سوال
کیا بکریوں پر بھی زکاۃ ہوتی ہے؟ جب بکریوں کا پیٹ آدھا چرائی پر اور آدھا گھر پر فُل کیا جائے ، تفصیلی راہنمائی فرمائیں۔
سائل: زبیر علی عطاری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
بکریوں پر بھی زکاۃ واجب ہوتی ہے بشرطیکہ وہ سائمہ ہوں یعنی سال کا اکثر حصہ (چھ ماہ یا اس سے زیادہ) مفت چرائی پر ہوں اور مالک کو چارے کا انتظام نہ کرنا پڑے، اور مقصد حاجت اصلیہ میں نہ ہوں یعنی دودھ لینا، نسل بڑھانا ، صحت مند بنانا یا محض شوقیہ پالنا ۔ اگر بکریاں آدھا چرائی پر اور آدھا گھر میں چارہ ڈال کرپالی جائیں تو وہ سائمہ شمار نہیں ہوں گی، اس لیے ان پر زکاۃ واجب نہیں سوائے یہ کہ تجارت کی نیت ہو۔
بکریوں پر زکوۃ فرض ہونے کیلئے شرعاً چند شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:
(۱) سائمہ ہونے کی شرط: زکوٰۃ صرف ان جانوروں پر واجب ہوتی ہے جو سائمہ ہوں۔ سائمہ سے مراد وہ چوپایہ ہے جو سال کا اکثر حصہ (آدھے سال سے زیادہ) باہر جنگل میں چر کر گزارا کرے اور مالک کو اسے گھر پر چارہ نہ دینا پڑے۔
(۲) پالنے کا مقصد: زکوٰۃ ان جانوروں پر ہے جو صرف دودھ، نسل بڑھانے یا فربہ کرنے کیلئے پالے جاتے ہوں۔ اگر جانور گھر میں کھانے، بوجھ لادنے یا جوتنے کیلئے رکھے گئے ہوں تو ان پر زکوٰۃ نہیں۔ البتہ اگر یہ بکریاں تجارت کی غرض سے خریدی گئی ہوں تو پھر ان پر مالِ تجارت کے طور پر زکوٰۃ واجب ہوگی، خواہ وہ سائمہ ہوں یا نہ ہوں۔
(۳) نصاب اور وقت کی شرط: اگر بکریاں سائمہ ہوں اور نصاب (40 عدد) پورا ہو، تو چالیس بکریوں پر ایک بکری دینا واجب ہے جو ایک سال سے کم کی نہ ہو۔ بھیڑ اور بکری زکوٰۃ میں ایک ہی نوع شمار ہوتے ہیں، لہٰذا ان کی تعداد ملا کر حساب کیا جائے گا۔ زکوٰۃ اس وقت فرض ہوتی ہے جب ان جانوروں کی ملکیت پر ایک سال پورا گزر جائے۔
دلائل و جزئیات:
علامہ شیخ شمس الدین محمد بن عبد اللہ تمرتاشی (المتوفی:1004ھ) فرماتے ہیں: "(هي) (المكتفية بالرعي) (في أكثر العام لقصد الدر والنسل) (والزيادة والسمن)". ترجمہ: سائمہ وہ چوپایہ ہے جو سال کا اکثر حصہ باہرچر کر گزارا کرے، اور ایسا جانور کسی نے دُدوھ، نسل اور فربہ کرنے کیلئے رکھا ہو۔(تنویر الابصار، کتاب الزکاۃ، باب السائمۃ، 2/275، دار الفکر)
علامہ تمرتاشی رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں: "(فلو علفها نصفه لا تكون سائمة) ".ترجمہ: اگر آدھے سال خود جانور خود چرایا تو وہ سائمہ نہ ہوگا۔(تنویر الابصار، کتاب الزکاۃ، باب السائمۃ، 2/275، دار الفکر)
خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "(قوله: للشك في الموجب) بكسر الجيم وهو كونها سائمة، فإنه شرط لكونها سببا للوجوب. قال في فتح القدير: العلف اليسير لا يزول به اسم السوم المستلزم للحكم، وإذا كان مقابله كثيرا بالنسبة كان هو يسيرا، والنصف ليس بالنسبة إلى النصف كثيرا ولأنه يقع الشك في ثبوت سبب الإيجاب فافهم".ترجمہ: (مصنف کا قول: وجوب کے سبب میں شک کی وجہ سے) موجِب میں ج کے نیچے زیر ہے، اور وہ (زکوۃ کا سبب) جانور کا سائمہ ہونا ہے، کیونکہ سائمہ ہونا زکوٰۃ کے واجب ہونے کیلئے شرط ہے۔ فتح القدیر میں علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ نے فرمایا: (اگر سال کے اکثر حصے میں جانور خود چرتا ہو تو) تھوڑا چارہ کھلانے سے سائمہ ہونے کا نام ختم نہیں ہوتا جو حکم (زکوٰۃ) کیلئے لازم ہے۔ اور جب چارہ چرنے کے مقابلے میں زیادہ ہو تو چرنا تھوڑاکہلائے گا، لیکن آدھا آدھے کے مقابلے میں زیادہ نہیں ہوتا، اور اس صورت میں زکوٰۃ واجب کرنے والے سبب کے ثبوت میں شک واقع ہو جاتا ہے، پس اسے سمجھ لو۔(رد المحتار، کتاب الزکاۃ، باب السائمۃ، 2/276، دار الفکر)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’اونٹ، گائے، بھینس ،بکری، بھیڑنر خواہ مادہ خواہ دونوں مختلط، جبکہ قدرنصابہوں(کہ اونٹ میں پانچ، گائے بھینس میں تیس، بھیڑ بکری میں چالیس ہے)اور بونے ،جوتنے،لادنے، کھانے کیلئے نہ رکھے گئے ہوں بلکہ تمام حاجاتِ اصلیہ سے فارغ صرف دُودھ یا نسل یا قیمت بڑھنے کے لے پالے جاتے یا شوقیہ پرورش و فربہی کے واسطے ہوں اور سال کا اکثر حصہ جنگل میں چُھوٹے ہُوئے چرنے پر اکتفا کرتے ہوں اور اُن پر سال پُورا گزرے اور تمامی سال کے وقت وہ سب جانور ایک نوع کے یعنی سب اونٹ یا سب گائے بھینس یا سب بھیڑ بکری ایک سال سے کم کے نہ ہوں بلکہ اُن میں کوئی ایک سال کامل کا بھی ہو اگر چہ ایک ہی ہو تو ان پانچوں باتوں کے اجتماع سے ان کی زکوٰۃ دینی فرض ہوگی ورنہ نہیں‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 10/242، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’ سائمہ وہ جانورہے جو سال کے اکثر حصہ میں چر کر گذر کرتا ہو اور اوس سے مقصود صرف دودھ اور بچے لینا یا فربہ کرنا ہے‘‘۔ (بہار شریعت،1/892، مکتبۃ المدینہ کراچی)
صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’چھ مہینے چرائی پر رہتا ہے اور چھ مہینے چارہ پاتا ہے تو سائمہ نہیں‘‘۔ (بہار شریعت،1/892، مکتبۃ المدینہ کراچی) ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:12رمضان المبارک 1447ھ/3مارچ2026ء