سوال
ایک شخص نے غصے کی حالت میں اپنی بیوی سے کہا ’’میں نے تجھے طلاق دی، میں نے تجھے طلاق دی، میں نے تجھے طلاق دی‘‘ تین بار کہا اب اس کا کیا حکم ہوگا؟
سائل: محمد وسیم، ضلع جھنگ پنجاب
بمعرفت سلیم رضوی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر واقعتاً معاملہ ایسا ہی ہے جیسا بیان ہوا تو جب شوہر نے اپنی بیوی کو تین بار طلاق کے صریح الفاظ کہے، تو بیوی پر تینوں طلاقیں مغلظہ واقع ہو چکی ہیں اور وہ شوہر کے نکاح سے باہر ہو گئی ہے۔ شوہر تین طلاقیں دینے کی وجہ سے سخت گناہ گار ہوا، اس پر توبہ لازم ہے۔ اب بغیر تحلیلِ شرعی (حلالہ) کے یہ عورت اپنے پہلے شوہر کیلئے حلال نہیں ہو سکتی۔
تفصیلِ مسئلہ:
جب شوہر نے اپنی بیوی کو تین بار یہ کہا کہ ’’میں نے تجھے طلاق دی‘‘ تو بیوی پر تین طلاقیں مغلظہ واقع ہوگئیں اور وہ شوہر کے نکاح سے باہر ہوگئی۔ شوہر تین طلاق دینے کی وجہ سے سخت گناہ گار اور حرام کے مرتکب ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ کرنا لازم ہے۔ اب بغیر تحلیلِ شرعی عورت، شوہر کیلئے حلال نہیں ہو گی۔ تحلیلِ شرعی کا مطلب یہ ہے کہ مطلقہ اپنی عدت (ماہواری کی صورت میں تین حیض، حمل کی صورت میں وضعِ حمل، اور بڑھاپے کی صورت میں تین ماہ) گزارنے کے بعد کسی دوسرے مرد سے صحیح شرعی نکاح کرے اور کم از کم ایک بار جسمانی تعلق (جماع) قائم ہونے کے بعد وہ دوسرا شوہر اسے طلاق دے دے یا مر جائے، تو اس کی عدت گزارنے کے بعد وہ پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے۔ اگر اس شرعی طریقہ کار کے بغیر وہ دونوں ساتھ رہیں گے تو ان کا باہمی میل جول اور صحبت زناکاری کہلائے گی اور وہ دونوں سخت گنہگار اور عذابِ الٰہی کے مستحق ہوں گے۔ ایسی صورت میں ان پر فرض ہے کہ وہ فوراً ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں۔
شریعتِ مطہرہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دینے سے، خواہ وہ ایک لفظ میں ہوں یا متفرق جملوں میں، طلاقِ مغلظہ واقع ہوجاتی ہے ۔ ائمہ اربعہ یعنی امام اعظم ابوحنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور جمہور صحابہ و تابعین کا یہی مذہب ہے کہ ایسی صورت میں تین ہی طلاقیں مانی جائیں گی۔نیز اصول ہے کہ کلام میں ’’تاسیس‘‘ (نیا معنی پیدا کرنا) ’’تاکید‘‘ سے بہتر ہوتا ہے، لہذا جب شوہر نے تین بار طلاق کے الفاظ کہے تو ہر بار ایک نئی طلاق واقع ہوئی اور تین کا عدد مکمل ہوگیا۔
جہاں تک غصے کا تعلق ہے، تو عام غصہ طلاق واقع ہونے میں رکاوٹ نہیں بنتا، کیونکہ طلاق اکثر غصے ہی کی حالت میں دی جاتی ہے۔
دلائل و جزئیات:
اللہ تبارک وتعالی نے ارشاد فرمایا : فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعْدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوْجًا غَیۡرَہٗؕ فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ اَنۡ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنۡ ظَنَّاۤ اَنۡ یُّقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللہِؕ وَ تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوۡنَ.ترجمہ: ’’ پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں ۔ اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے اوریہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کیلئے ‘‘۔(البقرۃ: 230)
اس آیت کر یمہ کے تحت تفسیر روح المعانی میں علامہ السید محمود آلوسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "فإن طلقها بعد الثنتين... فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ أي من بعد ذلك التطليق حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ أي تتزوّج زوجا غيره، ويجامعها فلا يكفي مجرد العقد".ترجمہ:’’ پس اگر شوہر دو طلاقوں کے بعد تیسری طلاق دے دے تو وہ عورت اس کیلئے حلال نہیں ہو گی حتی کہ دوسرے مرد سے نکاح کر ے اور وہ دوسرا مرد اس سے جماع بھی کر ے محض نکاح کافی نہیں ‘‘۔ ( تفسیرروح المعانی،2/729،مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ )
امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ المنان تحلیل شرعی کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’حلالہ کے یہ معنی ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سے نکلے گی۔اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے... وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعد طلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ،12/84،رضا فاؤنڈیشن کراچی)
تین طلاق کے تین ہونے پر قرآن پاک سے دلیل:
اللہ تعالی نے قرآن پاک میں اولاً دو طلاق کا ذکر کرکے فرمایا کہ اب بھی خاوندکو رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ، اور تیسری طلاق کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اب ان کے درمیان حرمت مغلظہ قائم ہوچکی ہے لہذا بغیر حلالہ شرعیہ کے واپسی ناممکن ہے۔
سورہ البقرۃ میں اللہ تعالی فرماتا ہے: الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیْحٌ بِإِحْسَانٍ. ترجمہ:یہ طلاق دو بارتک ہی ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔(البقرۃ : 229)
پھر اسکے بعد مزید فرمایا: فَإِن طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِن بَعْدُ حَتَّیَ تَنکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ. ترجمہ:پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہو گی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ۔(البقرۃ:230)
ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالی نے مطلقاً تین طلاق کا حکم بیان فرمایا اور اسکو ایک مجلس یا متعدد مجلس کے ساتھ مقید نہیں کیا یعنی تین طلاقیں ایک مجلس میں دے یا ایک ایک سال کے وقفے سے دے بہرصورت تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔
جیسا کہ غیر مقلد اہلحدیث کے امام ابن حزم ظاہری نے اپنی کتاب میں لکھا:" فھذا یقع علی الثلاث مجموعۃ ومفرقۃ، ولا یجوز ان یخص بھذہ الآیۃ بعض ذلک دون بعض بغیر نص".ترجمہ: یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ تین طلاق اکٹھی دی جائیں یا الگ الگ بہر حال طلاقیں واقع ہو جائیں گی، اور اس آیت کو بغیر دلیل کے بعض صورتوں کے ساتھ خاص کرنا جائز نہیں ہے۔(المحلی بالآثار، 3/394، دار الفکر بیروت، لبنان)
تین طلاق کے تین ہونے پراحادیث سے دلائل :
(۱) امام نسائی نے محمود بن لبید سے روایت کیا:"عن محمود بن لبید قال اخبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عن رجل طلق امراتہ ثلث تطلیقات جمیعا فقام غضبان ثم قال ایلعب بکتاب اللہ عزوجل وانا بین اظہر کم حتی قام رجل فقال یا رسول اللہ الااقتلہ".ترجمہ:حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک شخص کے متعلق خبر دی گئی کہ اس نے اپنی بیوی کو بیک وقت تین طلاقیں دے دی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غضب ناک حالت میں کھڑے ہوگئے اور فرمایا میرے سامنے کتاب اللہ کو کھیل بنایا جارہا ہے؟ حتی کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،میں اس کو قتل نہ کردوں۔(سنن النسائی، کتاب الطلاق،6/142 ، الرقم:3401: ،مکتب المطبوعات الاسلامیۃ، حلب)
اگرتین طلاقوں سے ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنا سخت اظہار ناراضگی کیوں فرمایا؟ یہاں تک کہ ایک صحابی نے اس شخص کے اس جرم کی وجہ سے اسکو قتل کرنے کی اجازت طلب کی۔
(۲) امام المحدثین ابو عبد اللہ امام بخاری کے استادِ محترم عظیم محدث امام عبد الرزاق نے اپنی مصنف میں روایت کیا: "عَنْ دَاوُدَ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: طَلَّقَ جَدِّی امْرَاَۃً لَہُ اَلْفَ تَطْلِیقَۃٍ، فَانْطَلَقَ اَبِی اِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اما اتَّقَی اللَّہَ جَدُّک، اَمَّا ثَلَاثٌ فَلَہُ، وَاَمَّا تِسْعُ مِاءَۃٍ وَسَبْعَۃٌ وَتِسْعُونَ فَعُدْوَانٌ وَظُلْمٌ، اِنْ شَاءَ اللَّہُ تَعَالَی عَذَّبَہُ، وَاِنْ شَاءَ غَفَرَ لَہُ".ترجمہ: داود کہتے ہیں کہ میرے دادا نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی تھیں تو میرے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور ان کی خدمت میں سارا معاملہ عرض کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرا دادا اللہ سے نہیں ڈرتا؟ تین طلاق کا ان کو حق تھا ( وہ واقع ہوگئیں)اور نو سو ستانوے طلاق انکی طرف سے ظلم وزیادتی ہے ، اللہ تعالی کی مرضی چاہے تو اسے عذاب دے یاچاہے تو اسے بخش دے ۔(مصنف عبد الرزاق، کتاب الطلاق، 6/393، الرقم:11339، المکتب الاسلامی، بیروت)
(۳) صحاح ستہ کی چھٹی کتاب سنن ابن ماجہ کی حدیث پاک ہے : "عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِیِّ:’’قَالَ: قُلْتُ لِفَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ: حَدِّثِینِی عَنْ طَلَاقِکِ، قَالَتْ: طَلَّقَنِی زَوْجِی ثَلَاثًا وَھُوَ خَارِجٌ اِلَی الْیَمَنِ، فاَجَازَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ".ترجمہ:حضرت عامر شعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے فاطمہ بنت قیس سے کہا کہ آپ مجھے اپنی طلاق کا واقعہ بیان کیجئے ، انہوں نے جواب دیا مجھے میرے شوہرنے یمن جاتے وقت تین طلاقیں دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تینوں طلاقیں نافذ فرما دیں۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الطلاق، باب من طلق ثلاثاً فی مجلس واحد، 1/652، الرقم: 2024، احیاء الکتب العربیۃ، بیروت)
حدیث میں یہ بات ظاہر ہے کہ یہ تین طلاقیں ایک مجلس میں دی گئیں تھیں جبھی تو حضرت فاطمہ نے یہ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ طلاقیں نافذ فرمادیں۔ اگر الگ الگ مجلس میں تین طلاقیں واقع ہوتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان طلاقوں کو نافذ کرنے کا کیا معنی ہے؟ اسی لئے امام ابن ماجہ نے اس حدیث کیلئے جو باب باندھا وہ من طلق ثلاثاً فی مجلس واحد ہے یعنی جو ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے ۔
(۴) امام المحدثین ابو عبد اللہ بخاری اپنی صحیح بخاری میں حضرت عویمر عجلانی کا واقعہ لعان ذکر کرنے کے بعد نقل فرماتے ہیں: "فلما فرغا قال عویمر کذبت علیھا یارسول اللہ ان ا مسکتھا فطلقھا ثلاثاً".ترجمہ:جب دونوں میاں بیوی لعان سے فارغ ہو گئے تو حضرت عویمر نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر میں اسکو روکے رکھوں تو یہ میرا اسٍپر جھوٹ ہوگا۔ چنانچہ حضرت عویمر نے (اسی وقت ) تین طلاقیں دے دیں۔(صحیح بخاری، کتاب الطلاق، باب اللعان، 7/53،الرقم:5308، دار طوق النجاۃ، بیروت)
(۵) اسی واقعہ کے بارے میں سنن ابی داود میں یہ الفاظ منقول ہیں: "فَطَلَّقَھَا ثَلَاثَ تَطْلِیقَاتٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَاَنْفَذَہُ رَسُولُ اللّہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلّم".ترجمہ:حضرت عویمر عجلانی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روبرو تین طلاقیں دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تینوں طلاقوں کو نافذ فرما دیا۔( سنن ابی داود، کتاب الطلاق، باب اللعان، 2/274، الرقم: 2250، المکتبۃ العصریۃ، بیروت)
(۶) امام دار الہجرت عظیم مجتہد ومحدث امام مالک نے حدیث کی عظیم الشان کتاب موطا امام مالک میں مفسر شہیر حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا: "اَنَّ رَجُلاً قَالَ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عَبَّاسٍ: اِنِّی طَلَّقْتُ امْرَاَتِی مِاءَۃَ تَطْلِیقَۃٍ، فَمَاذَا تَری عَلَیَّ؟ فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ: طَلُقَتْ مِنْکَ لِثَلاَثٍ، وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ اتَّخَذْتَ آیَاتِ اللہِ ھُزُواً".ترجمہ:ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دی ہیں تو آپ کیا فرماتے ہیں؟ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا : تیری عورت کو تیری طرف سے تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور باقی ستانوے کی وجہ سے تونے اللہ تعالی کی آیات کو مذاق بنا لیا۔(مؤطا امام مالک،کتاب الطلاق، 4/789، الرقم:2021، مؤسسہ زاید بن سلطان، ابو ظہبی)
ائمہ اربعہ اور جمیع علماء کی نظر میں تین طلاقوں کا حکم :
ناصر السنہ محی الدین العلامہ ابو زکریا یحی بن شرف النووی نے شرح النووی میں فرمایا : "قال لامرأتہ انت طالق ثلاثاً فقال الشافعی ومالک وابو حنیفۃ واحمد وجماھیر العلماء من السلف والخلف یقع ثلاثاً".ترجمہ:جس شخص نے اپنی بیوی کو کہا تجھے تین طلاقیں ہیں تو اس کے متعلق امام شافعی، امام مالک، امام اعظم ابو حنیفہ، امام احمد اور جمہور علماء سلف وخلف نے تین طلاق کے واقع ہونے کا فتوی صادر فرمایا۔( شرح النووی علی المسلم، کتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث، 1/478، قدیمی کتب خانہ، کراچی)
محقق علی الاطلاق علامہ کمال الدین ابن ہمام نے فرمایا: "ذھب جمھورالصحابۃ والتابعین ومن بعدھم من ائمۃ المسلمین الی ان یقع ثلاثاً".ترجمہ: جمہور صحابہ، تابعین اور ان کے بعد والے مسلمانوں کے ائمہ کرام کا مسلک ہے کہ ایک لفظ سے تین طلاقیں دینے سے تین طلاقیں واقع ہوں گی۔(فتح القدیر، کتاب الطلاق، باب طلاق السنۃ، 3/469، دارالفکر بیروت، لبنان)
عمد ۃالقاری شرح صحیح بخاری میں ہے: "مذہب جماھیر العلماء من التابعین ومن بعد ھم منھم الاوزاعی والنخعی والثوری ابوحنیفہ واصحابہ ومالک واصحابہ والشافعی واصحابہ واحمد واصحابہ واسحاق وابو ثوروابو عبید وآخرون کثیرون علی ان من طلق امراتہ ثلاثا وقعن ولکنہ یاثم وقالوا من خالف فیہ فھو شاذمخالف لاھل السنۃ وانما تعلق بہ اھل البدع ".ترجمہ:جمہور علماء کرام تابعین میں سے اور جو ان کے بعد والے ہیں ان میں امام اوزاعی اور علامہ نخعی اور علامہ ثوری اور امام ابو حنیفہ اور اس کےاصحاب اور امام مالک اور اس کے اصحاب اور امام شافعی اور اس کے اصحاب اور امام احمد اور ان کے اصحاب اور علامہ اسحاق اور علامہ ابو ثور اور علامہ ابو عبید اور بہت سے متاخرین کا مذہب یہ ہے کہ جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو واقع ہو جائیں گی لیکن اس سے گناہ گار ہو گا اور علماء نے فرمایا جو اس کے خلاف مذہب رکھتا ہو شاذاور اہل سنت کا مخالف ہے اور اس کا تعلق اہل بدعت سے ہے ۔(عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، کتاب الطلاق، باب من اجاز طلاق الثلاث، 20/233، دار احیاء التراث العربی، بیروت)
فقہاء احناف کی نظر میں ایک مجلس کی تین طلاقوں کا حکم:
اسی طرح فتاوی ہندیہ میں ہے:"اذاقال لامرأتہ انت طالق وطالق وطالق ولم یعلقہ بالشرط، ان کانت مدخولۃ طلقت ثلثا".ترجمہ:جب مرد نے اپنی بیوی کو کہا تجھے طلاق ہے اور طلاق ہے اورطلاق ہے‘‘ اور طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق نہ کیا،اگر بیوی مدخولہ ہے تو اس پر تین طلاق واقع ہوگئیں ۔( فتاوی ہندیہ، کتاب الطلاق، الباب الثانی، الفصل الاول، 1/355، دار الفکر، بیروت)
اسی طرح تقریباً چاروں مذاہب کی فقہی کتب میں یہ بات موجود ہے کہ تین طلاق بیک وقت دینے سے تین ہی ہوتی ہیں، مثلاً فقہ حنفی کی کتب میں رد المحتار، الدر المختار، تبیین الحقائق، النہر الفائق، بدائع الصنائع، فتح القدیر، الجوہرۃ النیرۃ، شرح الوقایۃ، الہدایۃ، البنایۃ، حاشیۃ الطحطاوی وغیرہم میں تین طلاق کو تین ہی شمار کیا اورنافذ کیا ہے ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:28 رمضان المبارک 1447ھ/18 مارچ 2026ء