سوال
میرا نام اسماء ہے۔ مجھے آپ سے سے ایک مسئلے کا حل پوچھنا ہے۔ہمارے والد صاحب نے اپنی جائداد میں سے اپنے ایک بیٹے عاق کر دیا تھا۔ انہوں نے ایک پیپر پر لکھ دیا تھا۔ان کے انتقال کے بعد وہ پیپر میری بہن شمائلہ کو ملا۔میری بہن نے والدہ کو کہا یہ پیپر میں پھاڑ دیتی ہوں،میری والدہ نے روک دیا کہ نہیں پھاڑو۔ان کے انتقال کے بعد شمائلہ نے پیپر پھاڑ دیا۔اس کا علم ہم سب بہنوں کو ہےبھائیوں کو نہیں۔جس بھائی کے نام وہ پیپر لکھا تھا آج وہی بھائی ہم سب بہنوں کو کچھ نہیں دینا چاہتا، فالتو باتیں کرکے ہم کو مارنے لگتا ہے کہ بات ختم ہو۔ میں یہ چاہتی ہوں کہ آپ اسلام کے مطابق مجھے یہ بتائیں کہ بھائی کا حق جائداد میں بنتا ہےیا نہیں؟
سائلہ: اسماء رفیق۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
عاق کا یہ معنی لینا کہ جائیداد سے بے دخل کردیا باطل ہےکہ وراثت اللہ واحد و قہّار کا دیا گیا حق ہےجسے باطل نہیں کیا جاسکتا۔لہذا دیگر ورثاء کی طرح والدین کی جائیداد میں بھائی کا بھی حق ہے۔البتہ بھائی کا اپنی بہنوں کو وراثت سے حصہ نہ دینا گناہ کبیرہ ،ظلم اورکفار کا طریقہ ہے۔لہذا انہیں چاہئے کہ رب عزّوجل کے عذاب سےڈریں اور ورثاء کو ان کا حصہ شرع کے مطابق تقسیم کریں۔
دلائل و جزئیات:
کسی کی میراث کا مال کھا جانا کفار کا طریقہ ہے،چنانچہ سورۃ الفجر میں ارشاد ہوا:"وَتَأْکُلُونَ التُّرَاثَ أَکْلًا لَمًّا وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاکَلَّا إِذَا دُکَّتِ الْأَرْضُ دَکًّا دَکًّا وَجَاء َ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِیء َ یَوْمَئِذٍ بِجَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الْإِنْسَانُ وَأَنَّی لَہُ الذِّکْرَی یَقُولُ یَا لَیْتَنِی قَدَّمْتُ لِحَیَاتِی فَیَوْمَئِذٍ لَا یُعَذِّبُ عَذَابَہُ أَحَدٌ وَلَا یُوثِقُ وَثَاقَہُ أَحَدٌ".ترجمہ: اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے گی اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار قطار (ہونگے)اور اس دن جہنّم لائی جائے اس دن آدمی سوچے گا اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں کہے گا ہائے کسی طرح میں نے جیتے جی نیکی آ گے بھیجی ہوتی تو اس دن اس کا سا عذاب کوئی نہیں کرتا اور اس کا سا باندھنا کوئی نہیں باندھتا۔ (الفجر :17تا 25)
ظلماً مال غصب کرنے پر حدیث پاک میں بڑی وعید آئی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :" مَنِ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا، طَوَّقَهُ اللهُ إِيَّاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ".ترجمہ:جو شخص(کسی کی) زمین کا ایک بالشت ٹکڑا بھی ظلماً (یعنی ناحق) لے گا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے (سزا کے طور پر) سات زمینوں کا طوق پہنائے گا۔(صحیح مسلم،کتاب الطلاق،باب تحريم الظلم وغصب الأرض وغيرہا،3/1230،رقم:1610،دار احیاء التراث العربی)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’بے علموں کے ذہن میں یہ ہے کہ جس طرح عورت کاعلاقہِ زوجیت قطع کرنے کے لئے شرع مطہر نے طلاق رکھی ہے کہ اس کا اختیار بدستِ شوہر ہے اور اس کے لئے کچھ الفاظ ہیں کہ جب شوہر سے صادر ہوں طلاق واقع ہو۔ یوں ہی اولاد کاعلاقہِ ولدیت قطع کرنے کے لئے عاق کرنا بھی کوئی شرعی چیز ہے جس کا اختیار بدستِ والدین ہے اور اس کے لئے بھی کچھ الفاظ مقررہیں کہ والدین ان کا استعمال کریں تو اولاد عاق ہوکر ترکہ سے محروم ہوجائے۔مگریہ محض تراشیدہ خیال ہیں، جس کی اصل شرع مطہر میں اصلاً نہیں، نہ علاقہِ ولدیت وہ چیز ہے کہ کسی کے قطع کئے منقطع ہوسکے، مگر معاذ ﷲ بحالتِ ارتداد والعیاذ باللہ تعالی۔شرع میں ’’عقوق‘‘ ناحق نافرمانیِ والدین کوکہتے ہیں، کہ یہ کارِ اولاد ہے، جوشخص اپنے ماں باپ کاحکم بے عذرِ شرعی نہ مانے گا یا معاذ اﷲ انہیں آزار پہنچائےگا وہی ’’عاق‘‘ ہے، اگرچہ والدین اسے عاق نہ کریں، بلکہ اپنی فرطِ محبت سے دل میں ناراض بھی نہ ہوں، مگر کوئی شخص ’’عاق‘‘ ہونے کے سبب ترکہ سے محروم نہیں ہوسکتا۔ اورجو فرمانبرداری والدین میں مصروف رہے اور وہ بے وجہ اس سے ناراض رہیں یابحکم ’’لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ ﷲ تعالٰی‘‘ کسی مخالفِ شرع بات میں ان کا کہا نہ مانے اور وہ اس سبب سے ناخوش ہوں تو ہرگزعاق نہیں۔
اور اگر کوئی شخص لاکھ بار اپنے فرماں بردار خواہ نافرمان بیٹے کو کہے کہ ’’میں نے تجھے عاق کیا‘‘ یا ’’اپنے ترکہ سے محروم کردیا‘‘ تو نہ اس کایہ کہنا کوئی نیا اثر پیدا کرسکتا ہے، نہ وہ بدیں وجہ ترکہ سے محروم ہوسکے۔ یہ شخص اگر اپنی جائداد اپنے بیٹے کو محروم کرنے کے لئے ان بے نکاحی عورت کے لڑکوں کو دے دے گا تو دنیا میں یہ کاروائی اس کی اگرچہ چل جائے مگر عند ﷲ ماخوذ ہوگا۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : من فرّ من میراث وارثہ قطع ﷲ میراثہ من الجنۃ ۔ رواہ ابن ماجہ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ‘‘۔(فتاوی رضویہ،26/85،رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:21ذو القعدہ 1445 ھ/30 مئی 2024ء