سوال
(۱) میں اپنے شوہر کے ساتھ کرائے کے گھر میں رہائش پذیر ہوں۔میری سوتن میرے نکاح کو زنا کا نام دیتی ہے جبکہ میں نے نکاح کیا ہے۔ میری سوتن نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نکاح کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے۔
(۲) میرے شوہر کی طرف سے میرا ہر مہینے کا خرچہ شریعت کے حساب سے کتنا بنتا ہے مجھے رہنمائی فرمائیں۔ ان کی سیلری ستّر یا اسّی ہزار ہے۔ میرے بچے نہیں ہیں اور میں اپنے شوہر کی دوسری بیوی ہوں۔ میرے شوہر مجھے بارہا طلاق کی دھمکی دیتے ہیں اور مجھے اپنی فیملی کے ساتھ جبرا رکھا ہے جس میں میں نوکروں کی طرح ذلیل ہوتی ہوں۔آپ اس بارے میں میری رہنمائی کریں تاکہ میں اپنی مرضی سے الگ سکون سے کھا پی سکوں، اپنا نان نفقہ لے سکوں۔
سائلہ: عائشہ، کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
(۱)نکاح کا جواز اللہ رسول کی طرف سے ہے۔ اس جملہ کی پہلی صورت یہ ہے کہ جو شخص شریعت کے حکم کو انکار و رَد کرنے کی نیت سے اسے زنا کہتا ہے تو کفر کیا، جس کے سبب ایمان گیا اور بیعت و نکاح بھی ٹوٹ گئے۔اور دوسری صورت یہ ہے کہ اگر حکم شرع کا انکار تو نہ کرے لیکن نکاح کے ثبوت پر بطور شک اسے زنا کہے تو حدّ قذف یعنی 80 اَسی کوڑے کا سزاوار ہوا ، کیونکہ کسی پاک دامن کی طرف صراحتاً یا دلالتاً زنا کی نسبت کرنا یا زنا کی تہمت لگانا حرام اور کبیرہ گناہ ہے اور اس جرم کے مرتکب کے لیے شرعاً یہی سزا مقرر ہے ۔تیسری صورت کہ نہ حکم شرع کا انکار کرے نہ ثبوتِ نکاح پر شک کرے لیکن بطور گالی نکاح کو زنا کہے تو اعلانیہ گنہگار ہے، اس کی گواہی قبول نہیں، جس پر فوری توبہ و استغفار کرنا لازم ہے۔
(۲) شوہر پر اپنی بیگمات کا خرچہ اپنی حیثیت کے مطابق بخل و اسراف کے بغیر درمیانہ درجہ کے اعتبار سے ہے۔ اور یہ مقدار دیندار، اخراجات کے واقف کار مسلمانوں کے ذریعہ طے کیا جاتا ہے کہ بیوی کا ماہانہ اوسط خرچ کیا ہوتا ہے جتنا وہ مقرر کریں شوہر کو دینا لازم ہے، اس میں عورت کا بچوں والی ہونا نہ ہونا نفقہ میں کوئی فرق نہیں لاتا کہ اگر ایک بیوی بچوں والی ہے تو عورت بچوں کے نفقہ کی مالک نہیں ہوتی بلکہ جس طرح بیوی کے خرچہ کا حساب لگایا جاتا ہے اسی طرح اولاد کا بھی علیحدہ نفقہ طے کیا جاتا ہے۔
نیز شوہر پر اپنی بیوی کو ایسی رہائش دینا عورت کا بنیادی حق ہے جہاں وہ عافیت و سکون کے ساتھ زندگی گزار سکے اور زوجین وہاں ایک دوسرے کا حق ادا کر سکتے ہوں اگرچہ شوہر مشترکہ گھرمیں علیحدہ کمرہ دے یا میاں بیوی اپنی الگ رہائش رکھیں۔اگر اپنے گھر والوں کے ساتھ مشترکہ گھر میں الگ کمرہ دے دیا ،تو عورت جدا گھر کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔ہاں اگرشوہر کے گھر والے عورت کو تکلیف پہنچاتے ہوں اور کسی طرح سمجھوتہ نہ ہو سکے تو شوہر الگ رہائش دے۔مزید یہ کہ شوہر کا بلا وجہ طلاق کی دھمکی دینا ایذا دینا ہے حرام و گناہ ہے، لہذا اس سے احتراز لازم ہے۔
دلائل و جزئیات:
ایذاءِ مسلم کے متعلق قرآن مجید میں ہے: وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا.ترجمہ: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا۔(الاحزاب:58)
حدّ قذف کے متعلق ارشاد باری تعالی ہے: وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًاۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ.ترجمہ: اور جو پارسا عورتوں کو عیب لگائیں پھر چار گواہ معائنہ کے نہ لائیں تو اُنہیں اسّی کوڑے لگاؤ اور ان کی گواہی کبھی نہ مانواور وہی فاسق ہیں۔(النور:4)
نکاح کی مشروعیت ضروریات دین سے ہے ، امام محیی السنۃ حسين بن مسعود البغوی الشافعی (المتوفى: 516ھ) فرماتے ہیں: "وَكَذَلِكَ الأَمْرُ فِي كُلِّ مَنْ أَنْكَرَ شَيْئًا مِمَّا اجْتَمَعَتْ عَلَيْهِ الأُمَّةُ مِنْ أُمُورِ الدِّينِ إِذَا كَانَ عِلْمُهُ مُنْتَشِرًا، كَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، وَصِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَالاغْتِسَالِ مِنَ الْجَنابَةِ، وَتَحْرِيمِ الزِّنَا وَالْخَمْرِ، وَنِكَاحِ ذَوَاتِ الْمَحَارِمِ فِي نَحْوِهَا مِنَ الأَحْكَامِ". ترجمہ:اور یہی حکم (یعنی کفر کا)ہر اس شخص کے بارے میں ہے جو امت کے اجماعی مسائل میں سے کسی مسئلے کا انکار کرےجبکہ ان امور کا علم تمام لوگوں میں عام ہو،جیسا کہ پانچ نمازیں،رمضان کے روزے،غسلِ جنابت،حرمتِ زنا و شراب۔محارم سے نکاح کی حرمت وغیرہ احکام۔(شرح السنۃ البغوی،کتاب الزکوۃ، باب القتال مع مانعی الزکاۃ،5/492،المکتب الاسلامی)
ضروریات دین کے منکر کے متعلق امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’ضروریات دین : ان کا ثبوت قرآن عظیم یا حدیث متواتر یا اجماع قطعیات الدلالات واضحۃ الافادات سے ہوتا ہی جن میں نہ شبہے کی گنجائش نہ تاویل کو راہ۔اور ان کا منکر یا ان میں باطل تاویلات کا مرتکب کافر ہوتا ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ،29/385،رضا فاؤنڈیشن)
گالی دینے کے متعلق،صحیح بخاری شریف کی حدیث پاک میں ہے:"أن النبي صلى الله عليه و سلم قال: سباب المسلم فسوق ".ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نےارشاد فرمایا :مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے۔ (صحيح البخاري ، کتاب الایمان، 1/19،رقم:48،دارطوق النجاۃ)
نفقہ کی ادائیگی میں عرف وعادت کو بنیا د بنایا گیا،چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے: وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِؕ-لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَاۚ.ترجمہ: اور جس کا بچہ ہے اس پر عورتوں کا کھانا پہننا ہے حسب دستور کسی جان پر بوجھ نہ رکھاجائے گا ۔ (البقرۃ :233)
علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد شمس الدین القرطبی (المتوفی:671ھ) فرماتے ہیں:"أَيْ بِالْمُتَعَارَفِ فِي عُرْفِ الشَّرْعِ مِنْ غَيْرِ تَفْرِيطٍ وَلَا إِفْرَاطٍ".ترجمہ:وہ جو عرف شرع میں متعارف ہو اور اس میں کوئی افراط وتفریط نہ ہو ۔ (تفسیر القرطبی،3/163،تحت سورۃ البقرۃ:233)
تعیینِ نفقہ قضاءً و رضامندی سے ہے، علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:"وَالنَّفَقَةُ لَا تَصِيرُ دَيْنًا إلَّا بِالْقَضَاءِ أَوْ الرِّضَا".ترجمہ:نفقہ کا تعین حاکم کے فیصلہ یا باہمی رضامندی سےہوسکتا ہے ۔(الدرالمختار، باب النفقۃ،3/585،دار الفکر)
چونکہ وقتاً فوقتاً نفقہ کی ادائیگی اور حساب کتاب کرنے میں تنگی ہے،اسی لیے فقہاء نے ماہ بماہ ادا کرنے کو ترجیح دی ہے،علامہ ابو الفضل عبد اللہ بن محمود الموصلی (المتوفی:683ھ) فرماتے ہیں: "وَيُفْرَضُ لَهَا نَفَقَةُ كُلِّ شَهْرٍ وَتُسَلَّمُ إِلَيْهَا".ترجمہ: نفقہ ما ہانہ حساب سے عورت کو اداء کیا جائے گا۔ (الاختیار لتعلیل المختار ، باب النفقۃ، نفقۃ الزوجۃ،4/4، مطبعة الحلبي القاهرة)
نفقہ میں مرد کی مالی حیثیت کا اعتبار ہے، رب تعالی فرماتا ہے: لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖؕ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُؕ.ترجمہ: مقدور والااپنے مقدور کے قابل نفقہ دے اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا وہ اس میں سے نفقہ دے جو اسے اللہ نے دیا۔ (الطلاق: 7)
نفقاتِ زوجات کے تفصیل کرتے ہوئے علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم المصری (المتوفی:970ھ) فرماتے ہیں:"وَاتَّفَقُوا عَلَى وُجُوبِ نَفَقَةِ الْمُوسِرَيْنِ إذَا كَانَا مُوسِرَيْنِ وَعَلَى نَفَقَةِ الْمُعْسِرَيْنِ إذَا كَانَا مُعْسِرَيْنِ، وَإِنَّمَا الِاخْتِلَافُ فِيمَا إذَا كَانَ أَحَدُهُمَا مُوسِرًا وَالْآخَرُ مُعْسِرًا فَعَلَى ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ الِاعْتِبَارُ لِحَالِ الرَّجُلِ فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا وَهِيَ مُعْسِرَةٌ تَجِبُ عَلَيْهِ نَفَقَةُ الْمُوسِرِينَ وَلَا يَجِبُ عَلَيْهِ أَنْ يُطْعِمَهَا مِمَّا يَأْكُلُ، لَكِنْ قَالَ مَشَايِخُنَا يُسْتَحَبُّ لَهُ أَنْ يُؤَاكِلَهَا؛ لِأَنَّهُ مَأْمُورٌ بِحُسْنِ الْعِشْرَةِ مَعَهَا وَذَا فِي أَنْ يُؤَاكِلَهَا لِتَكُونَ نَفَقَتُهَا وَنَفَقَتُهُ سَوَاءً وَإِنْ كَانَ مُعْسِرًا وَهِيَ مُوسِرَةٌ وَجَبَ عَلَيْهِ نَفَقَةُ الْمُعْسِرِينَ؛ لِأَنَّهَا لَمَّا تَزَوَّجَتْ مُعْسِرًا فَقَدْ رَضِيَتْ بِنَفَقَةِ الْمُعْسِرِينَ، وَأَمَّا عَلَى الْمُفْتَى بِهِ فَتَجِبُ نَفَقَةُ الْوَسَطِ فِي الْمَسْأَلَتَيْنِ وَهِيَ فَوْقَ نَفَقَةِ الْمُعْسِرَةِ وَدُونَ نَفَقَةِ الْمُوسِرَةِ".ترجمہ: اس پر اتفاق ہے کہ میاں بیوی کی مالی حالت اچھی ہو تو خوشحال لوگوں جیسا نفقہ واجب ہے، اور اگر دونوں تنگدست ہوں تو تنگدست لوگوں جیسا نفقہ واجب ہے۔ اختلاف اس وقت ہے جب ایک خوشحال اور دوسرا تنگدست ہو۔ ظاہر الروایۃ کے مطابق مرد کی حالت کا اعتبار ہوگا، پس اگر مرد خوشحال اور عورت تنگدست ہو تو خوشحال لوگوں سا نفقہ اس پر واجب ہوگا، اور یہ لازم نہیں کہ وہ اسے اپنے کھانے میں سے کھلائے، البتہ مشائخ نے فرمایا ہے کہ اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ اسے اپنے ساتھ کھلائے، کیونکہ اس کو اپنی بیوی کے ساتھ حسن معاشرت کا حکم ہے، اور یہ اس کے ساتھ کھانا کھلانے میں ہے تاکہ دونوں کا نفقہ برابر ہو۔ اور اگر مرد تنگدست اور عورت خوشحال ہو تو تنگدست لوگوں سا نفقہ اس پر واجب ہوگا، کیونکہ جب اس نے تنگدست سے شادی کی تو اس نے تنگدست لوگوں کے نفقہ کو قبول کیا۔ اور مفتیٰ بہ کے مطابق دونوں صورتوں میں درمیانہ نفقہ واجب ہے، جو تنگدست کے نفقہ سے زیادہ اور خوشحال کے نفقہ سے کم ہے۔ (البحر الرائق،باب النفقۃ ، 4/190، دار الكتاب الإسلامي)
عورت کے حقِّ رہائش کے متعلق صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’عورت اگر تنہا مکان چاہتی ہے یعنی اپنی سَوت یا شوہر کے متعلقین کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو اگر مکان میں کوئی ایسا دالان اُس کو دے دے جس میں دروازہ ہواور بند کرسکتی ہو تو وہ دے سکتا ہے دوسرا مکان طلب کرنے کا اُس کو اختیار نہیں بشرطیکہ شوہر کے رشتہ دار عورت کو تکلیف نہ پہنچاتے ہوں۔ رہا یہ امر کہ پاخانہ، غسل خانہ، باورچی خانہ بھی علیحدہ ہونا چاہيے، اس میں تفصیل ہے اگر شوہر مالدار ہو تو ایسا مکان دے جس میں یہ ضروریات ہوں اور غریبوں میں خالی ایک کمرہ دے دینا کافی ہے، اگرچہ غسل خانہ وغیرہ مشترک ہو‘‘۔(بہار شریعت، 2/271-272،مکتبۃالمدینہ،کراچی)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 9 جمادی الاولی 1446 ھ/12 نومبر 2024ء