صلح کی رقم کی شرعی حیثیت
    تاریخ: 9 مارچ، 2026
    مشاہدات: 10
    حوالہ: 991

    سوال

    میرے چھوٹے بھائی محمد شکیل نے ایک دوکان خریدی تھی، پھر رقم والد صاحب کو دیکر امریکہ چلے گئے کہ رقم ادا کردینا۔اس رقم میں کچھ پیسے کم تھے تو والد صاحب نے اپنی پیسے ملا کر رقم ادا کردی۔اور دوکان میرے (محمد نظیر) کے نام کی، تاکہ قانونی چارہ جوئیاں آسانی سے مکمل ہوسکیں۔اب جب دکان بکنے کی نوبت آئی تو میں نے شکیل سے پوچھا کہ اس دکان میں ساری رقم تمہاری ہے؟ تو اس نے کلمہ پڑھ کر قسم کھا کر کہا تھا یہ رقم ساری میری ہے (یعنی والدصاحب نے کوئی رقم نہیں دی)۔ جبکہ دوکان کی قیمت میں آخری رقم کی رسید فقیر محمد یعنی میرے والد صاحب کے نام کی تھی، جس کی مالیت 28 ہزار تھی ۔اس پر بھی شکیل کا کہنا یہ تھا کہ یہ رقم بھی میں نے ہی ادا کی ہے۔ لیکن یہ 28 ہزار میرے والد کے تھے جو در اصل ہم اولاد کے تھے کہ ہم والد صاحب کی دوکان میں کام کرتے تھے۔شکیل کے قسم کھانے پر میں نے یہ فیصلہ اللہ کے سپرد کر دیا۔ لیکن وہیں بلڈر اور بھانجا محسن کے صلح صفائی کروانے پر ہم نے شکیل سے 444000 (4 لاکھ چوالیس ہزار) تمام بہن بھائیوں کے نام لئے (کہ 28 ہزار کی رقم کے اوسط سے کیونکہ اب دوکان 56 لاکھ کی فروخت ہوئی تھی)۔

    سوال یہ ہے کہ یہ رقم (جو بطور صلح لی گئی ہے) ہمارے لیے جائز ہے یا ناجائز؟ قران و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

    سائل: محمد نظیر


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جب والد صاحب نے شکیل کے کہے بغیر اس کی طرف سے دکان خریدنے کیلئے اپنی رقم ملائی اور اس سے مقصود قرض دینا نہ تھا بلکہ بلا عوض اور تملیک (یعنی مالک بنانے) کی نیت تھی تو یہ محض اپنے بیٹے شکیل کو تحفہ ہوا ، لہذا نہ تو اِس ملائی ہوئی رقم کا مطالبہ جائز ہوا نہ اس کی وجہ سے دکان میں بطور ملکیت والد کی کوئی شرکت ہوئی۔ اسی طرح محمد نظیر کے نام دکان کرنے سے بھی دکان کی ملکیت محمد نظیر کی نہ ہوئی، نہ اس میں شرکت پائی گئی کہ تحفہ میں بلا عوض مالک بنایا جاتا ہے جبکہ یہاں نام کرنا محض قانونی چارہ جوئی کی آسانی کے لیے تھا نہ کہ مالک بنانے کے لیے۔ رہا دکان کی قیمت کی اخری رقم کی رسید کا معاملہ، تو وہاں بھی اگر والد صاحب نے 28 ہزار روپے بطور تحفہ کے دیے تھے تو وہ رقم بھی دکان کی ملکیت میں کسی قسم کی شراکت داری پیدا نہیں کرتی، چاہے یہ رقم والد کی اپنی ذاتی ہو یا اولاد کی طرف سے والد صاحب کو دی گئی ہو، دونوں کا حکم برابر ہے۔

    لہذا اصولاً اس دکان کی ملکیت محمد شکیل کی ہے۔ اس کے باوجود صلح کے طور پر جو 4 لاکھ 44 ہزار محمد شکیل سے بقیہ تمام بہن بھائیوں کے نام پر لیے گئے، اگر تو محمد شکیل کی رضامندی سے لیے گئے تو یہ رقم تمام بہن بھائیوں کے لیے حلال ہے، اس میں کوئی حرام کا شبہ نہیں۔ ہاں اگر زور زبردستی سے لی گئی کہ دلی رضامندی شامل نہ تھی تو یہ سخت حرام اور ناحق مال کھانا قرار پایا اور یہ کسی صورت حلال نہ ہوگا۔ اس پر ربّ تعالی کی بارگاہ میں توبہ کے ساتھ ساتھ محمد شکیل کو یہ رقم بھی لوٹانا ہوگی اور اس سے معافی بھی مانگنی لازم ہوگی، وگرنہ درد ناک عذاب ہے۔

    دلائل و جزئیات:

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”یہ قرض سید محمد احسن صاحب نے خاص اپنے مال سے خواہ کسی سے قرض لے کر ادا کیا،تویہ ایک قرض ہے کہ ایک بھائی پر آتا تھا ،دوسرے نے بطورِ خود ادا کردیا ،بھائی کے ساتھ حسنِ سلوک ہوا اور نیک سلوک پر ثواب کی امید ہے ،مگر معاوضہ ملنے کا استحقاق نہیں کہ کوئی شخص نیک سلوک و احسان کر کے عوض جبراً نہیں مانگ سکتا ، ولہٰذا کتابوں میں تصریح ہے کہ جو شخص دوسرے کا قرض بے اس کے امر کے ادا کردے ،وہ اسے واپس نہ پائے گا۔عقودالدریہ میں ہے:’’المتبرع لا یرجع بما تبرع بہ علی غیرہ کما لو قضی دین غیرہ بغیر امرہ‘‘کسی کے ساتھ نیکی کرنےوالا نیکی میں دی ہوئی چیز واپس نہ پائے گا ، جیسے غیر کی طرف سے اس کے امر کے بغیر قرض ادا کردے‘‘۔(فتاوی رضویہ، 18/274،رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

    تحفہ کی تعریف میں علامہ ابرہیم بن محمد الحلبی (المتوفی:956ھ) فرماتے ہیں: "هِيَ تمْلِيك عين بِلَا عوض". ترجمہ: یہ بلا کسی عوض کے شے کا مالک بنانا ہے۔( ملتقی الابحر، کتاب الہبۃ، ص 489، دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    قال الله تعالى: وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ.ترجمہ: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔(البقرة: 188)

    آیت ِمذکور کے تحت علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد شمس الدین القرطبی (المتوفی:671ھ) فرماتے ہیں: "والمعنى: لا يأكل بعضكم مال بعض بغير حق. فيدخل في هذا: القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق، وما لا تطيب به نفس مالكه، أو حرمته الشريعة وإن طابت به نفس مالكه، كهر البغي وحلوان الكاهن وأثمان الخمور والخنازير وغير ذلك. ولا يدخل فيه الغبن في البيع مع معرفة البائع بحقيقة ما باع لأن الغبن كأنه هبة".ترجمہ:اس آیت کا معنی یہ ہے کہ بعض، بعض کا مال ناحق نہ کھائے۔ اس میں جوا، دھوکا، غصب، حقوق سے انکار اور ایسی چیز جس کے دینے پر مالک خوش نہیں ہے یا ایسی چیز جس کو شریعت نے حرام کیا ہے اگرچہ مالک خوشی سے دینے پر راضی بھی ہو جیسے زانیہ کی کمائی، کاہن کا نذانہ، شرابوں اور خنازیر کی قیمتیں وغیرہ داخل ہیں۔ اور بیع میں غبن داخل نہیں جبکہ بائع اس چیز کی حقیقت بتا دے جو اس نے بیچی کیونکہ اس صورت میں غبن (زیادتی) گویا ہبہ ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن،2/338،تحت سورۃ البقرۃ:188،دار الکتب المصریۃ)

    کامل مسلمان ہمیشہ دوسروں کے حقوق دبانے یا انہیں تلف کرنے سے بچتا ہے،نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:"كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ مَالُهُ، وَعِرْضُهُ، وَدَمُهُ حَسْبُ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ".ترجمہ:مسلمان کی سب چیزیں (دوسرے) مسلمان پرحرام ہیں، اس کا مال،اس کی آبرو اور اس کا خون۔(سنن ابی داؤد،کتاب الادب،باب فی الغیبۃ،4/270،رقم:4882، المكتبة العصريۃ)

    صحیح بخاری کی روایت ہے:" مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَيْءٍ، فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ اليَوْمَ، قَبْلَ أَنْ لاَ يَكُونَ دِينَارٌ وَلاَ دِرْهَمٌ، إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ".ترجمہ:جس کے ذِمّے اپنے بھائی کی عزّت یا کسی اور شے کے معاملے میں ظُلم ہو،ا سے لازم ہے کہ( قیامت کا دن آنے سے پہلے) یہیں دنیا میں اس سے معافی مانگ لے،کیونکہ وہاں (یعنی روزِ محشر اس کے پاس ) نہ دینار ہوں گے اور نہ دِرْہَم، اگر اس کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی، تو بقَدَر اُس کے حق کے ،اِس سے لے کر اُسے دی جائیں گی، اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں تو اُس(مظلوم ) کے گناہ اِس (ظالم)پررکھے جائیں گے۔(صحیح البخاری،كتاب المظالم والغصب،باب من كانت له مظلمة عند الرجل،3/129،رقم:2449،دار طوق النجاۃ)

    علامہ ابو الحسن علی بن سلطان نور الدین الملا ّعلی قاری (المتوفی:1014ھ) فرماتے ہیں:"وان کانت مما یتعلق بالعباد فان کانت من مظالم الاموال فتتوقف صحۃ التوبۃ منہا مع ماقدمناہ فی حقوق اﷲ تعالٰی علی الخروج عن عہدۃ الاموال وارجاء الخصم بان یتحلل عنہم ایردھا الیہم اوالی من یقوم مقامہم من وکیل او وارث".ترجمہ:اگر ضائع کردہ حقوق کا تعلق بندوں سے ہو تو صحت تو بہ اس پر موقوف ہے جس کو ہم نے پہلے حقوق اللہ کے ضمن میں بیان کردیا ہے کہ اس کی صورت میں اموال کی ذمہ داری سے سبکدوش ہونا اور مظلوم کو راضی کرنا ضروری ہے جن کا مال غصب کیا گیا، وہ انہیں واپس کیاجائے یا ان سے معاف کرایا جائے اور وہ متعلقہ افراد موجود اوربقید حیات نہ ہوں تو ان کے ورثاء متعلقین اور قائم مقام افراد و وکلاء کے ذریعے اموال کی واپسی او ر معافی عمل میں لائی جائے۔(منح الروض شرح فقہ الاکبر،التوبۃ والشرائطہا،ص:158،مصطفی البابی) ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:12 جمادی الآخری 1447ھ/4دسمبر 2025ء