سوال
جنس بجلی سولر صارفین سے حکومت لے کر انہیں بدلے میں وہی جنس دینے سے انکاری ہے اور بضد ہے کہ جب وہ لے گی تو قیمت گیارہ روپے فی یونٹ کے حساب سے ادا کرے گی اور جب وہی بجلی واپس کرے گی تو فی یونٹ قیمت پینتالیس روپے وصول کرے گی۔
کیا ایسی بیع و شراء کا شریعت اسلامی میں جواز ہے؟ اور اگر یہ فاسد عمل ہے تو فریقین یکساں طور گنہگار ہوں گے یا سولر صارف کیلئے ضعف کی وجہ سے کچھ گنجائش ہو گی؟
سائل: مولانا راشد گلفام، کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
قرآنی اصول ’’التراضی‘‘ (باہمی رضامندی) کے تحت، کسی بھی خریدو فروخت کے درست ہونے کیلئے فریقین کا اپنی مرضی سے قیمت پر متفق ہونا لازمی ہے۔ سولر صارفین اور حکومت (یا متعلقہ ادارے) کے درمیان ہونے والا یہ معاملہ دو علیحدہ خود مختار معاہدات پر مشتمل ہے۔ جب ایک صارف اپنی پیدا کردہ بجلی نیشنل گِرڈ کو فراہم کرتا ہے، تو وہ ایک مخصوص قیمت (مثلاً 11 روپے) پر اسے فروخت کرنے کا معاہدہ کرتا ہے۔ اسی طرح، جب وہ اپنی ضرورت کیلئے گرڈ سے بجلی لیتا ہے، تو وہ رائج الوقت ٹیرف (مثلاً 45 روپے) پر خریدنے کا پابند ہوتا ہے۔ چونکہ بجلی اموالِ ربویہ میں شمار نہیں ہوتی کہ یہاں قدر موجود نہیں، اس لیے قیمتوں کا یہ فرق شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ صارف نے اس معاہدے پر دستخط اپنی مرضی سے کیے ہوں۔جہاں تک جنس کے بدلے جنس نہ دینے یا قیمت میں تفاوت کا تعلق ہے، تو اسے بیعِ مقایضہ کے بجائے دو مستقل خرید و فروخت کے سودے تسلیم کیا جائے گا۔ حکومت یا ادارہ یہاں ایک سپلائر کی حیثیت رکھتا ہے جو ترسیل، تقسیم اور انفراسٹرکچر کے اخراجات کی بنیاد پر اپنی فروخت کی قیمت خرید سے زیادہ رکھتا ہے۔ چونکہ نیٹ میٹرنگ کا نظام کسی پر جبراً مسلط نہیں کیا جاتا اور صارف کے پاس یہ اختیار موجود ہوتا ہے کہ وہ اپنی بجلی گرڈ کو بیچنے کے بجائے بیٹریوں میں محفوظ کر لے، اس لیے یہاں شرعی طور پر اکراہ (زبردستی) بھی ثابت نہیں۔
حاصل کلام یہ ہے کہ یہ عمل شرعی طور پر فاسد نہیں ، بلکہ ایک جائز تجارتی معاہدہ ہے۔ چونکہ اس عقد کی بنیاد باہمی رضامندی اور معلوم شرائط پر ہے، اس لیے اس میں نہ تو حکومت گنہگار ہے اور نہ ہی صارف کیلئے اسے ضعف یا مجبوری کا سودا قرار دے کر ناجائز کہا جا سکتا ہے۔ فریقین اس معاہدے کی پاسداری کرنے میں حق بجانب ہیں اور شرعی طور پر اس میں کوئی ممانعت نظر نہیں آتی۔
دلائل و جزئیات:
قال الله تعالى: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ. ترجمہ: اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضا مندی کا ہو۔ (النساء: 29)
ثمنِ مسمیٰ (طے شدہ قیمت) کی تعریف میں المجلہ میں بیان ہوا: "الثمن المسمى هو الثمن الذي يسميه ويعينه العاقدان وقت البيع بالتراضي سواء كان مطابقا للقيمة الحقيقية أو ناقصا عنها أو زائدا عليها".ترجمہ: ثمنِ مسمیٰ وہ قیمت ہے جسے عاقدین (خریدنے اور بیچنے والا) خرید و فروخت کے وقت باہمی رضامندی سے طے اور متعین کرتے ہیں، خواہ وہ حقیقی قیمت (مارکیٹ ویلیو) کے برابر ہو، یا اس سے کم ہو یا اس سے زیادہ ہو۔ (مجلة الأحكام العدلية، المادۃ: 153)
بیعِ مرابحہ اور تاجروں کے عرف کے متعلق الفتاوی الہندیۃ میں بیان ہے: "ومن اشترى شيئا وأغلى في ثمنه فباعه مرابحة على ذلك جاز، وقال أبويوسف: إذا زاد زيادة لا يتغابن الناس فيها فإني لا أحب أن يبيعه مرابحة حتى يبين، والأصل أن عرف التجار معتبر في بيع المرابحة".ترجمہ: جس نے کوئی چیز خریدی اور اس کی قیمت زیادہ ادا کی، پھر اسے (اسی بڑھی ہوئی قیمت پر) نفع کے ساتھ (مرابحہ) بیچا تو یہ جائز ہے۔ امام ابویوسف فرماتے ہیں: اگر قیمت میں ایسی زیادتی ہو جو عرفِ عام (تغابنِ فاحش) سے باہر ہو تو میں اسے پسند نہیں کرتا کہ وہ اسے نفع پر بیچے جب تک کہ (حقیقت) بیان نہ کر دے، اور اصل قاعدہ یہ ہے کہ بیعِ مرابحہ میں تاجروں کا عرف معتبر ہے۔ (الفتاوی الہندیۃ، کتاب البیوع، الباب الرابع عشر فی المرابحۃ، 3/161،دار الفکر)
غبن فاحش کی تعریف میں علی بن محمد الشريف الجرجانی(المتوفی: 816ھ) فرماتے ہیں: "الغبن الفاحش: هو ما لا يدخل تحت تقويم المقومين، وقيل: ما لا يتغابن الناس فيه".ترجمہ: غبن فاحش وہ ہے جو قیمت لگانے والوں کے اندازے کے تحت داخل نہ ہو سکے۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ جسے لوگ غبن نہ جانیں(یعنی عام طور پر ایک دوسرے سے رعایت یا کمی بیشی نہ کریں)۔ (التعريفات، ص 161، دار الكتب العلمية بيروت لبنان)
غبن فاحش کی بیع کے حکم میں محمد قدری پاشا (المتوفی: 1306ھ) فرماتے ہیں: "لا يفسخ البيع بالغبن الفاحش بلا تغرير إلا في مال الصغير ومال الوقف ومال بيت المال".ترجمہ: بیع محض غبنِ فاحش کی وجہ سے ختم نہیں ہوگی جب تک کہ اس میں دھوکہ دہی شامل نہ ہو؛ سوائے تین قسم کے اموال کے: یتیم (نابالغ) کا مال، وقف کا مال اور بیت المال کا مال۔ (مرشد الحيران إلى معرفة أحوال الإنسان ، کتاب البیع، فصل فی الغبن والتغریر، مادۃ: 440، ص 70، المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق) ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:1 رمضان المبارک 1447ھ/19 فروری 2026ء