دوران نماز آستین فولڈ کرنا
    تاریخ: 26 نومبر، 2025
    مشاہدات: 40
    حوالہ: 288

    سوال

    امام کا دوران نماز آستینيں اس غرض سے فولڈ کرنا کہ گرمی دانوں اور دیگر تکلیف ده دانوں کی شدت نہ بڑھ جائے، کیسا؟

    سائل:عبد اللہ ،بمعرفت علامہ سید انس امجدی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    کپڑا موڑ کر (کف ثوب)نماز پڑھنے سے حدیثِ پاک میں منع فرمایا گیا ہے،لہذا نماز کے دوران آستین آدھی کلائی سے زیادہ فولڈ کرنا (موڑنا) یا تَہیں بنا کر اوپر چڑھانا ( نماز شروع کرنے سے پہلے یا نماز ہی میں عمل قلیل سے ہو) مکروہ تحریمی ہے۔اور اگر آستین آدھی کلائی یا اس سے کم چڑھی ہوئی ہو تو نماز مکروہ تحریمی نہیں۔

    لیکن اگر گرمی دانے شدت پکڑ کر انفیکشن کی صورت اختیار کرجائیں تو آدھی کلائی سے زیادہ فولڈ کرنا بھی مکروہ تحریمی نہیں بلکہ جائز ہے۔

    عام حالات میں احتیاطی حکم یہ ہے کہ محض گرمی دانوں کیلئے آدھی کلائی تک آستین چڑھانا لوگوں کی لاعلمی کی بناء پر خود کو مقام تہمت پر کھڑا کرنا ہے کہ اگرچہ آدھی کلائی یا اس سے کم آستین کا چڑھا ہونا نماز کو مکروہ تحریمی نہیں کرتا لیکن ہماری عوام مسائل دینیہ سے کوسوں دور ہے اور اگر علاقے کے لوگوں کو مسئلہ سمجھا بھی دیا پھر بھی جو نمازی کسی دوسرے علاقے سے آئے اور اسے مسئلہ معلوم نہ ہو اس کا امام سے بدگمان ہونا لازم ہے اگرچہ لوگوں کا بلا عذر شرعی بدگمانی رکھنا جائز نہیں لیکن امام صاحب کا بھی خود کو تہمت سے بچانا لازم ہے۔

    دلائل و جزئیات:

    حضور خاتم الانبیاء علیہ الصلوۃ والتسلیم فرماتے ہیں:"إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الحَدِيثِ ".ترجمہ:بد گمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے بڑی جھوٹی بات ہوتی ہے۔(صحیح البخاری، باب لا يخطب على خطبة أخيه ،7/19،رقم الحدیث:5143،دار طوق النجاۃ)

    حافظ یوسف بن عبد اللہ ابن عبد البرمالکی (المتوفی:463ھ)لکھتے ہیں:"عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الخطاب قال لا يحل لامرىء مُسْلِمٍ سَمِعَ مِنْ أَخِيهِ كَلِمَةً أَنْ يَظُنَّ بِهَا سُوءًا وَهُوَ يَجِدُ لَهَا فِي شَيْءٍ مِنَ الْخَيْرِ مَصْدَرًا ... حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ الظَّنُّ ظَنَّانِ ظَنٌّ فِيهِ إِثْمٌ وَظَنٌّ لَيْسَ فِيهِ إِثْمٌ فَأَمَّا الظَّنُّ الَّذِي فِيهِ إِثْمٌ فَالَّذِي يُتَكَلَّمُ بِه وَأَمَّا الَّذِي لَيْسَ في إِثْمٌ فَالَّذِي لَا يُتَكَلَّمُ بِه".ترجمہ:حضرت ابن ابو ملیکہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایاکہ کسی مسلمان شخص کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے کوئی بات سن کر اس کے متعلق بدگمانی کرے جب کہ اس کی بات کا کوئی نیک محمل نکل سکتا ہو۔اور یعلی بن عبید حدیث بیان کرتے ہیں کہ میں نے سفیان کو کہتے ہوئے سنا: ظن کی دو قسمیں ہیں : ایک وہ ظن ہے جس میں گناہ ہے اور ایک وہ ظن ہے جس میں گناہ نہیں ہے، جس ظن میں گناہ ہے یہ وہ ظن ہے جس کے موافق کلام کیا جائے اور جس ظن میں گناہ نہیں ہے یہ وہ ظن ہے جس کے موافق کلام نہ کیا جائے۔ (التمہید لما فی الموطا من المعانی والاسانید،تابع لحرف العین،الحدیث الرابع،18/20،مطبوعہ وزارة عموم الأوقاف والشؤون الإسلامیۃ)

    حدیث مبارکہ میں ارشاد ہوا: "من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يقفن مواقف التهم".ترجمہ: جو کوئی اللہ تعالٰی اور یوم آخرت پر صدق دل سے یقین رکھتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ مقامات تہمت میں نہ ٹھہرے (تاکہ بلا وجہ بدنام نہ ہوجائے)۔(مراقی الفلاح،باب ادراک الفریضہ :177،المکتبۃ العصریۃ)

    صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’ کوئی آستین آدھی کلائی سے زیادہ پڑھی ہوئی، یا دامن سمیٹے نماز پڑھنا بھی مکروہ تحریمی ہے ، خواہ پیشتر سے چڑھی ہو یا نماز میں پڑھائی۔ (بہار شریعت ، 1/624، مکتبۃ المدینہ )

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ)سے سوال ہوا کہ آستین کہنی تک چڑھی ہوئی نماز پڑھنی مکروہ ہے یانہیں؟ آپ علیہ الرحمہ جواب میں ارشاد فرماتے ہیں :’’ضرور مکروہ ہے اور سخت وشدیدمکروہ ہے، صحاح ستّہ میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: امرت ان اسجد علی سبعۃ اعضاء وان لااکف شعرا ولاثوبا. مجھے سات اعضا پرسجدہ کاحکم ہے اور اس بات کاکہ میں بال اکٹھے نہ کروں اور نہ کپڑا اٹھاؤں، (صحیح مسلم)۔ صحیحین میں رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: امرت ان لااکف الشعروالثیاب.مجھے حکم دیاگیاہے کہ میں بالوں اور کپڑوں کواکٹھا نہ کروں،(صحیح مسلم )۔

    تمام متون مذہب میں ہے: کرہ کف ثوبہ (کپڑوں کواٹھانا مکروہ ہے) فتح القدیر وبحرالرائق میں ہے:یدخل ایضا فی کف الثوب تشمیر کمیہ. کپڑا اٹھانے میں آستینوں کاچڑھانا بھی داخل ہے،(بحرالرائق)

    درمختارمیں ہے:کرہ کف ای رفعہ ولو لتراب کمشمرکم اوذیل. کپڑے کا اٹھانا اگرچہ مٹی کی وجہ سے ہو مکروہ ہے جیسا کہ آستین اور دامن کاچڑھانا۔(الدرالمختار )

    ردالمحتارمیں ہے: حرر الخیر الرملی مایفید ان الکراھۃ فیہ تحریمیۃ. شیخ خیرالدین رملی کی عبارت اس بات کی مفید ہے کہ اس میں کراہت تحریمی ہے،(ردالمحتار)

    غنیہ میں ہے:یکرہ ان یکف ثوبہ وھو فی الصلاۃ بعمل قلیل بان یرفعہ من بین یدیہ او من خلفہ عندالسجود اویدخل فیھاوھو مکفوف کما اذا دخل وھومشمرا لکم اوالذی.عمل قلیل کے ساتھ نمازمیں کپڑا چڑھانا مکروہ ہے بایں طور کہ پیچھے یاآگے سے سجدہ کے وقت اٹھائے یانماز میں کپڑا اٹھائے ہوئے داخل ہوناجیسا کہ نماز میں داخل ہوتے وقت اس نے آستین یادامن چڑھایا ہواتھا۔(غنیۃ المستملی)

    علامتین محققین جلیلین شارحین منیہ تحقیق فرماتے ہیں کہ اکثرکلائی پر سے آستین چڑھی ہونا ہی کراہت کو کافی ہے اگرچہ کہنی تک نہ ہو۔ غنیہ میں ہے: (و) یکرہ ایضا (ان یرفع کمہ) ای یشمرہ (الی المرفقین) وھذا قید اتفاقی فانہ لو شمر الی مادون المرفق یکرہ ایضا لانہ کف للثوب وھو منھی عنہ فی الصلاۃ لما مر وھذا اذاشمرہ خارج الصلٰوۃ وشرع فی الصلٰوۃ وھوکذٰلک اما لوشمرہ فی الصلاۃ تفسد لانہ عمل کثیر.اور یہ بھی مکروہ ہے (کہ آستین اٹھائی) یعنی چڑھائی ہو(کہنیوں تک) اور یہ قید اتفاقی ہے کیونکہ کہنیوں کے نیچے تک بھی چڑھائی ہوں تب بھی کراہت ہے کیونکہ یہ کپڑے کااٹھانا ہے حالانکہ وہ نمازمیں ممنوع ہے جیسا کہ اس پراحادیث گزری ہیں اور یہ اس وقت ہے جب اس نے نماز سے باہر آستین کوچڑھایاتھا اور اسی حال میں نماز شروع کردی اور اگردوران نمازآستین چڑھاتاہے تونماز فاسد ہوجائے گی کیونکہ یہ عمل کثیرہے،(غنیۃ المستملی)۔حلیہ میں ہے: ینبغی ان یکرہ تشمیرھما الٰی مافوق نصف الساعد لصدق کف الثوب علی ھذا. آستینوں کانصف کلائی کے اوپرتک اٹھانا بھی مکروہ ہوناچاہئے کیونکہ اس پربھی کپڑا اٹھانا صادق آرہاہے،(حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)۔

    تولازم ہے کہ آستینیں اتار کرنماز میں داخل ہو اگرچہ رکعت جاتی رہے اور اگرآستین چڑھی نمازپڑھے تو اعادہ کی جائے کما ھو حکم صلاۃ ادیت مع الکراھۃ کمافی الدر وغیرہ (جیسا کہ ہراس نماز کاحکم ہے جوکراہت کے ساتھ اداکی گئی ہو جیسا کہ دروغیرہ میں ہے) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔( فتاوی رضویہ ،7 /309-311،رضا فاؤنڈیشن لاہور )

    درج بالا عبارت کے مفہومِ مخالف (یعنی معلوم مفہوم عکس) سے معلوم ہوا کہ نماز کے اند راستین آدھی کلائی یا اس سے کم چڑھی ہوئی ہو تو نماز مکروہ تحریمی نہیں ہے۔یاد رہے کہ نصوص میں مفہومِ مخالف معتبر نہیں البتہ عباراتِ فقہاء میں معتبر ہے۔

    چنانچہ علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) نہرالفائق کے حوالے سے لکھتے ہیں:"مَفَاهِيم الْكُتُبِ حُجَّةٌ بِخِلَافِ أَكْثَرِ مَفَاهِيمِ النُّصُوصِ".ترجمہ:عبارات کتب میں مفہوم مخالف حجت ہوتا ہے اور نصوص کے اکثر مفاہیم معتبر نہیں ہوتے۔

    اسکے تحت علامہ علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"وَالْمُرَادُ مَفَاهِيمُ الْمُخَالَفَةِ".ترجمہ:یہاں مراد مفہوم مخالف ہے۔(الدر المختار مع حاشیہ ابن عابدین،کتاب الطہارۃ،سنن الوضوء،1/111،دار الفکر بیروت)

    زخم وغیرہ کیلئے کف ثوب ممنوع نہیں،علامہ ابو محمد محمود بن احمد بدر الدین العینی (المتوفی:855ھ) فرماتے ہیں:" هَذَا بَاب فِي بَيَان حكم من جر إزَاره من غير قصد التخييل، فَإِنَّهُ لَا بَأْس بِهِ من غير كَرَاهَة، وَكَذَلِكَ يجوز لدفع ضَرَر يحصل لَهُ، كَأَن يكون تَحت كعبيه جراح أَو حكة أَو نَحْو ذَلِك، إِن لم يغطها تؤذيه الْهَوَام كالذباب وَنَحْوه بِالْجُلُوسِ عَلَيْهَا، وَلَا يجد مَا يَسْتُرهَا بِهِ إلاَّ إزَاره أَو رِدَائه أَو قَمِيصه، وَهَذَا كَمَا يجوز كشف الْعَوْرَة للتداوي وَغير ذَلِك من الْأَسْبَاب المبيحة للترخص. وَقَالَ شَيخنَا زين الدّين: وَأما جَوَازه لغير ضَرُورَة لَا لقصد الْخُيَلَاء، فَقَالَ النَّوَوِيّ: إِنَّه مَكْرُوه وَلَيْسَ بِحرَام".ترجمہ : یہ باب اس بیان میں ہے جس نے بغیر قصد تکبر کے تہبند ٹخنوں کے نیچار کھا اس میں کوئی کراہت ہے نہ کوئی حرج ہے۔اسی طرح کسی ضرر کو دور کرنے کیلئے بھی لباس لٹکانا جائز ہے مثلا ٹخنوں کے نیچے کوئی زخم یا خارش یا اس کے مثل ہو، اگر وہ ٹخنوں کو نہیں ڈھانپتا تو اس پر مکھیاں اور دیگر حشرات الارض کے بیٹھنے کا خطرہ ہو اور لمبی قمیض اور لمبے تہبند کے علاوہ کوئی چیز ڈھاپنے کیلئے میسر نہ ہو۔یہ ایسا ہی جیسا کہ علاج کیلئے شرمگاہ کو کھولنا جائز ہے ہمارے شیخ زین الدین نے کہا اگر کوئی عذر نہ ہو اور نہ ہی تکبر کا قصد ہو تو پھر علامہ نووی نے یہ کہا ہے کہ یہ مکروہ ہے حرام نہیں ہے۔(عمدۃ القاری ،21/295،دار إحياء التراث العربي بيروت)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:6 ذو الحجہ1445 ھ/13 جون 2024ء