نہیں آؤں گی۔ اب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ علیحدگی پر آ گیا ہے۔ میری مہر کی رقم 50 ہزار رکھی گئی ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ وہ زیور جو میری بیوی کے پاس رکھا ہوا ہے، جو میری طرف سے تھا، اس زیور کی رقم سے حقِ مہر ادا کر سکتا ہوں؟ برائے مہربانی آپ میری رہنمائی فرمائیں۔
نوٹ: شوہر اور والدہ کا کہنا ہے کہ یہ زیور محض چڑھاوے (عارضی استعمال) کیلئے دیا گیا تھا، جس پر بیوی کو اس زیور پر مکمل اختیار حاصل نہیں ، اسی لیے وہ شوہر کی اجازت اور مشاورت کے بغیر اسے کسی کو بھی بیچنے کی مجاز نہیں ۔نیز یہ زیوربیوی نے اپنی بہن کو دیا جسے انہوں نے بیچ دیا اب اس کا مطالبہ ان سے جاری ہے۔
سائل: محمد وسیم، نارتھ کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر مذکورہ معاملے کی حقیقت وہی ہے جو سوال میں شوہر اور والدہ کی طرف سے بیان کی گئی ہے کہ یہ زیور محض عارضی استعمال کے طور پر دیا گیا تھا اور اس پر بیوی کو مالکانہ اختیار حاصل نہیں تھا، تو شرعی طور پر اس زیور کی مالک بیوی نہیں۔ ایسی صورت میں چونکہ یہ زیور شوہر کی اپنی ملکیت ہے اور وہ بیوی کے قبضے میں ہے، اس لیے شوہر اسے اپنے ذمہ واجب الادا حقِ مہر (50 ہزار روپے) کے عوض برابر (ایڈجسٹ) کر سکتا ہے۔ اگر بیوی زیور واپس نہیں کرتی، تو اس کی موجودہ مالیت کو مہر کی ادائیگی کے طور پر شمار کیا جائے گا، جسے ’’مقاصہ‘‘ کہا جاتا ہے۔
تفصیلِ مسئلہ
شادی پر دیے جانے والے زیورات کی ملکیت کا مدار خاندانی رواج اور دینے والے کی نیت پر ہوتا ہے۔ اگر خاندان کا عرف یہ ہے کہ چڑھاوا محض عاریت کے طور پر پہننے کیلئے دیا جاتا ہے اور عورت اسے بیچنے یا کسی کو ہبہ کرنے کی مجاز نہیں ہوتی، تو وہ اصل مالک ہی کی ملکیت رہتا ہے۔ چونکہ یہاں شوہر اور والدہ صراحتاً عاریت اور عدمِ اختیار کا بیان دے رہے ہیں، اس لیے قاعدہ "الدافع ادرٰی بجھۃ الدفع" (دینے والا اپنی نیت کو بہتر جانتا ہے) کے تحت شوہر کا قول معتبر مانا جائے گا۔
جب یہ ثابت ہو گیا کہ زیور شوہر کی ملکیت ہے اور مہر بیوی کا حق ہے، تو شرعی طور پر شوہر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے حق (زیور کی واپسی) کے بدلے بیوی کا حق (مہر) برابر کر دے۔ اگر بیوی زیور واپس نہیں کرتی یا اسے بیچ چکی ہے، تو شوہر اس زیور کی رقم کو مہر کی رقم سے منہا کر سکتا ہے۔اور اگر بیوی ملکیت کا دعویٰ کرے اور شوہر انکار کرے، تو چونکہ شوہر "مملک" (مالک بنانے والا) ہے، اس لیے حلف (قسم) کے ساتھ اسی کا قول معتبر ہوگا کہ اس نے اسے مالک نہیں بنایا تھا۔ محض زیور کا پاس ہونا یا پہننا ملکیت کی دلیل نہیں بن سکتا۔
دلائل وجزئیات:
سسرال کے چڑھاوے کے حکم میں امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’چڑھاوے کا اگر عورت کو مالک کر دیا گیا تھا خواہ صراحۃً کہہ دیا تھا کہ ہم نے اس کا تجھے مالک کیا یا وہاں کے رسم و عرف سے ثابت ہوکہ تملیک ہی کے طور پر دیتے ہیں جب تو وہ بھی عورت ہی کی ملک ہے ورنہ جس نے چڑھایا اس کی ملک ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 12/260، رضا فاونڈیشن، لاھور)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’ان مسائل میں اصل کلی یہ ہے کہ جوشخص اپنے مال سے کسی کو کچھ دے اگر دیتے وقت تصریح ہوکہ یہ دینا فلاں وجہ پر ہے مثلاً ہبہ یا قرض یا ادائی دین ہے جب توآپ ہی وہی وجہ متعین ہوگی اور اگر یہ کچھ ظاہر نہ کیا جائے تو دینے والے کا قول معتبر ہے کہ وہ اپنی نیت سے خوب آگاہ ہے اگر اپنی نافع نیت بتائے گا مثلاً کہے میں نے قرضاً دیا قرض میں دیا ہبہ مقصود نہ تھا تو اس کا قو ل قسم کے ساتھ مان لیا جائے گا اور جو اس کے خلاف کا مدعی ہو وہ محتاج اقامت بینہ ہوگا مگر جبکہ قرائن ودلائل عرف سے اس کا یہ قول خلاف ظاہر ہو تو نہ مانیں گے اور اسی کو اقامتِ بینہ کی تکلیف دیں گے بکثرت مسائل اسی اصل پر متفرع ہیں، مداینات العقود الدریۃ میں بزازیہ سے ہے: القول قول الدافع لانہ اعلم بجھۃ الدفع.ترجمہ: دینے والے کی بات معتبر ہوگی کیونکہ دینے کی وجہ کو وہ بہتر جانتا ہے۔(فتاوی رضویہ،16/96،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
امام اہلسنت رحمہ اللہ اس ضابطے کی تفریعات پیش کرتے ہیں کہ:’’فتاوٰی قاضی خان کتاب النکاح میں ہے : دفع الٰی غیرہ دراھم فانفقھا وقال صاحب الدراھم اقرضتکھا وقال القابض لابل وھبتنی کان القول قول صاحب الدراھم.ترجمہ:ایک نے دوسرے کو کچھ درہم دئے تو اس نے لے کر خرچ کرلئے، دراہم دینے والے نے کہا میں نے تجھے قرض دئے تھے اور لینے والا کہتا ہے نہیں بلکہ تو نے مجھے ہبہ دیا ہے،تو دینے والے کی بات معتبر ہوگی۔جامع الفصولین فصل رابع وثلثین میں ہے: صدق الدافع بیمینہ لانہ مملک.ترجمہ:دینے والے کی بات قسم کے ساتھ مصدقہ قرار پائے گی کیونکہ وہ دینے والا ہے۔وہیں ہے: دفع الٰی ابنہ مالافاراداخذہ صدق انہ دفعہ قرضا لانہ مملک.ترجمہ:بیٹے کو کچھ مال دیا اب واپس لینا چاہتا ہے تو قرض کے طور پر دینا مانا جائے گا کیونکہ وہ دینے والا ہے۔وہیں ہے: یصدق المملک لانہ اعرف فقول العالم اولٰی بان یقبل من قول الجاہل الافیما یکذب عرفا.ترجمہ:مالک بنانے والے کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ وہ بہتر جانتا ہے تو جاننے والے کی بات کو ماننا اولٰی ہے بجائے اس کے کہ جاہل کی بات مانی جائے الّایہ کہ عرف اس کو جھوٹا قرار دے۔ہدایہ میں ہے: (من بعث الٰی امرأتہ شیئا فقالت ھوھدیۃ وقال الزوج ھو من المھر فالقول قولہ) لانہ ھوالمملک فکان اعرف بجہۃ التملیک کیف وان الظاھر انہ یسعی فی اسقاط الواجب(الا فی الطعام الذی یؤکل) فان القول قولھا او المراد منہ مایکون مھیأ للاکل لانہ یتعارف ھدیۃالخ.ترجمہ:جس نے بیوی کو کوئی چیز بھیجی تو بیوی نے کہا یہ ہدیہ ہے اور خاوند نے کہا یہ مہر میں شمار ہے، توخاوند کی بات معتبر ہے کیونکہ وہ مالک بنانے والا ہے تو وہی تملیک کی وجہ کو بہتر جانتا ہے اس کے خلاف کیسے ہوسکتا ہے جبکہ ظاہریہ ہے کہ خاوند اپنے ذمہ واجب کی ادائیگی میں کوشاں ہے ہاں کھائی جانیوالی چیز میں یہ بات ظاہر نہیں کیونکہ اس میں بیوی کی بات معتبر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ چیز کھانے کے لئے مہیا کی گئی ہو کیونکہ عرفاً ایسی چیز ہدیہ قرار پاتی ہے الخ۔
فتح القدیر میں ہے: والذی یجب اعتبارہ فی دیارنا ان جمیعہ ماذکر من الحنطۃ واللوز والدقیق والسکر والشاۃ الحیۃ وباقیھا یکون القول فیہا قول المرأۃ لان المتعارف فی ذٰلک کلہ ارسالہ ھدیۃ فالظاھر مع المرأۃ لامعہ ولایکون القول لہ الافی نحوالثیاب والجاریۃ.ترجمہ: ہمارے دیار میں گندم، بادام، آٹا، شکر، زندہ بکری، اس کا گوشت وغیرہ مذکور ہ تمام اشیاء میں بیوی کی بات معتبر ہوگی کیونکہ عرف میں ان تمام چیزوں کو ہدیہ کے طور پر ارسال کیا جاتا ہے اس لئے ظاہر عورت کی تائید کرتا ہے نہ کہ مرد کی، خاوند کی بات صرف کپڑوں اور لونڈی وغیرہ جیسی چیزوں میں معتبر ہوتی ہے۔نہر الفائق میں ہے: وینبغی ان لایقبل قولہ ایضافی الثیاب المحمولۃ مع السکرونحوہ للعرف.ترجمہ: مناسب ہے کہ خاوند کی بات شکر وغیرہ کے ساتھ ارسال کئے گئے کپڑوں میں معتبرنہ ہوکیونکہ عرف یہی ہے۔
حاشیہ ابی السعود الازھری علی الکنز میں ہے: ینبغی ان یکون القول لھا فی غیرالنقود للعرف المستمر.ترجمہ: مناسب ہے کہ نقود کے غیر میں بیوی کی بات معتبر ہو کیونکہ عرف میں یہی جاری ہے۔ردالمحتار میں ہے: کذامایعطیھا من ذٰلک اومن دراھم اودنا نیر صبیحۃ لیلۃ العرس ویسمی فی العرف صبیحۃ فان کل ذٰلک تعورف فی زمانھا کونہ ھدیۃ.ترجمہ: یونہی شب زفاف کی صبح کو جو درہم یا دینار دئے جاتے ہیں ان کو عرف میں صبحہ کہا جاتا ہے کیونکہ ہمارے زمانہ میں یہ ہدیہ ہونے پر عرف بن چکا ہے۔ (فتاوی رضویہ،16/97-98،رضا فاؤنڈیشن لاہور) ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:26 رمضان المبارک 1447ھ/16مارچ 2026ء