سوال
مردوں کا کوٹ پینٹ کے ساتھ bow ٹائی پہننے کاکیا شرعی حکم ہے؟
سائل: عبد اللہ، واٹس ایپ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
کوٹ پینٹ کے ساتھ بو ٹائی پہننا کافروں کا لباس سمجھا جاتا ہے اور کافروں جیسے لباس پہننے میں تشبہ بحکم قرآنی ممنوع ہے، ارشاد باری تعالی ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا. ترجمہ: اے ایمان والو ان کافروں کی طرح نہ ہونا (آل عمران:156) ۔البتہ ممنوع تشبہ وہ ہے جو کافروں کے ساتھ خاص ہو، کہ دیکھنے والا اس لباس وہیئت میں اُسے کافر سمجھے، جبکہ ہمارےدور میں کوٹ پینٹ یا پینٹ کے ساتھ بو ٹائی پہننا کافروں کے ساتھ خاص نہیں کہ بعض شادی بیاہ، ولیموں کی تقریبات یا ہوٹلوں میں ویٹر وغیرہ اسی قسم کا لباس پہنتے ہیں اور انہیں اس لباس میں کوئی بھی کافر ہونے کا دھوکا نہیں کھاتا، لہذا اب یہ لباس تشبہ سے نکل چکا ہے۔البتہ پھر بھی یہ لباس چونکہ شرفاء قوم کا نہیں بلکہ فاسقوں کا لباس ہے، تو اس صورت میں ایسا لباس پہننا جائز مگر شریعت کو ناپسندیدہ ہے۔
دلائل و جزئیات:
تشبہ کی تحقیق میں امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”اس جنس مسائل میں حقِ تحقیق وتحقیقِ حق یہ ہے کہ تشبہ دو وجہ پرہے: التزامی ولزومی، التزامی یہ ہے کہ یہ شخص کسی قوم کے طرزووضع خاص اسی قصد سے اختیارکرے کہ ان کی سی صورت بنائے ان سے مشابہت حاصل کرے حقیقۃً تشبہ اسی کانام ہے فان معنی القصد والتکلف ملحوظ فیہ کمالایخفی (اس لئے کہ قصداورتکلف کے مفہوم کااس میں لحاظ رکھاگیاہے جیساکہ پوشیدہ نہیں) اور لزومی یہ کہ اس کاقصد تو مشابہت کانہیں مگروہ وضع اس قوم کاشعارخاص ہورہی ہے کہ خواہی نخواہی مشابہت پیداہوگی۔
التزامی میں قصد کی تین صورتیں ہیں:
اول یہ کہ اس قوم کومحبوب ومرضی جان کر اُن سے مشابہت پسند کرے ،یہ بات اگرمبتدع کے ساتھ ہو،(تو) بدعت اور کفّار کے ساتھ(ہو ،تو) معاذاﷲ کفر، حدیث ’’من تشبہ بقوم فھو منھم‘‘(جو کسی قوم سے مشابہت اختیارکرے تو وہ ، انہی میں سے شمارہوگا) حقیقۃً صرف اسی صورت سے خاص ہے۔غمزالعیون والبصائر میں ہے: "اتفق مشائخنا ان من رأی امرالکفار حسنا فقد کفر حتّٰی قالوا فی رجل قال ترک الکلام عند اکل الطعام حسن من المجوس اوترک المضاجعۃ عندھم حال الحیض حسن فہوکافر".ترجمہ:ہمارے مشائخ کرام کاا س پر اتفاق ہے کہ جو کوئی کافروں کے کسی کام کواچھا سمجھے تو وہ بلاشبہہ کافرہوجاتاہے یہاں تک کہ انہوں نے فرمایا کہ جوکوئی کھانا کھاتے وقت باتیں نہ کرنے کو اور حالت حیض میں عورت کے پاس نہ لیٹنے کو مجوسیوں اور آتش پرستوں کی اچھی عادت کہے تو وہ کافرہے۔
دوم: کسی غرض مقبول کی ضرورت سے اسے (تشبہ ) اختیارکرے وہاں اس وضع کی شناعت اور اس غرض کی ضرورت کاموازنہ ہوگا اگرضرورت غالب ہوتو بقدرضرورت کاوقت ضرورت یہ تشبیہ کفرکیا معنی ممنوع بھی نہ ہوگا جس طرح صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے مروی کہ بعض فتوحات میں مقتول رومیوں کے لباس پہن کر بھیس بدل کر کام فرمایا او ر اس ذریعہ سے کفار اشرار کی بھاری جماعتوں پرباذن اﷲ غلبہ پایا اسی طرح سلطان مرحوم صلاح الدین یوسف اناراﷲ تعالٰی برہانہ کے زمانے میں جبکہ تمام کفار یورپ نے سخت شورش مچائی تھی دوعالموں نے پادریوں کی وضع بناکر دورہ کیا اور اس آتش تعصب کوبجھادیا۔خلاصہ میں ہے:"لوشد الزنار علی وسطہ ودخل دارالحرب لتخلیص الاساری لایکفر ولودخل لاجل التجارۃ یکفر ذکرہ القاضی الامام ابوجعفر الاستروشنی".ترجمہ:اگر کوئی شخص اپنی کمر میں زُنّار باندھے او رقیدیوں کو چھڑانے کے لئے دارحرب میں داخل ہوتو کافر نہیں ہوگا او راگر اس مدت میں تجارت کے لئے جائے توکافرہوجائے گا۔ امام ابوجعفر استروشنی نے اس کو ذکرکیاہے۔ملتقط میں ہے: "اذا شد الزنار او اخذ الغل اولبس قلنسوۃ المجوس جادا اوھازلا یکفر الا اذا فعل خدیعۃ فی الحرب".ترجمہ:جب کسی شخص نے زُنّار باندھا یاطوق لیا یا آتش پرستوں کی ٹوپی پہنی خواہ سنجیدگی کے ساتھ یاہنسی مذاق کے طور پر توکافرہوگیا، مگرجنگ میں (دشمن کومغالطے میں ڈالنے کے لئے) بطورتدبیر ایسا کرے توکافرنہ ہوگا۔منح الروض میں ہے:"ان شد المسلم الزنار ودخل دارالحرب للتجارۃ کفرای لانہ تلبس بلباس کفر من غیر ضرورۃ شدیدۃ و لافائدہ مترتبۃ بخلاف من لبسھا لتخلیص الاساری علی ماتقدم".ترجمہ: اگرمسلمان زنّار باندھ کر دارالکفرمیں کاروبار کیلئے جائے توکافر ہوجائے گا اس لئے کہ اس نے بغیر کسی شدید مجبوری کے اور بغیر کسی ترتب فائدہ کے لباس کفرپہنا(جو اس کے لئے روانہ تھا) بخلاف اس شخص کے جس نے قیدیوں کو آزاد کرانے کے لئے لباس کفر(برائے حیلہ) استعمال کیا، جیسا کہ پہلے ذکرہوا۔
سوم: نہ تو اُنہیں اچھاجانتا ہے نہ کوئی ضرورتِ شرعیہ اس پرحامل ہے، بلکہ کسی نفع دنیوی کے لئے یایوہیں بطورِہزل واستہزاء اس کامرتکب ہوا، توحرام وممنوع ہونے میں شک نہیں اور اگروہ وضع اُن کفارکامذہبی دینی شعارہے، جیسے زنّار، قشقہ، چُٹیا، چلیپا، تو علماء نے اس صورت میں بھی حکمِ کفردیا کما سمعت اٰنفا (جیسا کہ تم نے ابھی سنا) اور فی الواقع صورتِ استہزاء میں حکمِ کفر ظاہرہے کما لا یخفی (جیساکہ پوشیدہ نہیں)۔ اور (تشبہ) لزومی میں بھی حکمِ ممانعت ہے ،جبکہ اکراہ وغیرہ مجبوریاں نہ ہوں جیسے انگریزی منڈا، انگریزی ٹوپی، جاکٹ، پتلون، اُلٹاپردہ، اگرچہ یہ چیزیں کفار کی مذہبی نہیں مگرآخرشعار ہیں تو ان سے بچنا واجب اور ارتکاب گناہ۔ ولہٰذا علماء نے فسّاق کی وضع کے کپڑے موزے سے ممانعت فرمائی۔فتاوٰی خانیہ میں ہے: "الاسکاف اوالخیاط إذا استوجر علی خیاطۃ شیئ من زی الفساق ویعطی لہ فی ذٰلک کثیراجر لایستحب لہ ان یعمل لانہ اعانۃ علی المعصیۃ". ترجمہ: موچی یادرزی فسّاق وفجّار کی وضع کے مطابق معمول سے زیادہ اُجرت پرلباس تیارکرے تو اس کے لئے یہ کام مستحب نہیں اس لئے کہ یہ گناہ پر امداد واعانت ہے۔
مگر اس کے تحقق کو اس زمان ومکان میں ان کاشعار خاص ہونا قطعاً ضرور جس سے وہ پہچانے جاتے ہوں اور ان میں اور ان کے غیر میں مشترک نہ ہو ورنہ لزوم کا کیا محل، ہاں وہ بات فی نفسہٖ شرعاً مذموم ہوئی تو اس وجہ سے ممنوع یامکروہ رہے گی نہ کہ تشبّہ کی راہ سے، امام قسطلانی نے مواہب لدنیہ میں دربارہ طیلسان کہ پوشش یہود تھی فرماتے ہیں: "اما ماذکرہ ابن اقیم من قصۃ الیہود فقال الحافظ ابن حجر انما یصح الاستدلال بہ فی الوقت الذی تکون الطیالسۃ من شعارھم وقد ارتفع ذٰلک فی ھذہ الازمنۃ فصار داخلا فی عموم المباح وقد ذکرہ ابن عبدالسلام رحمہ اﷲ تعالٰی فی امثلۃ البدعۃ المباحۃ".ترجمہ: رہایہ کہ جوکچھ حافظ ابن قیم نے یہودیوں کاواقعہ بیان کیاہے تو اس بارے میں حافظ ابن حجر نے فرمایا کہ یہ استدلال اس وقت درست تھا جبکہ مذکورہ چادر اُن کا (مذہبی) شعار ہواکرتی تھی لیکن اس دَور میں یہ چیز ختم ہورہی ہے لہٰذا اب یہ عموم مباح میں داخل ہے، چنانچہ علامہ ابن عبدالسلام رحمۃ اﷲ علیہ نے اس کو بدعت مباح کی مثالوں میں ذکرفرمایاہے۔امام اجل فقیہ النفس فخرالملۃ والدین قاضی خاں پھر امام محمد ابن الحاج حلبی حلیہ شرح منیہ فصل مکروہات الصلوٰۃ پھر علامہ زین بن نجیم مصری بحرالرائق پھر علامہ محمد بن علی دمشقی درمختارمیں فرماتے ہیں: "التشبہ باھل الکتاب لایکرہ فی کل شیئ فانا ناکل ونشرب کما یفعلون ان الحرام التشبہ بھم فیما کان مذموما اوفیما یقصد بہ التشبه".ترجمہ:ہرچیز میں اہل کتاب سے مشابہت مکروہ نہیں جیسے کھانے پینے وغیرہ کے طورطریقے میں کوئی کراہت نہیں۔ ان سے تشبہ ان کاموں میں حرام ہے جومذموم یعنی برے ہیں یاجن میں مشابہت کاارادہ کیاجائے۔علامہ علی قاری منح الروض میں فرماتے ہیں: "اناممنوعون من التشبیہ بالکفرۃ واھل البدعۃ المنکرۃ فی شعارھم لامنھیون عن کل بدعۃ ولوکانت مباحۃ سواء کانت من افعال اھل السنۃ اومن افعال الکفر واھل البدعۃ فالمدار علی الشعار". ترجمہ:ہمیں کافروں اورمنکر بدعات کے مرتکب لوگوں کے شعار کی مشابہت سے منع کیاگیاہے ہاں اگر وہ بدعت جو مباح کادرجہ رکھتی ہو اس سے نہیں روکاگیا خواہ وہ اہل سنت کے افعال ہوں یاکفار اوراہل بدعت کے۔ لہٰذا مدارِکارشعار ہونے پرہے۔
فتاوٰی عالمگیری میں محیط سے ہے: "قال ھشام فی نوادرہ ورأیت علی ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی نعلین محفوفین بمسامیر الحدید فقلت لہ اتری بھٰذا الحدید بأسا قال لافقلت لہ ان سفین و ثوربن یزید کرھا ذٰلک لانہ تشبہ بالرھبان فقال ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یلبس النعال التی لہا شعور وانھا من لباس الرھبان".ترجمہ: ہشام نے نوادر میں فرمایا میں نے امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کوایسے جوتے پہنے ہوئے دیکھا جن کے چاروں طرف لوہے کی کیلیں لگی ہوئی تھیں، میں نے عرض کی، کیاآپ اس لوہے سے کوئی حرج سمجھتے ہیں؟ توفرمایا کہ نہیں، میں نے عرض کی لیکن سفیان اورثوربن یزیدتو انہیں پسندنہیں فرماتے کیونکہ ان میں عیسائی راہبوں سے مشابہت پائی جاتی ہے۔ امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایسے جوتے پہنتے تھے جن کے بال ہوتے تھے حالانکہ یہ بھی عیسائی راہبوں کالباس تھا الخ۔اس تحقیق سے روشن ہوگیا کہ تشبُّہ وہی ممنوع ومکروہ ہے جس میں فاعل کی نیت تشبہ کی ہو یاوہ شے ان بدمذہبوں کاشعارِخاص یافی نفسہ شرعاً کوئی حرج رکھتی ہو، بغیر ان صورتوں کے ہرگز کوئی وجہ ممانعت نہیں۔ (فتاوی رضویہ، 24/530-534، رضا فاؤنڈیشن،لاھور)
تشبہ میں شعار کے متعلق فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی (المتوفی:1422ھ) فرماتے ہیں:’’ غیر مسلم کی ہر وہ چیز جو ان کے لیے اس طرح خاص ہو کہ اگر مسلم اسے استعمال کرے تو اس پر غیرمسلم ہونے کا دھوکا ہو‘‘۔ (فتاوی فیض الرسول،2/600، شبیر برادرز لاہور) ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:29شعبان المعظم 1447ھ/18فروری 2026ء