سوال
میں نے اپنا ایک مکان کرایہ پر دیا ہوا تھا۔ مذکورہ کرایہ دار گزشتہ ستره (17) ماہ سے کرایہ ادا نہیں کر رہا۔ اس دوران وہ بار بار مکان خالی کرنے کے وعدے کرتا رہا، بعض اوقات تحریری یقین دہانیاں اور بیان حلفی بھی دیتا رہا اور چند مرتب چیک بھی دیے، مگر وہ چیک آج تک کیش نہیں ہو سکے۔بالآخر مسلسل نادہندگی کی وجہ سے مجھے اس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنا پڑی۔اس وقت اس شخص پر میرے واجبات بقایا یہ ہیں: (۱) کرایہ: روپے 25,50,000 (ستره ماه)۔ (۲) بجلی کے واجبات: روپے 15,72,633( بجلی کی لائن منقطع ہو چکی ہے) ۔ (۳) گیس کے واجبات :روپے 27,880 (گیس کی لائن بھی منقطع ہو چکی ہے)۔ (۴) پانی کے واجبات :روپے 74,421 KWSB۔
قانونی کارروائی کے بعد مذکورہ کرایہ دار نے مجھ سے علیحدگی میں ملاقات کی اور اپنی مالی مجبوری ظاہر کی۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ کرایہ اور یوٹیلیٹی واجبات ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، اور اس نے مجھ سے درخواست کی ہے کہ میں کرایہ اور یوٹیلیٹی بلز کے سلسلے میں زکوٰة کی رقم سے اس کی مدد کروں، اور اس کے روز مرہ اخراجات کیلئے بھی اسے مزید رقم زکوة ہی کی مد میں ادا کروں۔چونکہ یہ شخص میرا کرایہ دار بھی ہے، اور اس پر میرے واجبات بھی ہیں، اور اس کے خلاف قانونی کارروائی بھی جاری ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ زکوٰة کے معاملے میں مکمل طور پر شرعی حدود کے مطابق فیصلہ کر سکوں۔براه کرم مندرجہ ذیل امور میں قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں:
کیا ایسے شخص کو، جو میرا کرایہ دار بھی ہے اور جس پر میرے واجبات بقایا ہیں، زکوٰة دیناشرعاً جائز ہے؟ کیا کرایہ اور یوٹیلیٹی بلز کے سلسلے میں اسے زکوٰة دینا شرعاً درست ہوگا؟کیا اس کے ذاتی اخراجات کیلئے زکوٰة کی رقم دینا جائز ہے؟اس مجموعی صورتحال میں میرے لیے شرعاً درست اور بہتر طریقۂ عمل کیا ہونا چاہیے؟براہ کرم رہنمائی فرما دیں تاکہ میں کسی شرعی غلطی سے محفوظ رہ سکوں۔
سائل: عبد اللہ، لیاری ٹاؤن، بمعرفت مفتی ابراہیم سکندری صاحب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شرعی طور پر کسی مستحقِ زکوٰۃ مقروض (چاہے کرایہ دارہو) کو زکوٰۃ دینا نہ صرف جائز بلکہ افضل ہے، بشرطیکہ وہ ہاشمی (سید) نہ ہو اور نصابِ زکوٰۃ کا مالک نہ ہو۔ تاہم، محض کرایہ یا بل معاف کر دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی؛ کیونکہ زکوٰۃ میں فقیر کو مال کا مکمل مالک بنانا (تملیکِ مطلق) شرط ہے، جبکہ قرض کی معافی اسقاطِ حق (اپنا حق چھوڑنا) کے زمرے میں آتی ہے۔ درست طریقہ یہ ہے کہ آپ زکوٰۃ کی رقم اسے دے کر مالک بنا دیں، پھر وہ رقم اپنے واجبات کی مد میں اس سے واپس وصول کر لیں یا وہ اپنی مرضی سے ادا کر دے۔ اس کے ذاتی اخراجات کیلئے بھی زکوٰۃ دینا جائز ہے، اور موجودہ صورتحال میں نادہندہ کرایہ دار کی مجبوری کے پیشِ نظر اسے زکوٰۃ دے کر اپنا حق وصول کرنا درست اور اجر کا باعث ہے۔
تفصیلِ مسئلہ
(۱) مقروض کرایہ دار کو زکوٰۃ دینے کی شرعی حیثیت:
شرعاً زکوٰۃ کا مصرف ہر وہ مسلمان حاجتمند ہے جو ہاشمی نہ ہو اور نصاب (ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اتنی چاندی کی مالیت) کے برابر مالِ نامی (یعنی حقیقۃً یا حکماً بڑھنے والا مال) کا مالک نہ ہو۔ اگر کسی شخص پر اتنا دَین (قرض) ہو کہ اسے ادا کرنے کے بعد اس کے پاس نصاب کے برابر مال نہ بچے، تو وہ مدیون (قرضدار) فقیر شرعی کہلاتا ہے اور اسے زکوٰۃ دینا نہ صرف جائز ہے بلکہ عام فقیر شرعی کو دینے سے افضل ہے۔ لہٰذا، اگر کرایہ دار واقعی ان شرائط پر پورا اترتا ہے، تو اسے زکوٰۃ دینا جائز بلکہ افضل ہے۔
(۲) کرایہ اور یوٹیلیٹی بلز کی مد میں زکوٰۃ دینا:
زکوٰۃ کی ادائیگی کیلئے تملیک (یعنی فقیر شرعی کو مال کا مستقل اور کامل مالک بنانا) شرطِ رکن ہے، جس کے بغیر زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی۔ آپ کیلئے یہ جائز نہیں کہ آپ اپنے دل میں یہ نیت کر لیں کہ ’’میں نے اس کا کرایہ یا بل معاف کر دیا اور یہ میری زکوٰۃ میں محسوب ہو گیا‘‘؛ اس طرح زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دَین (قرض) کی معافی ایک اعتبار سے اسقاط (اپنا حق ساقط کرنا) ہے اور دوسرے اعتبار سے تملیک ہے۔ جبکہ زکوٰۃ کی ادائیگی کیلئے ضروری ہے کہ وہاں کامل و مطلق طور پر تملیکِ فقیر پائی جائے (یعنی اسے مال قبضے میں دے کر مالک بنایا جائے)۔ چونکہ قرض معاف کرنے میں فقیر کے ہاتھ میں کوئی مال نہیں آتا بلکہ صرف اس کے ذمے سے بوجھ ختم ہوتا ہے، اس لیے اسے کامل تملیک نہیں کہا جا سکتا۔
اس کا صحیح شرعی طریقہ یوں ہے کہ آپ زکوٰۃ کی رقم کرایہ دار کو دیں اور اسے اس کا مستقل مالک بنا دیں۔ جب وہ رقم پر قابض ہو جائے، تو اب وہ اپنی مرضی سے وہ رقم آپ کو آپ کے کرائے یا یوٹیلیٹی بلز کی مد میں واپس کر دے۔ اگر وہ رقم لینے کے بعد خود واپس نہ کرے، تو چونکہ وہ آپ کا مدیون (قرضدار) ہے، آپ اس سے وہ رقم اپنے حق کی جنس ہونے کی وجہ سے جبراً بھی لے سکتے ہیں۔
(۳) ذاتی و روزمرہ اخراجات کیلئے زکوٰۃ دینا:
اگر کرایہ دار زکوٰۃ کا شرعی مصرف ہے، تو اسے اس کے ذاتی اور روزمرہ کے اخراجات (کھانے پینے، کپڑے وغیرہ) کیلئے زکوٰۃ دینا بالکل جائز ہے۔ کیونکہ جب زکوٰۃ کی نیت سے رقم مستحق کو دے دی گئی، تو زکوٰۃ ادا ہو گئی، اب وہ اسے جس کام میں چاہے صرف کرے۔
(۴) شرعاً درست اور بہتر طریقہ عمل:
اس مجموعی صورتحال میں آپ کیلئے شرعی طور پر درست طریقہ درج ذیل ہے:
سب سے پہلے یہ اطمینان کر لیں کہ وہ شخص واقعی شرعی مصرف ہے، یعنی اس کے پاس قرض نکال کر نصاب کے برابر مال موجود نہیں اور وہ سید (ہاشمی) بھی نہیں ہے۔پھر زکوٰۃ کی رقم اسے ہاتھ میں دے کر اس کا مالک بنا دیں، صرف معافی کی نیت کافی نہیں۔رقم دینے کے بعد آپ اس سے اپنے واجب الادا کرائے اور بلوں کی رقم کا مطالبہ کریں اور وہ رقم وصول کر لیں۔اور اگر وہ بہت زیادہ مجبور ہے، تو اسے کچھ رقم زائد بھی دے سکتے ہیں تاکہ وہ اپنے بال بچوں کے روزمرہ اخراجات پورے کر سکے، یہ صلہ رحمی اور احسان میں شامل ہوگا۔اگر نیت خالص اللہ کی رضا اور اس کے حکم کی بجا آوری ہے، تو ان شاء اللہ آپ کا فرض بھی ادا ہوگا اور اس پریشان حال مسلمان کی مدد کا ثواب بھی ملے گا۔
دلائل و جزئیات:
زکوۃ کی تعریف الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "أما تفسیرھا فھی تملیک المال من فقیر مسلم غیر ھاشمی".ترجمہ: زکوۃ کا معنی یہ ہے کہ مسلمان غیر ہاشمی فقیر کو مال کا مالک بنا دیا جائے۔ (الفتاوی الہندیۃ، کتاب الزکوۃ، 1/170، دار الفکر، بیروت)
اور شرعی فقیر (جس کیلئے زکوۃ لینا جائز ہے) کی تعریف یوں کی گئی ہے: "(وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة ".ترجمہ: فقیر شرعی وہ ہے جس کے پاس قلیل مال ہو یعنی نصابِ زکوۃ سے کم یا نصاب کی مقدار غیر نامی ہو جو اس کی حاجت میں گِھرا ہوا ہو۔(الدر المختار،کتاب الزکوۃ، باب المصرف،2/339، دار الفکر)
مقروض کو زکوۃ دینے سے متعلق الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"( ومنها الغارم) ، وهو من لزمه دين، ولا يملك نصابا فاضلا عن دينه أو كان له مال على الناس لا يمكنه أخذه كذا في التبيين. والدفع إلى من عليه الدين أولى من الدفع إلى الفقير كذا في المضمرات". ترجمہ:زکوۃ لینے والوں میں سے وہ شخص بھی ہے کہ جس پر قرضہ ہو اور اپنے قرض کے علاوہ کسی نصاب کا مالک نہ ہو یا دیگر لوگوں کے پاس اس کا مال ہو لیکن وہ لے نہ سکے یہ تبیین میں لکھا ہے۔ قرضدار کو زکوۃ دینا فقیر کے دینے سے اولیٰ ہے یہ مضمرات میں لکھا ہے۔(الفتاوى الهندية،کتاب الزکوۃ،الباب السابع فى المصارف،1/188،دار الفکر)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’جس پر اتنا دین ہو کہ اُسے ادا کرنے کے بعد اپنی حاجاتِ اصلیہ کے علاوہ چھپن روپے کے مال کا مالک نہ رہے گا (یعنی آپ رحمہ اللہ کے دور میں یہی نصاب زکوۃ تھا) اور وہ ہاشمی نہ ہو، نہ یہ زکوٰۃ دینے والا اس کے اولاد میں ہو، نہ باہم زوج و زوجہ ہوں، اسے زکوٰۃ دینا بیشک جائز بلکہ فقیر کو دینے سے افضل، ہر فقیر کو چھپن روپے دفعۃًنہ دینا چاہئیں،اور مدیون پر چھپن ہزار دین ہو تو زکوٰۃ کے چھپن ہزار ایک ساتھ دے سکتے ہیں۔قال اﷲتعالیٰ ’’والغارمین ‘‘(اور مقروض لوگوں پر زکوٰۃ خرچ کو جائے)۔ دُر مختار میں ہے: ومدیون لا یملک نصابا فاضلا عن دینہ وفی الظہیریۃ الدفع للمدیون اولی منہ للفقیر۔مقروض وہ شخص ہوتا ہے جو قرض سے فاضل نصاب کا مالک نہ ہو، ظہیریہ میں ہے: مدیون کو زکوٰۃ دینا فقیر سے اولیٰ ہے۔ردالمحتار میں ہے: ونقل ط عن الحموی انہ یشترط ان لا یکون ھاشمیا۔اورطحطاوی نے حموی سے نقل کیا کہ شرط یہ ہے کہ مدیون ہاشمی نہ ہو ‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 10/250، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
قرض کی معافی سے زکوۃ کی عدمِ ادائیگی کے متعلق الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "رجل له على فقير مال واراد ان يتصدق بماله على غريمه ويحتسب به عن زكاة ماله فقد عرف من اصل اصحابنا رحمهم اللہ تعالى انه لا يتادى بالدين زكاة العين".ترجمہ: کسی شخص کا مال فقیر کے ذمہ ہے اور وہ شخص اپنا مال اس قرض دار فقیر پر صدقہ کرنا چاہتا ہے اور اسے اپنے مال کی زکوۃ کے طور پر شمار کرنا چاہتا ہے، ہمارے اصحاب رحمہم اللہ تعالیٰ کے اصول سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ وہ عین کی زکاۃ دین (قرض) کے ساتھ ادا نہیں کر سکتا۔ (الفتاوی الہندیۃ، کتاب الحیل، 6/391، دار الفکر)
زکوۃ میں تملیک (مالک بنانا) کی شرط کے بارے میں امام کاسانی (المتوفی: 587ھ) لکھتے ہیں: "أمر اللہ تعالی الملاک بإیتاء الزکاۃ لقولہ عز و جل: وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ والإیتاء ھو التملیک ولذا سمی اللہ تعالی الزکاۃ صدقۃ بقولہ عز وجل: اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ والتصدق تملیک".ترجمہ: اللہ عزوجل نے مال والوں کو ایتاءِزکوۃ (یعنی زکوۃ دینے) کا حکم دیا ہے، چنانچہ ارشاد فرماتا ہے: اور زکوۃ دو۔ اور ایتاء کا مطلب مالک کر دینا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ عزوجل نے زکوۃ کو صدقہ کہا ہے، چنانچہ فرماتا ہے: صدقات فقراء کیلئے ہیں۔ اور تصدّق (صدقہ کرنا) تملیک کو کہتے ہیں۔ (بدائع الصنائع، کتاب الزکوۃ، 2/39، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
قرض معافی سے زکوۃ ادا نہ ہونے کی علت میں علامہ برہان الدین محمود بن احمد (المتوفی: 616ھ) رقم فرماتے ہیں: "لأن النصاب إذا كان عينًا، فالواجب تمليك جزء منه من كل وجه، وهبة الدين لمن عليه تمليك من وجه، إسقاط من وجه، ولهذا يصح من غير قبول وإنما يصح من حيث أنه إسقاط، والتمليك من وجه دون التمليك من كل وجه، والشيء لا يتأدى بما دونه".ترجمہ: کیونکہ نصاب جب عین ہو تو زکوۃ کی ادائیگی کیلئے اس کے جز کی ہر اعتبار سے تملیک واجب ہے۔ جبکہ قرض معاف کرنا ایک اعتبار سے اسقاط (حق ساقط کرنا) اور ایک اعتبار سے تملیک ہے، اسی وجہ سے قبول کیے بغیر بھی درست ہوجاتا ہے۔ اور تملیک من وجہ کا درجہ تملیک من کلّ وجہ کے درجے سے کم ہے۔ اور شے اپنے سے کم درجہ سے ادا نہیں ہوتی۔ (المحیط البرھانی، 2/278، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
زکوۃ کی ادائیگی کے شرعی حیلے کے متعلق علامہ علاؤالدین حصکفی (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: "وحيلة الجواز ان يعطي مديونه الفقير زكاته ثم ياخذها عن دينه".ترجمہ: اس کے جواز کا حیلہ یہ ہے کہ وہ اس قرض دار فقیر کو اپنی زکوۃ کی رقم دے، پھر اسی رقم کو اپنے قرض کے طور پر واپس لے لے۔ (الدر المختار، کتاب الزکاۃ، 3/226، دار الفکر)
قرض کی زکوۃ میں ادائیگی کے طریقے پر مفتی امجد علی اعظمی (المتوفی: 1367ھ) لکھتے ہیں: ’’فقیر پر قرض ہے، اس قرض کو اپنے مال کی زکاۃ میں دینا چاہتا ہے یعنی یہ چاہتا ہے کہ معاف کردے اور وہ میرے مال کی زکاۃ ہو جائے، یہ نہیں ہوسکتا، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ اُسے زکاۃ کا مال دے اور اپنے آتے ہوئے میں لے لے، اگر وہ دینے سے انکار کرے، تو ہاتھ پکڑ کر چھین سکتا ہے‘‘۔ (بہار شریعت، 1/890، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:28 رمضان المبارک 1447ھ/18 مارچ 2026ء