سوال
انٹرنیٹ پر کسی کلائنٹ کے پروڈکٹس یا سرویسز کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کرتے ہوئے مختلف پلیٹ فورمز پر اشتہار چلائے جاتے ہیں، اس میں ہمارا کام اپنے کلائنٹ کے جائز پروڈکٹس یا جائز سرویسز کی تشہیر اور انکو بکوانے کا ہوتا۔ ان اشتہار کو چلانے کیلئے جو ویڈیوز اور تصاویر درکار ہوتی ہیں وہ ہمیں کلائنٹ کی جانب سے ملتی ہیں اور ان ویڈیوز اور تصاویر میں بعض اوقات میوزک اور بے پردہ عورت بھی ہوتی ہیں۔پوچھنا یہ تھا کہ ہم اگر اپنے کلائنٹ کیلئے ایسے اشتہار چلائیں تو آمدنی جائز ہے؟ ہم پر گناہ تو نہیں؟ کہ ہمارا مقصد تو صرف سیلز اور تشہیر ہے۔میوزک و عورت وغیرہ تو ضمنا ہے۔
سائل: مولانا تاج نواب،کراچی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
عورت و میوزک سے پاک جائز پروڈکٹ کی تشہیر کی اجرت بلا خلاف جائز و حلال ہے۔نیز جب ڈیجیٹل مارکیٹیئرزکا میوزک و عورت والے اشتہارات میں مقصد حرام کی معاونت نہ ہو تو امام اعظم رحمہ اللہ کے مؤقف پر اس کی اجرت بھی حلال ہوگی۔
ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں بنیادی طور پر کمپنیاں (مثلاً:گوگل) پیسے لے کر تصاویر و ویڈیوز (چاہے وہ تصاویر و ویڈیوز کسی شے کا اشتہار ہوں یا نہ ہوں)کی تشہیر کرتی ہیں، جو رقم صارف سے وصول کی جاتی ہے۔ یہاں ڈیجیٹل مارکیٹیئرز اپنی خدمات فراہم کرتے ہیں اور کلائنٹ سے اپنے نفع کے ساتھ رقم وصول کرکے کمپنیز کو مطلوبہ پروڈکٹس کے تشہیر کیلئے آڈر دیتے ہیں ۔ یہ ملحوظ رہے کہ دیگر کاموں کی طرح ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا کام بھی ہر شخص کیلئے آسان نہیں، کیونکہ ایڈز کے بجٹ، ایڈز کی قسم، اور وقت کا درست تعین کرنا مہارت کا متقاضی ہے۔نیز اگر کوئی یہ کام سیکھ بھی لے تو دیگر ضروریات کی بناء پر بھی یہ کام ڈیجیٹل مارکیٹیئرزسے لیا جانا ضرور مباح ہے اور جو عمل قابل نفع ہو اور شرعا مباح العمل ہو، اس میں اجارہ جائز ہے۔
یہاں اشتہارات میں میوزک و عورت (خواہ تصویر ہو یا آواز) کا ہونا نکتہ بحث ہے۔اصولی اعتبار سے میوزک و بے پردہ عورت کا اشتہار لگانا حرام ہے اور حرام کا اجارہ بھی حرام ہے،لہذا بے پردہ عورت و میوزک کے اشتہار کی اجرت حرام قرار پائے گی کہ یہ تعاون علی الاثم ہے۔
البتہ شریعت محمدیہ افراط و تفریط سے پاک ہے۔یہاں بے وجہ کسی حکم شرعی میں شدت یا تساہل اختیار نہیں کیا جاتا۔شرع شریف سے ماخوذ قواعد کے مطابق جب تک کسی کام کے حرام ہونے پر نص (قرآنی ہو یا حدیثی)نہیں آجاتی اس کے حکم کے بیان میں حتی المقدور کوشش کی جاتی ہے کہ لوگوں کو آسانی دی جائے جو کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے، بلا وجہ دین کو مشکل بنانا مقصد شریعت کے مخالف ہے۔اکثر شرعی احکامات کی بنیاد یہی مقاصد شریعت ہیں، جنہیں ’’مقاصد خمسہ‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔مقاصد شرع میں بالعموم دو امور کا لحاظ کیا جاتا ہے: (۱)جلبِ مصلحت۔ (۲)دفعِ مضرّت۔ جلبِ مصلحت میں جہاں نکاح،کھانا پینا اور بیع و شراء کی اباحت ہے وہیں شرعی احکامات میں رخصت بھی شامل ہے۔لہذا ضروری ہے کہ درپیش غیر منصوص علیہ مسئلہ (یعنی جس پر کوئی نص قرآنی و حدیثی وارد نہیں)کو مقاصد شرع کی روشنی میں حل کیا جائے۔
کتب فقہیہ میں ہے ’’وہ شے جس کے عین کے ساتھ معصیت قائم ہو اس کی بیع و اجارہ ناجائز ہے‘‘ اسکی متعدد فروع بیان ہوئی:
(۱)مغنیہ (گائیکہ) باندی کی بیع۔ (۲)ایسی لکڑی کی بیع جس سے آلات لہو و لعب بنائے جاتے ہوں ۔ (۳)ایسے شخص کو باندی فروخت کرنا جو اس کا استبراء رحم نہ کرے۔ (۴)ایسے شخص کو باندی بیچنا جو دُبر میں آتا ہو۔ (۵)لوطی شخص کو غلام بیچنا۔ (۶)کنیسہ (یہودیوں کا عبادت خانہ) کی مرمت پر اجرت لینا۔ (۷)ذمّی کی شراب کو خود یا اپنے جانور پر اٹھا لانے کی اجرت لینا۔ (۸)ذمّی کو گھر کرایہ پر دینا جس میں وہ آتشکدہ بنائے یا کنیسہ بنائے یا گرجہ گھر بنائے یا اس میں شراب بیچے۔ (۹)طبیب کا ایسی طوائفہ مریضہ کا علاج کرنا جسے کوئی موذی مرض نہ ہو اور طبیب کا علاج صرف زنا کا راستہ صاف کرے۔ (۱۰)فوٹو گرافرکو کرایہ پر دوکان دینا۔ (۱۱)مسلمان کا ہندو کو مردہ جلانے کیلئے لکڑیاں بیچنا۔
ان تمام تر مسائل میں سراج الامۃ و کاشف الغمۃ امام اعظم امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کی رائے جواز کی ہے جبکہ صاحبین رحمہما اللہ کے مطابق چونکہ یہ تعاون علی الاثم ہے لہذا یہ صورتیں ناجائز ہیں۔وجہِ اختلاف یہ ہے کہ امام صاحب رحمہ اللہ کے مؤقف کے مطابق مذکورہ بالا صورتوں میں عین کے ساتھ معصیت قائم نہیں جبکہ صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک چونکہ اس میں تعاون علی الاثم پایا جارہا ہے جو کہ نصِّ قرآنی کی وجہ سے حرام ہے لہذا یہ افعال بھی ناجائز ہیں۔
صورت مسؤولہ جہاں ڈیجیٹل مارکیٹیئرز کو دیگر حلال اشتہارات کےساتھ میوزک و عورت والے اشتہار وصول ہوتے ہیں،قرین قیاس یہی کہ یہ صورت بھی مندرجہ بالا صورتوں کے موافق ہے کہ یہاں بھی معصیت عین سے قائم نہیں، کہ ڈیجیٹل مارکیٹیئرز اپنے کلائنٹ سے اس کا معاہدہ نہیں کرتے کہ ہم آپ کے غیر شرعی امور کی پروموشن کرنے میں مددگار ہونگے بلکہ اجارہ اس پر ہوتا ہے کہ کلائنٹ کے پروڈکٹ کی تشہیر میں معاونت کی جائے گی جو کہ فی نفسہ جائز امر ہے۔
معروف قاعدہ ہے الامور بمقاصدها یعنی معاملات میں اعتبار مقاصدکا ہوتا ہے(جو کہ قرآن و حدیث ہی سے ماخوذ ہے)، مثلاً؛ دکان سے صابن خریدنا جس میں عورت کی تصویر موجود ہو جائز ہے کہ یہاں مقصود تصویر نہیں بلکہ صابن ہے لہذا جب معصیت عین(صابن) کے ساتھ قائم نہیں اور معصیت کا قصد بھی نہیں تو یہ خریداری جائز ہوئی۔اسی طرح جب ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں معصیت قائم نہیں اور ڈیجیٹل مارکیٹیئرزکا میوزک و عورت والے اشتہارات میں مقصود حرام کی معاونت نہیں تو امام اعظم رحمہ اللہ کے مؤقف پر اس کی اجرت بھی حلال ہوگی۔
یہاں یہ کہنا کہ علماء کے اختلاف سے بچتے ہوئے ایسے کام سے احتراز کیا جائے تقوی ضرور ہے لیکن فتوی نہیں۔پھر جب روایتِ جواز فقہِ حنفی ہی میں موجود ہے تو حدیث مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے فتوی جواز پر ہی دیا جائے گا۔
دلائل و جزئیات:
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے: یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْۚ-وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا.ترجمہ: اللہ چاہتا ہے کہ تم پر تخفیف(آسانی) کرے اور آدمی کمزور بنایا گیا۔(النساء:28)
صحیح البخاری کی روایت ہے:"إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ، وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ، فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَأَبْشِرُوا"یعنی بیشک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا پس اپنے عمل میں پختگی اختیار کرو اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو اور خوش ہو جاؤ (صحیح البخاری،باب الدین یسر،1/16،رقم الحدیث:39،دار طوق النجاۃ)
قیاس کی شرائط بیان کرتے ہوئے علامہ نظام الدین الشاشی (المتوفی:344ھ) فرماتے ہیں:"أَحدهَا أَن لَا يكون فِي مُقَابلَة النَّص وَالثَّانِي أَن لَا يتَضَمَّن تَغْيِير حكم من أَحْكَام النَّص وَالثَّالِث أَن لَا يكون المعدى حكما لَا يعقل مَعْنَاهُ وَالرَّابِع أَن يَقع التَّعْلِيل لحكم شَرْعِي لَا لأمر لغَوِيّ وَالْخَامِس أَن لَا يكون الْفَرْع مَنْصُوصا عَلَيْهِ".ترجمہ:شرائط قیاس میں سے پہلی شرط یہ ہے کہ (۱) قیاس نص کے مقابلے میں نہ ہو،دوسری (۲)قیاس احکامِ نص میں سے کسی حکم کے متغیر کرنے کو متضمن نہ ہو،تیسری (۳) متعدی (اصل سے فرع کی طرف )ہونے والا حکم ایسانہ ہوکہ جس کے معانی معقول نہ ہوں،چوتھی (۴)تعلیل (علت کا استخراج)حکمِ شرعی کیلئے ہو نہ کہ امر لغوی کیلئےاور پانچویں (۵)فرع منصوص علیہ نہ ہو۔(اصول الشاشی، بحث كون شروط صحة القياس خمسة،فصل شروط صحة القياس خمسة،ص:314،دار الکتاب العربی بیروت)
جائز کام کی اجرت کے متعلق امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”بہرحال نفسِ اجرت کہ کسی فعلِ حرام کے مقابل نہ ہو ، حرام نہیں ، یہی معنی ہیں اس قولِ حنفیہ کے کہ:"یطیب الاجر وان کان السبب حراما کما فی الاشباہ وغیرھا" یعنی اجرت طیب ہوگی، اگرچہ سبب حرام ہے ، جیسا کہ الاشباہ وغیرہ میں ہے‘‘۔( فتاوی رضویہ،19/501، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
حضور مفتی اعظم اسلام محمد مصطفی رضا خان علیہ الرحمۃ الرضوان سے سوال ہوا کہ اگر کوئی زمین موقوفہ کسی ہندو کو کرایہ پر دی گئی ہو وہ اس میں ناجائز افعال کرے مثلاً تھیٹرز و سنیما وغیرہ تو ایسی حالت میں اس زمین کا کرایہ لینا حرام ہے یا اجارہ صحیح ہے اور کرایہ حلال اور جائز ہے ؟ تو آپ علیہ الرحمہ اس کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں :’’بیان سائل سے معلوم ہوا کہ جب ہندو کو زمین و مکان کرایہ پر دے دئے گئے اس وقت اس نے یہ نہ کہا تھا کہ وہ اس میں تھیٹر اور سنیما بنائے گا اس لئے لیتا ہے اسے کرایہ پر لئے مکان کرایہ پر چلائے زمین میں تھیٹر اور سنیما قائم کر لیا اس صورت میں وہ زمین اسے کرایہ پر دینے والوں پر کوئی الزام نہیں نہ کرایہ پر دینا حرام ہوا نہ کرایہ لینا حرام نہ اجارہ کی صحت میں کوئی کلام، کفار وفساق فجار مکان کرایہ پر لیتے ہیں اس میں بود وباش کرتے ہیں کافر اس میں کفر کرتا ہے پوجا پاٹ کرتا ہے کلمات کفر بکتا ہے فساق وفجار شراب پیتے ہیں بناتے ہیں بیچتے ہیں زنا وغنا ہوتا ہے اس سبب کا وبال ان پر ہے مکان والے پر اس کا الزام نہیں ہوگا کہ اس نے مکان اس لئے نہیں دیا ہے کہ کافر اس میں کفر کرے اور فاسق وفاجر اس میں فسق وفجور‘‘۔( فتاوی مصطفویہ، کتاب الاجارہ :469)
صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) سے فوٹوگرافر کو دکان کرائے پر دینے سے متعلق سوال ہواتو آپ علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا:’’ اس شخص کو دکان کرایہ پر دی جاسکتی ہے مگر یہ کہہ کر نہ دیں کہ اس میں تصویر کھینچے ، اب یہ اس کا فعل ہے کہ تصویر بناتا ہے اور عذاب آخرت مول لیتا ہے۔ پھر بھی بہتر یہ ہے کہ مسجد کے آس پاس خصوصا دکان مسجد کو محرمات سے پاک رکھیں اور ایسے کو کرایہ پر دیں جو جائز پیشہ کرتا ہو‘‘۔(فتاوی امجدیہ ، 3 / 272،مکتبہ رضویہ)
اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمنسے سوال ہواکہ مسلمان کو ہندو مردہ جلانے کے لئے لکڑیاں بیچنا جائز ہے یانہیں؟ تو اس کے جواب میں فرماتے ہیں:’’ لکڑیاں بیچنے میں حرج نہیں لان المعصیۃ لاتقوم بعینہا (کیونکہ معصیت اس کے عین کے ساتھ قائم نہیں ہوتی) مگر جلانے میں اعانت کی نیت نہ کرے اپنا ایک مال بیچے اور دام لے واللہ تعالٰی اعلم۔(فتاوی رضویہ،17/168،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:"(وَ) جَازَ (إجَارَةُ بَيْتٍ بِسَوَادِ الْكُوفَةِ) أَيْ قُرَاهَا (لَا بِغَيْرِهَا عَلَى الْأَصَحِّ) وَأَمَّا الْأَمْصَارُ وَقُرَى غَيْرِ الْكُوفَةِ فَلَا يُمَكَّنُونَ لِظُهُورِ شِعَارِ الْإِسْلَامِ فِيهَا وَخُصَّ سَوَادُ الْكُوفَةِ، لِأَنَّ غَالِبَ أَهْلِهَا أَهْلُ الذِّمَّةِ (لِيُتَّخَذَ بَيْتَ نَارٍ أَوْ كَنِيسَةً أَوْ بِيعَةً أَوْ يُبَاعَ فِيهِ الْخَمْرُ) وَقَالَا لَا يَنْبَغِي ذَلِكَ لِأَنَّهُ إعَانَةٌ عَلَى الْمَعْصِيَةِ وَبِهِ قَالَتْ الثَّلَاثَةُ زَيْلَعِيٌّ".ترجمہ: اصح قول کے مطابق کوفہ کے گاؤں میں نہ کہ کہیں اور گھر اجرت پر دینا جائز ہے۔البتہ شہر اور دیگر گاؤں کو یہ قدرت نہیں دی جائے گی کہ وہاں شعار اسلام غالب آچکے ہیں اور کوفہ کے گاؤں کو خاص کیا کیونکہ اس کے اکثر رہائشی ذمّی ہیں، تا کہ وہ اس گھر کو آتشکدہ بنائے یا کنیسہ بنائے یا گرجہ گھر بنائے یا اس میں شراب بیچے۔ صاحبین رحمہما اللہ نے فرمایا کہ یہ جائز نہیں کیونکہ یہ گناہ پر مدد دینا ہے اور یہی تینوں آئمہ نے کہا،زیلعی۔(الدر المختار ، 6/392،دار الفكر)
علامہ محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "(قَوْلُهُ وَجَازَ إجَارَةُ بَيْتٍ إلَخْ) هَذَا عِنْدَهُ أَيْضًا لِأَنَّ الْإِجَارَةَ عَلَى مَنْفَعَةِ الْبَيْتِ، وَلِهَذَا يَجِبُ الْأَجْرُ بِمُجَرَّدِ التَّسْلِيمِ، وَلَا مَعْصِيَةَ فِيهِ وَإِنَّمَا الْمَعْصِيَةُ بِفِعْلِ الْمُسْتَأْجِرِ وَهُوَ مُخْتَارٌ فَيَنْقَطِعُ نِسْبِيَّتُهُ عَنْهُ، فَصَارَ كَبَيْعِ الْجَارِيَةِ مِمَّنْ لَا يَسْتَبْرِئُهَا أَوْ يَأْتِيهَا مِنْ دُبُرٍ وَبَيْعِ الْغُلَامِ مِنْ لُوطِيٍّ... أَقُولُ: هُوَ صَرِيحٌ أَيْضًا فِي أَنَّهُ لَيْسَ مِمَّا تَقُومُ الْمَعْصِيَةُ بِعَيْنِهِ، وَلِذَا كَانَ مَا فِي الْفَتَاوَى مُشْكِلًا كَمَا مَرَّ عَنْ النَّهْرِ إذْ لَا فَرْقَ بَيْنَ الْغُلَامِ وَبَيْنَ الْبَيْتِ وَالْعَصِيرِ ". ترجمہ:یہ بھی امام اعظم رحمہ اللہ کے نذدیک جائز ہے کیونکہ اجارہ گھر کی منفعت پر ہے۔ اسی وجہ سے محض گھر سپرد کرنے سے اجرت واجب ہوگی ، اس میں کوئی معصیت نہیں ،معصیت تو مستاجر کے فعل کے ساتھ ہے جبکہ وہ مختار ہے لہذا مؤجر سے اسکی نسبت منقطع ہوجائے گی ۔ یہ یوں ہوگا جیسا کہ ایک شخص کسی ایسے کو باندی بیچتا ہے جو اس سے استبراء نہیں کرتا یا اسکی دبر میں آتا ہےاور یوں ہوگا کہ غلام کو ایسے کے ہاتھ بیچے جو لوطی ہو.... میں کہتا ہوں : یہ (یعنی غلام کو ایسے کے ہاتھ بیچے جو لوطی ہو)اس میں بھی صریح ہے کہ یہ ان میں سے نہیں ہے جس کے عین کے ساتھ معصیت قائم ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے جو قول فتاوی میں ہے وہ مشکل ہے جس طرح جو ’’النہر‘‘ سے گزر چکا ہے۔ کیونکہ غلام کے درمیان اور گھر اور انگور کے شیرے کے درمیان کوئی فرق نہیں۔(رد المحتار، 6/392،دار الفكر)
علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:"(وَ) جَازَ (بَيْعُ عَصِيرِ) عِنَبٍ (مِمَّنْ) يُعْلَمُ أَنَّهُ (يَتَّخِذُهُ خَمْرًا) لِأَنَّ الْمَعْصِيَةَ لَا تَقُومُ بِعَيْنِهِ بَلْ بَعْدَ تَغَيُّرِهِ".ترجمہ:انگور کے شیرے کی بیع اس شخص کے ہاتھ جائز ہے جس کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ وہ اس سے شراب بنائے گا۔ کیونکہ معصیت اس کے عین کے ساتھ قائم نہیں ہوتی بلکہ اس کےتغیر کے بعد قائم ہوتی ہے۔ (الدر المختار، 6/391،دار الفكر)
علامہ محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "وَعُلِمَ مِنْ هَذَا أَنَّهُ لَا يُكْرَهُ بَيْعُ مَا لَمْ تَقُمْ الْمَعْصِيَةُ بِهِ كَبَيْعِ الْجَارِيَةِ الْمُغَنِّيَةِ وَالْكَبْشِ النَّطُوحِ وَالْحَمَامَةِ الطَّيَّارَةِ وَالْعَصِيرِ وَالْخَشَبِ مِمَّنْ يُتَّخَذَ مِنْهُ الْمَعَازِفُ".ترجمہ:اس سے معلوم ہوا کہ جس کے عین کے ساتھ معصیت قائم نہ ہو اس کی بیع مکروہ (تحریمی)نہیں جس طرح مغنیہ باندی،سینگ مارنے والے مینڈھے، اڑنے والے کبوتر،انگور کا شیرہ اور وہ لکڑی جس سے آلات لہو لعب بنائے جاتے ہیں۔(رد المحتار، 6/391،دار الفكر)
مزید علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "وَأَمَّا فِي بُيُوعِ الْخَانِيَّةِ مِنْ أَنَّهُ يُكْرَهُ بَيْعُ الْأَمْرَدِ مِنْ فَاسِقٍ يَعْلَمُ أَنَّهُ يَعْصِي بِهِ مُشْكِلٌ... وَعِنْدِي أَنَّ مَا فِي الْخَانِيَّةِ مَحْمُولٌ عَلَى كَرَاهَةِ التَّنْزِيهِ، وَهُوَ الَّذِي تَطْمَئِنُّ إلَيْهِ النُّفُوسُ إذْ لَا يُشْكِلُ أَنَّهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مُعِينًا أَنَّهُ مُتَسَبِّبٌ فِي الْإِعَانَةِ وَلَمْ أَرَ مَنْ تَعَرَّضَ لِهَذَا".ترجمہ: جہاں تک ”الخانیہ‘‘ کے کتاب البیوع کا تعلق ہے وہ یہ ہے کہ امرد غلام کو فاسق شخص کے ہاتھ بیچنا مکروہ ہے جس کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ وہ اس کے ساتھ معصیت کا ارتکاب کرے گا ۔ یہ اشکال پیدا کرتا ہے... میرے نزدیک یہ ہے کہ جو قول ’’الخانیہ ‘‘ میں ہے وہ مکروہ تنزیہی پر محمول ہوگا، اس سے نفوس مطمئن ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ اشکال پیدا نہیں کرتا ،اگر چہ وہ مددگار نہیں وہ اعانت میں متسبب ہے۔ میں نے کسی عالم کو نہیں دیکھا جس نے اسکے متعلق بحث کی ہو۔(رد المحتار، 6/391،دار الفكر)
مزید آپ ’’الخانیہ ‘‘کے حوالے سے فرماتے ہیں: "قَالَ فِي الْخَانِيَّةِ: وَلَوْ آجَرَ نَفْسَهُ لِيَعْمَلَ فِي الْكَنِيسَةِ وَيُعَمِّرَهَا لَا بَأْسَ بِهِ لِأَنَّهُ لَا مَعْصِيَةَ فِي عَيْنِ الْعَمَلِ".ترجمہ: ’’الخانیہ‘‘ میں فرمایا:اگر کسی نے اپنے آپ کو اجرت پر لگایا تا کہ وہ کنیسہ میں کام کرے اور اس کی مرمت کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ اس عمل کے عین میں کوئی معصیت نہیں۔(رد المحتار، 6/391،دار الفكر)
علامہ زیلعی رحمہ اللہ کے حوالے سے آپ فرماتے ہیں: "(قَوْلُهُ وَحَمْلُ خَمْرِ ذِمِّيٍّ) قَالَ الزَّيْلَعِيُّ: وَهَذَا عِنْدَهُ وَقَالَا هُوَ مَكْرُوهٌ " لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ «لَعَنَ فِي الْخَمْرِ عَشَرَةً وَعَدَّ مِنْهَا حَامِلَهَا» وَلَهُ أَنَّ الْإِجَارَةَ عَلَى الْحَمْلِ وَهُوَ لَيْسَ بِمَعْصِيَةٍ، وَلَا سَبَبَ لَهَا وَإِنَّمَا تَحْصُلُ الْمَعْصِيَةُ بِفِعْلِ فَاعِلٍ مُخْتَارٍ، وَلَيْسَ الشُّرْبُ مِنْ ضَرُورَاتِ الْحَمْلِ، لِأَنَّ حَمْلَهَا قَدْ يَكُونُ لِلْإِرَاقَةِ أَوْ لِلتَّخْلِيلِ، فَصَارَ كَمَا إذَا اسْتَأْجَرَهُ لِعَصْرِ الْعِنَبِ أَوْ قَطْعِهِ وَالْحَدِيثُ مَحْمُولٌ عَلَى الْحَمْلِ الْمَقْرُونِ بِقَصْدِ الْمَعْصِيَةِ اهـ".ترجمہ: امام زیلعی نے فرمایا: یہ امام صاحب رحمہ اللہ کے نزدیک ہے۔ صاحبین رحمہما اللہ نے فرمایا: یہ مکروہ ہے۔ کیونکہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے شراب کے معاملہ میں دس افراد پر لعنت کی ہے۔ ان میں سے ایک اس کےاٹھانے والے کو شمار کیا ہے۔امام صاحب رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ اٹھانے پر کسی کے ساتھ اجارہ کرنا نہ معصیت ہے اور نہ ہی اس کا سبب ہے۔ معصیت تو فاعل مختار کے فعل کے ساتھ حاصل ہوتی ہے۔ اور پینا یہ اٹھانے کی ضروریات میں سے نہیں ۔ کیونکہ شراب کا اٹھانا بعض اوقات اسے بَہانے اور اسے سِرکہ بنانے کے لیے ہوتا ہے۔ پس یہ اس طرح ہو گیا جس طرح وہ اسے اجرت پر لے تاکہ وہ انگور کا رس نچوڑ لے یا انگوروں کو کاٹے۔ حدیث اس اٹھانے پر محمول ہو گی جو معصیت کے ارادہ کے ساتھ ملی ہوئی ہو ۔ (رد المحتار، 6/391-392،دار الفكر)
کس عین کے ساتھ معصیت قائم ہوتی ہے کس کے ساتھ نہیں ہوتی ؟
یہ ایک مشکل امر ہے جیسا کہ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ نے فرمایا: "نَعَمْ عَلَى هَذَا التَّعْلِيلِ الَّذِي ذَكَرَهُ الزَّيْلَعِيُّ يُشْكِلُ الْفَرْقُ بَيْنَ مَا تَقُومُ الْمَعْصِيَةُ بِعَيْنِهِ وَبَيْنَ مَا لَا تَقُومُ بِعَيْنِهِ، فَإِنَّ الْمَعْصِيَةَ فِي السِّلَاحِ وَالْمُكَعَّبِ الْمُفَضَّضِ وَنَحْوِهِ إنَّمَا هِيَ بِفِعْلِ الشَّارِي فَلْيُتَأَمَّلْ فِي وَجْهِ الْفَرْقِ فَإِنَّهُ لَمْ يَظْهَرْ لِي وَلَمْ أَرَ مَنْ نَبَّهَ عَلَيْهِ".ترجمہ: ہاں اس تعلیل کی بنا پر جسے امام زیلعی نے ذکر کیا ہے یہ اس فرق میں اشکال پیدا کرتا ہے جو اس کے درمیان میں ہے جس کے عین کے ساتھ معصیت قائم ہوتی ہے اور جس کے عین کے ساتھ معصیت قائم نہیں ہوتی۔ کیونکہ اسلحہ اور چاندی کے کام والے جوتے وغیرہ کی بیع میں معصیت یہ خریدنے والے کے فعل سے ہوتی ہے۔پس فرق کی وجہ میں غور کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ یہ معاملہ میرے لیے ظاہر نہیں ہوا اور نہ ہی میں نے کسی کو دیکھا جو اس پر متنبہ ہوا۔(رد المحتار، 6/392،دار الفكر)
یعنی آپ علیہ الرحمہ نے فرمایاکہ اسلحہ اور چاندی کے کام والے جوتے کی بیع مکروہ تحریمی ہے حالانکہ یہاں بھی معصیت عین میں نہیں پائی گئی بلکہ خریدار کے فعل میں پائی گئی ، لہذا ان دو جزئیات کا بقیہ مسائل سے حکم شرع میں فرق کس وجہ سے ہے ؟اس پر غور ہونا چاہئے۔بحمد اللہ تعالی امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن نے ہمارے لئے یہ مسئلہ بھی حل فرمادیا، آپ علیہ الرحمہ جدّ الممتار میں فرماتے ہیں:
"الذي يظهر لي أنّ الشيء إذا صلح في حدّ ذاته لأن يستعمل في معصية وفي غيرها ولم يتعيّن للمعصية فلم يكن بيعه إعانةً عليها؛ لاحتمال أن يستعمل في غير المعصية، وإنما يتعين ذلك بقصد القاصدين والشك لا يؤثر، وغلبة الظن في أمثال المقام ملتحق باليقين، والتغيير لكونه فعل فاعل مختار يقطع النسبة. إذا تمهد هذا، فاعلم أن معنى ما تقوم المعصية بعينه أن يكون في أصل وضعه موضوعة للمعصية أو تكون هي المقصودة العظمى منه، فإنه إذا كان كك يغلب على الظن أن المشتري إنما يشتريه لاتيان المعصية؛ لأن الأشياء إنما تقصد الاستمتاع بها، فما كان مقصوده الأعظم تحصيل معصية - معاذ الله تعالى - كان شراؤه دليلاً واضحاً على ذلك القصد فيكون بيعه إعانة على المعصية لما علمت من التعين بقصد القاصد وكذلك ما لم يكن موضوعاً لذلك بعينه ولا ما هو المقصود الأعظم منه لكن قامت قرينة ناصّة على أنّ مقصود هذا المشتري إنما يستعمله معصية..( مثلا لو باع عصير عنب ممن يعلم).. أنه يتخذه خمرًا؛ لأنه ليس موضوعاً للمعصية وقصد المشتري كان معيناً للعصيان، لكن الاحتياج إلى التغيير...(هنا بياض)...
وكذا بيع الجارية المعنية، فإن الجارية للاستخدام والافتراش والغناء فلم تكن المعصية هي المقصودة، وكذا الكبش يكون للنسل وللأكل، وكذا الحمامة للاستئناس والأكل وكذا الخشب للإيقاد واصطناع السرير والمعازف بخلاف بيع المكعب المفضّض فإن.. (هنا بياض).. وضعه إنما هو للبس لا غير وهو المقصود الأعظم منه وفيه المعصية فيكره بيعه... وبخلاف بيع السلاح من أهل الفتنة - يعني في أيام الفتنة كما قيد به في "الهداية - فإنّه وإن لم يكن موضوعاً للمعصية لكن المشتري من أهل الفتنة دليل واضح على أنه إنما يشتري ليقاتل بها أهل العدل مع عدم الحاجة في إتيان المعصية أيَّ تغيير يقطع النسبة فيكره بيعه أيضاً.
بقي النظر في بيع الأمرد ممن يلوط به ومثله الجارية ممن يأتيها دبرها فمن أدى نظره إلى أنّ اعتياد المشتري باللواطة والإتيان في الأدبار قرينة واضحة على قصد المعصية حتى يغلب على الظنّ أنّه لا يشتري إلا لذلك، حُكم بالكراهية قياساً على مسألة السلاح وهم أكثر أصحاب من الفتاوى أدى نظره إلى..... (هنا بياض).... كالسلاح في تهيؤة للمعصية من دون حاجة إلى التغير وفي كون المشتري ممن يقصدون المعاصي ويأتون تلك الأبواب؛ لأنه فارق الأسلحة بقيام قرينة أخرى تَمَرُّاً وجبت باجتماعها مع ما مرّ غلبة الظنّ بقصد العصيان أعني: كون الأيام أيام الطغيان وليس هاهنا ما يقوم مقامه فلا تحصل غلبة الظنّ، ألا ترى! أنه لو باع السلاح من أهل الفتنة في غير أيامها أو في أيامها من غير أهلها جاز فكذا هذا، والله تعالى أعلم، وعليك بالتدبّر".
ترجمہ: میرے لیے جو ظاہر ہوا وہ یہ کہ جب کوئی چیز اپنی ذات کے اعتبار سے معصیت اور غیر معصیت دونوں میں مستعمل ہوسکے اور معصیت کے لیے متعین نہ ہو تو اس کی خرید و فروخت گناہ پر اعانت نہیں کیونکہ احتمال موجود ہے کہ وہ غیر معصیت میں استعمال ہو اور اس کا معصیت کیلئے متعین ہونا قاصد کے قصد سے ہوگا اور اس میں شک مؤثر نہیں ہوگا اور ایسے مسائل میں غلبہ ظن یقین سے ملحق ہوتا ہے۔تغییر کیونکہ فاعل مختار کا فعل ہے اس لئے یہ بھی بائع سے معصیت کی نسبت کو منقطع کر دے گا۔جب یہ تمہید سمجھ آگئی توجان لو کہ جس کسی چیز کے ساتھ معصیت بعینہ قائم ہو اس کا معنی یہ ہے کہ وہ چیز اصل وضع میں ہی معصیت کے لئے موضوع ہو یا پھر اس چیز سے بڑا مقصد ہی یہ معصیت ہو کیونکہ اگر معاملہ ایسا ہو تو غلبہ ظن یہ ہوگا کہ خریدار نے یہ چیز گناہ کرنے کے لیے ہی خریدی ہے کیونکہ اشیاء کا مقصد ان سے فائدہ ہی اٹھانا ہوتا ہے تو جس شخص کا مقصود اعظم ہی گناہ کا ارتکاب ہو معاذ اللہ تو اس کی خرید اس گناہ کے قصد پر واضح دلیل ہوگی لہذا ایسے شخص کو یہ چیز بیچنا گناہ پر اعانت ہوگی اس تعین کی وجہ سے جو تجھے قصد قاصد سے معلوم ہوئی۔
اسی طرح جو چیز بعینہ گناہ کے لیے موضوع نہ ہو نہ ہی اس کا مقصود اعظم گناہ ہو لیکن کوئی ایسا واضح قرینہ پایا جائے کہ اس خریدار کا مقصد یہ ہے کہ یہ اسے گناہ کے لیے استعمال کرے گا مثلاً انگور کا شیرہ اس شخص کو بیچنا جو اس سے شراب بنائے گا، کہ یہ شیرہ معصیت کے لئے موضوع نہیں لیکن مشتری کا قصد اس گناہ کو معین کر دے گا البتہ معصیت کے حصول کیلئے تغییر کی طرف احتیاج ہوگی۔اسی طرح مغنیہ باندی کی بیع کہ باندی خدمت حاصل کرنے، فراش بنانے اور گانا گانے کے لئے موضوع ہے لہذا اس سے صرف گناہ ہی مقصود نہیں،تو ایسی لونڈی خریدنے سے مقصود معصیت نہیں ہو گی۔اسی طرح مینڈھا نسل حاصل کرنے اور گوشت کھانے کے لئے ہوتاہے، کبوتر انسیت حاصل کرنے اور کھانے کے لئے ہوتا ہےاورلکڑی جلانے ،چار پائی بنانے اور آلاتِ لہو ولعب بنانے کے لئے ہوتی ہے۔(لہذا ان سب کی بیع جائز ہے)برخلاف چاندی کے کام والے جوتے کی بیع کے کہ اس کی وضع ہی پہننےکے لئے ہوتی ہے، نہ کہ کسی اور کام کے لیے اور اس سے مقصودِ اعظم بھی پہننا ہی ہوتا ہے،درآں حال یہ کہ اسے پہننے میں معصیت ہے،لہذا اس کی بیع مکروہ ہے۔برخلاف فتنہ و فساد پھیلانے والے لوگوں کو اسلحہ کی بیع یعنی ايام فتنہ میں جیسا کہ اسے ’’الہدایہ ‘‘میں مقید کیا گیا کہ اگرچہ اسلحہ معصیت کے لئے وضع نہیں کیا گیا لیکن خریدار کا اہل فتنہ میں سے ہونا اس بات پر واضح دلیل ہے کہ وہ اسے خریدے گا تاکہ اس کے ذریعے اہل عدل سے قتال کرے مزید یہ کہ معصیت کے ارتکاب میں کسی ایسی تبدیلی کی حاجت بھی نہیں جو بائع سے نسبت ِعمل منقطع کردے لہذا اس کی بھی بیع مکروہ ہے۔
باقی رہا معاملہ امرد غلام کی بیع اس شخص کے ہاتھوں جو اس سے لواطت کرے اور اسی کے مثل باندی کی بیع اس شخص کے ہاتھوں جو اس کے دبر میں آئے تو جن اصحاب کی نظر اس طرف گئی کہ مشتری کی لواطت یا دُبر میں آنے کی عادت گناہ کے ارتکاب پر واضح قرینہ ہے حتی کہ ظن غالب ہو جائے کہ وہ صرف اسی کام کے لئے اسے خریدے گا تو ان اصحاب نے اسلحہ والے مسئلے پر قیاس کرتے ہوئے کراہت کا قول کیا ان کی نظر اس طرف گئی ۔۔۔۔جیسے معصیت کی تیاری میں اسلحہ بنانا بغیر کسی تغییر کی حاجت کے اور یوں ہی ان خریدار کے معاملے میں جو کہ گناہ کا قصد کرتے ہیں اور ان کاموں پر آتے ہیں۔کیونکہ یہ( امرد و باندی کی بیع )اسلحہ( والے مسئلہ) سے ایک اور قرینہ کی وجہ سے جدا ہے اور گزشتہ بات کے ساتھ مل کر اس سے یہ غلبہ ظن لازم آتا ہے کہ مشتری کاقصد گناہ کا ہے۔یعنی وہ ایامباغیوں کی سرکشی کے ایام ہوں جبکہ یہاں ( امرد و باندی کی بیع میں) کوئی قرینہ نہیں جو اس(اسلحہ والے مسئلہ) کے قائم مقام ہو لہذا غلبہ ظن حاصل نہیں ہوگا ، کیا غور نہیں کرتے کہ اگر اسلحہ کی فروخت اہل فتنہ کو ان ایام سرکشی کے علاوہ میں ہو یا اہل فتنہ کو نہ ہو تو یہ بیع جائز ہے اسی طرح یہاں(امرد و باندی کی بیع ) ہے ، واللہ تعالی اعلم۔اس مسئلہ میں تجھ پر غور کرنا لازم ہے۔ (جد الممتارعلی رد المحتار،7/75-77،دار الکتب العلمیۃ)
آپ علیہ الرحمہ کی عبارات سے یہ مستفاد ہوا کہ اصل غلبہ ظنّ ہے۔امرد اور باندی کی بیع والے مسئلے میں غلبہ ظن کی صورت یہ ہے کہ مشتری کا ان افعال کا عادی ہونا غلبہ ظنّ ہےاور اسلحہ والے مسئلے میں غلبہ ظنّ کی صورت یہ ہے کہ (۱) ایام فتنہ ہوں(۲)اہل فتنہ ہوں۔ ان دو صورتوں کا ایک ساتھ ہونا غلبہ ظنّ کو لازم کرے گااسی لئے آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ اگر اسلحہ کی فروخت اہل فتنہ کو ان ایام سرکشی کے علاوہ میں ہو یا اہل فتنہ کو نہ ہو تو یہ بیع جائز ہے۔
ہاں اگر کسی چیز کا استعمال معصیت یا غیر معصیت میں برابر ہو اور معصیت کے لیے متعین نہ ہو تو اس کی بیع گناہ پر اعانت نہیں۔
امام اہلسنت رحمہ اللہ نے تعیینِ معصیت کی متعدد صورتیں بیان فرمائی:
- چیز اصل وضع ہی میں معصیت کیلئے موضوع ہو۔
- چیز اصل وضع میں تو معصیت کیلئے موضوع نہ ہو لیکن اس سے مقصود اعظم معصیت ہو۔
- چیز نہ تو اصل وضع میں معصیت کیلئے موضوع ہو نہ ہی اس سے مقصود اعظم معصیت ہو لیکن کوئی ایسا واضح قرینہ پایا جائے کہ خریدار کا مقصد معصیت ہے۔
مزید امام اہلسنت فرماتے ہیں: "وإذا علمت ما أصّلنا من الضابطة علمت أن بيع الأفيون والبنج وأمثالهما أيضاً مكروه إلاّ ممن علم أنه لا يشتريها للمعصية؛ وذلك لأنها وإن لم تتعين للمعصية في أصل خلقتها لجواز استعمالها في غير الأكل والشرب وفيهما أيضاً في بعض الصور إلا أن نوع الاعتياد بقصد المعصية بها حتى إن غالب من يشتريها لا يشتريها إلا بقصد المعصية كان قرينة تعطى الظن بذلك فأورثت الكراهة بخلاف الأمرد والجارية؛ إذ لم تفش العادة باللواطة والإتيان في الأدبار ومن يشتريهما للاستخدام أكثر ممن يشتريهما للآثام بأضعاف كثيرة فلا يكره بيعهما، والله تعالى أعلم".ترجمہ: جب تم نے ہمارا بیان کردہ قاعدہ جان لیا تو تم نے یہ بھی جانا کہ افیون اوربھنگ اور انکے مثل کی بھی بیع مکروہ (تحریمی) ہے سوائے اس شخص سے جسکے بارے میں معلوم ہوکہیہ ارتکابِ گناہ کیلئے نہیں خریدے گا اور یہ اس وجہ سے ہے کہ اگرچہ یہ چیز اپنی اصل تخلیق میں گناہ کیلئے متعین نہیں کیونکہ اس کا استعمال کھانے، پینے کے علاوہ میں جائز ہے ، اسی طرح کھانے پینے کی بعض صوتیں بھی جائز ہیں الاّ یہ کہ ان کے استعمال کا عادی ہونا اسکے معصیت کے قصد کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔یہاں تک کہ زیادہ تر افراد اس کو معصیت کے قصد ہی سے خریدتے ہیں تو یہ قرینہ ہے جو کہ ظن کا فائدہ دے گالہذا کراہت راجع ہوگی بخلاف امرَد اور باندی کے کہ لواطت اور دُبر میں آنا عام نہیں ہے اور جو امرد و باندی کو خدمت حاصل کرنے واسطے خریدتے ہیں وہ ان اشخاص سے کئی درجہ زائد ہیں جو انہیں گناہوں کیلئے خریدتے ہیں لہذا انکی بیع مکروہ نہیں ہوگی، واللہ تعالی اعلم۔(جد الممتارعلی رد المحتار،7/78،دار الکتب العلمیۃ)
معلوم ہوا کہ عصیان کا عادی ہونا قرینہ ہے جو کہ حکم کراہت لاتا ہے۔البتہ عصیان کا عام و شائع ہونا بھی حکم کراہت کو مستلزم ہوگا جیسا کہ امرد و باندی والے مسئلے میں چونکہ عصیان عام نہیں لہذا اس پر حکم کراہت نہیں۔یہاں یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ کہیں اگر عصیان کا عادی ہونا اور عصیان کا عام و شائع ہونا نہ پایا جائے وہاں حکم کراہت نہیں آئے گا۔
التعلیقات الرضویہ علی الہدایۃ میں ہے: " (قوله وإنّما المعصية بفعل المستأجر، وهو مختار فيه) أقول: يرد عليه النقض ببيع السلاح؛ فإنّ البيع يرد على عينه ولا معصية فيها وإنّما المعصية بفعل المشتري وهو مختار فيه فتقطع النسبة ويظهر لي أن الفعل ألصق بآلته منه بمكانه؛ لأنه يحتاج إلى الآلة لخصوص نوعه ولا كذلك المكان فإنّما الحاجة إليه لكونه من جنس المكانيات بل الفعل محتاج إلى الآلة بالذات وإلى المكان بالغير لاحتياجه إلى الفاعل المحتاج إلى المكان لكونه من الأجسام فافهم".ترجمہ:مصنف کا قول کہ معصیت تو خریدار کے فعل سے لاحق ہے اور وہ اس میں اختیار والا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اسلحہ والے مسئلہ سے یہاں نقض وارد ہوتا ہے، کیونکہ بیع اسلحہ کے عین پر وارد ہے اور اس میں کوئی معصیت نہیں ، معصیت تو خریدار کے فعل سے ہے جو کہ اس میں اختیار والا ہے لہذا بائع سے معصیت کی نسبت منقطع ہوجائے گی۔مجھ پر یہ ظاہر ہوا کہ فعل آلہ کومکان کے ساتھ جوڑتا ہےکیونکہ آلہ کی محتاجی کسی خاص کام کیلئے ہوتی ہے جبکہ مکان میں یہ محتاجی نہیں ہوتی۔کیونکہ یہ محتاجی اس وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ مکان کی جنس سے ہے بلکہ فعل آلہ کا بالذات محتاج ہوتا ہے اور مکان کا بالغیر محتاج ہوتا ہے کیونکہ یہاں محتاجی فاعل کے مکان کی طرف احتیاج سے ہوتی ہے کیونکہ وہ اجسام سے ہے لہذا اسے سمجھ لو۔(التعلیقات الرضویۃ علی الہدایۃ ،ص:532، دار الکتب العلمیۃ)
مستفاد ہواکہ جہاں کہیں ارتکاب ِمعصیت میں آلہ کا واسطہ ہوگا وہاں حکم کراہت آئے گا اور جہاں آلہ کا واسطہ نہ ہو صرف مکان (یعنی جس پر عصیان واقع ہو) ہو تو کراہت کا حکم نہیں آئے گا۔
فتاوی رضویہ شریف میں امام اہلسنت رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ طوائف مریضہ اگرمطب میں آئے تو اس کا علاج کرنامعصیت ہے یانہیں؟ دوسری صورت میں اعانت برمعصیت ہونے میں کوئی شبہہ ہے؟ اسکے جواب میں آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا :’’اگرمعالجہ زن فاحشہ سے طبیب خود یہی نیت کرے کہ یہ ارتکاب معاصی کے قابل ہوجائے ناسازی طبیعت کہ مانع گناہ ہے زائل ہوجائے جب تو اس کے عاصی ہونے میں کلام نہیں،فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی کیونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پرہے اور ہرشخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔اور اگر اس کی یہ نیت نہیں بلکہ عام معالجے جس نیت محمودہ یا مباحہ سے کرتاہے وہی غرض یہاں بھی ہے تو اگرمرض ایذادہندہ ہے جیسے کہ اکثر امراض یونہی ہوتے ہیں جب تو اصلاً حرج نہیں، نہ اسے اعانت معصیت سے علاقہ بلکہ نفع رسانی مسلمہ، یادفع ایذائے انسان کی نیت ہے تو اجر پائے گا۔قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی کل کبد حرّاء اجر۔ رواہ الشیخان عن ابی ھریرۃ واحمد عن ابن عمرو بن العاص وکابن ماجۃ عن سراقۃ بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔ (حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:) ہرجگہ گرم یعنی ہرجاندار کی نفع رسانی میں ثواب ہے (بخاری ومسلم نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے اور امام احمد نے ابن عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اور ابن ماجہ نے سراقہ بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت کیاہے)۔ اور اگر مرض سے کوئی ایذا نہیں صرف موانع زنا سے ہے جس کے سبب اس کا معالجہ ایک زانیہ عورت کے لئے کوئی نفع رسانی نہ ہوگا بلکہ زنا کاراستہ صاف کرے گا مثلاً عارضہ رتق یاشدّت وسعت (نہ بوجہ سیلان رطوبت) کہ فی نفسہٖ موذی نہیں مگر اس کا اشتہارباعث سردی بازار زنان زناکار ہے ایسے معالجہ کو جب کہ امورمذکورہ پرطبیب مطلع ہو اگرچہ برقیاس قول صاحبین من وجہ اعانت کہہ سکیں مگرمذہب امام رضی اﷲ عنہ پریہ بھی داخل ممانعت نہیں کہ یہ تو پاک نیت سے صرف اس کاعلاج کرتا ہے گناہ کرنانہ کرنا اس کا اپنا فعل ہے جیسے راج کاگرجایاشوالہ بنانا یامکان رنڈی زانیہ کو کرایہ پردینا‘‘۔ (فتاوی رضویہ،24/178-179،رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 4 ربیع الثانی 1446 ھ/8 اکتوبر 2024ء