سوال
ہمارے ملک پاکستان میں جو نہری نظام ہے ۔اس میں جس کی جتنی زمین ہوتی ہے مختلف علاقوں کے حساب سے پانی کی تقسیم کاری ہے۔ملتان میں ایک علاقہ بستی لابر کا ہے جس میں فی ایکڑ کے حساب سے 14 منٹ کسان کو اس کی ملکیت زمین کے مطابق پانی دیا گیا ہے۔اس علاقے میں جس کا جتنا پانی ہے وہ یا تو اپنی زمین میں لگاتا ہے یا ضرورت نہ ہونے پر فروخت کردیتا ہے۔
بعض اوقات کچھ زمینوں میں گڑھے ہوجاتے ہیں جن کی وجہ سے پانی آگے دیگر لوگوں کی زمینوں میں جانے کا راستہ نہیں ہوتا،اس وجہ سے وہ زمیندار جن کی زمینوں میں پانی نہیں پہنچ پاتا ۔وہ پیچھے زمین والے کو اپنی باری کا پانی فروخت کردیتے ہیں۔
پھر اس فروخت کی دو صورتیں ہوتی ہیں: (۱)1600 روپے فی گھنٹہ ہر ہفتے کی باری پر نہر بہہ رہی ہو تو پانی کی رقم ملتی ہے ورنہ نہیں ۔ (۲)800 روپے فی گھنٹہ 12 ماہ کے لیے معاہدہ کر لیا جاتا ہے نہر ایک ماہ بند ہو یا زیادہ بند ہو یا نہ ہو مالکِ پانی رقم لے گا ۔اس میں کونسا طریقہ صحیح ہے ۔
سائل: ماسٹر محمد طارق عطاری۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
حکومت کی جانب سے ملنے والے پانی کی باری بیچنا مذکورہ دونوں طریق سے جائز ہے۔کیونکہ یہ حقّ شرب کی بیع ہےجو کہ تعامل کی بناء پر جائز ہے۔اب یہ معاہدہ ہفتہ وار ہو یا سالانہ، دونوں درست ہے کہ یہ باری بیچنے کا وعدہ ہے، لہذا جیسے جیسے پانی ملے گا، ویسے ویسے بطور تعاطی بیع ہوتی جائے گی۔اور جب پانی نہ ملے تو اس کی رقم بھی نہ دے کہ یہ فی الحال بیع نہیں کہ ثمن (قیمت) لازم ہوجائے بلکہ وعدہ بیع اور پانی ملنے کے وقت بغیر لفظی ایجاب و قبول کے مبیع وصول کرکے ثمن ادا کرنا ہے۔لہذا مالک زمین کا پانی نہ ملنے کے باوجود رقم کا مطالبہ کرنا جائز نہیں۔
تفصیلِ مسئلہ:
مال کاقابلِ ذخیرہ مادی ہونا لازم ہے اسی بنا پر کتب فقہیہ میں حق تعلّی ،حق شرب ،حق تسییل و غیرہ حقوق کی بیع و شرا ء کو ناجائز قرار دیا گیا ہے کہ یہ منافع ہیں جو مادی نہیں ہیں۔پھر حقوق مجردہ (جو محل میں متقرر نہ ہو اور صاحب حق کو صرف ولایت تملک حاصل ہو نہ کہ ولایت تملیک اور اس کا ثبوت اصالۃ ًنہ ہو بلکہ صرف رفع ضرر کے لئے ہو)کا عوض لینا جائز نہیں اور حق شرب حقوق مجردہ سے ہےکہ اس میں صرف ولایت تملک حاصل ہوتی ہے۔لہذا حق شرب کا عوض لینا جائز نہیں۔لیکن اگر زمین کی تبعیت میں اس حق کا عوض لیا جائے تو متفقہ طور پر جائز ہے۔البتہ مشائخِ بلخ نے حق شرب کی بلا تبعیت اصالۃً بیع کو جائز قرار دیا ہے، لیکن اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کے نزدیک حقوق مال ہیں بلکہ اس کی وجہ تعامل ہے۔
دلائل و جزئیات:
حقِّ شرب کے متعلق شمس الآئمہ محمد بن احمد السرخسی (المتوفی:483ھ) فرماتے ہیں:"وَبَعْضُ الْمُتَأَخِّرِينَ مِنْ مَشَايِخِنَا - رَحِمَهُمُ اللَّهُ - أَفْتَى أَنْ يَبِيعَ الشِّرْبَ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ أَرْضٌ لِلْعَادَةِ الظَّاهِرَةِ فِيهِ فِي بَعْضِ الْبُلْدَانِ، وَهَذِهِ عَادَةٌ مَعْرُوفَةٌ بِنَسَفَ قَالُوا الْمَأْجُورُ الِاسْتِصْنَاعُ لِلتَّعَامُلِ، وَإِنْ كَانَ الْقِيَاسُ يَأْبَاهُ فَكَذَلِكَ بَيْعُ الشِّرْبِ بِدُونِ الْأَرْضِ".ترجمہ: ہمارے بعض مشائخِ متاخرین نے بعض شہروں میں عرف ظاہری کی وجہ سے تنہا شرب کی بیع کے جواز کافتویٰ دیاہے اگر چہ اس کے ساتھ زمین نہ ہواور یہ دیار نسف کاعرف ہے۔فقہاء نے فرمایا کہ استصناع کی بیع کاجو از تعامل ناس کی وجہ سے ہے اگر چہ قیاس کاتقاضا جواز کانہیں ہے اسی طرح بلا زمین محض شرب کی بیع خلاف قیاس ہونے کے باوجود تعامل کی وجہ سے جائز ہے۔(المبسوط للسرخسی،کتاب الشرب،23/171،دارالمعرفۃ)
علامہ کمال الدین محمد بن عبد الواحد ابن الہمام (المتوفی:861ھ) فرماتے ہیں:"وَجَوَّزَهُ مَشَايِخُ بَلْخٍ كَأَبِي بَكْرٍ الْإِسْكَافِيِّ وَمُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ؛ لِأَنَّ أَهْلَ بَلْخٍ تَعَامَلُوا ذَلِكَ لِحَاجَتِهِمْ إلَيْهِ، وَالْقِيَاسُ يُتْرَكُ بِالتَّعَامُلِ".ترجمہ:مشائخ بلخ امام ابو بکر اسکافی اور امام محمد بن سلمۃ رحمہ اللہ نے حق شرب کی اصالتاً جائز قرار دیا کیونکہ اہل بلخ کی اس کی احتیاج کی وجہ سے اس پر ان کا تعامل جاری تھا لہذا تعامل کی وجہ سے قیاس کو چھوڑ دیا جائےگا۔(فتح القدیر،کتاب البیوع،باب بیع الفاسد،6/428،دار الفکر)
خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"(قَوْلُهُ وَكَذَا بَيْعُ الشِّرْبِ) أَيْ فَإِنَّهُ يَجُوزُ تَبَعًا لِلْأَرْضِ بِالْإِجْمَاعِ، وَحْدَهُ فِي رِوَايَةٍ وَهُوَ اخْتِيَارُ بَلْخٍ؛ لِأَنَّهُ نَصِيبٌ مِنْ الْمَاءِ دُرَرٌ".ترجمہ:مصنف کا قول ’’اسی طرح حق شرب کی بیع جائز نہیں‘‘ یعنی بالاجماع زمین کی تبع میں حق شرب کی بیع جائز ہے۔اور ایک روایت میں اصالتاً بھی اس حق کی بیع جائز ہے یہی مشائخ بلخ کی اختیار کردہ ہے کیونکہ یہ حق پانی ہی سے ہے،درر ۔(رد المحتار،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب فی بیع الشرب،5/80،دار الفکر)
صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’بیع تعاطی جو بغیر لفظی ایجاب و قبول کے محض چیز لے لینے اور دیدینے سے ہو جاتی ہے یہ صرف معمولی اشیا ساگ ترکاری وغیرہ کے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ بیع ہر قسم کی چیزنفیس و خسیس سب میں ہوسکتی ہے اور جس طرح ایجاب و قبول سے بیع لازم ہو جاتی ہے یہاں بھی ثمن دیدینے او ر چیز لے لینے کے بعد بیع لازم ہو جائے گی کہ بغیر دوسرے کی رضا مندی کے ردکرنے کا کسی کو حق نہیں۔(بہار شریعت،2/623،مکتبۃ المدینۃ کراچی)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:25 ذو الحجہ1445 ھ/2 جون 2024ء