غیر منقسم جائیداد کا ہبہ اور مہر مسمی کی قیمت
    تاریخ: 9 اپریل، 2026
    مشاہدات: 14
    حوالہ: 1112

    سوال

    ہمارا آبائی گاؤں تحصیل ٹیکسلا، موضع گوہر، ضلع راولپنڈی ہے۔ اس گاؤں میں والد صاحب (غلام حیدر) نے 1965ء کی دہائی میں ایک مکان بنایا تھا، جس میں باہر سڑک کی طرف چار چھوٹی دکانیں ہیں اور ان کے پیچھے گھر ہے۔ اس کا کل رقبہ تقریباً 14 مرلے کے قریب ہے، جس میں دو کمرے، برآمدہ اور دوسری طرف بھی اسی طرح کی بناوٹ ہے، جبکہ درمیان میں ایک مشترکہ صحن ہے۔ والد صاحب نے اپنی زندگی میں کہا تھا کہ ’’یہ مکان میرے دونوں بیٹوں کا ہے اور دو دکانیں ایک ایک دونوں بیٹوں کی ہیں‘‘۔

    چھوٹے بیٹے کی شادی کے وقت لڑکی والوں کا مطالبہ تھا کہ یہ مکان ہماری بیٹی کے نام حقِ مہر میں نکاح نامے پر درج کیا جائے۔ والد صاحب نے وضاحت کی کہ یہ مکان میں نے دونوں بیٹوں کے لیے بنایا ہے، جس پر انہوں نے کہا کہ چھوٹے بیٹے کا جو آدھا حصہ بنتا ہے وہ ہماری بیٹی کے نام کر دیا جائے۔ چنانچہ والد صاحب نے نکاح نامے میں اس کا آدھا حصہ لکھوا دیا۔ اس وقت بڑا بیٹا سعودیہ میں تھا، جسے والد صاحب نے خط لکھ کر مطلع کیا کہ مکان کا آدھا حصہ میں نے چھوٹے بیٹے کی بیوی کے نام کر دیا ہے اور باقی آدھا تمہارا ہے۔ اس خط کی فوٹو کاپی اور نکاح نامے کی نقل بھی ساتھ منسلک ہے۔ یہ مکان اس وقت بوسیدہ حالت میں ہے اور تقریباً رہائش کے قابل نہیں رہا۔ ورثاء میں چار بہنیں اور دو بھائی ہیں جو سب الگ الگ رہتے ہیں ۔ برائے مہربانی شریعت کی رو سے اس تحریر، خط اور نکاح نامے کے متعلق فیصلہ صادر فرمائیں۔

    نوٹ: سائل کے بیان کے مطابق ، والد (غلام حیدر) نے مکان و دوکان بیٹوں کے نام زبانی کی تھیں اور مکان میں خود بھی رہائش پذیر رہے، نیز اس علاقے میں باقاعدہ کوئی رجسٹری کا نظام بھی نہیں۔ مزید یہ کہ والد (غلام حیدر)ان کی اولاد کے ساتھ ان کی بیوی بھی حیات تھیں جو کہ بعد میں انتقال کرگئیں جن کی ورثاء یہی 2 بیٹے اور 4 بیٹیاں تھیں۔

    سائل: محمد نعیم، بلال کالونی، کورنگی، کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    والد صاحب کا اپنی زندگی میں مکان بیٹوں کے نام کرنے کا زبانی قول یا خط لکھنا ہبہ (تحفہ) تھا، جو قبضہ و تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے ناتمام رہا۔ اسی طرح نکاح نامے میں آدھا مکان مہر میں لکھوانا بھی قبضہ نہ ہونے کی وجہ سے باطل ہو گیا، لہٰذا یہ تمام جائیداد والد کا ترکہ ہے جس کے کل 8 حصے ہوں گے(اگر صرف وہی وارث ہیں جو بیان ہوئے)، جن میں سے ہر بیٹے کو 2 حصے اور ہر بیٹی کو 1 حصہ ملے گا۔ جہاں تک بہو کے مہر کا تعلق ہے، تو چونکہ مہر میں غیر کی ملکیت مقرر کی گئی تھی، اس لیے اگر اس کا اصل مالک اسے دینے پر راضی نہ ہو، تو بہو اس آدھے گھر کی قیمت کی حق دار ہے، جو اس کے شوہر کے ذمہ قرض ہے۔ یاد رہے کہ اپنی زندگی میں دیگر وارثین (بیٹیوں) کو نظر انداز کر کے صرف بیٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر تحفہ دینا شرعاً سخت معیوب اور گناہ کا باعث ہے۔

    تفصیلِ مسئلہ:

    مذکورہ معاملے کی شرعی تفصیل اور وجوہات درج ذیل ہیں:

    (۱) ہبہ (تحفہ) کے لیے قبضہ کی شرط: زندگی میں کسی کو جائیداد دینا ہبہ کہلاتا ہے۔ ہبہ کے مکمل ہونے کے لیے قبضہ لازمی شرط ہے۔ جب تک والد اپنی زندگی میں مکان خالی کر کے اور تقسیم کر کے بیٹوں کے حوالے نہ کر دیتے، وہ ان کی ملکیت نہیں بن سکتا تھاکہ شے موہوب کا واہب کی ملکیت میں مشغول ہونا ہبہ کو مانع ہے۔ محض زبانی کہہ دینا یا خط لکھ دینا ملکیت منتقل کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ چونکہ والد تاحیات وہاں مقیم رہے، اس لیے وہ جائیداد بدستور والد ہی کی ملکیت رہی اور ان کی وفات کے بعد وراثت بن گئی۔

    (۲) مشاع جائیداد کا ہبہ: ایسی جائیداد جو تقسیم کے قابل ہو (جیسے 14 مرلے کا مکان اور دوکانیں)، اس کا کوئی غیر منقسم حصہ (مثلاً آدھا یا چوتھائی) ہبہ کرنا شرعاً درست نہیں ہوتا جب تک اسے باقاعدہ تقسیم کر کے الگ نہ کر دیا جائے۔ والد کا یہ کہنا کہ ’’آدھا تمہارا ہے‘‘ جبکہ پورا مکان ایک ہی یونٹ کے طور پر موجود تھا، شرعی اصطلاح میں ہبہ مشاع ہے جو کہ ناتمام رہتا ہے۔

    (۳) مہر کی قیمت کی طرف رجوع کی وجہ: شرعی اصول یہ ہے کہ جب نکاح میں مہر کے طور پر کوئی ایسی متعین چیز (جیسے مخصوص مکان یا زمین) طے کی جائے جو شوہر کی ملکیت نہ ہو بلکہ کسی غیر کی ملکیت ہو، تو ایسی صورت میں مہر کی یہ تعیین سرے سے باطل نہیں ہوتی بلکہ شرعاً صحیح قرار پاتی ہے۔ چونکہ مہر کا ذکر درست ہے، اس لیے یہ معاملہ مہرِ مثل کی طرف رجوع نہیں کرے گا، بلکہ حکمِ شرعی یہ ہوگا کہ اگر اس چیز کا اصل مالک اسے دینے پر راضی نہ ہو تو اس متعین کردہ چیز کی قیمت بیوی کا حق قرار پائے گی۔ لہٰذا، یہاں پوچھی گئی صورت میں مکان کا قبضہ نہ ملنے کی وجہ سے مہر باطل نہیں ہوا، بلکہ اب اس آدھے مکان کی مارکیٹ ویلیو شوہر کے ذمہ بطور قرض واجب الادا ہے۔

    (۴) تقسیمِ وراثت کا شرعی طریقہ: چونکہ والد کے تصرفات شرعی طور پر مکمل نہیں ہوئے، اس لیے اب یہ پوری جائیداد تمام ورثاء میں تقسیم ہوگی۔ تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے کفن دفن کے اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لئے وصیت کی ہو تو اس کو مرحوم کے تہائی مال سے پورا کرنے کے بعد تمام ترکہ کے کل 8حصے کئے جائیں گےجن میں سے مرحوم کے 2 بیٹیوں میں سے ہر ایک 2 حصے اور 4 بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 1 حصہ تقسیم ہوگا۔اور ترکے کی حسابی تقسیم کا طریقہ یہ ہوگا کہ ترکے کی کل رقم کو مبلغ یعنی 8 سے تقسیم Divide کریں جو جواب آئے اسے محفوظ کرلیں اور اسے ہر ایک وارث کے حصے پر ضرب Multiplyدے دیں، حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔یاد رہے کہ ترکے کی تقسیم کے وقت ہر چیز کی تقسیم کا حکم الگ الگ بیان نہیں کیا جاتا، بلکہ منقولہ و غیر منقولہ ترکے (مثلاً: دکان، مکان، پلاٹ، زمین، زیورات، بینک اکاؤنٹ وغیرہ) میں سے ہر چیز کو فروخت کرکے یا اس کی موجودہ قیمت لگا کر مجموعی مالیت نکالی جاتی ہے اور پھر اس سب مال کی شریعت کے مطابق تقسیم ہوتی ہے۔

    دلائل و جزئیات:

    السراجی فی المیراث میں ہے:"تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ : الاول یبدا بتکفینہ وتجھیزہ من غیر تبذیر ولا تقتیر، ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ، ثم تنفذ وصایا ہ من ثلث ما بقی بعد الدین ، ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ".ترجمہ:میت کے ترکہ کے ساتھ ترتیب وار چار حقوق متعلق ہیں: مناسب تجہیز و تکفین سے ابتدا کی جائے گی ، پھر بقیہ مال سے اس کے قرضے ادا کئے جائیں گے ، قرضوں کی ادائیگی کےبعد بقیہ مال کے ثلث سے وصیت کو نافذ کیا جائے گا ،پھر باقی ترکہ ورثاء کےدرمیان تقسیم کیا جائے گا۔( السراجیۃ مع القمریۃ،ص:11/12،مکتبۃ المدینہ العلمیۃ کراچی)

    بیٹے بیٹیوں کے حصے کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ.ترجمہ: اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : 11)

    بیٹیوں یا بہنوں کو حصہ نہ دینا زمانہ جاہلیت کا دستور ہے،چنانچہ سورۃ الفجر میں ارشاد ہوا:وَتَأْکُلُونَ التُّرَاثَ أَکْلًا لَمًّا وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا.ترجمہ: اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو۔(الفجر :19-20)

    میراث کے احکام کو تفصیلاً بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:تِلْکَ حُدُوْدُ اللہِ وَمَنْ یُّطِعِ اللہَ وَرَسُوْلَہ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا وَذٰلِکَ الْفَوْزُالْعَظِیْمُ وَمَنْ یَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہُ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہُ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْہَا وَلَہُ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ.ترجمہ: یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرے تو اللہ اسے جنتوں میں داخل فرمائے گا، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ہمیشہ ان میں رہیں گےاور یہی بڑی کامیابی ہےاور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی (تمام) حدوں سے گزر جائے ،تو اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا،جس میں (وہ) ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔(النساء:13-14)

    کسی وارث کو میراث نہ دینے کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" مَنْ فَرَّ مِنْ مِيرَاثِ وَارِثِهِ، قَطَعَ اللَّهُ مِيرَاثَهُ مِنَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".ترجمہ: جو وارث کو میراث دینے سے بھاگے ،اللہ قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث قطع فرما دے گا۔(سنن ابن ماجہ، کتاب الوصایا،باب الحیف فی الوصیۃ،2/902،رقم:2703، دار إحياء الكتب العربية)‎ (شعب الایمان،10/340، رقم:7594، مکتبۃ الرشد)

    میراث میں بہنوں کو حصہ نہ دینے کے متعلق امام اہلسنت رحمہ اللہ نے فرمایا:”لڑکیوں کو حصہ نہ دینا حرامِ قطعی ہے اور قرآن مجید کی صریح مخالفت ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ،26/314، رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

    حاشیہ قرۃ عیون الاخیار میں ہے:"الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط".ترجمہ:وراثت جبری ہے یہ کسی کے ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوتی۔(حاشیہ قرۃ عیون الاخیار تکملۃ رد المحتار ، کتاب الدعوی ،باب التحالف،11/678،دار عالم الکتب الریاض)

    ترکہ کی تعریف علامہ علی بن محمد الشریف الجرجانی (المتوفی:816ھ) نے یوں بیان فرمائی:"ما ترك الإنسان صافيًا خاليًا عن حق الغيربعينه".ترجمہ:ترکہ وہ مال کہلاتا ہے جو انسان چھوڑ کرمرتا ہے اور اسکے ساتھ کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا۔(التعریفات،باب التاء،1/56،دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    ورثاء اسی چیز کےمستحق ہوتے ہیں، جو مرنے والے کی ملک ہو، چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”ورثاء اس چیز کے مستحق ہوتے ہیں، جو مورث کی ملک اوراس کاترکہ ہو‘‘۔ (فتاوی رضویہ،17/306،رضافاؤنڈیشن،لاھور)

    اسی بارےمیں ایک اورمقام پرارشادفرماتےہیں:”ارث متعلق نہ شود جز بترکہ وترکہ نیست جزآنکہ ہنگام موت مورث درملک اوست.یعنی میراث کاتعلق ترکہ کے ماسوا کے ساتھ نہیں ہوتا اورترکہ سوائے اس شے کے نہیں جو مورث کی موت کے وقت اس کی ملکیت میں ہو۔(فتاوی رضویہ،26/109،رضافاؤنڈیشن،لاھور)

    علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں: "شَرَائِطُ صِحَّتِهَا فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ... وَتَتِمُّ الْهِبَةُ بِالْقَبْضِ الْكَامِلِ". ترجمہ: ہبہ کی جانے والی چیز میں ہبہ کی شرائط میں سے ہے کہ اس پر قبضہ کروایا جائے، مشترک نہ ہو، دوسری چیزوں سے جدا(واضح ) ہواور ہبہ کرنے والے کے اپنے تصرف میں مشغول نہ ہو... نیز فرمایا: اور قبضہ کاملہ کے ساتھ ہبہ تمام ہو جاتا ہے۔ (الدر المختار،کتاب الہبۃ، 5/688-690،دار الفکر)

    مبسوط للسرخسی میں حدیث پاک مذکورہے : "«لَا تَجُوزُ الْهِبَةُ إلَّا مَقْبُوضَةً» مَعْنَاهُ: لَا يَثْبُتُ الْحُكْمُ، وَهُوَ الْمِلْكُ".ترجمہ: ہبہ قبضہ کے بغیرجائزنہیں ہے،(علامہ سرخسی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں) اس کامعنی یہ ہے کہ اس (ہبہ)کاحکم ثابت نہیں ہوگااوروہ ملک ہے (یعنی قبضہ کے بغیرموہوب لہ کے لئے ملک ثابت نہیں ہوگی بلکہ وہ ہبہ کرنے والے کی ملک پر باقی ہے)۔(المبسوط للسرخسی ،12/56،رشیدیہ کوئٹہ)

    الفتاوی الہندیۃ میں ہے:" وَمِنْهَا أَنْ يَكُونَ الْمَوْهُوبُ مَقْبُوضًا حَتَّى لَا يَثْبُتَ الْمِلْكُ لِلْمَوْهُوبِ لَهُ قَبْلَ الْقَبْضِ". ترجمہ: ہبہ کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ ہبہ کی ہوئی چیز‘ جس کوہبہ کی ہے اس کے قبضے میں چلی جائے، چنانچہ قبضے سے پہلے موہوب لہٗ کی ملکیت ثابت نہیں ہوسکتی۔ (الفتاوی الہندیۃ،کتاب الہبۃ،الباب الاول،4/374،دار الفکر)

    قبضہ کاملہ کے متعلق امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’ قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائیداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام۔ اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے، یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے، یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں‘‘۔(فتاویٰ رضویہ،کتاب الہبۃ، 19/ 219، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    غیر کی ملکیت کو مہر مقرر کرنے کے متعلق الفتاوی الہندیۃ میں: "وإذا تزوجها على هذا العبد وهو ملك الغير أو على هذه الدار وهي ملك الغير فالنكاح جائز والتسمية صحيحة فبعد ذلك ينظر إن أجاز صاحب الدار وصاحب العبد ذلك فلها عين المسمى، وإن لم يجز المستحق لا يبطل النكاح ولا التسمية حتى لا يجب مهر المثل وإنما تجب قيمة المسمى كذا في المحيط".ترجمہ: جس کسی نے ایک معین غلام یا ایک مکان بطور مہر پر نکاح کیا جبکہ وہ غلام اور مکان کسی غیر کی ملکیت ہوں تو یہ نکاح جائز ہوگا، اور مہر کے طور پر ان کا ذکر صحیح ہے، بعد میں دیکھا جائے کہ اس غلام یا مکان کا مالک دینے پر تیار ہے تو وہی عبد یا مکان مذکورہ دیا جائے گا اور مالک دینے پر تیار نہ ہو تو پھر بھی نکاح اور مہر باطل نہ ہوگا حتی کہ مہر مثل واجب نہ ہوگا بلکہ اب اس عبد یا مکان کی قیمت دی جائے۔ محیط میں یونہی ہے۔ (الفتاوی الہندیۃ، کتاب النکاح، الباب السابع فی المہر، الفصل الثانی، 1/303، دار الفکر) ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:22رمضان المبارک 1447ھ/12مارچ 2026ء