سوال
میں نے اپنی بیوی کو طلاق نامے پر ایک طلاق دی ہے جو کہ سوال کے ساتھ منسلک ہے۔کیا اب میں اپنی بیوی سے دوبارہ شادی کرسکتا ہوں؟ ان کی عدت پوری ہوچکی ہے۔کاغذات پر میں نے ایک سے زائد بار دستخط کئے ہیں تو کیا پر ایک طلاق شمار ہوگی؟ یا ایک ہی طلاق ہوگی؟
سائل: دانش ذکی، کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر اس سے پہلے کوئی طلاق نہیں دی تو مذکورہ طلاق نامے سے ایک طلاق واقع ہوئی جس میں دوران عدت رجوع کا اختیار باقی تھا،اب چونکہ عدت گزر چکی،لہذا نئے مہر کے ساتھ باقاعدہ نئے نکاح کی حاجت ہوگی اور یہ شادی شرعاً جائز ہوگی۔کیونکہ بحکمِ قرآنی شوہر کو تین طلاق کا حق حاصل ہوتا ہے ،جس میں سے یہاں شوہر نے ایک طلاق استعمال کی ،بقیہ دو طلاقوں کا حق انہیں اب بھی حاصل ہے۔ہاں اگر شوہر تین طلاق دیتے تو سوائے تحلیل شرعی کے کوئی واپسی نہیں تھی۔نیز طلاق نامے پر متعدّد بار دستخط کرنا کوئی نئی طلاق واقع نہیں کرے گا۔
یاد رہے کہ جب عدت مکمل ہو کر نکاح ختم ہوتا ہے عورت نکاح سے آزاد ہوجاتی ہے، یعنی چاہے تو اسی شوہر سے دوبارہ نکاح کرےیا کسی دوسری جگہ، شریعت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں۔
دلائل و جزئیات:
طلاق رجعی کا حکم بیان کرتے ہوئے علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) لکھتے ہیں:"أَمَّا الطَّلَاقُ الرَّجْعِيُّ فَالْحُكْمُ الْأَصْلِيُّ لَهُ هُوَ نُقْصَانُ الْعَدَدِ، فَأَمَّا زَوَالُ الْمِلْكِ، وَحِلُّ الْوَطْءِ فَلَيْسَ بِحُكْمٍ أَصْلِيٍّ لَهُ لَازِمٍ حَتَّى لَا يَثْبُتَ لِلْحَالِ، وَإِنَّمَا يَثْبُتُ فِي الثَّانِي بَعْدَ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ، فَإِنْ طَلَّقَهَا وَلَمْ يُرَاجِعْهَا بَلْ تَرَكَهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا بَانَتْ".ترجمہ: طلاق رجعی کا حکم اصلی عددِ طلاق میں کمی ہے۔ جہاں تک ملک اور حلّت ِجماع کے زوال کا تعلق ہے تو وہ اس کا حکم اصلی نہیں ہے اس لئے وہ فی الفور ثابت بھی نہیں ہوتی بلکہ عدت پوری ہونے پر ثابت ہوتی ہے۔ لہذا اگرشوہر نے بیوی کو طلاق دی اور اس سے رجوع نہیں کیا بلکہ اس کو چھوڑے رکھا یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہو گئی تو وہ بائن ہو جائے گی۔(بدائع الصنائع،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،3/180،دار الکتب العلمیۃ)
تین طلاق سے کم والی عورت سے عدت کے بعد نکاح جائز ہے،علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں: "وَيَنْكِحُ مُبَانَتَهُ بِمَا دُونَ الثَّلَاثِ فِي الْعِدَّةِ وَبَعْدَهَا بِالْإِجْمَاعِ وَمُنِعَ غَيْرُهُ فِيهَا لِاشْتِبَاهِ النَّسَبِ ".ترجمہ:بالاجماع ثابت ہے کہ تین طلاق سے کم والی بائن عورت سے عدت اور بعدِ عدت دونوں صورتوں میں نکاح کیا جاسکتا ہے ۔البتہ اس مرد کے علاوہ کسی اجنبی کو عدت میں نکاح نسب کے مشتبہ ہونے کی بناء پر ممنوع ہے۔(الدر المختار،باب الرجعۃمطلب فی العقد علی المباینۃ،3/ 409،دار الفکر)
علامہ ابو الحسن علی بن ابو بکر الفرغینانی (المتوفی:593ھ) فرماتے ہیں:"وَإِذَا كَانَ الطَّلَاقُ بَائِنًا دُونَ الثَّلَاثِ فَلَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا فِي الْعِدَّةِ وَبَعْدَ انْقِضَائِهَا) لِأَنَّ حِلَّ الْمَحَلِّيَّةِ بَاقٍ لِأَنَّ زَوَالَهُ مُعَلَّقٌ بِالطَّلْقَةِ الثَّالِثَةِ فَيَنْعَدِمُ قَبْلَهُ".ترجمہ:تین سے کم طلاق بائن ہو تو شوہر عدت میں اور عدت گزرنے کے بعد دونوں صورتوں میں نکاح کا اختیار رکھتا ہے،کیونکہ حلّتِ محل اب بھی باقی ہے کہ اس حلت کا زوال تین طلاق سے جڑا ہے تو اس سے پہلے یہ زوال منعدم ہے۔ (الہدایۃ،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،فصل فیما تحل بہ المطلقۃ،257/2،دار احیاء التراث العربی)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 12 محرم الحرام 1445 ھ/18 جولائی 2024ء