تین طلاق کا م شرعی حکم
    تاریخ: 13 جنوری، 2026
    مشاہدات: 21
    حوالہ: 573

    سوال

    میری بیٹی اور اسکے شوہر کے درمیان جھگڑا واقع ہوا ، جھگڑے کے دوران اسکے شوہر نے مارپیٹ کی اور تین دفعہ یہ الفاظ کہے ، میں نے تمہیں طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی۔ اب شریعت اور مذہب کی رو سے رہنمائی فرمائیں کہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟ اگر ہوئی تو عدت کیا ہوگی ؟ اسکے متعلق اللہ تعالٰی کے کیا احکامات ہیں ۔

    سائل: ساجد حسین صدیقی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر واقعی ایسا ہے جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو آپکی بیٹی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ،اور وہ اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے۔

    فتاوی عالمگیری ج1ص390میں ہے :''اذا قال لامراتہ : انت طالق و طالق وطالق ولم یعلقہ بالشرط ان کانت مدخولۃ طلقت ثلاثا ''ترجمہ: جب مرد نے اپنی بیوی کو کہا تجھے طلاق ہے ، طلاق ہے ، طلاق ہے،اور طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق نہیں کیا ،اگر بیوی مدخولہ ہے تو اس پر تین طلاق واقع ہوگئیں۔

    اب وہ عدت گزارنا شروع کردیں اور طلاق یافتہ کی عدت تین حیض ،اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینےعدت ہے اور اگر عورت حاملہ ہوتو اس صورت میں عدت وضع حمل(بچے کی پیدائش) ہوگی۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء :ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔ (البقرۃ: 228)

    والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ:ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق:4)

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:30 جمادی االاول 1440 ھ/06 فروری 2019