سوال
فدوی مسمی جان محمد ولد چاند محمد عرض گزار ہوں۔ ہمارے والد کا انتقال ہو گیا ہے ۔وارثین میں 1 والدہ، 5 بھائی اور 2 بہنیں ہیں۔والد نے اپنے ترکہ میں ایک مکان رقبہ 126 مربع گز بواقع محمود آباد کراچی چھوڑا ہے، جس کی مارکیٹ ویلیو دو کروڑ پچھتر ہزار روپے ہے جبکہ دس لاکھ روپے بڑھانے کی ہماری بات چل رہی ہے۔ گزارش ہے کہ دونوں رقموں کے مطابق تقسیم کا بتلایا جائے۔ خدائے پاک آپ کو جزائےخیر دے۔
سائل: جان محمد ولد چاند محمد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر سائل اپنے بیان میں سچا ہے اور وہی ورثاء ہیں جو سوال میں مذکور ہیں تومرحوم (چاند محمد) کے کفن دفن کے اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لئے وصیت کی ہو تو اس کو مرحوم کے تہائی مال سے پورا کرنے کے بعد تمام ترکہ کے کل 96 حصے کئے جائیں گےجن میں سے مرحوم کی زوجہ کو 12حصے، ہر ایک بیٹے کو 14 اور ہر ایک بیٹی کو علیحدہ 7حصے تقسیم ہونگے۔
ترکے کی حسابی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ ترکے کی کل رقم کو مبلغ یعنی 96 سے تقسیم Divide کریں جو جواب آئے اسے محفوظ کرلیں اور اسے ہر ایک وارث کے حصے پر ضرب Multiplyدے دیں، حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
یاد رہے کہ ترکے کی تقسیم کے وقت ہر چیز کی تقسیم کا حکم الگ الگ بیان نہیں کیا جاتا، بلکہ منقولہ و غیر منقولہ ترکے (مثلاً: دکان، مکان، پلاٹ، زمین، زیورات، بینک اکاؤنٹ وغیرہ) میں سے ہر چیز کو فروخت کرکے یا اس کی موجودہ قیمت لگا کر مجموعی مالیت نکالی جاتی ہے اور پھر اس سب مال کی شریعت کے مطابق تقسیم ہوتی ہے۔
المسئلۃ بھذہ الصورۃ:
8×12=96
میـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
زوجہ 5بیٹے 2بیٹیاں
ثمن عصـــــــــــــــــــــــبہ
1×12 7×12=84
12 14/70 7/14
دلائل وجزئیات:
السراجی فی المیراث میں ہے: "تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ: الاول یبدا بتکفینہ وتجھیزہ من غیر تبذیر ولا تقتیر، ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ، ثم تنفذ وصایا ہ من ثلث ما بقی بعد الدین، ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ". ترجمہ: میت کے ترکہ کے ساتھ ترتیب وار چار حقوق متعلق ہیں: مناسب تجہیز و تکفین سے ابتدا کی جائے گی ، پھر بقیہ مال سے اس کے قرضے ادا کئے جائیں گے ، قرضوں کی ادائیگی کےبعد بقیہ مال کے ثلث سے وصیت کو نافذ کیا جائے گا،پھر باقی ترکہ ورثاء کےدرمیان تقسیم کیا جائے گا۔
(السراجیۃ مع القمریۃ، ص:11/12، مکتبۃ المدینہ العلمیہ کراچی)
قرآنِ مجید میں زوجہ کے حصے کے متعلق اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ. ترجمہ: تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔(النساء:12)
بیٹے بیٹیوں کے حصے سے متعلق ارشاد باری تعالی ہے: یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ. ترجمہ: اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔ (النساء: 11) ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:8رمضان المبارک 1447ھ/26 فروری 2026ء