سوال
(۱) انویسٹر نے ایک لاکھ روپے کاروبار میں لگائے۔ ہم نے اس رقم سے ہول سیل ریٹ پر مال خریدا۔ پھر ہم نے وہی مال اس سے 3 ماہ کی ادھار پر ریٹیل ریٹ پر واپس خرید لیا، جس کا اسے علم نہیں اور بل پر اسے 15,000 روپے منافع ہوا۔ یہ طریقہ جائز ہے یا سود شمار ہوگا؟
(۲) اگر ہم نے انویسٹر سے ایک لاکھ روپے لیے، لیکن اسے کسی تجارتی سامان کی خرید و فروخت میں لگانے کے بجائے خرچ کرلئے، اور پھر 3 ماہ بعد اسے 15,000 روپے منافع کے ساتھ رقم واپس کی، تو کیا یہ اضافی رقم سود کے زمرے میں آتی ہے؟
(۳) ہم نے انویسٹر سے ایک لاکھ روپے لیے اور اس کیلئے ہول سیل میں مال خریدا، لیکن باقاعدہ حساب کتاب اور بل نہ بنانے کی وجہ سے منافع کا صحیح تعین نہ ہوسکا۔ اب ہم اسے ہر ماہ ایک لاکھ روپے کے عوض 20,000 روپے بطور منافع دے رہے ہیں۔ کیا اصل رقم پر اس طرح ماہانہ رقم دینا سود ہے؟ اگر سود ہے، تو اب ہمیں سابقہ حساب کی درستی اور آئندہ کیلئے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟
سائل: محمد رومان عالم شیخ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
آپ جس طریقے سے مضاربت کر رہے ہیں وہ درست نہیں۔ چلتے کاروبار میں شرکت کیلئے سب سے پہلے کاروبار کی کل مالیت طے کریں (یعنی مال، نقد اور واجب الوصول رقم)۔ اس کے بعد آپ اپنے تجارتی سامان کا ایک متعین حصہ (مثلاً آدھا) انویسٹر کو اس کی لائی ہوئی رقم کے عوض فروخت کر دیں اور دونوں فریق اس پر قبضہ کر لیں۔ اس طرح سامان اور نقدی آپ دونوں کے درمیان مشترک ہو جائیں گے۔ اب اس مشترکہ سرمائے پر شرکۃ العقدکا معاہدہ کریں، جس میں نفع کا فیصد طے ہو اور نقصان کی صورت میں ہر شریک اپنے سرمائے کے تناسب سے نقصان برداشت کرے۔
(۱) آپ کا انویسٹر کے سرمائے سے ہول سیل پر مال خریدنا اور پھر اسے بتائے بغیر خود ہی اپنے آپ کو ریٹیل ریٹ پر ادھار بیچ دینا شرعاً ناجائز اور باطل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک ہی شخص ایک ہی وقت میں بائع (بیچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا) نہیں بن سکتا۔ آپ انویسٹر کی طرف سے مال بیچنے کے وکیل تھے، اور وکیل کا اپنے موکل کا مال اپنے آپ سے ہی خرید لینا عقد کو ختم کر دیتا ہے۔ چونکہ یہ سودا سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا، اس لیے اس پر ظاہر ہونے والا 15,000 روپے کا منافع حقیقت میں تجارتی نفع نہیں، اور نہ ہی یہ کسی درست معاہدےکے نتیجے میں حاصل ہوا ہے۔ لہذا، انویسٹر کا اس رقم پر کوئی شرعی حق نہیں بنتا، یہ رقم اسے واپس کرنا یا حساب میں ایڈجسٹ کرنا لازم ہے، اور انویسٹر کے پاس صرف اس کا اصل سرمایہ (راس المال) ہی بطور امانت باقی ہےجو اسے واپس کرنا لازم ہے۔ ، نیز اس دھوکہ دہی والے پر توبہ بھی لازم ہے۔
(۲) انویسٹر کی رقم کو تجارت میں لگانے کے بجائے ذاتی ضرورت میں خرچ کرنا امانت میں خیانت ہے، جس سے آپ اس رقم کے ضامن بن گئے۔ اس صورت میں بھی جو 15,000 روپے اضافی دیے گئے، وہ سود تو نہیں کہلائیں گے (اگر پہلے سے طے نہ ہوں) لیکن چونکہ یہ رقم کسی جائز تجارتی نفع کے نتیجے میں حاصل نہیں ہوئی بلکہ ایک خیانت والے معاملے کی بنیاد پر دی گئی، اس لیے انویسٹر کیلئے یہ رقم رکھنا جائز نہیں۔ انویسٹر پر لازم ہے کہ وہ یہ اضافی رقم آپ کو واپس کرے یا اپنے اصل حساب میں اسے منہا کر دے ۔
(۳) کاروبار میں ہر ماہ ایک مخصوص رقم (مثلاً 20 ہزار) دینا ایڈوانس نفع کہلاتا ہے۔ چونکہ آپ کے پاس حساب کا ریکارڈ نہیں تھا، اس لیے اب تک دی گئی تمام رقم انویسٹر کے ذمے قرض کی طرح ہے جب تک کہ حقیقی نفع کا تعین نہ ہو جائے۔ اب شرعی طور پر لازم ہے کہ باقاعدہ حساب کیا جائے؛ اگر حقیقی نفع انویسٹر کو دی گئی رقم سے کم نکلے تو انویسٹر وہ زائد رقم واپس کرنے کا پابند ہے، کیونکہ نفع کا حقدار وہ صرف اسی قدر ہے جتنا حقیقت میں کاروبار میں منافع ہوا ہے۔
دلائل و جزئیات:
مضارب کے قبضے کی نوعیت بیان کرتے ہوئے علامہ حسام الدین السغناقی (المتوفی: 711ھ) میں فرماتے ہیں: "ويكون رأس المال أمانة في يده، لأنه قبضه بإذن مالكه ليرده عليه وكان بمنزلة المودع". ترجمہ: اور اصل مال (انویسمنٹ) مضارب کے ہاتھ میں امانت ہوتا ہے، کیونکہ اس نے اسے مالک کی اجازت سے اس نیت سے وصول کیا ہے کہ وہ اسے (کاروبار کے بعد) واپس لوٹا دے، لہذا وہ امین کے درجے میں ہے۔ (النهاية في شرح الهداية، کتاب المضاربۃ، 18/228، مركز الدراسات الإسلامية بكلية الشريعة والدراسات الإسلامية بجامعة أم القرى)
وکیل کے اپنے آپ سے سے بیع کرنے کے متعلق خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) مختلف اقوال نقل فرماتے ہیں: "(قوله: إلا من نفسه) وفي السراج: لو أمره بالبيع من هؤلاء فإنه يجوز إجماعا إلا أن يبيعه من نفسه أو ولده الصغير أو عبده ولا دين عليه فلا يجوز قطعا وإن صرح به الموكل اهـ منح. الوكيل بالبيع لا يملك شراءه لنفسه؛ لأن الواحد لا يكون مشتريا وبائعا فيبيعه من غيره ثم يشتريه منه، وإن أمره الموكل أن يبيعه من نفسه وأولاده الصغار أو ممن لا تقبل شهادته فباع منهم جاز بزازية كذا في البحر، ولا يخفى ما بينهما من المخالفة، وذكر مثل ما في السراج في النہایة عن المبسوط، ومثل ما في البزازية في الذخيرة عن الطحاوي، وكأن في المسألة قولين خلافا لمن ادعى أنه لا مخالفة بينهما".ترجمہ: (قولہ: الّا من نفسہ) اور سراج میں ہے: اگر مؤکل نے وکیل کو اِن (یعنی اپنے آپ ، اپنی نابالغ اولاد اور عبدِ غیر مدیون) سے بیع کرنے کا حکم دیا تو بالاجماع جائز ہے، سوائے اس کے کہ وہ اپنے آپ، اپنے چھوٹے بچے، یا اپنے ایسے غلام سے بیع کرے جس پر کوئی قرض نہ ہو، تو یہ قطعی طور پر جائز نہیں اگرچہ مؤکل نے اس کی صریح اجازت ہی کیوں نہ دی ہو۔ منح الغفار میں ہے کہ وکیل بالبیع اسے خود خریدنے کا مالک نہیں ہوتا، کیونکہ ایک ہی شخص بیک وقت خریدار اور بیچنے والا نہیں بن سکتا، لہذا وہ اسے کسی غیر کے ہاتھ بیچے پھر اس سے (دوبارہ) خرید لے۔ جبکہ بزازیہ میں ہے جیسا کہ البحر میں بھی مذکور ہے کہ اگر مؤکل نے اسے حکم دیا کہ وہ اپنے آپ، اپنی نابالغ اولاد یا ان لوگوں سے بیع کرے جن کی گواہی مقبول نہیں اور اس نے ان سے بیع کر لی، تو جائز ہے۔ ان دونوں اقوال کے درمیان اختلاف پوشیدہ نہیں۔ نہایہ میں مبسوط کے حوالے سے سراج جیسی بات ذکر کی گئی ہے، جبکہ ذخیرہ میں امام طحاوی کے حوالے سے بزازیہ جیسی بات ذکر ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلے میں دو (مختلف) اقوال ہیں، برخلاف اس شخص کے جس نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کے درمیان کوئی مخالفت نہیں ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الوکالۃ، باب الوکالۃ بالبیع والشراء، 5/516، دار الفکر)
عقد باطل ہونے کے بعد شے امانت ہوجاتی ہے، علامہ ابن عابدین شامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "العقد إذا بطل بقي مجرد القبض بإذن المالك وهو لا يوجب الضمان إلا بالتعدي". ترجمہ: جب عقد (معاہدہ) باطل ہو جائے تو مالک کی اجازت سے حاصل شدہ محض قبضہ باقی رہتا ہے، اور ایسا قبضہ ضمان (تاوان) کو واجب نہیں کرتا جب تک کہ (قابض کی طرف سے) کوئی تعدی (زیادتی یا خلاف ورزی) نہ ہو۔ (رد المحتار، کتاب البیوع، 5/59، طبع الحلبي)
مضاربت کے نفع کی تقسیم کے متعلق علامہ غیاث الدین غانم بن محمد البغدادی (المتوفی:1027ھ) فرماتے ہیں: "قسمة الربح قبل قبض رب المال رأس ماله موقوفة؛ إن قبض رأس المال صحت القسمة، وإلا بطلت لأن الربح فضل على رأس المال، ولا يتحقق الفضل إلا بعد سلامة الأصل، وما هلك من مال المضاربة فهو من الربح دون رأس المال بقسمته حتى لو اقتسما الربح قبل قبض رب المال رأس المال ثم هلك في يد المضارب فالقسمة باطلة، وما قبضه رب المال رأس المال، ويرد المضارب عليه ما أخذه ولو هلك في يده يضمنه لأنه إذا ظهر إنه لم يكن ربحا لم يكن رب المال راضيا بتملكه فصار المضارب عاصيا".ترجمہ: سرمایہ کار (رب المال) کے اپنا اصل مال وصول کرنے سے پہلے نفع کی تقسیم موقوف ہے؛ اگر اس نے اصل مال وصول کر لیا تو تقسیم صحیح ہے، ورنہ باطل ہے۔ کیونکہ نفع وہ ہوتا ہے جو اصل مال (رأس المال) سے زائد ہو، اور یہ زیادتی اصل مال کی سلامتی کے بعد ہی ثابت ہوتی ہے۔ مضاربت کے مال میں سے جو کچھ ضائع ہوگا وہ نفع میں سے شمار ہوگا نہ کہ اصل مال میں سے۔ حتیٰ کہ اگر دونوں نے اصل مال کی واپسی سے پہلے نفع تقسیم کر لیا، پھر (باقی ماندہ) مال مضارب کے ہاتھ میں ہلاک ہو گیا، تو وہ تقسیم باطل ہو جائے گی۔ جو کچھ رب المال وصول کر چکا ہے وہ اصل مال (رأس المال) مانا جائے گا، اور مضارب نے جو نفع کے نام پر لیا تھا وہ اسے واپس کرنا ہوگا، اور اگر وہ مضارب کے پاس ہلاک ہو گیا تو وہ اس کا ضامن ہوگا؛ کیونکہ جب یہ ظاہر ہو گیا کہ وہ نفع تھا ہی نہیں، تو رب المال اس کی ملکیت پر راضی نہ تھا، لہذا مضارب (اسے روکنے کی وجہ سے) گنہگار ٹھہرا۔ (مجمع الضمانات، ص 311، دار الکتاب الاسلامی)
نقد رقم اور تجارتی سامان کے درمیان شرکت کے جواز کا شرعی حیلہ بیان کرتے ہوئے علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں:" ولو كان من أحدهما دراهم، ومن الآخر عروض، فالحيلة في جوازه: أن يبيع صاحب العروض نصف عرضه بنصف دراهم صاحبه، ويتقابضا، ويخلطا جميعا حتى تصير الدراهم بينهما، والعروض بينهما، ثم يعقدان عليهما عقد الشركة فيجوز".ترجمہ:اگر ایک جانب سے دراہم ہو اور دوسری جانب سے سامان ہو تو ایسی شرکت کےجواز کا حیلہ یہ ہے کہ سامان کا مالک شریک اپنے نصف سامان کو اپنے ساتھی شریک کے نصف دراہم کے عوض بیچ دے، اور دونوں اس پر قبضہ کرلیں، اور دونوں کو ملا دیں تاکہ دراہم و سامان ان دونوں شرکاء کے درمیان مشترک ہوجائیں، اب اس پر شرکۃ العقد کا عقد عمل میں لائیں لہذا یہ عمل جائز ہوجائے گا۔(بدائع الصنائع،کتاب الشرکۃ،فصل فی بیان شرائط جواز انواع الشرکۃ،6/59،دار الکتب العلمیۃ بیروت)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:6 رمضان المبارک 1447ھ/24 فروری 2026ء