طلاق میں میاں بیوی کا اختلاف
    تاریخ: 26 نومبر، 2025
    مشاہدات: 39
    حوالہ: 289

    سوال

    محمد نظر صدیقی ولد قاضی محمد عمر مرحوم میں حلف لیتا ہوں کہ میں نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دی ہیں۔وہ کہتی ہے کہ آپ نے تین دی ہیں۔ ان کے پاس ایک گواہ ہیں، اس کے علاوہ کوئی نہیں۔جب میں نے دو طلاق دی میں نے کہا تھا اب بھی وقت ہے سوچ لینا۔میں گھر سے چلا گیا ۔ اس کے باوجود رجوع نہیں ہوا ۔میں ان کے پاس دوبارہ جانا چاہتا ہوں تاکہ ہم دونوں ایک ساتھ رہیں۔

    سائل: محمدنظر صدیقی،کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر صریح الفاظ (جن میں طلاق کا معنی واضح ہوتا ہے)سے طلاق دی تو قضاءً دو طلاق رجعی واقع ہوگئی ہیں۔طلاق رجعی کا حکم یہ ہے کہ شوہر کو عدت کے اندر اندر رجوع کا اختیار ہوتا ہے۔اگر عدت گزر گئی تو رجوع کیلئے نئے مہر کے ساتھ عورت کی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا لازم ہوگا اور شوہر کو ایک طلاق کا اختیار باقی رہے گا۔

    دورانِ عدت رجوع کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ شوہر گواہوں کے سامنے کہے کہ میں نے اپنی بیوی کونکاح میں واپس کیا ،البتہ اگر اپنی بیوی کو شہوت سے چھولے یا اس سے ازدواجی تعلق قائم کرلے تو بھی رجوع ہو جائے گا۔اب میاں بیوی دونوں کو بہت احتیاط سے رہنا ہوگا کہ اب شوہر کو صرف 1ایک طلاق کا حق حاصل ہو گا خدانخواستہ اگر زندگی میں کبھی بھی بقیہ 1 ایک طلاق دے دی تو حرمت مغلظہ کے ساتھ بیوی اس شوہر پرحرام ہو جائے گی اورتحلیلِ شرعی کے علاوہ واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔

    بیوی اس مسئلہ میں مدعیہ ہے (یعنی دعوی کرنے والی ہے) لہذا اس پر یہ لازم ہے کہ دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہیوں سے یہ ثابت کردے کہ شوہر نے تین طلاقیں دی ہیں،محض دعوی سے اس کی بات نہیں سنی جائے گی،جبکہ صورت مسؤولہ میں بیوی کے پاس صرف ایک گواہ ہے جو کہ نصابِ شہادت نہیں۔اور شوہر نے حلفیہ اس بات سے انکار بھی کیا ہے لہذا قضاءً شوہر کے قول کا اعتبار کیا جائے گا اور جھوٹے حلف کی صورت میں گناہ انہیں پر ہوگا۔البتہ اگر بیوی کو یقین ہے کہ تین طلاقیں ہوچکی ہیں تو عورت شرعی خلع (نہ کہ محض عدالتی) سے یا جس طرح بن پڑے شوہر سے رہائی حاصل کرے اور اگر شوہر کسی طرح چھوڑنے پر رضامند نہیں ہوتا تو اس کو اپنے اوپر قابو نہ دے اور اگر وہ زبردستی کرے تو دل سے جماع پر راضی نہ ہو، پھر سارا وبال شوہر پر ہوگا۔

    دلائل و جزئیات:

    الفتاوی الہندیۃ میں ہے :"وَإِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً رَجْعِيَّةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ فَلَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا فِي عِدَّتِهَا رَضِيَتْ بِذَلِكَ أَوْ لَمْ تَرْضَ كَذَا فِي الْهِدَايَةِ".ترجمہ: جب مرد نے اپنی عورت کو ایک یا دوطلاق رجعی دی تو عدت کے اندر عورت سے رجوع کر سکتا ہے خواہ عورت راضی ہو یانہ ہو اسی طرح ہدایہ میں ہے۔(الفتاوی الہندیۃ،کتاب الطلاق،الباب السادس فی الرجعۃ،1/470،دار الفکر بیروت)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’ طلاق رجعی ہے عورت نکاح سے نہ نکلے گی جب تک عدّت نہ گزرجائے۔ ایامِ عدت میں بے تجدید نکاح عورت سے رجعت کرسکتا ہے مثلازبان سے کہہ دے میں نے اسے اپنے نکاح میں پھر لیا، بدستور اس کی زوجیت میں باقی رہےگی جس میں عورت کی رضامندی بھی ضرور نہیں، اوراگر عدّت گزرگئی تو برضائے عورت اس سے ازسرنو نکاح کرسکتا ہے کچھ حلالہ کی حاجت نہیں جبکہ اس سے پہلے دو2 طلاقیں نہ دے چکا ہو‘‘ ۔(فتاوی رضویہ،12/447، رضا فاؤنڈیشن لاہو ر )

    نصاب شہادت کے متعلق اللہ رب العزّت کا ارشاد ہے:وَاسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ.ترجمہ: اور دو گواہ کرلو اپنے مردوں میں سے پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ایسے گواہ جن کو پسند کرو ۔ (البقرۃ: 282)

    رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا: "البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر".ترجمہ: مدعی پر گواہی اورمنکر پر قسم ہوتی ہے۔(مشکاۃ المصابیح،کتاب الامارۃ والقضاء،باب الاقضیۃ والشھادۃ،الفصل الاول،2/1110،رقم :3758،المکتب الاسلامی بیروت)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’بحالت اختلاف طلاق کا ثبوت گواہوں سے ہوگا اور دو۲ گواہ عادل شرعی شہادت بروجہ شرعی ادا کریں کہ اس شخص نے اپنی زوجہ کو طلاق دی طلاق ثابت ہوجائے گی، پھر اگر شوہر نفی کے گواہ دے گا یا اس بات کے کہ مطلقہ بعد طلاق اس سے بولی کچھ اصلا مسموع نہ ہوگا، ہاں اگر عورت گواہ بروجہ شرعی نہ دے سکے تو شوہر پر حلف رکھا جائے گا اگر حلف سے کہہ دے گا کہ اس نے طلاق نہ دی طلاق ثابت نہ ہوگی اور اگر حاکم شرعی کے سامنے حلف سے انکار کرے گا تو طلاق ثابت مانی جائے گی‘‘۔(فتاوی رضویہ، 12/452-453،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    حدیث مبارکہ میں ہے:"مَنْ حَلَفَ كَاذِبًا أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ".ترجمہ:جس نے جھوٹی قسم اٹھائی اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا۔(نصب الرایۃ،کتاب الایمان، من حلف یمینا کاذبا،3/292،مؤسسۃ الریان بیروت)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”اگر خود زوجہ کے سامنے اُسے تین طلاقیں دیں اور منکر ہوگیا، اور گواہ عادل نہیں ملتے، تو عورت جس طرح جانے اس سے رہائی لے، اگرچہ اپنا مہر چھوڑکر، یا اور مال دے کر۔ اور اگر وہ یُوں بھی نہ چھوڑے تو جس طرح بَن پڑے اس کے پاس سے بھاگے، اور اُسے اپنے اُوپر قابو نہ دےاور اگر یہ بھی نہ ممکن ہو تو کبھی اپنی خواہش سے اس کے ساتھ زن وشو کا برتاؤ نہ کرے نہ اس کے مجبور کرنے پر اس سے راضی ہو ۔ پھر وبال اس پر ہے،لایکلّف اﷲ نفسا الا وسعھا‘‘۔ (فتاوی رضویہ،12/423-424،رضا فاؤندیشن لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:8 ذو الحجہ1445 ھ/15جون 2024ء