چار بطن مناسخہ کی وراثت
    تاریخ: 10 اپریل، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 1121

    سوال

    مرحوم محمد وارث ولد عبدالستار نے اپنے ترکہ میں تقریباً 20 ایکڑ زرعی اراضی چھوڑی ہے۔ مرحوم کی وفات کے وقت ان کے شرعی ورثاء میں دو بیٹے (جمیل احمد اور ہدایت اللہ) اور دو بیٹیاں (مختیار بیگم اور مہناز بی بی) شامل تھے۔ مرحوم محمد وارث کی وفات کے بعد اب تک جائیداد تقسیم نہیں ہو سکی، اور اس دوران ان کے چار بچوں میں سے تین کی وفات ہو چکی ہے۔سب سے پہلے ہدایت اللہ (مرحوم بیٹا): ان کا انتقال بھی والد کے بعد ہوا، ان کی اہلیہ ان سے پہلے وفات پا چکی تھیں، ورثاء میں صرف دو بیٹیاں (ریحانہ بی بی اور روبینہ بی بی) موجود ہیں۔دوسرے نمبر پر مہناز بی بی (مرحومہ بیٹی): ان کا انتقال بھی والد کے بعد ہوا، ان کے ورثاء میں شوہر، پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔آخر میں جمیل احمد (مرحوم بیٹا): ان کا انتقال اپنے والد محمد وارث کے بعد ہوا، ان کے پسماندگان میں ایک بیوی، دو بیٹے اور چھ بیٹیاں شامل ہیں۔البتہ مختیار بیگم (حیات بیٹی): یہ محمد وارث کی اکلوتی اولاد ہیں جو اس وقت باحیات ہیں، ان کا اپنا خاندان (شوہر اور اولاد) بھی موجود ہے۔براہِ کرم شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ محمد وارث کی چھوڑی ہوئی 20 ایکڑ اراضی ان چاروں بچوں (اور ان کے آگے ورثاء) میں کس تناسب سے تقسیم ہوگی؟ نیز ہر ایک وارث کا حصہ واضح فرما دیں تاکہ وراثت کی شرعی تقسیم مکمل ہو سکے۔

    نوٹ: مرحوم کی بیوی اور والدین پہلے انتقال کرچکے تھے۔

    سائل:اسلم قریشی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر سائل اپنے بیان میں سچا ہے اور وہی ورثاء ہیں جو سوال میں مذکور ہیں تومرحوم کے کفن دفن کے اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لئے وصیت کی ہو تو اس کو مرحوم کے تہائی مال سے پورا کرنے کے بعد تمام ترکہ کے کل 18720 حصے کئے جائیں گےجن میں سے مختیار کو 3640 حصے، ریحانہ کو 2080 ، روبینہ کو 2080، مہناز کے شوہر کو 910، مہناز کے 5 بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 420، مہناز کی 3 بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 210، جمیل احمد کی بیوی کو 910، جمیل احمد کے دو بیٹوں میں سے ہر ایک کو 1274 اور جمیل احمد کی 6 بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 637 حصے تقسیم ہونگے۔ترکے کی حسابی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ ترکے کی کل رقم کو مبلغ یعنی 18720 سے تقسیم Divide کریں جو جواب آئے اسے محفوظ کرلیں اور اسے ہر ایک وارث کے حصے پر ضرب Multiplyدے دیں، حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    یاد رہے کہ ترکے کی تقسیم کے وقت ہر چیز کی تقسیم کا حکم الگ الگ بیان نہیں کیا جاتا، بلکہ منقولہ و غیر منقولہ ترکے (مثلاً: دکان، مکان، پلاٹ، زمین، زیورات، بینک اکاؤنٹ وغیرہ) میں سے ہر چیز کو فروخت کرکے یا اس کی موجودہ قیمت لگا کر مجموعی مالیت نکالی جاتی ہے اور پھر اس سب مال کی شریعت کے مطابق تقسیم ہوتی ہے۔

    نوٹ:اس فتویٰ کی مزید تفصیل PDF میں موجود ہے۔