ٹیسٹ ٹیوب کا شرعی حکم
    تاریخ: 29 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 462

    سوال

    میری شادی کو 6 سال ہو گئے ہیں لیکن میری کوئی اولاد نہیں ہے ٹیسٹ وغیرہ بھی کروایا ہے سب clearہے پھر بھی ہماری کوئی اولاد نہیں ہے ،بہت پریشان ہوں ۔بعض دوستوں نے بتایا کہ ٹیسٹ ٹیوب کروالو،تو کیا شرعا اس کی اجازت ہے یا نہیں ؟

    سائل :اطہر شاہ ،کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    آج کل میڈیکل سائنس کی ترقی کے نتیجے میں بے اولادی کے علاج کی ایک جدید شکل آئی وی ایف(in vitro fertilization=ivf)ہےاور اس کو ٹیسٹ ٹیوب بھی کہا جا تا ہے ، اس سے مراد تولید کے مصنوعی ذرائع ہیں۔ فی زمانہ اس کی درج ذیل صورتیں رائج ہیں:

    1:نطفہ (sperms)شوہرکاہو اور کسی ایسی عورت کا بیضہ(eggs) لیا جائے، جو اسکی بیوی نہ ہو پھر یہ لقیحہ(آمیزش)اس شوہر کی بیوی کے رحم میں رکھا جائے۔

    2: نطفہ (sperms)شوہر کے سوا کسی اور کا ہو اور بیضہ بیوی کا ہو اور اسی کے رحم میں رکھا جائے۔

    3:شوہر کا نطفہ اور بیوی کا بیضہ لے کر بیرونی طور پر ان کی تلقیہ کی جائے اور پھر یہ لقیحہ دوسری عورت کے رحم میں رکھا جائے، جسے مستعار رحم کہا جاتا ہے۔

    4: کسی اجنبی شخص کے نطفہ اور اجنبی عورت کے بیضے کے درمیان بیرونی طورپر تلقیہ کی جائے اور لقیحہ بیوی کے رحم میں رکھا جائے۔

    5:شوہر کا نطفہ اور بیوی کا بیضہ لے کر بیرونی طور پر تلقیہ کی جائے پھر لقیحے کو اسی شوہر کی دوسری بیوی کے رحم میں رکھا جائے۔

    6:نطفہ شوہر کا اور بیضہ اس کی بیوی کا ہو، ان کی تلقیہ بیرونی طور پر کی جائے اور پھر شوہر کی اسی بیوی کے رحم میں رکھا جائے جس کا بیضہ لیاگیا ۔

    7:شوہر کا نطفہ لے کر اس کی بیوی کے مہبل یا رحم میں کسی مناسب جگہ پر طبی آلے کی مدد سے رکھ دیا جاتا ہے، پھر اسی جگہ بار آوری کی جاتی ہے۔

    مذکورہ بالا صورتوں میں سے پہلی پانچ صورتوں میں تو غیر کے مادے کا باہم اختلاط یا اجنبیہ کے رحم سے استفادہ ہوتا ہے، جو بہ حکمِ زنا ہونے کی وجہ سے قطعاً ناجائز ہے،البتہ آخرالذکر دو صورتوں میں چوں کہ غیرکے مادے سے استفادہ نہیں ہوتا ہےاس لیئے ان کا حکم ذیل میں درج ہے۔

    شریعت کے اصول اور فقہائے کرام کے کلام کی رو سے یہ صورتیں بھی دور حاضر کے مروجہ طریقوں میں چند خرابیوں کی وجہ سے جائز نہیں ہیں۔ ایک تواس لیے کہ ان طریقوں کو اپنانے میں خاتون کا سترِ غلیظ یعنی ناف سے لے کر گھٹنے تک کا حصہ اجنبی ڈاکٹروں بلکہ بسا اوقات معاونین اور ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کے سامنے کھولنا تقریباً لازمی ہے، جب کہ عورت کے لیے ستر کا یہ حصہ نہ مرد کے سامنے کھولنا جائزہے، نہ عورت کے سامنے۔ اور جو عورتیں ان طریقوں کو اپناتی ہیں ان کوکوئی ایسی جسمانی تکلیف نہیں ہوتی،بلکہ یہ تو محض جلبِ منفعت اور حصولِ اولاد کے لیے کرتی ہیں، ارتکابِ حرام کی گنجائش ضرورتِ شدیدہ کے وقت ہوتی ہے، نہ کہ محض حصول منفعت کے لیے۔

    دوسری خرابی یہ ہے کہ اختلاطِ نسب (جس کی شریعت نے بہت تاکید کی ہے)کا اندیشہ ہے، اس لیے کہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی سے متعلق جانکاری رکھنے والوں کی تحریریں پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس عمل کو انجام دینے والے ڈاکٹرز، عورت کا بیضةُ المنی (eggs)اور مردوں کی منی لے کر باہم ملانے کے بعد ایک ٹیوب میں آبیاری کرتے ہیں، جس کی مدت کم وبیش دو یا چار دن ہے، پھر عورت کے رحم میں مناسب جگہ پر اس کو پیوست کرتے ہیں اور یہ کام انتہائی مشکل ہوتا ہے، اس لیے کہ لقیحہ(آمیزہ)رحم میں بہ آسانی چپکتا نہیں ہے بلکہ بسا اوقات کئی کئی بار یہ کوشش ڈاکٹروں کو کرنی پڑتی ہیں،اس لیے عموماً ڈاکٹروں کا طرزِ عمل یہ ہے کہ وہ عورت سے حاصل کردہ بیضةُ المنی (جو بے شمار جراثیم پر مشتمل ہوتا ہے) کی مختلف ٹیوب میں آبیاری کرتےہیں۔اب اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ اگر یہ آمیزے بچ جائیں تو ڈاکٹر انھیں ضائع کردیں گے؟جب کہ فی زمانہ (sperms)شوہرکامنی عورت کا بیضہ(eggs)کے باقاعدہ بینک بن چکے ہیں جہاں ان کی خرید وفروخت ہوتی ہے۔تو ان خرابیوں کی وجہ سے فقہاء نے ٹیسٹ ٹیوب کے نا جائز ہونے کا فتوی دیا ہے ۔

    البتہ ٹیسٹ ٹیوب بےبی چند شرائط کے ساتھ جائز ہے :

    1:مرد جماع(جنسی تعلقات)پر قادر نہیں ہو ۔

    2:جماع پر قادر ہے مگر اسکے مادئہ تولید میں جرثوموں کی مقدر اتنی کم ہے کہ اولاد کا حصول اس حالت میں بہت دشوار ہے ۔

    3:مردہر لحاظ سے صحت مند ہے مگر بیوی ایسی بیمار ہے کہ جماع کے ذریعے اولاد کا حصول ناممکن یا مشکل ہے۔

    4:منی(sperms)اوربیضہ (eggs)میاں بیوی کے ہی ہوں،کسی دوسرے کے نہ ہوں ،نہ ہی بیوی کے علاوہ کے رحم رکھے جائیں۔

    5:مردکی منی(sperms)کو خود شوہر ہی رکھے تاکہ عورت کی ستر غلیظ کی حفاظت رہے ۔

    ان سب شرائط کے پائے جا نے کی صورت میں ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا استعمال جا ئز ہے ۔

    فتح القدیر میں ہے :"لَا يَلْزَمُ مِنْ ثُبُوتِ النَّسَبِ مِنْهُ وَطْؤُهُ لِأَنَّ الْحَبَلَ قَدْ يَكُونُ بِإِدْخَالِ الْمَاءِ الْفَرْجَ دُونَ جِمَاعٍ فَنَادِرٌ ۔ترجمہ:اور ثبوتِ نسب کے لیے عورت سے مرد کا وطی کرنا لازم نہیں ہے اس لیئے کہ حمل کبھی جماع کے علاوہ اندام نہانی میں منی داخل کرنے سے بھی ہوتا ہے(اور)یہ نادر ہے۔(فتح القدیر ،باب ثبوت النسب ،ج4ص350)

    المغنی لابن قدامۃ میں ہے:"إنَّ الْمَرْأَةَ تَحْمِلُ مِنْ غَيْرِ وَطْءٍ بِأَنْ يَدْخُلَ مَاءُ الرَّجُلِ فِي فَرْجِهَا، إمَّا بِفِعْلِهَا أَوْ فِعْلِ غَيْرِهَا "ترجمہ:بے شک عورت وطی کے علاوہ بھی حاملہ ہوتی ہے بایں طور کہ مرد کا نطفہ اسکی اندام نہانی میں داخل ہوجائے یا توخود اس عورت کے فعل سے یا اسکے علاہ کے فعل سے۔( المغنی لابن قدامۃ ،فصل احبلت امراۃ لا زوج لھا ،ج:9،ص:79،طبع:مکتبۃ القاہرہ )

    الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے: التلقيح الصناعي:هو استدخال المني لرحم المرأة بدون جماع. فإن كان بماء الرجل لزوجته، جاز شرعاً، إذ لا محذور فيه، بل قد يندب إذا كان هناك ما نع شرعي من الاتصال الجنسي.وأما إن كان بماء رجل أجنبي عن المرأة، لا زواج بينهما، فهو حرام؛ لأنه بمعنى الزنا الذي هو إلقاء ماء رجل في رحم امرأة، ليس بينهما زوجية. ويعد هذا العمل أيضا منافياً للمستوى الإنساني، ومضارعاً للتلقيح في دائرة النبات والحيوان ۔ترجمہ:مرد کانطفہ مصنوعی طریقہ سے عورت کی رحم (اندام نہانی)میں ڈالنا: وہ مرد کی منی کا عورت کی اندام نہانی میں بغیر جماع کے داخل کرنا ہے اگر یہ عمل شوہر کے ہی نطفہ کیساتھ ہو اسکی زوجہ کے لیے(اسی کے ہی رحم میں ) تو شرعاً جائز ہے جس میں کوئی شرعی ممانعت نہیں بلکہ کبھی مستحب بھی ہوتا ہے جبکہ جنسی تعلقات سے کوئی مانع شرعی موجود ہواور اگر یہ عمل اجنبی مرد کے نطفہ سےعورت کیساتھ ہوکہ جن کے مابین نکاح نہیں تو حرام ہے کیونکہ یہ معنیً زنا ہےکہ زنامرد کا نطفہ اس عورت کی اندام نہانی میں ڈالنا ہے جن کے درمیان نکاح نہ ہو اور اس عمل کو بھی انسانی برابری کے منافی اور نباتات و حیوانات کے مصنوعی طریقہ تولید کے مشابہ شمار کیا گیا ہے۔(الفقہ الاسلامی وادلتہ, باب سابع الحظر والاباحۃ، التلقيح الصناعي،ج:4،ص:198،طبع:دارالفکر)

    خلاصہ یہ ہے کہ شرائط کے پائے جا نے کی صورت میں ٹیسٹ ٹیوب بے بی کرواناجا ئز ہے،وگر نہ جائز نہیں ۔اور اس کے بعد بچے کی پیدائش کی صورت میں تمام احکامات (نسب ،وراثت وغیرہ)وہی ہونگے جو نارمل پیدا ہونے والے بچے کے ہیں ۔

    واللہ تعالی اعلم باالصواب

    کتبـــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:08صفر المظفر 1439 ھ/17اکتوبر 2018ء