سوال
میرانام سید آصف حسین ہے ، میں نے 5 جولائی 2019 کو اپنی بیوی کو تین سے بھی زائد طلاق دے دی ہیں۔میں نے اس کو کہا میں تجھے طلاق دیتا ہوں ، میں تجھے طلاق دیتا ہوں ، میں تجھے طلاق دیتا ہوں۔ کیا یہ طلاقیں واقع ہوگئیں یا شریعت میں گنجائش ہے؟
سائل: سید آصف حسین بخاری: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
آپکی بیوی کو تین طلاقیں واقع ہوگئیں ،اور ان تین طلاقوں سے وہ آپ پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی،اور تین سے زائد دی گئی طلاقیں لغو ہوگئیں : بدائع الصنائع میں ہے:رُوِيَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ بَعْضَ آبَائِهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ أَلْفًا فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «بَانَتْ بِالثَّلَاثِ فِي مَعْصِيَةٍ وَتِسْعُمِائَةٍ وَسَبْعَةٌ وَتِسْعُونَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ» ترجمہ: حضرت عبادہ بن صامت سے مروی ہے کہ ان کے بڑوں میں سے کسی نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دیں،یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی گئی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تین طلاقوں سے انکی بیوی ان پر حرام ہوگئی ، جبکہ ان پر گناہ باقی ہے اور نوسو ستانوے طلاقوں کا وہ مالک نہیں یعنی وہ لغو ہوگئیں ۔(بدائع الصنائع کتاب الطلاق فصل فی حکم الطلاق جلد3ص 69)
اسی طرح یہاں بھی پہلی تین واقع ہوگئیں ان تین سے بیوی حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی جو تین سے زائد طلاقیں دی گئیں وہ سب لغو ہوگئیں،کیونکہ وہ ان تین طلاقوں کے بعد طلاق کا محل نہ رہی ۔
البنایہ شرح الہدایہ میں ہے:(إذا طلقها الزوج ألفاً): فإن الثلاث يقع، والباقی لغو لأنه لا يملكه شرعاً: ترجمہ: جب شوہر نے بیوی کو ہزار طلاقیں دی تو تین واقع ہوجائیں گی اور باقی لغو ہوجائیں گی کیونکہ وہ شرعا انکا مالک نہیں ہے۔( البنایہ شرح الہدایہ کتاب الطلاق باب تفویض الطلاق جلد5ص396)
اب آپ دونوں ایک دوسرے پر حرام ہیں ، اب اگر دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے اللہ تعالی کے حکم حلالہ شرعی پر عمل کرنا ہوگا ، ارشاد باری تعالی ہے:فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ'' ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ،پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدیث ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ''( البقرہ 230)
امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ المنان حلالہ کی وضاحت میں فرماتے ہیں :'' حلالہ کے یہ معنیٰ ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سے نکلے گی اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعدطلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''۔ ( فتاوی رضویہ کتاب الطلاق جلد 12ص 84)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:27 ذوالقعدہ1440 ھ/31 جولائی2019 ء