بلا تعیین کام پر اجرت مثل اور آئمہ کا مسجد کی سہولیات کا ذاتی استعمال
    تاریخ: 26 نومبر، 2025
    مشاہدات: 29
    حوالہ: 291

    سوال

    (۱)زید ایک جامع مسجد کا خطیب ہے اور بکر امام ہے۔ اب اتفاق سے زیدخطیب کی وفات ہو گئی ہے اور انتظامیہ نے بکر امام کو ہی خطیب زید والی ذمہ داری سونپ دی ہے اور زید خطیب کی جو الگ تنخواہ تھی اس سے بکر جو موجودہ امام و خطیب ہے کو محروم رکھا ہوا ہے اور سابقہ تنخواہ پر مکتفی بنایا ہوا ہے۔دریافت طلب یہ امر ہے کہ بکر امام و خطیب کا خطابت کی تنخواہ کا مطالبہ شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟ اور انتظامیہ کا یہ رویّہ از روئے شرع شریف کیسا ہے ؟

    (۲)زید ایک جامع مسجد کا امام و خطیب ہے۔مسجد انتظامیہ کی جانب سے زید کو رہائش کی سہولت دی گئی ہے اور بجلی و گیس کے بل ادا کرنے کی بھی حامی بھری گئی ہے۔زید کا ایک ذاتی دینی ادارہ ہے جس کے ہاسٹل میں رہائش پزیر طلبہ کا کھانا اسی مسجد والی رہائش میں تیار ہوتا ہے اور یہ سلسلہ کم و بیش تین سے چار سال سے چلا آرہا ہے اور اب انتظامیہ زید امام وخطیب سے گیس کے بل کا مطالبہ کررہی ہے۔آیا انتظامیہ کا یہ مطالبہ شرعی و اخلاقی طور پر جائز ہے یا ناجائز ؟۔بیان فرمائیے اجر پائے ۔

    سائل: حافظ محمد ندیم عزیزی، گوجرہ۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    (۱)بکر امام و خطیب کا خطابت کی تنخواہ کا مطالبہ جائز ہے۔البتہ چونکہ یہ اجرت طے نہیں ہوئی تو انتظامیہ پر اجرتِ مثل لازم ہے کہ بکر کو یہ تنخواہ بھی دی جائے۔ اجرتِ مثل یعنی جتنی تنخواہ ان خطیب حضرات کو دی جاتی ہےجو ساتھ میں امامت کے فرائض بھی انجام دیتے ہوں کہ محض خطیب اور ایسے خطیب جو امام بھی ہوں ان کی تنخواہوں میں فرق ہوتا ہے۔

    اوّلاً ضرورت شرعی کی وجہ سے خطیب کا بیان کی اجرت لینا جائز ہے۔ثانیاً جس کام کے کرنے پر اجرت کا لین دین معروف ہو جیسا کہ خطابت کی اجرت ملنا معروف ہے،اس میں اجرت طے کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ اجارہ ہے اور اجارے میں اجرت طے نہ کرنا نزاع کا باعث بن سکتا ہے جس سے شریعتِ مطہرہ نے منع فرمایا ہے۔ اگر اجرت طے نہ کی اور کام لے لیا جائے تو اجرتِ مثل لازم ہوتی ہے۔

    (۲)انتظامیہ کا مطالبہ شرعاً و اخلاقاً دونوں طرح جائز ہے۔بلکہ سابقہ جتنے بھی عرصے ہاسٹل کا کھانا بنایا گیا اس کا گیس بل بھی زید کے ذمے لازم ہے، نہ دیں گے تو سخت گنہگار ہونگے۔

    آئمہ حضرات کو مسجد میں رہائش اور یوٹیلیٹی بلز وغیرہ کی سہولیات ذاتی استعمال کیلئے دی جاتی ہیں۔بعض مولوی کہلانے والے لوگ جنہیں کوئی خوف خدا نہیں ہوتا ،مسجد کی طرف سے ملنے والی سہولیات اپنے بیوی بچوں کے علاوہ پورے کنبے کو بے دریغ استعمال کی اجازتِ مطلقہ بانٹتے اور شرعی حدود کی پامالی کرتے ہیں۔اسی کی ایک مثال پوچھی گئی صورت ہے کہ جو سہولیات زید اور ان کے بیوی بچوں کیلئے دی گئیں اسے اپنے ادارے کیلئے استعمال کیا گیا۔لہذا اجازت سے زائد گیس کے استعمال پر غصب ثابت ہوا ۔چونکہ مالِ وقف کے مغصوبہ منافع پر ضمان لازم ہوتا ہے اور یہ غصب مال ِ وقف میں ہوا کہ یہ سہولیات مال وقف سے دی گئیں تو زید پر سابقہ عرصے کے گیس بل کا ضمان لازم ہوگا۔

    دلائل و جزئیات:

    خطابت و عظ کی اجرت کے متعلق امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’اصل حکم یہ ہے کہ وعظ پر اجرت لینی حرام ہے۔ درّمختار میں اسے یہود و نصاریٰ کی ضلالتوں میں سے گِنا مگر ’’کم مّن احکام یختلف باختلاف الزّمان، کما فی العٰلمگیریۃ‘‘ (بہت سے احکام زمانہ کے اختلاف سے مختلف ہوجاتے ہیں جیسا کہ عالمگیریہ میں ہے) کلیہ غیرِ مخصوصہ کہ طاعات پر اُجرت لینا ناجائز ہے ائمہ نے حالاتِ زمانہ دیکھ کر اس میں سے چند چیزیں بضرورت مستثنٰی کیں: امامت، اذان، تعلیمِ قرآنِ مجید، تعلیمِ فقہ، کہ اب مسلمانوں میں یہ اعمال بلانکیر معاوضہ کے ساتھ جاری ہیں، مجمع البحرین وغیرہ میں ان کا پانچواں وعظ گنا و بس۔ فقیہ ابواللیث سمرقندی فرماتے ہیں، میں چند چیزوں پر فتوٰی دیتا تھا، اب ان سے رجوع کیا، ازانجملہ میں فتوٰی دیتا تھا کہ عالم کو جائز نہیں کہ دیہات میں دورہ کرے اور وعظ کے عوض تحصیل کرے مگر اب اجازت دیتا ہوں، لہٰذا یہ ایسی بات نہیں جس پر نکیر لازم ہو۔ واللہ تعالٰی اعلم‘‘۔ (فتاویٰ رضویہ،19/538،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ’’بعض علماء نے وعظ کو بھی ان امورِ مستثنیٰ میں داخل کیا جن پر اس زمانہ میں اخذِ اجرت (اجرت لینا) مشائخِ متاخرین نے بحکم ِضرورت جائز رکھا‘‘۔ (فتاویٰ رضویہ،19/435،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    بلا تعینِ اجرت اجارہ کے متعلق سیدی امام اہلسنت رحمہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:’’ اجارہ جو امرِ جائز پر ہو وہ بھی اگر بے تعینِ اجرت ہو تو بوجہِ جہالت اجارہ فاسدہ اور عقد حرام ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ، 19/529،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    آپ علیہ الرحمہ مزید فرماتے ہیں:’’اجارہ فاسدہ میں بھی بعد استیفائے منفعت اجرت،کہ یہاں وہی اجر مثل ہے واجب ہوتی ہے۔درمختارمیں ہے: حکم الفاسد وجوب اجر المثل بالاستعمال.ترجمہ: فاسد اجارہ کا حکم یہ ہے کہ استعمال کرلینے پر مثل اجرت واجب ہوتی ہے۔ بلکہ منیہ وقنیہ وجامع الرموز و محیط غرر الافکار وغیرہا کی رو سے اس ملک میں خبیث بھی نہیں ہوتا۔ اجیر کے لئے طیب ہوتی ہے اگرچہ اصل عقد گناہ وفاسد تھا۔ردالمحتارمیں ہے: الاجر یطیب وان کان السبب حراما کذا فی المنیۃ قہستانی اھ الخ. ونقل منہ مثلہ السید الحموی فی غمز العیون عن القنیۃ ثم عقبہ بقولہ لم یذکر وجہہ فلینظراھ .وذکر الشامی عن منح الغفار الاشمس الائمۃ الحلوائی قال تطیب الاجرۃ فی الاجارۃ الفاسدۃ اذا کان اجر المثل وذکر فی المسئلۃ قولین واحدھما اصح فراجع نسخۃ صحیحۃاھ.ترجمہ: اجرت حلال ہے اگرچہ سبب حرام ہو، جیسا کہ منیہ میں ہے، قہستائی الخ، اور سید حموی نے غمز العیون میں قنیہ سے ا س کی مثل نقل کیا ہے، اور پھر اس کے بعد ذکر کیاکہ انہوں نے اس کی وجہ ذکر نہ کی توغور کرناچاہئے اھ۔علامہ شامی نے منح الغفار سے نقل کیا ہے کہ شمس الائمہ حلوائی نے فرمایا ہے کہ اجارہ فاسدہ میں اجرت حلال ہے جب وہ مثلی اجر ت کے برابر ہوں اور انہوں نے مسئلہ میں دو قول ذکرکئے اور دونوں میں ایک اصح ہے تو صحیح نسخہ کی مراجعت چاہئے‘‘۔(فتاوی رضویہ،19/535،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    وقف کے مالِ مغصوبہ کا نفع غاصب کیلئے حلال نہیں اس کا ضمان واجب ہے،الدر المختار میں ہے:" (وَ) بِخِلَافِ (مَنَافِعِ الْغَصْبِ اسْتَوْفَاهَا أَوْ عَطَّلَهَا) فَإِنَّهَا لَا تُضْمَنُ عِنْدَنَا (إلَّا) (أَنْ يَكُونَ) (وَقْفًا) (أَوْ مَالَ يَتِيمٍ) (أَوْ مُعَدًّا) (لِلِاسْتِغْلَالِ) بِأَنْ بَنَاهُ لِذَلِكَ أَوْ اشْتَرَاهُ لِذَلِكَ قِيلَ أَوْ آجَرَهُ ثَلَاثَ سِنِينَ عَلَى الْوَلَاءِ".ترجمہ:بر خلاف غصب کے منافع کے چاہے وہ وصول کرلئے ہوں یا انہیں معطل چھوڑ دیا ہوہمارے نذدیک ان منافع کا ضمان نہیں سوائے یہ کہ شے مغصوبہ وقف ہو یا مال یتیم ہو یا اسے کرایہ حاصل کرنے کیلئے بنایا ہو،یعنی شے مغصوبہ کو غلہ حاصل کرنے کیلئے ہی بنایا گیا ہو یا اسے اسی مقصد کیلئے خریدا گیا ہو،ایک قول کے مطابق اسے مسلسل تین سال کے کرایہ پر دیا ہو،ملخصاً۔(الدر المختار،کتاب الغصب، 6/205،دار الفکر بیروت)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:28ذو الحجہ1445 ھ/5 جولائی 2024ء