قسطوں کےکاروبار کا حکم
    تاریخ: 7 مارچ، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 986

    سوال

    میں نے کسی کو رقم دی کہ میری طرف سے فلاں فلاں اشیا (مثلاً سیمنٹ، بجری، چاول، گندم، دانہ وغیرہ) خرید کر رکھ لو۔ جیسے ہی گاہک آئے، آپ میری اشیاء فروخت کر کے رقم مجھے دیتے جانا۔ بعض اوقات اشیاء تو بک جاتی ہیں لیکن پیسے سیزن پر ادا کیے جاتے ہیں۔ کیا اس صورت میں میرا خرید و فروخت کرنا درست ہے یا نہیں؟کبھی کبھار اشیاء میں خود خرید کر دیتا ہوں اور اکثر اوقات میں رقم دے دیتا ہوں، اگلا بندہ اشیاء خود خرید کر میرے حصے کے طور پر اپنی دکان پر رکھ دیتا ہے۔ پھر وہ اشیاء نقد پر بھی بیچتا ہے اور ادھار پر بھی، لیکن زیادہ تر ادھار ہی ہوتا ہے۔اگر چیز 4200 کی ہے تو وہ 5000 یا اس سے زائد میں بیچنی پڑتی ہے کیونکہ مجھے رقم چھ ماہ، آٹھ ماہ یا سال بھر کی مدت تک ملتی ہے، بعض اوقات سال سے بھی زیادہ وقت گزر جاتا ہے۔ میرا اس طرح کا کاروبار کرنا کس زمرے میں آئے گا؟

    مزید یہ بھی بتائیں کہ اگر میں کسی کو موٹر بائیک، کار یا کوئی اور گاڑی لے کر دیتا ہوں؛ مثلاً اگر بائیک ایک لاکھ ساٹھ ہزار کی ہے تو میں سال کے ادھار پر وہ بائیک دو لاکھ میں دیتا ہوں۔ اور اگر کوئی کار یا گاڑی جس کی قیمت 10 لاکھ ہے، تو میں 15 لاکھ میں (قسطوں/ادھار پر) دیتا ہوں، کیا میرا اس طرح کا کاروبار کرنا درست ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

    سائل: اویس رضا قادری، بمعرفت المختصص فی الفقہ فیض رسول صاحب


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بیان کردہ دونوں صورتیں (سیمنٹ، غلہ وغیرہ کی خرید وفروخت اور گاڑی یا بائیک کی قسطوں پر فراہمی) تجارت ہےاور چند ضروری شرائط کے ساتھ جائز ہے۔ شریعتِ مطہرہ میں ادھار کی صورت میں چیز کی قیمت مارکیٹ سے زیادہ طے کرنا جائز ہے اور یہ کوئی ظلم نہیں، کیونکہ خرید وفروخت میں فریقین کی باہمی رضامندی اصل بنیاد ہے اور جلیل القدر فقہائے کرام نے اس کے جواز کا فتویٰ دیا ہے۔ اس معاملے میں سود کی کوئی صورت نہیں بنتی کیونکہ یہ قرض نہیں بلکہ مٹیریل یا گاڑی کی فروخت ہے۔

    اس کاروبار کے درست ہونے کے لیے درج ذیل امور کا لحاظ رکھنا لازم ہے:

    (۱) فروخت سے پہلے وہ چیز آپ کی یا آپ کے وکیل کی ملکیت اور قبضے میں آ چکی ہو۔

    (۲) واضح طے کیا جائے کہ سود ا ادھارہے۔اگر سودا نقد یا ادھار میں کسی ایک قیمت کی تعیین بغیر چھوڑ دیا تو یہ معاملہ فاسد ہو جائے گا۔

    (۳) سودا ادھار ہونے کی صورت میں رقم ادائیگی کی مدت معلوم ہو، تاکہ جھگڑے کی صورت پیدا نہ ہو۔

    (۴) کوئی ناجائز شرط نہ ہو مثلاً مقرّر کردہ مدت سے تاخیر میں جرمانہ وغیرہ کی شرط نہ ہو۔

    دلائل وجزئیات:

    فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی (المتوفی:1422ھ) فرماتے ہیں:”کوئی بھی سامان اس طرح بیچنا کہ اگر نقد قیمت فوراً ادا کردے تو تین سو قیمت لے اور اگر ادھار سامان کوئی لے تو اس سے تین سو پچاس روپیہ اسی سامان کی قیمت لے۔ یہ شریعت میں جائز ہے سود نہیں ہے نقد اور ادھار کا الگ الگ بھاؤ رکھنا شریعت میں جائز ہے مگر یہ ضروری ہے کہ سامان بیچتے وقت ہی یہ طے کردے کہ اس سامان کی قیمت نقد خریدو تو اتنی ہے اور ادھار خریدو تو اتنی ہے“۔(فتاویٰ فیض رسول، 2/381، شبیر برادرز لاہور)

    مفتی محمد وقار الدین (المتوفی:1413ھ) فرماتے ہیں:” فروخت کرنے والے کو شریعت نے یہ اختیار دیا ہے کہ نقد کی قیمت اور رکھے اور ادھار کی قیمت اور مقرر کرے مگر شرط یہ ہے کہ ادھار کی مدت متعین کر دی جائے ... جتنی مدت زیادہ ہو ، اتنی قیمت زیادہ ہو سکتی ہے ۔ مگر سوال میں جو صورت بعد میں لکھی ہے کہ اگر وہ لیٹ کریں ، تو دو فصد یا چار فیصد جرمانہ لیا جائے گا ، یہ ناجائز ہے ۔ شریعت میں مال پر جرمانہ جائز ہی نہیں ہے ۔ ملخصا “(وقار الفتاوی ،3/264، بزم وقار الدین ، کراچی)

    سودے میں رقم معین کرنا لازم ہے،صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:”بیع (سودے) میں ثمن (رقم) کا معین کرنا ضروری ہے ... اور جب ثمن معین کر دیا جائے ، تو بیع چاہے نقد ہو یا ادھار ، سب جائز ہے ... مگر صورتِ مسئولہ میں یہ ضرور ہے کہ نقد یا ادھار دونوں میں سے ایک صورت کو معین کر کے بیع (سودا) کرے اور اگر معین نہ کیا ، یوہیں مجمل رکھا کہ نقد اتنے کو اور ادھار اتنے کو ، تو یہ بیع فاسد ہو گی اور ایسا کرنا، جائز نہ ہو گا “۔ ملخصا ( فتاویٰ امجدیہ ، 3/181، مکتبہ رضویہ ، کراچی )

    بیع و شراء میں رضامندی اصل ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے :‎ إِلاَّ أَن تَکُونَ تِجَارَۃً عَن تَرَاضٍ مِّنکُمْ . ترجمہ : مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضا مندی کا ہو۔(النساء :29)

    اور کنز الدقائق میں بیع کی تعریف اس طرح سے بیا ن کی گئی ہے :‎"هو مبادلة المال بالمال بالتّراضي".ترجمہ: بیع وہ آپس کی رضامندی سے مال کا مال کے ساتھ تبادلہ کرنا ہے۔ (کنز الدقائق علی البحرالرائق،کتاب البیوع ،5/277،دار الکتاب الاسلامی)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’اصل (خرید فروخت کا )مدار تراضی طرفین قولا ظاہر ہو خواہ فعلا ‘‘۔(فتاوی رضویہ :17/81،رضافاؤنڈیشن لاہور)

    مارکیٹ ریٹ سے زیادہ پر سودا کرنا جائز ہے، فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی (المتوفی:1422ھ) فرماتے ہیں:’’ بیشک قیمت خرید سے بہت زیادہ بڑھا کر بیچنا کوئی گناہ نہیں کہ ہر شخص کو اختیار ہے چاہے تو ایک روپیہ کی چیز ہزار روپیے میں بیچے خریدار کو غرض ہو تولے ۔ردالمحتار میں ہے: لَوْ بَاعَ كَاغِدَةً بِأَلْفٍ يَجُوزُ وَلَا يُكْرَهُ. شخص مذکو راگر بہت زیادہ دام بڑھا کر یبچتا ہے تو اس میں خوداس کانقصان ہے کہ لوگ اس کو چھوڑ کر ایسے شخص سے خریدیں گے جو کم نفع لیتا ہے‘‘۔ (فتاوی فیض الرسول،2/396،شبیر برادرز لاہور)

    مذکورہ معاملہ سود نہیں،امام ابو عیسی ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "وَقَدْ فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ قَالُوا: بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ أَنْ يَقُولَ: أَبِيعُكَ هَذَا الثَّوْبَ بِنَقْدٍ بِعَشَرَةٍ، وَبِنَسِيئَةٍ بِعِشْرِينَ، وَلَا يُفَارِقُهُ عَلَى أَحَدِ البَيْعَيْنِ، فَإِذَا فَارَقَهُ عَلَى أَحَدِهِمَا فَلَا بَأْسَ إِذَا كَانَتِ العُقْدَةُ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمَا".ترجمہ: بعض اہل علم اس حدیث کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے کہ ایک بیع میں دو بیع سے مراد یہ ہے کہ بائع کہے کہ میں تم کو یہ کپڑا نقد دس درہم میں بیچتا ہوں اور ادھار بیس درھم میں اور ان میں سے کسی بھی بیع کے تعین پر جدائی نہ ہوئی اور اگر کسی کو متعین کرنے کے بعد جدائی ہوئی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ،کیونکہ معاملہ ایک بیع پر طے ہوگیا۔ (سنن الترمذی ،کتاب البیوع،3/525،الرقم:1231،مصطفى البابی)

    شمس الآئمہ محمد بن احمد السرخسی (المتوفی:483ھ) فرماتے ہیں: "وَإِذَا عَقَدَ الْعَقْدَ عَلَى أَنَّهُ إلَى أَجَلِ كَذَا بِكَذَا وَبِالنَّقْدِ بِكَذَا أَوْ قَالَ إلَى شَهْرٍ بِكَذَا أَوْ إلَى شَهْرَيْنِ بِكَذَا فَهُوَ فَاسِدٌ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يُعَاطِهِ عَلَى ثَمَنٍ مَعْلُومٍ وَلِنَهْيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ شَرْطَيْنِ فِي بِيَعٍ وَهَذَا هُوَ تَفْسِيرُ الشَّرْطَيْنِ فِي بِيَعٍ وَمُطْلَقُ النَّهْيِ يُوجِبُ الْفَسَادَ فِي الْعُقُودِ الشَّرْعِيَّةِ وَهَذَا إذَا افْتَرَقَا عَلَى هَذَا فَإِنْ كَانَ يَتَرَاضَيَانِ بَيْنَهُمَا وَلَمْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى قَاطَعَهُ عَلَى ثَمَنٍ مَعْلُومٍ، وَأَتَمَّا الْعَقْدَ عَلَيْهِ فَهُوَ جَائِزٌ؛ لِأَنَّهُمَا مَا افْتَرَقَا إلَّا بَعْدَ تَمَامِ شَرَطِ صِحَّةِ الْعَقْدِ".ترجمہ: اگر معاملہ اس طرح طے کیا جائے کہ ’ایک مقررہ مدّت تک قیمت اتنی ہوگی اور نقد دینے پر اتنی‘یا یوں کہا جائے کہ ’ایک مہینے کی معیاد پر اتنی قیمت اور دو مہینے کی معیاد پر اتنی قیمت‘تو یہ عقد فاسد ہے، کیونکہ خریدار اور فروخت کنندہ نے کوئی متعین قیمت طے نہیں کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بیع میں دو شرطیں لگانے سے منع فرمایا ہے۔ یہی حدیثِ نبوی میں مذکور ’دو شرطوں والے بیع‘کی تشریح ہے۔ شریعت میں مطلق ممانعت عقد کو فاسد کر دیتی ہے۔ یہ حکم اُس صورت میں ہے جب فریقین اسی حالت پر جدا ہو جائیں۔ البتہ اگر وہ دونوں مجلس میں ہی رضامند رہتے ہوئے جدا نہ ہوں، بلکہ کسی ایک متعین قیمت پر اتفاق کر لیں اور عقد اسی پر مکمل کریں، تو معاملہ جائز ہو گا، کیونکہ وہ شرطِ صحتِ عقد پوری کرنے کے بعد ہی جدا ہوئے ہیں۔ (المبسوط للسرخسي ، باب البیوع الفاسدۃ،13/ 7-8،دار المعرفۃ بیروت)

    فتح القدیر میں علامہ کمال الدین محمد بن عبد الواحد ابن الہمام (المتوفی:861ھ) فرماتے ہیں: "كَوْنُ الثَّمَنِ عَلَى تَقْدِيرِ النَّقْدِ أَلْفًا وَعَلَى تَقْدِيرِ النَّسِيئَةِ أَلْفَيْنِ لَيْسَ فِي مَعْنَى الرِّبَا".ترجمہ: نقد کی صورت میں ثمن ایک ہزار ہونا اور ادھار کی صورت میں ثمن دو ہزار ہونا سود کے حکم میں نہیں ہے۔(فتح القدیر ،6/81، رشیدیہ کوئٹہ) ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:6 رمضان المبارک 1447ھ/24 فروری 2026ء