سوال
سید واحد علی ولد سید امجد علی کا انتقال 28 نومبر 2012 کو ہوا، جس وقت ان کے شرعی ورثاء میں 3بیٹے (سید شاہد علی، سید خالد علی، سید مصور سجاد علی) اور 4بیٹیاں (سیدہ خالدہ خاتون، سیدہ شاکرہ، سیدہ صابرہ، سیدہ طیبہ) حیات تھے۔ مرحوم کے ترکہ کی ابتدائی مالیت 40 لاکھ روپے لگی تھی، جس کی بنیاد پر بڑے بیٹے سید شاہد علی نے یہ ترکہ خرید لیا تھا اور اپنی چاروں بہنوں کو ان کا شرعی حصہ ادا کر دیا تھا، تاہم باقی دو بھائیوں (سید خالد علی اور سید مصور سجاد علی) کا حصہ تاحال ادا کرنا باقی تھا۔
جائیداد کی مکمل تقسیم اور ادائیگی سے قبل ہی دو بیٹوں کا انتقال ہو گیا: پہلے بیٹے سید خالد علی (غیر شادی شدہ) کا انتقال 17 دسمبر 2024 کو ہوا، جبکہ دوسرے بیٹے سید شاہد علی (شادی شدہ) کا انتقال 23 دسمبر 2024 کو ہوا۔ مرحوم سید شاہد علی کے پسماندگان میں ان کی بیوہ (سعیدہ شاہد)، 2بیٹے (سید فیضان علی، سید ایاز علی) اور 4بیٹیاں (افشاں، بینش، کرن، روباء) شامل ہیں۔
اب ترکہ کی نئی مالیت 1 کروڑ 8 لاکھ روپے طے پائی ہے۔ سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا صورتِ حال میں ترکہ کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ اور موجودہ مالیت کے حساب سے ہر وارث کا حصہ کتنے روپے بنے گا؟ ارشاد فرمائیے گا۔
نوٹ: یہ سوال سائل کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اور وفیات کی ترتیب کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے، تاکہ سمجھنا سمجھانا آسان ہو ۔
سائل: سید ایاز علی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
چونکہ 2012 میں 40 لاکھ روپے کی بنیاد پر بیع (خرید و فروخت) مکمل ہو چکی تھی، اس لیے سید شاہد علی مرحوم اس پوری جائداد کے تنہا مالک قرار پائے اور قیمت میں ہونے والا حالیہ اضافہ (1 کروڑ 8 لاکھ روپے) انہی کے ورثاء کا حق ہے؛ لہٰذا اب اس ترکے سے پہلے خالد علی اور مصور سجاد علی کا 2012 کی طے شدہ قیمت کے مطابق بقیہ قرض (8 لاکھ فی کس، مجموعی 16 لاکھ روپے) ادا کیا جائے گا (جس میں سے خالد علی کا حصہ ان کے شرعی ورثاء یعنی بھائی مصور اور چاروں بہنوں میں تقسیم ہوگا)، اور بقیہ تمام رقم (92 لاکھ روپے) صرف شاہد علی کے اپنے ورثاء (بیوہ، 2 بیٹے اور 4 بیٹیاں) میں شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگی کیونکہ بیٹوں کی موجودگی میں بھائی بہن محروم ہوں گے۔
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ؛
جب شاہد علی نے 2012 میں اپنے تمام بھائیوں اور بہنوں سے ان کے شرعی حصے خرید لئے اور فریقین اس پر راضی ہو گئے، تو وہ اس پوری جائداد کے اکیلے مالک بن گئے ۔ شرعی قاعدہ یہ ہے کہ بیع ایجاب و قبول سے تمام ہو جاتی ہے اور مبیع (جائداد) مشتری کی ملک میں داخل ہو جاتی ہے۔ زرِ ثمن (قیمت) کی ادائیگی نہ ہونا ملکیت کے ثبوت یا بیع کے نفاذ میں مانع نہیں ، بلکہ وہ رقم شاہد علی کے ذمہ ’’دَین‘‘ (قرض) قرار پائی ۔
چونکہ شاہد علی 2012 میں پوری جائداد کے مالک بن چکے تھے، اس لئے جائداد کی قیمت میں ہونے والا حالیہ اضافہ (40 لاکھ سے 1 کروڑ 8 لاکھ تک) خالص شاہد علی کے ورثاء کا حق ہے۔ مصور اور خالد کے ورثاء کو جائداد کی موجودہ قیمت سے حصہ نہیں ملے گا، بلکہ انہیں 2012 میں طے شدہ قیمت کے مطابق بقیہ قرض (دَین) وصول کرنے کا حق ہوگا۔
2012 کی مالیت (40 لاکھ) کے حساب سے کل 10 حصے بنتے تھے (4 لاکھ فی حصہ)۔ شاہد علی نے اپنے 2 حصوں کے علاوہ 8 حصے خریدے تھے۔ یعنی چار بہنوں کا حصہ (4 حصے = 16 لاکھ) جو کہ ادا کر دیا گیا، خالد علی کا حصہ (2 حصے = 8 لاکھ) جو شاہد علی کے ذمہ قرض تھا اور مصور سجاد کا حصہ (2 حصے = 8 لاکھ) جو شاہد علی کے ذمہ قرض تھا۔یوں مجموعی بقیہ قرض 16 لاکھ روپے ہوئے۔
خالد علی چونکہ غیر شادی شدہ تھے اور ان کے والدین بھی موجود نہ تھے، اس لئے ان کا ترکہ (یعنی شاہد علی کے ذمہ ان کا 8 لاکھ روپے قرض) ان کے بھائی (مصور) اور 4 بہنوں میں "للذکر مثل حظ الانثیین" (مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر) تقسیم ہوگا۔ اس 8 لاکھ کے 6 حصے ہوں گے، جس میں سے سید مصور سجاد 2 حصے پائیں گےاور چار بہنیں ایک ایک حصہ پائیں گی۔
اب یہاں واحد علی کا ترکہ چونکہ شاہد علی کے خریدنے سے ختم ہوگیا لیکن خود شاہد علی کا انتقال تو ان کے ترکے کی تقسیم سے پہلے 16 لاکھ روپے قرض ادا کیا جائے گا،یعنی 8 لاکھ مصورکے اور بقیہ 8 لاکھ خالد کے ورثاء (مصور، خالدہ، شاکرہ، صابرہ، طیبہ) میں بقدرِ شرعی حصص (6حصوں میں سے مصور کو 2 بقیہ بہنوں کو فی کس 1 حصہ) تقسیم ہونگے۔ باقی92 لاکھ روپے ان کے صرف بیوہ اور بچوں میں تقسیم ہوں گے، کیونکہ قریبی وارث بیٹے کی موجودگی میں دور کے وارث بھائی بہن محروم ہوجاتے ہیں۔
شاہد علی کے ترکے کے کل 64حصے کئے جائیں گےجن میں سے مرحوم کی زوجہ کو 8حصے، ہر ایک بیٹے کو 14اور ہر ایک بیٹی کو علیحدہ 7حصے تقسیم ہونگے۔ترکے کی حسابی تقسیم کا طریقہ یہ ہوگا کہ ترکے کی کل رقم کو مبلغ یعنی 64سے تقسیم Divide کریں جو جواب آئے اسے محفوظ کرلیں اور اسے ہر ایک وارث کے حصے پر ضرب Multiplyدے دیں، حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
یاد رہے کہ ترکے کی تقسیم کے وقت ہر چیز کی تقسیم کا حکم الگ الگ بیان نہیں کیا جاتا، بلکہ منقولہ و غیر منقولہ ترکے (مثلاً: دکان، مکان، پلاٹ، زمین، زیورات، بینک اکاؤنٹ وغیرہ) میں سے ہر چیز کو فروخت کرکے یا اس کی موجودہ قیمت لگا کر مجموعی مالیت نکالی جاتی ہے اور پھر اس سب مال کی شریعت کے مطابق تقسیم ہوتی ہے۔
دلائل و جزئیات:
السراجی فی المیراث میں ہے : "تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ : الاول یبدا بتکفینہ وتجھیزہ من غیر تبذیر ولا تقتیر، ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ، ثم تنفذ وصایا ہ من ثلث ما بقی بعد الدین ، ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ".ترجمہ:میت کے ترکہ کے ساتھ ترتیب وار چار حقوق متعلق ہیں: مناسب تجہیز و تکفین سے ابتدا کی جائے گی ، پھر بقیہ مال سے اس کے قرضے ادا کئے جائیں گے ، قرضوں کی ادائیگی کےبعد بقیہ مال کے ثلث سے وصیت کو نافذ کیا جائے گا ،پھر باقی ترکہ ورثاء کےدرمیان تقسیم کیا جائے گا۔ (السراجیۃ مع القمریۃ،ص:11/12،مکتبۃ المدینہ العلمیۃ کراچی)
قرآنِ مجید میں زوجہ کے حصے کے متعلق اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.ترجمہ:تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔(النساء:12)
بیٹے بیٹیوں کے حصوں سے متعلق ارشاد باری تعالی ہے:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ.ترجمہ: اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : 11)
بیٹوں اور پوتوں کی موجودگی میں میت کے بھائی بہن محروم ہوجاتے ہیں، الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "ويسقط الإخوة والأخوات بالابن وابن الابن وإن سفل وبالأب بالاتفاق".ترجمہ: میت کے تمام بھائی اور بہنیں بیٹے کی موجودگی میں، پوتے کی موجودگی میں چاہے وہ کتنا ہی نیچے کی نسل سے ہو، اور باپ کی موجودگی میں بالاتفاق وراثت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ (الفتاوی الھندیۃ ،کتاب الفرائض،الباب الثانی ،6/449، دار الفکر)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:27 رمضان المبارک 1447ھ/17 مارچ 2026ء